267.3K
86

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Bheegi Palkon Pe Naam Tumhara Hai) Epi 04

بے سکونی سی بے سکونی تھی اس کی محبت کو اس سے دور کرنے کی بات کی جا رہی تھی
کتنی پی چکا تھا اور کتنی اور پی رہا تھا اسے اندازہ نہ تھا
وہ رات کو حویلی آیا تو حویلی میں عجیب سا سناٹا چھایا ہوا تھا ایک عجیب سی گھٹن اس کے اندر اور باہر تھی اس کا دل چاہا کہ ہر چیز تہس نہس کر دے اس نے ہاتھ میں پکڑی ہوئی شیشے کی بوتل زور سے زمین پر دے ماری
سرخ انگارے نما آنکھوں میں غصہ تھا
کچھ ٹوٹنے کی آواز پر کردم سائیں جو اسٹڈی میں بیٹھا تھا باہر آیا اس کے پیچھے وہ بھی آئی اور اکثر اس وقت کردم سے اسٹڈی میں ہیلپ لیتی تھی
کیا بات ہے مقدم سائیں تم ٹھیک تو ہو۔۔۔؟ کر دم اس سے سترہ دن ہی بڑا تھا اس لئے ان دونوں میں کبھی کسی نے فرق نہیں کیا وہ دونوں ایک دوسرے کو نام سے پکارتے تھے
دادا سائیں کہاں ہیں۔ ۔۔۔؟ مجھے ان سے بہت ضروری بات کرنی ہے وہ اسے دیکھ کر بولا
ایسی حالت میں جاو گے ان کے پاس وہ اسے نشے میں دھت دیکھ کر بولا
ہاں مجھے بہت ضروری بات کرنی ہے ان سے بہت ضروری مجھے ابھی ان سے بات کرنی ہے اس کے لہجے میں نشے کے ساتھ ساتھ ضد بھی سر اٹھائے بول رہی تھی
ٹھیک ہے وہ اپنے کمرے میں ہی شاید سو چکے ہوں گے
اس بتاتے ہوئے کردم نے پیچھے مڑ کر دیکھا جہاں حوریہ کھڑی تھی شاید وہ مقدم شاہ کی حالت سے خوفزدہ تھی
حوری گڑیا اگر تم پڑھ چکی ہو تو اب جاکر آرام کرو کل کا ٹیسٹ اچھا ہونا چاہیے میں خود چیک کروں گا وہ سختی سے بولا پڑھائی کے معاملے میں کسی بات کا لحاظ نہیں کرتا تھا
حوریہ ہاں میں سرہلاتی اپنے کمرے کی طرف چلی گئی جبکہ کردم شاہ سوچ رہا تھا کہ مقدم سائیں کو دادا سائیں سے اس وقت کیا بات کرنی ہے
کیوں کہ فیصلے والی بات کو لے کر وہ زیادہ سیریس نہیں تھا اس بات کا اندازہ وہ لگا چکا تھا
•••••••••••••
داداسائیں آپ جاگ رہے ہیں نہ مجھے آپ سے بہت ضروری بات کرنی ہے وہ بیڈ پر بیٹھ کر کچھ پڑھ رہے تھے اور وہ دروازے پر کھڑا ان کو اجازت طلب نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔
اس کے لہجے سے وہ اندازہ لگا چکے تھے کہ وہ نشے میں ہے
ہم صبح بات کرتے ہیں مقدم سائیں اس وقت تمہیں آرام کی ضرورت ہے وہ اپنے لہجے کو نرم بنا کر بولے وہ اپنے پوتوں سے کبھی اونچی آواز میں بات نہیں کرتے تھے ۔
مجھے آرام کی نہیں حوریہ کی ضرورت ہے وہ بلند آواز میں بولا داداسائیں اسے دیکھ کر رہ گئے
یہ کیا کہہ رہے ہو مقدم سائیں وہ اسے دیکھتے ہوئے بولیں۔
