Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah Readelle50340 Bheegi Palkon Par Naam Tumhara (Episode 62)
No Download Link
Rate this Novel
Bheegi Palkon Par Naam Tumhara (Episode 62)
Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah
دل تو کر رہا تھا کہ تھوڑا سا زہر ہی ملا دے اس کھانے میں جو حرکت جنید نے اس کے ساتھ کی تھی اسے اب تک یقین نہیں آرہا تھا
مطلب وہ تو اسے سچ میں ہی اپنی بیوی ماننے لگا تھا ۔
لیکن تائشہ کا ایک ملازم کے ساتھ ساری زندگی وہ گزارنے کا کوئی ارادہ نہ تھا ۔
اس کا دل تو چاہ رہا تھا کہ وہ جنید کو جان سے مار ڈالے ۔
جو مقدم کو اپنے ساتھ یہاں لے کے آیا تھا ۔
اس نے اپنے ہاتھوں سے اپنی حویلی کی واپسی کے راستے بند کر دیے تھے اب حویلی میں اسے کوئی قبول نہیں کرنے والا تھا
اور جیند کے ساتھ ایک چھت کے نیچے ایک کمرے میں وہ ہرگز نہیں رہ سکتی تھی
چھچھوڑا آدمی ضرورت سے زیادہ ہی چھچھوڑا ہے
اس کے لئے کھانا بناتے ہوئے تائشہ مسلسل یہ سوچ رہی تھی کہ وہ اس سے جان کیسے چھڑائے جب کہ وہ تو صاف لفظوں میں کہہ چکا تھا کہ آج کی رات وہ اس کے ساتھ اپنی نئی زندگی کی شروعات کرنے والا ہے ۔
یا اللہ میں کیا کروں مجھے بچا لے تائشہ نے اپنے دھڑکتے ہوئے دل پہ ہاتھ رکھا ۔پھر جا کر بیڈروم کے اندر دیکھا
جنید بیڈ پہ لٹا اس کے موبائل پر نہ جانے کیا کر رہا تھا
یا اللہ میرا موبائل اس شخص کے پاس کیا کر رہا ہے ۔
اس نے سوچا کے پہلے اندر جا کر جنید سے اپنا موبائل چھین لے ۔لیکن پھر اسے تھوڑی دیر پہلے والی حرکت یاد آگئی ۔
اور ویسے بھی وہ ملک کے ساتھ رابطے میں تھی یہ بات تو وہ جان ہی چکا تھا اس سے چھپانے والا کچھ بھی اس موبائل میں موجود نہ تھا ۔
اسی لئے کمرے میں جانے کا رسک نہ لیتے ہوئے وہ واپس کچن میں آگئی
کچن میں ضرورت کی ہر چیز موجود تھی اسے کسی بھی چیز کو ڈھونڈنے کے لیے زیادہ محنت نہ کرنے پڑی چھوٹا سا کیچن اسے کافی پسند آیا تھا اور کھانا بنانے میں وہ شروع سے ہی ماہر تھی
لیکن جنید کے لئے کچھ بھی بنانا اس کے لئے دنیا کا سب سے مشکل ترین کام تھا ۔
باہر نکل ملک ۔ ۔ وہ غصےسے آگ بگولا ملک کے حویلی کے باہر کھڑا تھا ۔
باہر نکل میں کہتا ہوں چھپ کے وار کرتا ہے بزدل سامنے آ اگر اتنا ہی جگر والا ہوتا تو سامنے سے وار کرتا گھٹیا آدمی ۔
کیوں شور ڈال رہے ہو لڑکے کیا تمہارے بڑوں نے تمہیں اپنے سے بڑے لوگوں کی تمیز کرنا نہیں سکھائی اماں سائیں ملازمہ کے سہارے باہر آکر غصے سے پوچھنے لگیں اس سے پہلے وہ مقدم سے کبھی نہ ملی تھی ۔
یہ میرے بڑوں کی سکھائی ہوئی تمیز ہی ہے کہ ابھی تک میں اس گھر کے باہر کھڑا ہوں ۔ورنہ مجھ سے میرے زندگی چھیننے کا سوچنے والے کو ٹکڑوں میں تقسیم کرکے آگ لگا دوں تو میرا نام مقدم شاہ نہیں وہ اس خاتون کے سامنے اپنی آواز اور بدتمیزانہ لہجے پر کنٹرول کر گیا تھا ۔
