267.3K
86

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bheegi Palkon Par Naam Tumhara (Episode 34)

Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah

دادا سائیں کی غضب ناک آواز سن کر کردم نے فورا دھڑ کن کو اپنے پیچھے کیا تھا

جبکہ انہیں کردم کو اس طرح سے دیکھتا پا کر دھڑکن کردم کے پیچھے چھپ گئی ۔

ان دونوں کو غصیلی نگاہوں سے دیکھتے دادا سائیں وہیں سے پلٹ گئے ۔

تم کمرے میں جاؤ میں دادا سائیں سے مل کے آتا ہوں ۔کردم نے اسے جانے کا اشارہ کیا ۔

کردم سائیں دادا سائیں آپ کو کچھ کہیں گے تو نہیں دھڑکن معصومیت سے بولی تو وہ مسکرایا ۔

ابھی یہ تو ان کے پاس جانے سے ہی پتہ چلے گا آخر اتنا بڑا رول توڑا ہے ہم نے ۔

ہم نے نہیں صرف آپ نے میرا نام بھی نہیں لینا دھڑکن نے آنکھیں دکھاتے ہوئے کہا ۔

واہ تمہارا نام نا لوں اور میں جاؤؑ بھاڑ میں کردم نے گھورا تھا ۔

ہاں تو میں ے تھوڑی نہ کچھ کیا ہے یہ آپ ہی کا آئیڈیا تھا جولا لگانا پھر بارش میں بھیگنا اس سب میں میری تو کوئی غلطی نہیں ہے میں تو ہوں ہی معصوم سی آپ کی غلطی ہے آپ ہی ڈانٹ کھائیں اکیلے خبردار جو میرا نام لیا

وہ فورا ہی اس کے قریب سے نکل کر حویلی کے اندر آئی جہاں دروازے کے پیچھے ہی تائشہ کھڑی ذہ معنی انداز میں مسکرا رہی تھی مطلب صاف داداسائیں کو یہاں تک پہنچانے والی وہی ہے ۔

تھوڑا سا صبر ہی کر لیتی دھڑکن تم تو پیچھے ہی پڑ گئی ہو کردم سائیں کے ۔ابھی تمہاری رخصتی کو وقت باقی ہے ۔

اور ویسے بھی کردم سائیں کو زیادہ چپکنے والی لڑکیاں پسند نہیں ہیں ۔

تائشہ نے اس کے قریب کھڑے ہو کر مسکراتے ہوئے اس کی معلومات میں اضافہ کیا

مجھے پتا ہے تائشہ دیدہ کہ کردم سائیں کو چپکنے والی لڑکیاں پسند نہیں ہیں

لیکن وہ خود بہت رومینٹک ہیں ۔

کل مجھے ڈانٹ دیا نہ اسی لیے معافی مانگنے کے لیے انہوں نے میرے لیے سرپرائز پلان کیا تھا ۔

مجھے نہیں پتا تھا کہ کردم سائیں اتنے رومنٹک ہو سکتے ہیں ۔آپ کو بھی نہیں پتا تھا نا خیر چھوڑیں آپ کو کیسے پتا ہوگا آپ ان کی بیوی تھوڑی ہیں۔دھڑکن نے شرماتے ہوئے اسے جلایا تھا

اور ویسے بھی وہ آپ سے تو زیادہ بات نہیں کرتے وہ کیا ہے کہ انہیں چپکنے والی لڑکیاں پسند نہیں ہیں ۔

دھڑکن اس پر طنز کے تیر چلاتے مسکراتے ہوئے اندر چلی گئی جبکہ اس کی باتوں انداز اور چہرے پہ کھلی مسکراہٹ نے تائشہ کو اندر تک راگ کر دیا تھا

حوریہ یار اٹھ جاؤ ہمیں باہر جانا ہے کب تک یوں ہی سوتی رہوگی کتنا انتظار کروں ۔

مقدم کافی دیر سے جگا ہوا تھا اور ایک بار تو پورے ہوٹل کا راؤنڈ بھی لگا کے آیا تھا ۔

