Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah Readelle50340 Bheegi Palkon Par Naam Tumhara (Episode 26)
No Download Link
Rate this Novel
Bheegi Palkon Par Naam Tumhara (Episode 26)
Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah
تائشہ غصے سے اپنے کمرے میں آگئی اس کا دل چاہا کہ دھڑکن کا منہ توڑ دے کس طرح سے کردم نے آج پہلی بار اس کے ہاتھ کی چائے پینے سے انکار کر دیا ۔
وہ کیسے اس کے دل کے ساتھ یوں کھیل سکتا ہے وہ جانتا ہے کہ وہ اس سے کتنی محبت کہتی ہے اور اس کے دل کو اتنی آسانی سے توڑ دیا ۔
کتنی محبت سے وہ اس کے لئے چائے بنا کر لائی تھی
یہ آپ نے ٹھیک نہیں کیا کردم سائیں میں آپ کو اس طرح سے اپنی محبت کو نظرانداز نہیں کرنے دوں گی ۔
میں کبھی اپنی جگہ دھڑکن کو نہیں لینے دوں گی ۔
آپ پر پہلا حق میرا ہے اور میرا ہی رہے گا دھڑکن چاہے کچھ بھی کر لے کبھی میری جگہ نہیں لے پائے گی اور نہ ہی اسے میں اپنی جگہ یہ لینے دوں گی جو بھی ہوا ہے اس پر تم بہت پچھتاؤ گی ۔
تمہیں لگتا ہے نہ تم مجھ سے میرے کردم شاہ کو چھین لو گی تو میں تمہاری یہ غلط فہمی میں دور کروں گی ۔
•••••••••••••••••
کردم شاہ داداسائیں کے قریب سے اٹھ کر اپنے کمرے میں چلا گیا اس کا ارادہ فریش ہونے کا تھا ۔
دھڑکن کی معصوم شرارت یاد کرتے ہوئے دادا سائیں ایک بار پھر سے مسکرا اٹھے
دھڑکن بالکل اہانہ شاہ جیسی تھی اسی کی طرح معصوم اسی کی طرح شرارتی کتنی پیاری تھیں ان کی بیٹی آہانہ سب سے عزیز
لیکن اتنی ہی مشکل ترین زندگی ۔کتنی محبت لاڈ اور پیار سے کتنے نازوں سے اپنی بیٹی پالی تھی
اتنی محبت تو انہوں نے کبھی رضوانہ سے بھی نا کی تھی جتنی اہانہ سے کرتے تھے ۔
اسے دیکھتے ہی ان کے لبوں پر مسکراہٹ آ جاتی تھی ۔
دیکھنے میں حوریہ بھی بالکل آہانہ جیسے ہی دکھتی تھی ۔
بالکل آہانہ جیسی آنکھیں جنہیں دیکھنے سے وہ اکثر گرز کرتے قدبالکل آہانہ جتنا تھا ۔
وہ ان کی سب سے لاڈلی بیٹی کی بیٹی تھی لیکن صرف اہانہ کی نہیں وہ تو احسن ملک کی بیٹی تھی ۔
جس سے وہ نفرت کرتے تھے ۔
اور اس آدمی سے نفرت کی انتہا یہ تھی کہ وہ اپنی بیٹی کی بیٹی تک کو نہ دیکھتے ۔
وہ خاموشی سے اپنی کرسی سے اٹھے ہو اور اہانہ کے کمرے کی طرف چلے آئے اس کمرے میں سوائے دادا سائیں کے اور کوئی نہیں آتا تھا ۔
وہ جب بھی اداس ہوتے یا آہانہ کی یاد حد سے زیادہ آتی تو وہ اس کمرے میں چلے جاتے جہاں اہانہ نے اپنا خوبصورت بچپن گزارا تھا ۔
•••••••••••••
دھڑکن نے یوٹیوب سے چائے بنانا سیکھی ۔
لیکن ملازمائیں اسے عجیب نظروں سے دیکھ رہی تھی چائے کے لیے وہ کبھی ایک چیز مانگتی تو کبھی دوسری چیز
چھوٹی بی بی جی چائے میں اتنی چیزیں نہیں ڈالی جاتی ملازمہ نے سمجھاتے ہوئے کہا
