267.3K
86

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bheegi Palkon Par Naam Tumhara (Episode 21)

Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah

کوئی فرق نہیں پڑتا دھڑکن پہن لو ۔حوریہ نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا

لیکن پھر بھی وہ دلہن والی ڈریس نہیں پہننا چاہتی تھی آج اس کا نہیں بلکہ حوریہ کا ولیمہ تھا

اسی لئے برائیڈل ڈریس پہنتے ہوئے اسے عجیب محسوس ہورہا تھا ۔

فرق پڑتا ہے حوریہ دیدہ دلہن آپ ہیں میں نہیں میں یہ ڈریس نہیں پہن سکتی میں کوئی اور ڈریس دیکھتی ہوں دھڑکن بے دلی سے اٹھی ۔

حوریہ نے اس معصوم لڑکی کیلئے اس طرح سے کبھی نہ سوچا تھا آج اس کے چہرے پر عجیب سی اداسی تھی ۔

میرا کوئی سامان نہیں مل رہا حوریہ دیدہ میرے بری کے کپڑے کہاں ہیں انہی میں سے ایک ڈریس پہن لونگی وہ کمرے میں واپس آئی اور حوریہ سے پوچھنے لگی ۔

تمہارے سارے کپڑے تو میں نے کردم لالہ کے کمرے میں رکھوا دیئے تھے ۔

حوریہ نے اسے مزید الجھا دیا تھا ۔

اب میں اس کمرے میں نہیں جا سکتی نا دھڑکن نے معصومیت سے پوچھا ۔

کیوں نہیں جاسکتی کمرے میں جانے سے کیا فرق پڑے گا ویسے بھی تو پورے گھر میں مہمان ہیں تم وہاں ہی جاکر تیار ہو جاؤ ۔

حوریہ نے کہا تو دھڑکن جانےکے لیے اٹھی میں صرف ڈریس لے کر واپس آتی ہوں

اس کا دل شدت سے چاہ رہا تھا کہ وہ کردم سے ملے اس سے پوچھے کہ وہ رات اسے اس طرح سے چھوڑ کر کیوں گیا تھا ۔

اورڈیرے پر کیوں گیا تھا وہ ڈیرے پر ایسا کیا ہے نہ چاہتے ہوئے بھی سویرہ نے ان دونوں کے بیچ میں جو شک کا بیج بویا تھا دھڑکن اس پر یقین کرنے لگی تھی

•••••••••••••••

اپنے کمرے کا دروازہ لاک دیکھ کر اسے حیرانگی ہوئی ۔

بنا دروازہ کھولے سامنے پھوپو سائیں کے پاس آیا ۔

پھوپوسائیں میرے کمرے میں کوئی مہمان ہیں کیا ۔۔میرا کمرہ لاک کیوں ہے ۔۔۔؟

ارے نہیں بیٹا تمہارے کمرے میں تو کبھی کوئی مہمان نہیں رکوایا ۔گھر والوں کے ساتھ ساتھ مہمان میں جانتے ہیں کہ تمہارے کمرے میں رکھنے پر ان پر کیاقیامت گزرے گی کسی میں اتنی ہمت ہی نہیں ہے کہ تمہارے کمرے میں رہے پھوپو سائیں نے مسکرا کر کہا ۔

تو پھر دروازہ لاک کیوں ہےکردم نے پھر سے پوچھا ۔

پتا نہیں کوئی گھر کا ہی اندر گیا ہوگا پھوپھو نے اس کے کمرے میں کسی کو جاتے نہیں دیکھا تھا اسی لیے بتانے لگی ۔

کردم خاموشی سے واپس پلٹا وہ اپنے کمرے کے چابی کو ہمیشہ ہی اپنے پاس رکھتا تھا ۔

اس کی اجازت کے بغیر اس کے کمرے میں کون جاسکتا ہے کردم نے سوچتے ہوئے دروازہ کھولا ۔

سامنے بیڈ پر پنک کلر کی خوبصورت شارٹ فراک ۔جس کے ساتھ پنک کلر کا ہی ٹروزراور لمبا سا دوپٹہ تھا ۔

