Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah Readelle50340 Bheegi Palkon Par Naam Tumhara (Episode 24)
No Download Link
Rate this Novel
Bheegi Palkon Par Naam Tumhara (Episode 24)
Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah
وہ کمرے میں آیا تو حوریہ ولیمے کے ڈریس میں بیڈ کراون کے ساتھ ٹیک لگائے آنکھیں موندھے بیٹھی تھی ۔
یا شاید سو رہی تھی وہ کل رات بھی نہ سوئی تھی اور پھر آج سارا دن بھی اسے ایک سیکنڈ بھی آرام کرنے کو نہ ملا اس وقت بھی وہ مقدم کی واپسی کا انتظار کرتی اس کی خواہش کے احترام میں اسی طرح سے تیار بیٹھی تھی ۔
اس وقت اسے اپنی معصوم بیوی پر ٹوٹ کر پیار آیا تھا وہ اس کے قریب بیٹھ کر اس سے زیورات کی قید سے آزاد کرنے لگا ۔
حوریہ اپنے قریب حرکت محسوس کرکے آنکھیں کھولے اسے دیکھنے لگی
مجھے پتا ہے آپ کو میری بہت پرواہ ہے میرے محبوب لیکن تھوڑی سی پروا اپنی بھی کیجئے کیونکہ اگر آپ بیمار پڑ گئی تو میرا گزارا نہیں ہوگا۔
وہ گمبیر لہجے میں کہتا اس کے دوپٹے سے پنز نکالتے ہوئے اسے دوپٹے کی قید سے آزاد کرنے لگا ۔
اٹھو جاؤ جلدی سے چینج کرکے آؤ ورنہ میری نیت خراب ہو رہی ہے۔جاو چینج کرکے اور ریلیکس ہو کر آرام کرو ۔
وہ اسے سہارا دے کر اٹھانے لگا حوریہ اس کی بات مانتے ہوئے اپنا شرارہ سنبھلاتی اٹھی
اسے یہ جان کر خوشی ہوئی تھی کہ مقدمم صرف اپنی خواہشوں کی ہی نہیں بلکہ اس کی بھی فکر کرتا ہے ۔
تھوڑی دیر کے بعد وہ چینج کرکے آئی تو مقدم چینج کیے بیڈ پر لیٹا تھا ایسے آتا دیکھ کر اس کی طرف اپنا ہاتھ بڑھایا جیسے فورا ہی حوریہ نے تھام لیا ۔
اس کا ہاتھ تھام کر مقدم نے اس کا سر اپنے سینے پر رکھا ت یہاں کان لگاو اور پوچھو ان جناب سے آخر چاہتے کیا ہیں تمہیں دیکھ کر اتنے بے قابو کیوں ہوجاتے ہیں ۔اس کے انداز پر حوریہ بےاختیار مسکرائی جبکہ اس کی ہر دھڑکن کے ساتھ حوریہ اپنا دل دھڑکتا محسوس کر رہی تھیی
کیا کہہ رہا ہے مقدم نے پوچھا
کہ رہا ہے سو جائیں بہت رات ہو گئی ہے حوریہ نے اس کے جذبات سے گھبراتے ہوئے کہا ۔جب کہ اس کے انداز پر مقدم کا قہقہ بلند ہوا تھا ۔
بہت ہی ڈرپوک واقع ہوئی ہیں آپ محترمہ ایک ہی رات کی شدت نہیں سہہ پائی ۔اور ہم ہیں جو انیس سال سے دن رات آپ کا انتظار کرتے رہے ہیں ۔
وہ اسے اپنے سینے میں بھیجے ہوئے بولا جبکہ حوریہ کو اس کی ایک ایک بات پر یقین تھا اپنی محبت کو اس نے نکاح کی صورت میں ثابت کیا تھا ۔
اس کی پرسکون باہوں میں نجانے کب وہ پرسکون نیند سو گئی لیکن نیند میں بھی اپنے بالوں میں چلتی اس کی انگلیوں کو محسوس کر رہی تھی
کیا تم نے دھڑکن کے ہاتھ جلائے تمہاری ہمت کیسے ہوئی ایسا کرنے کی تائشہ میں نے تمہیں صرف اسے ڈرانے کے لیے کہا تھا اسے نقصان پہنچانے کے لیے نہیں تم ایسا کیسے کر سکتی ہو ۔
نجانے سویرہ کے دل میں کیا سمائی کہ وہ دھڑکن کے لیے پریشان ہوگئی وہ تو بس کردم اور دھڑکن کی طلاق کروانا چاہتی تھی