اوہو آپ مجھے کنفیوز نہ کریں یوٹیوب والے ماسٹر ہیں انہیں سب پتہ ہوتا ہے ۔
جیسے آپ بناتے ہیں ویسے چائے نہیں بنتی مجھ سے سیکھیں کہ کس طرح سے چائے بنائی جاتی ہے ۔
دھڑکن نے کسی ماہر شیف کی طرح کہا اور چائے بنانے میں جھٹ گئی ملازمہ بھی اس کی ڈانٹ سے ڈرتے ہوئے جو کچھ وہ مانگ رہی تھی دیتی جارہی تھی ۔
اور پھر چائے نا می ایک شاہکار تیار ہوگیا جسے اب کردم سائیں نے پینا تھا ۔
مبارک ہو کردم سائیں آپ کی بیوی نے پہلی بار چائے بنائی ہے وہ خود کو شاباشی دیتی ہوئی کردم کو بھی مبارک بھی دے ڈالی اور چائے لے کر اس کے کمرے میں جانے لگی
•••••••••••••••••
دادا سائیں کتنی ہی دیر اہانہ کے کمرے میں رہیں ۔
انہیں یاد تھا یہ کمرہ اہانہ اور وہ دونوں سجاتے تھے ۔
وہ اپنے ہر کام میں صرف اپنے باپ کو شامل کرتی تھی ۔
شاہ سائیں جو دنیا کے لئے سخت گیر انسان تھے اپنی بیٹی کے لیے دنیا کے کے بہترین باپ تھے ۔
اہانہ کے لئے ان کے چہرے پر کبھی غصہ نظر نہ آیا ۔
وہ اس پر کبھی غصہ کر ہی نہیں پاتے تھے بالکل دھڑکن کی طرح ۔
دھڑکن کے ہر اسٹائل میں انہیں کہیں نہ کہیں اہانہ نظر آتی تھی ۔
شاید حوریہ کے بھی انداز میں اہا نہ ہوتی ہوگی لیکن حوریہ پرانہوں نے کبھی دھیان ہی نہیں دیا وہ ان کے دشمن کی جو بیٹی تھی ۔
تصویر والا البم کہاں گیا یہیں تو رکھا تھا وہ الماری میں تصویروں والا البم ڈھونڈ رہے تھے لیکن بہت ڈھونڈنے کے بعد بھی انہیں نہ ملا پھر اچانک یاد آیا وہ تو کچھ دن پہلے وہ اپنے کمرے میں لے گئے تھے ۔
پھر کچھ سوچتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف چل دیے ان کا ارادہ اپنے کمرے سے البم لانے کا تھا ۔
•••••••••••••••
وہ چائے لے کر آئی کردم نہا رہا تھا ۔
کردم سائیں آپ کی چائے دھڑکن نے ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا ۔
وہی میز پر رکھ دو دھڑکن میں تھوڑی دیر میں آتا ہوں ۔وہ اندر سے بولا
ٹھیک ہے آپ چائے پی لیجئے گا میں نے بنائی ہے یوٹیوب سے دیکھ کر دھڑکن نے بتانا ضروری سمجھا جس پر اندر کردم بےساختہ مسکرایا ۔
اچھا تم نے یوٹیوب سے دیکھ کر چائے بنائی ہے گویا بات کھینچنے کو اس کے ساتھ باتیں کرنا چاہتا تھا ۔
جی ہاں آپنے ہاتھوں سے بنائی ہے میں نے اچھا میں جارہی ہوں دھڑکن نے واپسی کی راہ لیتے ہوئے کہا ۔
دھڑکن تھوڑی دیر رکو مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے کردم کا دل اسے بہت ساری باتیں کرنے کو تھا لیکن دھڑکن تھی جو یہاں سے بھاگنا چاہتی تھی ۔
نہیں مجھے حوریہ دیدہ کے کمرے میں جانا ہے مجھے ان سے کچھ کام ہے آپ بعد میں بات بتا دیجئے گا نہ جانے کیا کیا کام ہیں آپ کا مجھ
وہ اس کے جذبات اور خواہشات سے انجان بولی اور کمرے سے باہر نکل گئی ۔