ہاں دادا سائیں میں ٹھیک کہہ رہا ہوں مجھے حوریہ چاہیے میں اس سے محبت کرتا ہوں وہ میری ہر سوچ پر سوار ہے وہ میری زندگی ہے وہ میری راحت ہے میرا سکون ہے اور کل کوئی انجان میرا سکون لوٹنے آرہا ہے ۔
اور قسم لے لیں دادا سائیں اپنا سکون لوٹنے والے کو میں کل موت کی نیند سلا دوں گا ۔
اگر کسی نے مجھ سے میری محبت کو چھینا چاہاتو قسم خدا کی دوسری سانس لینے کے قابل نہیں چھوڑوں گا وہ تش کے عالم میں بولا
مقدم سائیں سویرا تمہاری امانت ہے اس کے ہاتھ میں تمہارے نام کی انگوٹھی ہے منگیتر ہے وہ تمہاری اور مت بھولو کےحوریہ کس کی بیٹی ۔۔۔۔۔
وہ میری محبت ہے دادا سائیں وہ ادب و لحاظ بھول کر بولا وہ صرف میری ہے دادا سائیں اسے کسی اور کا نہ کہیں میں برداشت نہیں کر سکتا وہ میری ہے بس بات ختم مقدم شاہ نے بات ختم کردی
اور اب مقدم شاہ کی ضد کے سامنے سب بیکار تھا
وہ اس رشتے سے خوش ہے مقدم شاہ ۔دادا سائیں نے آخری کوشش کی
مجھ سے زیادہ وہ کسی کے ساتھ خوش نہیں رہ سکتی آپ انکار کردیں مقدم شاہ کے لہجے میں ضد بول رہی تھی
اگر وہ خود انکار کردے تو ٹھیک ہے مقدم سائیں اس کے ساتھ کوئی زبردستی نہیں ہوگی دادا سائیں نے پھر سے کہا جس پر مقدم شاہ کے چہرے پر دلفریب مسکراہٹ کھل گئی
وہ انکار ضرور کرے گی مقدم شاہ نے یقین سے کہا
ٹھیک ہے اگر وہ انکار کرکے تم سے شادی کے لیے حامی بھرتی ہے تو مجھے اس شادی پر کوئی اعتراض نہیں دادا سائیں نے ہار مانتے ہوئے کہا
تو مقدم شاہ لاڈ سے اس بار ان کے سینے سے لگ گیا
آج پھر مقدم شاہ کی ضد کے آگے دادا سائیں کی ضد ہار رہی تھی
وہ شخص جو اپنی اولاد کے سامنے کبھی سر نہیں جھکاتا تھا آج اپنی اولاد کی اولاد کے سامنے بے بس ہو کر رہ گیا
•••••••
میں کہیں نہیں جاؤں گی بابا سائیں آپ میرے ساتھ زبردستی نہیں کرسکتے
اور نا ہی میں ایسا کچھ ہونے دوں گی اگر آپ نے مجھے زبردستی پاکستان لے جانے کی کوشش کی تو میں پولیس سے کانٹیکٹ کروں گی
پھر آپ کو مجھے بیٹی کہتے ہوئے اور زیادہ شرمندگی محسوس ہوگی میں بالغ لڑکی ہوں اپنی مرضی کی مالک ہوں دھڑکن نہیں جسے آپ اپنی مرضی پر چلائیں گے سویرا بغاوت پر اترتی بدتمیزی کی سیڑھیاں پھلانگنے لگی
کاش میں بابا سائیں کی بات مان کر یہاں نہ آتا تم لوگوں کو اس ماحول سے دور رکھنے کے لیے میں اپنی ماں کی میت پر بھی نہیں گیا
تم لوگوں کو پرسکون زندگی دینے کے لیے میں نے اپنا سب کچھ چھوڑ دیا اور تم میرے سامنے سر اٹھا کر بکواس کر رہی ہو
اگر اس وقت تم حویلی میں ہوتی تو اس سرکشی پر تمہیں زندہ زمین میں گاڑ دیا جاتا لیکن اب ان سب باتوں کا کوئی فائدہ نہیں گاؤں تو تمہیں چلنا ہوگا اگر چاہو تو اپنا سامان پیک کرلو اگر نہیں تو تمہاری شادی کی شاپنگ تو ویسے بھی ہم کریں گے بابا سائیں اس کی کسی بات کو کوئی اہمیت دیے بغیر بولے