لیکن کل رات اکیلے میں اس نے کی سوچا کہ وہ تائشہ کی مدد کرے ہی کیوں نہیں ہے جبکہ تائشہ کوراستے سے ہٹا کر وہ اور دھڑکن ہمیشہ کے لئے ایک ہی گھر میں رہ سکتی تھی وہ دونوں بہنیں ہمیشہ خوشی رہ سکتی تھی اسے تائشہ جیسی مصیبت کو گلے ڈالنے کی ضرورت ہی کیا تھی ۔
میں کیا کر کرتی دیدہ وہ لڑکی ہر وقت کردم سائیں کے آگئےپیچھے گھومتی رہتی ہے ہر وقت ان کے ساتھ رہتی ہے مجھے بہت غصہ آرہا تھا بس اسی لیے میں نے ایسا کیا ۔پلیز آپ کچھ کریں نا تائشہ نے سویرا کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا
جو سویرہ نے فورا ہی جھٹک دیاا
اس کا دل تو چاہ رہا تھا کہ اس کے منہ پر دو تھپڑ مار دے ۔
جس نے اس کی بہن کو نقصان پہنچایا تھا ۔
ٹھیک ہے میں کچھ کرتی ہوں لیکن آج کے بعد دھڑکن کو بے فضول نقصان پہنچانے کی ضرورت نہیں ہے ۔سویرا نے ٹالنے والے انداز میں کہا اٹھ کر باہر چلے گئی
دادا سائیں میں کچھ وقت حوریہ کے ساتھ اکیلے گزارنا چاہتا ہوں یہاں بہت ڈسٹربنس ہے کبھی مہمان تو کبھی گھر کے ہی لوگ میں تھوڑا وقت اس کے ساتھ بالکل اکیلے گزارنا چاہتا ہوں
اسی لئے اسے اپنے ساتھ ہی لے کے جانا چاہتا ہوں
مقدم سائیں ہم کہہ تو رہے ہیں کچھ دن انتظار کر لیجئے آپ بےشک چلے جائے گا لیکن دھڑکن اور لردم بھی آپ کے ساتھ جائیں گے دادا سائیں نے سمجھاتے ہوئے کہا ۔
نہیں میں اتنے دن انتظار نہیں کر سکتا میں حوریہ کو لے کر جا رہا ہوں مطلب جا رہا ہوں وہ ضدی لہجے میں بولا
اس کے لہجے کے سامنے دادا سائیں ہمیشہ کی طرح ہار مان گئے
اگر فیصلہ کرکے ہی آئے ہیں تو بتائیں کہاں جانا چاہتے ہیں ۔
اس کا موڈ خراب ہوتا دیکھ دادا سائیں مسکرا کر بولے
زیادہ دور نہیں ناران کاغان سوات کشمیر اس نے کل رات ہی حوریہ سے اس کی ساری پسند کی جگہ پوچھی تھی اور حوریہ نے برسوں سے دل میں دبی خواہش بتاتے ہوئے اپنی پسند کی ہر جگہ اسے بتا دی ۔
ٹھیک ہے لیکن زیادہ دن کے لئے نہیں آپ جتنا جلدی ہو سکے واپس آنے کی کوشش کریں گے ۔
ہم تو حیران ہیں کہ کردم اکیلے یہ سب کچھ کیسے سنبھالتے ہیں ان کی ہمت کی داد دینی پڑے گی اتنی ذمہ داریاں ہیں ان پر آپ کے سارے کام وہ کر رہے ہیں ۔
کل آپ کو دیکھ کر لگا کہ آپ سمجھدار ہو گئے ہیں لیکن آج پھر وہی بچوں والی حرکتیں کررہے ہیں ۔
اپنی طبیعت میں تھوڑا ٹھہرو لائیں مغدم سائیں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے کی کوشش کریں
واپس آ کے سمجھوں گانہ شاید وہ ان کی باتوں سے بور ہو رہا تھا اس لئے جلدی سے بولا تو دادا سائیں مسکرائے
ٹھیک ہے جائیں ۔انہوں نے مسکراتے ہوئے اجازت دی تو وہ مسکراتے ہوئے اٹھ کر چلا گیا
حوریہ ہم لوگ سب شادی پر جا رہے ہیں تم اکیلی ہو گھر پر ۔
شام کا کھانا تم نے بنانا ہے سب کچھ تیار کرلینا رضوانہ خالہ نے سختی سے کہا
جب دھڑکن ان کے قریب آئی
لیکن پھوپوسائیں یہ کیا بات ہوئی ان کی شادی کو دو تین دن نہیں ہوئے اور آپ ان کو کام پر لگا رہی ہیں ۔
