Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah Readelle50340 Bheegi Palkon Par Naam Tumhara (Episode 38)
No Download Link
Rate this Novel
Bheegi Palkon Par Naam Tumhara (Episode 38)
Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah
چودھری کے بارے میں کردم نے داداسائیں کو کچھ بھی نہیں بتایا تھا نہ تو اس کے ہنگامے کے بارے میں اور نہ ہی اس کی دھمکیوں کے بارے میں کیوں کہ کردم کو ان سب باتوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا اور نہ ہی اسے چودھری کا کوئی ڈرتھا
جبکہ اب داداسائیں اس سے کہہ رہے تھے کہ صرف ایک بار ہی سہی اپنی نانی سے مل لاؤ ۔
لیکن وہ کبھی اس گھر نہیں جانا چاہتا تھا احسن ملک اس اکلوتا ماموں تھا اس کے باپ چچا پھوپو سب کا قاتل تھا اس نے اس کا سارا خاندان مٹا دیا تھا وہ کس طرح اس سے ملنے جاتا لیکن دادا سائیں کی ضد اسے مجبور کر رہی تھی ۔
دادا سائیں کے سامنے تو وہ انکار کر آیا تھا لیکن اپنے کمرے میں آکر یہی سوچ رہا تھا پھر ایک دفعہ کہ جتنی بار بھی اس کے سامنے سے اس خاندان کی عورتیں گزری یں ان کی نظروں میں اس نے اپنے لیے بے تحاشہ محبت دیکھی تھی ۔
اور احسن ملک بھی تو اس کو کچھ بھی نہ کہتا تھا ۔
جتنی نفرت وہ اس باقی خاندان سے کرتا تھا اس کی نئی جذباتوں کردم اس کے لئے رہتا تھا ۔
اور اس وقت وہ ملک کے بارے میں کچھ نہیں سوچنا چاہتا تھا فی الحال ہو صرف دھڑکن کو سرپرائز دینے کے بارے میں سوچ رہا تھا وہ اس کی برتھ ڈے اسپیشل بنایا جاتا تھا ۔
داداسائیں یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں ابھی مجھے یہاں ایک ہفتہ بھی نہیں ہوا اور آپ مجھے واپس بلا رہے ہیں میں تو پندرہ دن کے یہاں آیا تھا نہ وہ مقدم نے احتجاج کیا ۔
دیکھو مقدم سائیں میں نے تمہیں پہلے ہی کہا تھا کہ جب بھی کردم سائیں رخصتی کا فیصلہ کرے گا تمہیں واپس آنا ہوگا اور کردم نے کہا ہے کہ وہ دھڑکن کی سالگرہ کے دوسرے ہی دن وہ اسے رخصت کرواے گا
۔ دادا سائیں نے سمجھاتے ہوئے کہا
او ہو کر دم سائیں کو اتنی جلدی کیا ہے ۔۔۔۔۔؟
تمہیں اتنی جلدی کیا تھی جانے کی ۔۔۔۔؟دادا سائیں اس کی بات کو کاٹتے ہوئے بولے ۔
فی الحال تم واپس آجاؤ اور بعد میں تم چاروں ساتھ چلے جانا
دادا سائیں نے آئیڈیا دیا جو اسےبرا نہ لگا
ٹھیک ہے میں حوریہ کو کہتا ہوں مقدم نے فون رکھتے ہوئے کہا ۔
اور ایک نظر سامنے باغ کی طرف اکیلے بیٹھے اپنے دل کے قرار کو دیکھا ۔
مبارک ہو میرا سوہنا ماہی تمہارا سوٹ ضائع نہیں ہوگا ۔ہم آج شام کو ہی واپسی کے لئے نکل رہے ہیں کردم سائیں نے رخصتی کے آرڈر جاری کر دیے ہیں مقدم اس کے قریب بٹھتے ہوئے بولا تو وہ بے ساختہ مسکرائی۔
سچی کتنا مزا آئے گا نا کردم لالہ کی شادی میں وہ ایکسائٹڈ ہوکر اسے بتانے لگی۔
جبکہ مقدم نے اس کے چہرے کا پورا جائزہ لیا جہاں ہنیمون ادھورا چھوڑنے کا کوئی افسوس نہ تھا ۔
دادا سائیں میں آپ سے ایک سوال پوچھنے آئی ہوں وہ ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی ان کے قریب سے اٹھ کر گئی تھیں اب واپس آئیں تو دادا سائیں سوالیہ انداز میں اسے دیکھنے لگے دادا سائیں میں نے پوچھنا تھا کہ مقدم لالا نے حوریہ دیدہ کو کوئی تحفہ دیا ہے اگر نہیں تو ان کے ساتھ بھی نا انصافی ہوئی ہے دھڑکن کے ہوتے ہوئے یہاں کوئی ناانصافی نہیں ہو گی
وہ ان کے سامنے بیٹھی بالکل سیریس انداز میں بولی تھی
داداسائیں جو یہ سوچ رہے تھے کہ وہ نجانے کون سی بات کرنے کے لیے آئی ہے اس کا چہرہ دیکھ کر رہ گئے ۔
بلکہ یہ سوال میں آپ سے کیوں پوچھ رہی ہوں یہ سوال تو مجھے مقدم لالہ سے پوچھنا چاہیے تھا ۔
حوردیدہ کے ساتھ میں کوئی ناانصافی ہونے ہی نہیں دوں گی وہ اپنے موبائل پر مقدم کا نمبر ملاتے ہوئے تیز تیز بول رہی تھی ۔