تھوڑے ہی دن رہ گئے ہیں پھر تمہیں بتاتا ہوں کیا کیا کام ہے ۔
پھر دیکھوں گا کیسے کرتی ہوں یہ بھاگ دوڈ آنا تو تمہیں میرے ہی پاس ہے
••••••••••••••
حوریہ نے دھڑکن سے کہا تھا کہ وہ چائے بنا کر اس کے کمرے میں آ جائے ۔
لیکن کافی دیر کے بعد بھی جب وہ نہ آئی تو پھر حوریہ اس کے پیچھے چلی گئی ہو سکتا ہے اس سے چائے نہ بنی ہو ۔
لیکن راستے میں ہی نظر اچانک اہانہ کے کمرے پر پڑی ۔
اسے یاد تھا بچپن میں جب وہ ایک بار کمرے میں گئی تھی تو نانا سائیں نے اسے بہت سخت ڈانٹا تھا ۔
اور اس کے بعد وہ اس کمرے میں نہ گئی لیکن یہ اس کی ماں کا کمرہ تھا وہ خود کو روک بھی نہیں سکتی تھی ۔
نہ چاہتے ہوئے بھی وہ کمرے کے اندر چلی گئی اس کمرے کی ہر ایک چیز اس کی ماں کی تھی
جس میں اس کی ماں کی یادیں تھیں
اس گھر میں کبھی بھی اسے اہانہ کی بیٹی کے روپ میں قبول نہ کیا گیا سب لوگ اسے احسن ملک کی بیٹی کہتے تھے ۔
وہ تو کبھی بھی اہانہ کی بیٹی نہ بن پائی ۔
لیکن ان سب کے کہنے سے کیا وہ اہانہ کی بیٹی نہیں رہے گی ۔
وہ اس کی بیٹی تھی کوئی مانے یا نہ مانے ۔
اس کے سامنے ایک بہت بڑی تصویر تھی جس میں نانا سائیں نے اس کی ماں کو اپنے سینے سے لگایا ہوا تھا ۔
کتنا پیار کرتے تھے وہ اس کی ماں سے اور اس سے اتنی ہی نفرت ۔
جیسے اس کی ماں کا قتل اس کے باپ نے نہیں بلکہ اس نے کیا ہو ۔
وہ ہر چیز کو چھوتی اپنی ماں کا لمس محسوس کر رہی تھی ۔اس کی آنکھیں کب بھیگنے لگی اسے محسوس نہ ہوا
•••••••••••••••••
کردم شاہ نہا کر نکلا تو نظر سامنے میز پر الٹا پڑے ہوئے کپ پر پڑی
وہ پریشانی سے آگے بڑھا اور کپ کو ایک طرف کرتا ضروری کاغذات دیکھنے لگا جن کا بیڑا غرق ہو چکا تھا
یا خدایا یہ کیا ہو گیا کاغذات کو دیکھتے ہوئے وہ بہت پریشان ہو چکا تھا کیونکہ یہ بہت ضروری کاغذات تھے
یہ اس لڑکی نے کیا کردیا کردم کا غصے سے برا حال ہو رہا تھا ۔
یہ انتہائی ضروری کاغذات تھے ۔
تو اس لیے بھاگ گئی بیوقوف لڑکی غلطی قبول کی جاتی ہے اس طرح اسے بھاگا نہیں جاتا ۔
شاید کردم کو اتنا غصہ نہ آتا اگر دھڑکن اسے بنا بتائے یہاں سے چلی نہ جاتی اگر چائے پیپرز پر گر گئی تھی تو اسے بتا دینا چاہیے تھا نہ کہ اس طرح سے جھوٹ بول کر یہاں سے بھاگ جانا چاہیے تھا ۔
وہ پیپرز اٹھا کر نیچے آیا ۔
کیونکہ مانا چاہے غلطی سے گری ہو گی لیکن اسے چھپا کر دھڑکن نے غلطی کی تھی جو کردم کو ہرگز پسند نہ آئی وہ کبھی نہیں چاہتا تھا کہ وہ تائشہ کی طرح ہر بات میں اس سے جھوٹ بولے وہ اپنا اور دھڑکن کا رشتہ سچائی سے مضبوط کرنا چاہتا تھا
اب ان پیپرز کی وجہ سے جو نقصان ہونا تھا سو ہوا لیکن کردم کا ارادہ دھڑکن کو یہ بتانے کا ضرور تھا کہ اپنی غلطی ایکسیپٹ کرنی چاہیے نہ کہ چھپانی
•••••••