جبکہ اس کی سرخ انگارہ آنکھیں اور خطرناک انداز دیکھ کر سامنے کھڑی عورت بھی گھبرا گئی تھی
تم میری حوریہ کےشوہر مقدم ہو ۔۔۔۔؟ انہوں نے محبت پاش نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے کہا
مجھے ملک سے ملنا ہے اس سے کہے باہر آئیں اس نے مجھ پر حملہ کروایا ہے ۔ مجھ سے میری حوریہ کو الگ کرنے کے لیے مجھ سے میرے جینے کی وجہ چھیننے کے لئے باہر نکالیں اسے آج میں اسے موت کے گھاٹ نہ اتار دوں تو میں قاسم شاہ سائیں کا پوتا نہیں ۔
وہ غصے سے دہاڑتے ہوئے حویلی کے دروازے کو دیکھ رہا تھا ۔
وہ فی الحال یہاں نہیں ہیں مقدم ۔۔۔خدیجہ جاؤ یہاں کھڑی کیا ہوحویلی کا داماد پہلی بار یہاں آیا ہے اس کی خاطر تواضع کا کچھ انتظام کرو ۔
وہ اس کے لہجے اور غصے کو نظرانداز کرتے ہوئے محبت سے بولیں ۔
وہ اس خاندان کی اکلوتی وارث کا شوہر تھا ۔
کوئی ضرورت نہیں اس دکھاوے کی اپنے بیٹے کو بتا دیجئے گا کہ دنیا کی کوئی طاقت مجھ سے میری حوریہ کو چھین نہیں سکتی ۔
اس بار میں اسے معاف کر رہا ہوں صرف یہ سوچ کے کہ میری حوریہ کا باپ ہے ۔لیکن اس کے بعد اگر اس نے دوبارہ یہ حرکت کی تو اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دوں گا ۔
وہ غصے سے کہتے ہوئے پلٹا جب اماں نے اسے پکارا ۔
تمہارا انداز بتا رہا ہے کہ میری پوتی تمہارے لئے بہت اہم ہے ۔لیکن دیکھو نہ میری قسمت میں تو جانتی تک نہیں کہ وہ کیسے دیکھتی ہے ۔۔ احسن نے دوسری شادی نہیں کی کیونکہ اس کا کہنا تھا کہ اہانہ کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا ۔اور اس کی بات کے ساتھ اپنے پوتے پوتیوں سے کھیلنے کی خواہش میرے اندر ہی ختم ہوگئی ۔
یہ مرد اپنی خاندانی دشمنی میں یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ عورت بھی جذبات رکھتی ہے ۔یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ ان کے سخت فیصلے عورت کو اندر ہی اندر توڑ دیتے ہیں ۔وہ بکھر جاتی ہے لیکن آواز نہیں اٹھاتی یہ سوچ کے کہ کہیں اس کے خاندان کے انا پرست مردوں کو کوئی بات بُری نہ لگ جائے ۔اور وہ عمر بھریہ سمجھتا ہے کہ اس کے روعب اور غصے سے ڈر کر وہ اپنی خواہشیں مار دیتی ہے اور اس کے ساتھ آگے بڑھ جاتی ہے ۔لیکن وہ یہ نہیں سوچتے کہ خواہشیں اور خوشیاں چھین کر عورت اچھی بیوی اچھی ماں اچھی بیٹی تو بن جاتی ہے لیکن اندر سے کھوکھلی ہو جاتی ہے ۔
لیکن میں یہ ساری باتیں کس کے سامنے کر رہی ہوں تم بھی تو انہیں مردوں میں سے ہو۔۔اناپرست سخت جاگیرجواپنی انا کے لئے کچھ بھی کر جائے گا لیکن اپنی جان سے پیاری بیوی سے کبھی یہ نہیں پوچھے گا کیا تمہارے اندر تمہارے باپ تمہاری دادی سے ملنے کہ خواہش ہے ۔