اور واش روم سے پانی گرنے کی آواز آرہی تھی ۔

اسے اپنے کمرے میں محسوس کرتے ہی کردم نے دروازہ بند کر دیا ۔

اس کے کپڑے ایک طرف ہٹا کر وہ پر سکون سے بیڈ پر لیٹ گیا ۔

ایک بار پھر سے اس سے اپنا کمرہ آباد محسوس ہوا ۔

ان کے گھر میں بہت سارے مہمان آئے تھے حویلی مہمانوں سے بھری ہوئی تھیں وہ سمجھ سکتا تھا کہ دھڑکن آجکل حوریہ کے کمرے میں رکی ہوئی ہے ۔

کیونکہ اس کے کمرے میں بھی لڑکیاں ٹھہری ہے ۔

لیکن دھڑکن کا اس کے کمرے میں آکر تیار ہونا کردم کو بہت خوش کر گیا تھا ۔

وہ اس کا باہر نکلنے کا انتظار کر رہا تھا

••••••••••••••••

بیوٹیشن حوریہ کو تیار کرکے باہر جا چکی تھی۔

ولیمے کے دلہن کے روپ میں غضب ڈھا رہی تھی ۔

ابھی وہ اپنے آپ کو ایک آخری بار شیشے میں دیکھ رہی تھی جب اسے اپنی کمر پر کسی کے ہاتھ محسوس ہوئے اور پھر اگلے ہی پل ششے میں اس کا عکس ۔صبح وہ اسے سوتا ہوا چھوڑ گیا تھا ۔

اور اس وقت اس شخص سے نظریں ملانا حوریہ کے بس سے باہر تھا ۔

مقدم نے اس کا چہرہ تھوڑی سے پکڑ کر اونچا کیا اس سے پہلے کہ وہ جھکتا حوریہ ہوش کی دنیا میں آئی

مقدم سائیں میک اپ خراب ہو جائے گا ۔۔۔وہ اس سے دوری بناتے ہوئے بتانے لگی

آؤو تو اب اس لاپا تو پی کی وجہ سے تم مجھ سے دور ہو گی مقدم نے اسے کھینچ کر اپنے قریب کیا کیونکہ اسے اس کا بہانہ بالکل فضول لگا تھا ۔

اوہو مقدم سائیں سمجھنے کی کوشش کریں ۔ابھی تھوڑی دیر میں باہر بلا لیں گے آپ بھی جائیں تیار ہوں۔

جب تک تم میرے ہونٹوں کی پیاس نہیں بجھجاتی تب تک نہ تمہیں جانے دؤں گا اور نہ ہی جاوں گا ۔

وہ اس کی لپسٹک کے پروا کیے بغیر اس کے لبوں پر جھکا۔

اور اپنے لبوں کی پیاس بجھجانے لگا۔

اور اس کے جذباتی انداز پر حوریہ خاموشی سے اس کی من مانیاں برداشت کرنے لگی۔

مقدم اس کے لبوں کو اپنی گرفت میں لیے ۔اور اسے مکمل طور پر اپنی باہوں میں قید کئے مدہوش سا اس پر جھکا تھا جب اچانک دروازہ کھلا ۔

حوریہ جھٹکے سے اس سے دور ہوئی تھی جو مقدم کو ناگوار گزرا

سویرا کو بنا اجازت ان کے کمرے میں دیکھ کر مقدم کے ماتھے کی رگیں سامنے ظاہر ہونےلگی

تمہیں مننرز نہیں ہیں کیا اس طرح سے منہ اٹھ کر کسی کے بھی کمرے میں نہیں آیا جاتا وہ کھا جانے والے انداز میں بولا تھا ۔

جبکہ سویرا اپنی اس بےعزتی پر نظریں جھکا گئی ۔

وہ میں دھڑکن سے ملنے آئی تھی ۔ان دونوں کو ایک دوسرے کے اتنے قریب دیکھ کر سویرا کے اندر جلن کی ٹھسیں اٹھ رہی تھی ۔

کہاں ہے دھڑکن تمہیں کہیں نظر آرہی ہے مقدم کو اس وقت اس پر بہت غصہ آرہا تھا ۔

وہ حوریہ اور اپنے پرسنل مومنٹ میں کسی کی مخالفت برداشت نہیں کر سکتا تھا ۔

ٹھیک ہے سویرا کہتی ہوئی پیر پٹکتی باہر چلی گئی ۔

اورمقدم زور سے دروازہ بند کرتا ہے ایک بار پھر سے حوریہ کے نزدیک آیا اور اسے کھینچ کر اپنے قریب کیا ۔