دھڑکن یہ اس گھر کی بہو ہے اور یہ سارے کام کرنا اس کی ذمہ داری ہے یہ پہلے بھی یہ سب کچھ کر دیا ہے کوئی نئی بات نہیں ہے اور تم بھی یہ اچھل کودچھوڑو اور اپنی ذمہ داریاں سنبھال لو تمبھی اس گھر کی بہو ہو ۔
دادا سائیں نے کہا ہے کہ تم شادی پر ضرور چلو گی لیکن اس گھر کی پوتی بن کر نہیں بلکہ کردم سائیں کی بیوی بن کر یہ سارا گاؤں انکی بہت عزت کرتا ہے ۔
اسی لئے آج جب تیار ہو تو اس بات کا دھیان رکھنا کہ تم حویلی کی بیٹی نہیں رکھتی بہو بن کر باہر نکل رہی ہو
اس گھر میں تمہاری بھی کچھ ذمہ داریاں ہیں ۔
اپنی ذمہ داریاں سنبھالو جب سے یہ لڑکی ان کی بیٹی کی جگہ پر آئی تھی نہ جانے کیوں انہیں یہ لڑکی بھی نے زہر لگنے لگی تھی ۔
پھوپو سائیں کے لہجے میں کچھ ایسا چاہے جو دھڑکن نے شدت سے محسوس کیا تھا وہ پہلے کی طرح اس سے محبت سے بات نہیں کرتی تھی ۔
شاید نئے رشتوں نے پرانے رشتے چھین لیے تھے
اس وقت سوائے حوریہ کے گھر پر اور کوئی نہیں ہے یہی وقت ہے جب آپ اسے ساری سچائی بتا سکتے ہیں اسے بتا سکتے ہیں کہ مقدم شاہ نے اس سے صرف بدلہ لینے کے لئے شادی کی ہے وہ اس سے محبت نہیں کرتا ۔
سویرا سب سے چھپ چھپا کر ملک سے بات کر رہی تھی
تم فکر مت کرو میں اسے یقین دلوا دوں گا بس تم ایک بار میری بیٹی ملوا دو ملک تڑپ کر بولا تھا ۔
آپ کے لئے ہی تو کیا ہے یہ سب کچھ ۔
حوریہ اس وقت گھر پر بالکل اکیلے ہے ہم سب لوگ شادی بھی آئے ہوئے ہیں ۔
آپ جائےیہی وقت ہے حوریہ سے بات کر سکتے ہیں ۔یہ موقع آپ کو دوبارہ نہیں ملے گا سویرا نے فون رکھتے ہوئے کہا
وہ خاموشی سے گھر میں تھا ۔اس نے اپنا حلیہ بدل رکھا تھا کوئی بھی آسانی سے نہیں پہچان سکتا تھا
لیکن پھر بھی اس نے سامنے کے دروازے سے آنے کی غلطی نہ کی تھی کہیں نوکراسے دیکھ کر شک نہ کریں ۔
وہ آہستہ سے چلتا حویلی کے اندر داخل ہوا ۔
اوپر کی منزل پر اسے اپنی بیٹی کہیں نظر نہ آئی وہ زینے اترتا دائیں طرف آیا جہاں کیچن میں ہی اسے اپنی بیٹی نظر آئے ۔
اس سے پہلے کہ وہ اندر جاتا اسے مین گیٹ سے مقدم شاہ اندراتا نظر آیا جو سیدھا ہی کیچن میں آیا تھا
وہ خاموشی سے کچن میں آیا اور سب نوکروں کو آہستہ سے باہر جانے کا اشارہ کیا ۔
وہ سب غیر محسوس انداز میں اس کے قریب سے نکل کر باہر چلے گئے ۔
جبکہ وہ اپنے کام میں اس حد تک مصروف تھی کہ مقدم نےجب اسے اپنی باہوں میں بھرا تو گھبرا کر پیچھے ہٹی
جانم اب یہ ڈرفضول ہے ۔
کتنی بار کہا ہے تمہیں عادت ڈالومقدم اس کے چہرے پر جھکتے ہوئے بولا
مقدم سائیں ہم کچن میں ہے ۔
تو چلو بیڈروم میں چل کر تمہاری یہ شکایت بھی دور کر دیتے ہیں
میں نے کھانا بنانا ہے ۔
اس شدتوں سے گھبراتی اسے خود سے دور کرنے کی ناکام کوشش کرنے لگی جب کردم نے کھینچ کر اسے اپنے قریب کیا ۔
میں وہ ہر وجہ مٹا دوں گا جو تمہیں مجھ سے دور کرتی ہے ۔مجھے تمہاری یہ مزاحمت زہر لگتی ہیں ۔وہ بنا اس کی مزاحمتوں کی پرواہ کیے سے اپنے باہوں میں اٹھائے اپنے بیڈ روم میں لے گیا۔
جبکہ ملک جس طرح سے آیا تھا انہی قدموں پر پلٹ گیا