ارے نہیں مقدم شاہ تم نہیں پوچھو گے کیونکہ تم قاسم شاہ سائیں کے پوتے ہو ۔۔حوریہ مقدم شاہ کے شوہر ہولیکن اس کا دل کے حال پوچھنے والے ساتھی اس کے دوست نہیں تمہارا پیغام میں اپنے بیٹے کو دے دوں گی ۔
بس میرا پیار میری پوتی کو دے دینا ۔وہ اپنے چہرے پہ اپنی چادر رکھے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں۔ جبکہ ان کی باتیں سننے کے بعد مقدم زیادہ دیر وہاں نہیں رکا تھا
وہ کھانے کا بتانے کے لئے کمرے میں آئی تو جنید گہری نیند سو رہا تھا ۔وہ کل سارا دن کام پر لگا رہا اسی لیے شاید وہ سو گیا تھا تا ئشہ کو تو اس کی نیند سے کافی خوشی ملی تھی ۔
اس نے اپنا فون ڈھونڈنا چاہا تو وہ بیڈ پر جنید کے نیچے تھا ۔۔ اسے جگانے سے بہتر تھا کہ موبائل نہ لے شکر کا کلمہ پڑھتی وہ وہاں سے باہر آگئی۔
سُنا تھا جس گھرمیں عورتیں نہیں ہوتی وہ گند سے بھرا ہوا ہر طرف کچرہ وغیرہ ہوتا ہے لیکن اس معاملے میں جنید شاید صفائی پسند تھا اس کا گھر صاف ستھرا اور کھلا تھا
گھر میں چار کمرے تھے ۔اور ایک کچن۔ بیڈروم اور میٹنگ روم کے علاوہ اس نے اور کوئی کمرہ نہ دیکھا تھا
اب سوچا کیوں نہ اس گھر کو ہی دیکھ لے۔ وہ اس گھر کے طرف نظرثانی کرنے لگی
اس میں ایک اور بیڈروم موجود تھا اسے کو جان کر خوشی ہوئی مطلب سونے کے لئے جنید کی منتیں کرنے کی ہرگز ضرورت نہ تھی وہ رات کو اسی کمرے کولاک کرکے سونے کا ارادہ رکھتی تھی ۔
جبکہ آخری کمرے میں بہت سارے چارپائیاں بچھائی گئی تھی ۔
سکون سے کھانا کھا کروہ اس کمرے میں آگئی اور دروازہ اندر سے اچھے سے لاک کر دیا ۔
جنید خان تم ساری زندگی میرے ساتھ کے لئے ترستے ہی رہوگے کیوں کہ میرا تمہارے جیسے ملازم کے ساتھ ساری زندگی گزارنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے ۔
وہ پر سکون انداز میں بیڈ پرلٹتے ہوئے بولی اور آنے کل کے بارے میں سوچنے لگی
مقدم گھر واپس آیا تو کافی پریشان تھا اسے پریشان دیکھ کر حور کمرے میں آ گئی جبکہ نازیہ نے بھی اس کی پریشانی نوٹ کر لی تھی لیکن جس دن سے مقدم کو سب کچھ پتہ چلا تھا نازیہ کو مخاطب کرنا چھوڑ چکا تھا ۔
وہ روز صبح اور شام اس کے کمرے میں آتا اور نازیہ ہمیشہ کی طرح اس کے ماتھے پر بوسہ دے کر اسے دعائیں دیتی اور وہ واپس اپنے کمرے میں آجاتا ۔
اس نے حور کے ساتھ دکھاوے سے منع کردیا تھا مقدم نے کہا تھا کہ حوریہ کے لئے صرف مقدم کا پیار ہی کافی ہے ۔
اور اس دن کے بعد نازیہ نے حوریہ سے بالکل ہی بات کرنا چھوڑ دیا ۔
دھڑکن تو آج صبح سے ہی اپنے کمرے سے باہر نہ نکلی تھی جبکہ سویرا کی طبیعت خراب تھی اسی لئے وہ بھی اپنے کمرے میں تھی احمد شاہ دادا سائیں کے کمرے میں تھے اور کردم ابھی واپس نہ آیا تھا جبکہ رضوانہ نے کمرے سے نکلنا ہی چھوڑ دیا ۔
نہ جانے کیا بات ہوگئی مقدم کی پریشانی کی نازیہ نے سوچتے ہوئے اس کے کمرے کی طرف دیکھا جہاں ابھی حوریہ اندر گئی تھی