مقدم سائیں ابھی کوئی اور ۔۔۔

چپ ایک دم چپ ۔۔وہ اسے سخت نظروں سے گھورتا اس کے لبوں پر ایک بار پھر سے جھکا تھا ۔

سویرا کا اس طرح ان کے کمرے میں آنا اور حوریہ کا اس طرح سے اس سے دور ہونا اسے ناگوار گزرا تھا اور اپنی شدت سے شاید حوریہ کو اسی بات کا انداز احساس دلانا چاہ رہا تھا

•••••••••••••••

وہ باتھ گون پہنے جیسے ہی باہر نکلی۔بیڈ پر کردم کو لیٹا دیکھ کر شاکڈ رہ گئی۔

اس سے پہلے کہ وہ دوبارہ قدم اٹھاتی پیچھے واش روم میں بند ہوتی کردم اسے اٹھ کر پکڑ چکا تھا ۔

اس کا ہاتھ پکڑ کے کردم نے ایک بھرپور نظر اس کے سراپے پر ڈالی ۔

گھٹنوں تک آتا باتھ گون وہ کھینچ کھینچ کر لمبا کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔

اس کی اس بچکانہ سے حرکت پر کردم کو ہنسی آرہی تھی ۔

ایسے لمبا ہوجائے گا کیا ۔۔۔وہ اس سے کے کھینچنے پر چوٹ کرتے ہوئے مسکرا کر بولا ۔

مجھے نہیں پتا اپنا دوسرا ہاتھ بھی کردم کی گرفت میں جاتا دیکھ کر وہ بے بسی سے بولی

جب کردم نے اس کے دونوں ہاتھ کھینچ کر اسے اپنے قریب کیا ۔

اپنا توازن برقرار نہ رکھتے ہوئے وہ اس کے سینے سے آ لگی

کردم کی اس حرکت پر دھڑکن کا معصوم دل زور سے دھڑکا تھا ۔

وہ اس کی گر دن پر اپنی محبت کی مہر ثبت کرتا اس کی بولتی بند کر چکا تھا ۔

دھڑکن کے ہاتھ پیر اس حد تک ٹھنڈے پر چکے تھے وہ اپنا بچاؤ تک نہیں کر پا رہی تھی ۔

کردم ۔۔۔۔۔۔سائیں ۔۔۔۔۔۔

سششش۔ وہ اس کی کمر میں ہاتھ ڈالتا اس کے ہونٹوں پر جھکا ۔

اس سے پہلے کہ وہ اس کے ہونٹوں پر اپنی چھاپ چھوڑتا اس کے کمرے کا دروازہ بجنے لگا ۔

کردم سائیں آپ کو شاہ سائیں نیچے بلا رہے ہیں ۔دروازے کے ساتھ کسی کی آواز بھی آئی اور اس کے ساتھ ہی دھڑکن کی کمر پر کردم کے ہاتھ کی گرفت ڈیلی پر گئی ۔

دھڑکن تم جلدی سے چینج کرو ۔

تم پہلے کمرے سے باہر نکلو تاکہ تم کسی کی نظروں میں نہ آؤ ۔میں نہیں چاہتا کہ باہر لوگ کسی بھی قسم کی کوئی بات بنائے ۔

کردم نے بیڈ پر رکھے ہوئے اس کے کپڑے اٹھا کر اس کے ہاتھ میں رکھے ۔

جبکہ دھڑکن اس کا چہرہ دیکھ رہی تھی کتنے سوال کرنے تھے اس شخص سے اور وہ اسے بھگا رہا تھا ۔

مجھے۔۔۔۔۔۔۔۔ بات ۔ ۔ ۔۔کرنی ہے۔۔ آپ سے ۔۔وہ شرم حیا کوئی ایک طرف رکھتی کہنے لگی ۔

ہم بعد میں بات کریں گے پہلے جاؤ تم تیار ہو جاؤ ۔فی الحال دادا سائیں بلا رہے ہیں ۔اور سترہ دن بعد میرے پاس ہیں تو آوگی ۔وہ مسکرا کر اس کے ماتھے پر اپنے محبت کی مہر لگا تھا اسے واش روم کی طرف بھیج چکا تھا ۔

دھڑکن خاموشی سے اس کی بات مانتی چینج کرنے چلی گئی۔