Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah Readelle50340 Bheegi Palkon Par Naam Tumhara (Episode 49)
No Download Link
Rate this Novel
Bheegi Palkon Par Naam Tumhara (Episode 49)
Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah
اسے یقین نہیں آرہا تھا اس کی ماں جس نے کبھی اس سے اونچی آواز میں بھی بات نہ کی تھی وہ اسے اس طرح سے تھپڑ مارے گی ۔
وہ تو اپنے خاندان بھر کا لاڈلا اس خاندان کا اکلوتا چشم و چراغ تھا آج تک کسی میں اتنی ہمت نہ ہوئی تھی کہ کوئی اس پر ہاتھ اٹھاتا اور اس کی اماں سائیں ۔
جو پچھلے دو ہفتوں سے بہت بری حالت میں بستر پر پڑی تھی آج آکر اس کے نہ صرف سامنے کھڑی تھیں بلکہ اسے تھپڑ تک مارا
اماں سائیں ۔۔۔۔ اس سے آگے وہ کچھ نہ بول پایا
مت کہو مجھے ماں نہیں ہوں میں تمہاری ماں ایسا کیسے کرسکتے ہو تم احسن اپنے ہی ہاتھوں سے اپنی بیٹی کا گھر تباہ کر رہے ہو اپنے ہی دمادکو قتل کرنے کی سازش ۔
تم اتنے کیسے گر گئے ۔۔۔۔ اہانہ پے تم نے ستم ڈھائے اور ہم سے کہا کہ یہ تمہارا اور اس کا ذاتی معاملہ ہے اور اب تم اپنی بیٹی کے شوہر کو قتل کر دینا چاہتے ہو کیا یہ بھی تمہارا ذاتی معاملہ ہے تم اہانہ کو دن رات مارتےپیٹتے خود اپنی دشمنی نبھانے کے لیے ۔
لیکن اب جب سالوں سے وہ دشمنی کی راگ ٹھنڈی پڑی ہے تو تم نکل پڑے اس ٹھنڈی راگ سے جلتے کوئلے کی تلاش میں ۔
کیوں نہیں جینے دے رہے ہو انھیں سکون سے کیوں نہیں ختم کر دیتے یہ دشمنی ۔
بس کرو رحم کرو ان پر ارے ان کا پورا خاندان برباد کر چکے ہو اب کیا چاہتے ہو کہ ان کا نام و نشان مٹ جائے ۔
بد کردو خدا کے لئے بس کردو ہاتھ جوڑ رہی ہوں میں تمہارے سامنے ۔اماں سائیں نےاس کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہوئے اپنے سینے پہ ہاتھ رکھا ۔
بس کرو سکون لینے دوآہانہ کی روح کو مت تڑپاؤ اسے مزید اماں سائیں سینے پر ہاتھ رکھے ہوئے وہیں زمین پر گرنے لگیں جب ملک نے انہیں تھامتے ہوئے خدیجہ کو پکارا
اس نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ اس کے ساتھ زندگی یہ کھیل کھیلے گی کیا نہیں کیا تھا اس نے اس شخص کو حاصل کرنے کے لئے ۔
ہاں اگر اس دن وہ سویرا کی بات نہ مانتی بلکہ وہی کرتی جو اس نے سوچا تھا تو آج کردم کسی اور کا نہ ہوتا ۔
اس نے تو ہمیشہ سے اپنے آپ کو صرف کردم شاہ ہی کاسوچا تھا
اور کیا ہوگیا آج شادی میں اس سے ملنے کے لیے وہ لوگ بھی آئے تھے جنہوں نے اس کا رشتہ ڈالا تھا
لڑکا امریکا میں پڑھا لکھا اپنا بزنس سنبھال رہا تھا شادی کے بعد تائشہ کو وہیں پر رکھنا چاہتا تھا ۔
تائشہ نے اس لڑکے کی آنکھوں میں اپنے لیے وہی احساس محسوس کیا جو وہ آج تک کردم کے لیے کرتی آئی تھی ۔
نانا سائیں نےانہیں گھر پر بھی انوائٹ کرلیا تھا
گھر والوں کی باتوں سے یہی لگ رہا تھا کہ وہ سب اس رشتے کے لیے راضی ہیں۔
نہیں میں نے صرف کردم سائیں سے محبت کی ہے میں ان کی جگہ کبھی کسی کو نہیں دے سکتی ۔
میں نہیں کرسکتی ہوں اس سے شادی یہ میرے لئے ممکن نہیں ہے ۔
میں انکار کر دوں گی میں کردم سائیں کو احساس دلاؤں گی اپنی محبت کا انہیں بتاؤں گی کہ میں نے صرف ان کو چاہا ہے وہی میرا سب کچھ ہیں اور قیامت تک وہیں رہیں گے
تائشہ بری طرح سے روتے ہوئے خود سے بول رہی تھی ۔