تم باہر جاکر یہ انصاف کی جنگ شروع کرو ہم کتاب پڑھ لیں دادا سائیں نے اپنے ہاتھ میں موجود کتاب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اسے باہر جانے کے لیے کہا ۔
جب وہ مصروف انداز میں کان سے فون لگائے ہاں میں گردن ہلاتے اٹھ کر باہر چلی گئی
دھڑکن کے جانے کے بعد دادا سائیں سوچنے لگے کیا واقع ہی حوریہ کے ساتھ ناانصافی کی گئی تھی کیا صرف گفٹ نہ دینے سےحوریہ کے ساتھ ناانصافی ہوگی اور وہ کیا جوانیس سال سے اس گھر میں اس کے ساتھ ہو رہا تھااسے تو ہمیشہ سے اس خاندان کی بیٹی بنا کر رکھا گیا ہے تو اس کے ساتھ کیسی ناانصافی ۔
وہ تو اس خاندان کی عزت ہے تو کیاعزت کو محبت دینا ضروری نہیں ہوتا ۔وہ خود سے سوال کرنے لگے
وہ معصوم بچی تو اس گھر میں انکی بیٹی کی بیٹی بن کے آئی تھی اس کی آخری نشانی بن کے آئی تھی نہ کہ دشمن کی بیٹی لیکن انہوں نے اسے ہمیشہ سے دشمن کی بیٹی سمجھا
کتنا کُرب تھا اس دن اس کی آواز میں جب اس نے یہ کہا تھا کہ آہانہ شاہ اس کی بھی کچھ لگتی ہے ۔
اور شاہ سائیں نے کیا کیا اسے غصے سے کمرے سے چلے جانے کا کہا ۔
یہاں تک کے اس کے ہاتھ سے اس کے ماں کی فوٹو تک چھین لی ۔
کیا وہ اس قابل ہے کہ اس کے ساتھ اس طرح کا سلوک کیا جائے وہ معصوم سی لڑکی پچھلے 19 سال سے دن رات اب لوگوں نفرت برداشت کر رہی تھی اس جرم کی سزا کاٹ رہی تھی جس میں اس کی کوئی غلطی نہیں تھی اس نے پیدا ہوتے ہیں اپنی ماں کو کھو دیا ۔
باپ کی شکل تو اس نے آج تک دیکھی ہی نہیں تھی ۔
ہر گزرتے لمحے کے ساتھ اپنے آپ کو حوریہ کی نظروں میں گرا ہوا محسوس کر رہے تھے کیا سوچتی ہوگی کہ وہ ان کے بارے میں ۔کیا ہوں گے دادا سائیں اس کی نظروں میں ایک ظالم جابر سختگیر شخص ۔
نہیں اب ہم حوریہ کے ساتھ مزید کوئی ناانصافی نہیں ہونے دینگے ہم نے اس کے ساتھ بہت زیادتیوں کی ہیں ٹھیک کہتا ہے کردم وہ نفرت کے قابل نہیں ہے وہ تو میری اہانہ کی آخری نشانی ہے ۔
اتنی سے بات کو سمجھنے میں میں نے انیس سال سا لگا دیے ۔
وہ بھی اگر کردم مجھے یہ سب کچھ نہ کہتا تو کیا میں ہمیشہ اس سے نفرت کرتا رہتا
یا خدایا مجھے معاف کردے میں نے اس معصوم بچی کے ساتھ بہت زیادہ کی ہے ۔
لیکن اب مزید نہیں اب حوریہ کو اس حویلی میں اس کا اصل حق دیا جائے گا داداسائیں سوچتے ہوئے اٹھ کر باہر آگئے
ہاں گڑیا بولو کیوں فون کیا ہے مقدم واپسی کا سامان پیک کرنے میں حور کی مدد کر رہا تھا کہ دھڑکن کا فون آتا دیکھ کر پوچھنے لگا ۔
آپ میری دیدہ کو تحفے دیتے ہیں کہ نہیں وہ سیریس انداز پوچھ رہی تھی
کیوں مقدم نے خریت سے اس کے سوال پر سوال کیا تھا کیوں کیا۔ ۔مجھ سے کچھ مت بولیں بس بتائیں آپ انہیں گفٹ دیتے ہیں یا نہیں دیتے ۔
کیونکہ اگر آپ نہیں دیتے تو اب میں آپ کے ساتھ بہت برا سلوک کرنے والی ہوں کان کھول کر سن لیں صرف آپ ہی نہیں اس خاندان کے ہر فرد کو دھڑکن احمدشاہ اُپس دھڑکن کردم شاہ کہہ رہی ہے ۔
کہ وہ اب خاندان کی کسی عورت کے ساتھ ناانصافی نہیں ہونے دے گی ۔
مجھے پتا چل چکا ہے کہ آپ آج رات کو واپس آجائیں گے اسی لئے میری ایک بات کان کھول کر سن لیں جب آپ واپس آئے تو حوری دیدہ کے لئے کوئی گفٹ کے لے کر آئے گا اور میرے لیے بھی کیونکہ میرا برتھ ڈے ہے
دھڑکن نے یاد کرایا تو مقدم بے ساختہ مسکرا دیا ۔
ٹھیک ہے گڑیا میں تمہارے لئے گفٹ لے آؤں گا اور کچھ مقدم نے مسکراتے ہوئے پوچھا
اور کچھ نہیں میرے لیے بھی ضرور لانا لیکن میری دیدہ کو ضرور دیجئے گا میں یہ بے تکا راوج ہمارے خاندان سے ختم کر کے رہوں گی وہ عزم سے کہتے فون بند کر چکی تھی جبکہ مقدم صرف فون کو گھور رہا تھا ۔
بے چارا کردم سائیں وہ بڑبڑاتے ہوئے فون جیب میں ڈالنے لگا