حوریہ کب سے اس سے اس کی پریشانی کی وجہ جاننے کی کوشش کر رہی تھی جب کہ وہ خاموشی سے بیڈ پے بیٹھا ہوا تھا اس نے حوریہ سے بس اتنا ہی کہا تھا کہ مجھے اکیلا چھوڑ دو اس وقت میں کسی سے کوئی بات نہیں کرنا چاہتا جبکہ حوریہ کا اس کا اکیلا چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہ تھا وہ کب سے اس کی پریشانی کی وجہ جاننا چاہ رہی تھی
مقدم کے غصے سے ڈر بھی لگتا تھا اسی لئے اب پوچھنے کے بجائے اس کے قریب ہی بیٹھ گئی شاید اس کا غصہ کم ہو تو وہ اسے اپنے آپ ہی ساری بات بتا دے ۔
لیکن کافی دیر کے بعد مقدم نے کچھ بھی نہ کہا بلکہ بیڈ پر لیٹ گیا ۔
مقدم سائیں ایسا کیسے چلے گا اگر آپ مجھے کچھ بتائیں گے ہی نہیں تو حوریہ اس سے دیکھتے ہوئے بولی ۔
حوریہ میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتا کہتے ہوئے اب اس نے منہ پر ہاتھ رہ گیا ۔
جب حوریہ دوسری طرف سے آکر اس کے سر کے قریب بیٹھ گئی
میرا بےبی ناراض ہے مجھ سے وہ اس کا ہاتھ اٹھاکر اسی کے انداز میں کہنے لگی
حوریہ۔۔۔ مقدم نےذرا سخت لہجے میں کہا
میلا جانو اتنا پریشان ہے کہ اپنی جان پر غصہ کرے گا وہ ابھی بھی وہی انداز اپنائے ہوئے تھی
حوریہ میں نے کہا اس وقت میں کسی سے بات نہیں کرنا چاہتا اس کا لہجہ اس بار نرم تھا
لیکن مقدم شاہ کے دل کا قرار تو ان سے بات کرنا چاہتا ہے
بلکہ صرف بات ہی نہیں کرنا چاہتا بلکہ ان کی پریشانی وجہ بھی جاننا چاہتا ہے وہ اس کے سینے پر سر رکھتے ہوئے بولی ۔
اور اس بار مقدم کا غصہ جواب دے گیا
حوریہ مجھے ایک بات بتاؤ اگر تمہیں کوئی میرے بارے میں کچھ کہے گا تو کیا تم اس کی بات مان لو گی ۔۔۔؟اس کے بالوں میں انگلیاں چلاتا نرمی سے بولا
اگر اچھی بات ہوگی تو مان لوں گی اگر بُری ہوئی تو ایک رکھ کے لگاؤں گی اس کے گال پراور کہوں گی خبردار جو میرے مقدم سائیں کو کچھ بھی الٹا سیدھا بولا تو وہ اس کے سینے پر تھوڑی ٹکاتی اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے بولی ۔
کیا تم اپنے باپ سے ملنا چاہتی ہواچانک سوال پہ حوریہ اسے دیکھ کر رہ گئی
میں اس کی شکل تک نہیں دیکھنا چاہتی مقدم سائیں اور آج کے بعد اس کے بارے میں مجھ سے کوئی بات مت کیجئے گا وہ اس کے سینے پر سر رکھے نظرچرا گئی
اور اپنی دادی سے اس سوال پر وہ پھر سے سے دیکھنے لگی
میری کوئی دادی بھی ہیں وہ حیرت سے پوچھنے لگی
تمہاری دادی ہیں حوریہ اور وہ آج مجھ سے ملیں تھیں تمہیں بہت سارا پیار دے رہیں تھیں
کیا وہ بھی میرے باپ جیسی ہیں وہ اس کی بات کاٹتے ہوئے بولی ۔
نہیں حور وہ ایک بہت اچھی اور نیک عورت ہیں مقدم نے دل سے اس عورت کی تعریف کی تھی ان کی تعریف تو دادا سائیں بھی اکثر کیا کرتے تھے
کیا ہم ان سے مل سکتے ہیں وہ حسرت بھرے انداز میں پوچھنے لگی
میں ملاؤں گا تمہیں ان سے وہ وعدہ کرنے والے انداز میں بولنا توحوریہ اس کے سینے پر سر رکھ گئی