بس کرو لڑکیوں کتنا کنگال کرو گی مجھے ۔آج کیلئے اتنا بہت ہے کردم اپنے کمرے کے دروازے کے باہر کھڑا تھا ۔
اورحوریہ اور سویرا اس کے کمرے کے دروازے کے باہر اسے روکے کھڑیں تھیں ۔
دیکھیں لالا بات صرف اتنی سی ہے کہ آپ اس کمرے کے اندر تب تک قدم نہیں رکھ سکتے جب تک آپ ہماری جیب نہ بھر دیں ۔
اور پلیز ہمہیں آنکھیں نہ دیکھیں آج ہم ان سے بالکل بھی ڈرنے والے نہیں حوریہ نے اس کی آنکھوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔
جبکہ مقدم ان کے قریب کھڑا بس مسکرائے جا رہا تھا کردم نے اسے گھور کر دیکھا
مقدم شاہ تمہارا کتنا حصہ ہے ان کے اس نیگ گیم میں جو تم میرا ساتھ دینے کی بجائے ان کا ساتھ دے رہے ہو ۔کردم نے گھورتے ہوئے پوچھا ۔
حصہ نہیں بس ایک نظر کرم چاہیے ۔کردم نے حوریہ کو دیکھتے ہوئے زو معنی انداز میں کہا ۔
جب کہ اس کے انداز پر حوریہ کی پوری آنکھیں کھل چکی تھی ۔
جب کردم نے مسکراتے ہوئے اپنی جیب سے ان دونوں کے لیے خریدے ہوئے لاکٹ نکال کر ان کے حوالے کئے ۔
اب نکلو دو دن تک مجھے اپنی شکل مت دکھانا ۔
کردم نے ان دونوں کو واڑن کیا
لیکن لالا دھڑکن کے لیے کہاں ہے اس نے کہا تھا میرا حصہ الگ سے رکھنا ۔حوریہ نے دانت دکھاتے ہوئے کہا ۔
جبکہ حوریہ کی بات سن کر مقدم کا قہقہ نکل گیا ۔
میں اندر جا رہا ہوں نا گڑیا اسے اس کا گفٹ مل جائے گا کردم نے یقین دلاتے ہوئے کہا ۔
حوریہ اور سویرہ دونوں اپنے اپنے کمرے کی طرف جانے لگی ۔
جبکہ مقدم ابھی بھی اس کے کمرے کے دروازے پر کھڑا مسکرائے جا رہا تھا ۔
خوش ہو ۔۔۔۔۔۔؟ مقدم نے دلکشی سے مسکراتے ہوئے پوچھا
تمہیں کیا لگتا ہے ۔۔۔۔؟کردم کا انداز بھی بالکل مقدم جیسا تھا
مجھے لگتا ہے کردم سائیں کے میں نے آج تک تمہیں اتنا خوش نہیں دیکھا ۔مقدم نے اس کے سینے سے لگتے ہوئے کہا تو کردم بے اختیار مسکرایا ۔
ہاں بہت خوش ہوں ایسا لگتا ہے جیسے زندگی کی سب سے بڑی خوشی پالی ۔
کردم نے اعتراف کیا ۔
اب جلدی سے کمرے میں جاؤ یہ نہ ہو کہ تمہاری زندگی کی سب سے بڑی خوشی سو چکی ہو۔مقدم نے اسے کمرے میں بیھجتے ہوئے کہا تو وہ مسکراتے ہوئے اندر چلا گیا جبکہ مقدم کا ارادہ اس وقت اپنے کمرے میں جاکرحوریہ کی نیند اڑانے کا تھا۔
اس نے کمرے میں قدم رکھا تو وہ الماری میں سر دیے اپنے لئے نرمدہ کپڑے نکال رہی تھی ۔
کہاں میرا سوہنا ماہی ابھی تو میں نے تمہیں جی بھر کے دیکھا بھی نہیں ۔وہ اس کا ہاتھ کھینچ کر اسے بیڈ تک لایا اور خود بیڈ پر لیٹتے ہوئے اسے کھینچ کر اپنے اوپر گریا ۔
بڑی مغرور ہوتی جارہی ہیں جناب ہمیں تو پوچھتے ہی نہیں ۔اور جس دن غضب ڈھاتی ہیں اس دن تو بالکل منہ نہیں لگاتی اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیے پیار بھری شکایت کرنے لگا ۔
مجھے پتا تھا اگر آج میں آپ کو پوچھتی تو آپ مجھے کوئی کام نہیں کرنے دیتے اسی لیے آپ سے دور دور رہ کر کام کیے ہیں ۔حوریہ نے نخرے دکھاتے ہوئے وجہ بتائی ۔
مطلب میرے دل کا کرار اتنا ڈرتا ہے مجھ سے اس نے اس کے گال پر اپنے لب رکھتے ہوئے پوچھا ۔
آپ ڈراتے ہیں مقدم سائیں اس کی اگلی جسارت پر حوریہ نے اپنا آپ اس کے سینے میں چھپاتے ہوئے کہا ۔
ابھی کہاں میرا سوہنا ماہی ڈرانا تو میں ابھی شروع کروں گا ۔وہ اسے بیڈپے لٹاتے ہوئے اس کے چہرے پر جھکتے ہوئے بولا ۔اور حوریہ ہمیشہ کی طرح اس کی محبت کے آگے بے بس ہوگئی