اور اب بے چینی سے اس کے جاگنے کا انتظار کر رہا تھا ۔

کل رات مقدم نے اپنے ہرانداز میں اس سے اپنی محبت کا اظہار کیا تھا ۔

جبکہ وہ اس کی باہوں میں بکھرتی اسکی محبت کے ہر رنگ میں رینگتی چلی جا رہی تھی ۔

حور اگر تم اب نہیں جاگی نہ تو پھر میں تمہیں اپنے طریقے سے جگاوں گا اور یقینا پھر تم مجھ سے ناراض ہو جاؤ گی ۔اس کے کان کے قریب سرگوشی نما آواز میں بولا

ؓمقدم سائیں آپ بہت خراب ہے نہ مجھے رات میں سونے دیتے ہیں اور نہ ہی دن میں ۔حور کروٹ بدلتے دوسری طرف سونے کی کوشش کرنے لگی۔

جبکہ اس کی بڑبڑاہٹ سن کر مقدم کے چہرے پر مسکراہٹ آئی تھی ۔

کیا کروں میری نازک سی گڑیا تمہیں سونے دے کر خود پر جبر نہیں کرسکتا ۔

وہ اسے اپنی باہوں میں بھرتے ہوئے محبت سے بولا ۔

اور مجھے نہ سونے دے کر مجھ پر جبر کر سکتے ہیں وہ آہستہ سے بڑبڑائی۔

نہیں بالکل بھی نہیں لیکن تمہیں ہی تو گھومنے جانا تھا نا اب اس طرح سے سارا وقت سوتے گزار کر تم خود ہی اس حسین جگہ کی بے قدری کر رہی ہومیرے دل کا قرار مقدم نرمی سے اس کے گالوں کو لبوں سے چھوتے ہوئے بولا

آپ کے دل کا قرار اس وقت سونا چاہتا ہے مقدم سائیں۔

حورمعصومیت سے بھرپورآواز میں لاڈ سے بولی شاید نیند کے خمار میں وہ خود بھی نہیں جانتی تھی کہ وہ کیا بول رہی ہے ۔

مقدم کو اس پر ٹوٹ کر پیار آیا ۔

ٹھیک ہے میرے دل کا قرار تم سو جاؤ ہم شام کو باہر جائیں گے ۔وہ نرمی سے اس کا ماتھا چومتا اس پر کمبل برابر کرنے لگا ۔

جبکہ اسے اپنے قریب سے اٹھتا محسوس کرکے حوریہ فورا اس کی طرف کروٹ بدلتے ہوئے اس کے سینے پر اپنا سر رکھ گئی ۔

جس پر مقدم کو یقین آ گیا تھا کہ وہ

آدھی جاگی سوئی کیفیت میں ہے کیونکہ اگر وہ پوری جاگ رہی ہوتی تو اس طرح سے اس کے قریب آنے کی غلطی کبھی نہ کرتی۔

جبکہ اس کی نیند کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مقدم نے اپنی باہوں کا گھیرا تنگ کر لیا ۔

اس کے تنگ گھیرے میں ایک بار وہ کسمسکائی پھر بے خبر سو گئی

ملک صاحب مقدم شاہ ایک لمحے کے لئے بھی آپ کی بیٹی کو تنہا نہیں چھوڑتا ۔

وہ ہر وقت اس کے ساتھ رہتا ہے ہم چاہ کر بھی کچھ نہیں کر پا رہے ۔

اور مجھے تو لگتا ہے کہ مقدم شاہ کو ہم پر شک بھی ہوگیا ہے ۔ملک کے آدمی نے اپنا ڈر بیان کرتے ہوئے کہا

مجھے اس بات کی پرواہ نہیں ہے مجھے بس یہ جاننا ہے کہ میری بیٹی تنہا کب ہوتی ہے اسی دوران میں اسے مقدم کی حقیقت کے ساتھ ساتھ شاہ سائیں کے بارے میں بھی بتا دوں گا۔

پھر یقیناً میری بیٹی مقدم شاہ کے ساتھ نہیں رہنا چاہیے گی ۔

اور ویسے بھی کچھ دنوں کے لیے میں گاوں واپس جا رہا ہوں اماں سائیں کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہے ڈاکٹر نے جواب دے دیا ہے ۔

ملک نے پریشانی سے کہا ۔

ٹھیک ہے ملک صاحب آپ گھر ہو آئیں تب تک ہم مقدم شاہ پر نظر رکھتے ہیں ۔ملک کے آدمی نے فون بند کرتے ہوئے کہا ۔