شادی مائی فٹ میں ابھی پولیس میں جاونگی وہ کہتے ہوئے اپنا فون اٹھا کر کال کرنے لگی لیکن فون نہیں لگا
میں تمہارا نمبر ان رجسٹر کروا چکا ہوں اس گھر سے نکلنے کی کوشش بھی مت کرنا صدیق اسے روکنے کے لیے تم اس کے ساتھ جیسا چاہے سلوک کر سکتے ہو میری اجازت ہے وہ صدیق کو کہتے ہوئے آگے بڑھ گئے سویرا نے ایک خطرناک گھوری سے صدیق کو دیکھا
جو اس کی بات کو کوئی اہمیت نہیں دیتا تھا شاید اس کے لئے صرف دھڑکن ہی اس کے مالک کی بیٹی تھی جسے وہ کسی معصوم بچی کی طرح ٹریٹ کرتا تھا
وہ تھی ہی اتنی معصوم کے کوئی بھی اس سے محبت سے بات کرتا ہوں صدیق جیسے پتھر دل انسان کے لیے بھی اہم تھی
۔
•••••••
بابا سائیں پاکستان میں تو بہت سردی ہوگی یہ بھی رکھ لیتی ہوں وہ ہاتھ میں پکڑا ہوا جمپر بھی بیگ میں رکھ کر بولی
بابا سائیں میرے برتھڈے تک ہم وہیں رہیں گے میں اپنے سب کزنز کے ساتھ اپنا برتھ ڈے سیلیبریٹ کرونگی کتنا مزا آئے گا نہ
بابا سائیں میں یہ بھی رکھ لوں وہ اپنا لیدر جیکٹ ہاتھ میں پکڑے ہوئے بولی
پاکستان میں لنڈن کے مقابلے سردی بہت کم ہے آپ یہ سب کچھ مت رکھے بیٹا سائیں
بابا سائیں نے سمجھانا چاہا
نہیں بابا سائیں موسم کا کیا بھروسہ وہ معصومیت سے کہتی جیکٹ کے ساتھ ساتھ 2 جمپر اور رکھ چکی تھی
جبکہ بابا سائیں اسے دیکھ کر مسکرا رہے تھے
بابا سائیں سویرا دیدہ کی پیکنگ میں ہی کردوں
وہ باہر لان میں بیٹھی ہیں جب تک وہ واپس آتی ہیں میں چپکے سے ان کی ساری پیکنگ کر دوں گی وہ شرارت سے بولی
وہ جانتی تھی کہ سویرا پاکستان نہیں جانا چاہتی
بیٹاسائیں سویرا کی شاپنگ ہم پاکستان سے کرلیں گے ان کی شاپنگ تو ویسے بھی کرنی ہے شادی جو کرنی ہے وہاں جاکر ان کی احمد شاہ نے اسے پیار سے سمجھایا تو وہ انہیں دیکھنے لگی
مطلب دیدہ کی شادی کے لیے ہم پاکستان جا رہے ہیں وہاں سویرہ دیدہ کی شادی ہوگئی کتنا مزا آئے گا
دھڑکن چہکتے ہوئے بولی تو بابا پھر سے مسکرایں
یہی خوشی وہ سویرا کے چہرے پر دیکھنا چاہتے تھے لیکن وہ ان کے فیصلے سے خوش نہیں تھی
وہ کچھ نہیں کر سکتے تھے سویرا مقدم شاہ کی منگ ہے اور ان کی زندگی کا سب سے بڑا سچ یہی تھا ان کے خاندان میں جب ایک بار لڑکی کے ہاتھ میں انگوٹھی ڈال دی جائے تو اس کی شادی اسی کے ساتھ کروا دی جاتی ہے چاہے اس کی مرضی شامل ہو یا نہ ہو برسوں سے یہی ہوتا آیا تھا اور آگے بھی یہی ہونا تھا اور ویسے بھی سویرا نے جو حرکت کی ہے وہ اس سے سخت خفا تھے