جبکہ ملک کا ارادہ اس وقت واپس گاؤں کی طرف جانے کا تھا وہ بہت کوشش کے باوجود بھی اپنی بیٹی سے بات نہیں کر پایا تھا

ہم مقدم سے اس طرح کی امید کر سکتے ہیں کردم لیکن تم تو سمجھدار ہو ۔

تمہاری اس بچکانہ حرکت کا کیا مطلب نکالوں میں ۔مجھے لگا تھا کہ تم ایسا کچھ نہیں کرو گے جو ہماری شرمندگی کا باعث بنتے لیکن آج جو ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا وہی گھر کا کوئی نوکریا کوئی گاوں والا دیکھ لیتا توہماری کتنی بدنامی ہوتی ۔

وہ دادا سائیں کے سامنے سرجھکائے کھڑا تھا شاید اسے اپنی غلطی کا اندازہ تھا

میں نے سب کچھ دیکھ کر کیا تھا داداسائیں

میں نے سب ملازموں کو چھٹی دی تھی اور جنید کو کہا تھا کہ باہر کا کوئی بھی آدمی حویلی کے اندر یا پچھلے کی سائیڈ نہ آئے ۔کردم کی بات پردادا سائیں نے حیرت سے اسے دیکھا ۔

مطلب کے اب تم بھی مقدم کی طرح پلاننگ کرکے یہ سب کچھ کرنے لگے ہو وہ صدمے سے بولے

کیونکہ ان کی نظر میں کردم ایک سنجیدہ اور سمجھدار انسان تھا

دھڑکن ناراض تھی مجھ سے دادا سائیں دھیمی آواز میں کہا ۔

دادا سائیں بےساختہ مسکرائے

تمہارا باپ بھی اسی طرح سے کرتا تھا تمہاری ماں کے لیے اور تمہاری ماں زیادہ تر اس سے ناراض ہی رہتی تھی ۔بہت لاڈ اٹھاتا تھا وہ اس کے ۔

لیکن ہمارے خاندان کو ملک کی نظر لگ گئی ۔

دادا سائیں مسکراتے ہوئے سنجیدہ ہوگئے وہ ان کے قریب ان کے قدموں کے پاس بیٹھ گیا ۔

دادا سائیں اب تو سب کچھ ٹھیک ہے نا پلیز ان سب چیزوں کے بارے میں مت سوچیں ۔

کردم نے ان کے ہاتھ تھامتے ہوئے کہا تو مسکرا دیے

دھڑکن خوش تو ہے نہ تمہارے ساتھ ۔انہوں نے محبت سے پوچھا تھا ۔

خوش ضرورت سے زیادہ ہی آسمان میں اڑ رہی ہے اتنے نخرے دکھاتی اور آج تو حد کر دی ایک بار شادی ہونے دیں خبردار جو تم نے میری پوتی کے خلاف ایک لفظ بھی کہا کردم ورنہ ہم سے بڑا کوئی نہیں ہوگا

اس کے ناز اس کے نخرے سب اٹھاؤ گے تم اور اگر اس نے تمہارے خلاف ہم سے شکایت کی تو ہم بہت برے طریقے سے پیش آئیں گے تمہارے ساتھ دادا سائیں نے اسے دھمکی دی تو بے اختیار مسکرا دیا

دادا سائیں اس کو کوئی تکلیف نہیں ہوگی

لیکن مہربانی کریں تھوڑا سا پیار اپنے پوتے کے لیے بھی بچا کے رکھیں جب سے وہ آئی ہے ساری محبت اسی پر نچھاور کیے جارہے ہیں تھوڑا سا پیار میرے لیے بھی رکھنا چاہیے نا

جلنے لگے ہو ہماری پوتی سے دادا سائیں نے مسکراتے ہوئے کہا ۔

ہاں تو اتنا دھرلے سے کہتی ہے کہ اب آپ کا پتہ کٹ چکا ہے اور میرا پتہ لگ چکا ہے۔

بہت شرارتی ہے لیکن سچ کہیں تو ہماری جان ہے دادا سائیں نے مسکراتے ہوئے کہا

میری بھی ۔کردم نے دل میں کہا تھا