Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah Readelle50340 Bheegi Palkon Par Naam Tumhara (Episode 44)
No Download Link
Rate this Novel
Bheegi Palkon Par Naam Tumhara (Episode 44)
Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah
حویلی میں ہر کوئی مصروف تھا ہر کسی کو اپنی اپنی تیاری کی پڑی تھی ۔
جبکہ دھڑکن نے تو اپنی کیٹی کے لیے بھی نئے کپڑے بنوائے تھے ۔
بابا نے پوچھا کہ یہ کیٹی اسے کس نے لا کر دی ہیں تو دھرکن نے کہا اسی نے جو اسے سب سے زیادہ محبت کرتا ہے ۔
لیکن پھر بابا سائیں کو یہ بھی جانتا تھا کہ آخر وہ شخص کون ہے جس نے اسے یہ کیٹی لا کردی ہے ۔
دھڑکن نے پہلے تو بہت نخرے دیکھائے لیکن پھر اسنے بتا ہی دیا کہ یہ کیٹی اسے کردم نے لا کر دی ہے ۔
دوپہر میں وہ ان سب چیزوں کو فضول کہہ رہا تھا ۔ ہاں شاید یہ سب فضول ہو چکا ہوگا دھڑکن کو دینے کے بعد ۔کیوں کہ کردم سائیں کوئی فضول کام نہیں کرتے ۔
پھر احمد شاہ نے بھی اس کا ذکر کسی کے سامنے نہیں کیا ۔
دادا سائیں کو یہی لگا کہ یہ کیٹی دھڑکن نے خود منگوائی ہے کیونکہ کردم سے انہیں اس طرح کی کوئی امید نہ تھی ۔
گھر کے سب ہی ملازم حویلی کو سجانے میں مصروف تھے
تائشہ تو اپنے کمرے سے نہیں نکل رہی تھی جبکہ رضوانہ پھوپو سب کو دکھانے کے لئے کر دم کی خوشی میں خوش ہونے کی کوشش کر رہی تھی ۔
سویرا ہر کام میں حصہ لے رہی تھی اور تو اور دھڑکن کو چھڑنے میں سب سے زیادہ اہم کردار ادا کر رہی تھی ۔
سویرہ میں آنے والے بدلاؤ کو گھر میں سب نے نوٹ کیا تھا ۔
لیکن اس سب کے باوجود دادا سائیں اس سے بالکل بات نہیں کرتے تھے ۔
سویرا نے ان کے پاس جا کر ان سے بات کرنے کی کوشش کی
لیکن دادا سائیں اسے اگنور کر گئے ۔
دادا سائیں کا کھچاکھچا انداز سویرانے نوٹ کرلیا تھا اسی لیے انہیں دوبارہ مخاطب کرنے کی غلطی اس نے نہیں کی ۔
جب کہ سویرہ اب حوریہ سے بھی بہت پیار سے بات کر رہی تھی اس سے پہلے اس نے حوریہ سے کبھی اس طرح سے بات نہیں کی تھی اب تو وہ حوریہ سے دوستی بھی کر چکی تھی۔
جو بھی تھا اب وہ سب گھر والوں کی فکر کرنے لگی تھی سب سے زیادہ نازیہ کی ۔ وہ ان کا بہت خیال رکھتی نازیہ کو بھی سویرا بہت اچھی لگنے لگی تھی ۔
وہ زیادہ وقت اسی کے ساتھ گزارتی۔ جب کہ حوریہ کے ساتھ نازیہ چاہ کر بھی نارمل رویہ نہیں رکھ سکتی تھی ۔
وہ جب بھی اسے قبول کرنے کی کوشش کرتی کہیں نہ کہیں اس کے دماغ میں یہی بات آجاتی کہ اس کا باپ اس کے شوہر کا قاتل ہے ۔
لیکن پھر بھی مقدم کے لیے وہ حوریہ کو قبول کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔یہ اس کی مجبوری تھی کیونکہ وہ اپنے بیٹے کو کھو نہیں سکتی تھی ۔
ہر گزرتے لمحے کے ساتھ مقدم کی حوریہ کے لئے برتی محبت کو وہ نوٹ کر چکی تھی ۔
نازیہ کی ہر ممکن کوشش ہوتی کے مقدم کے سامنے جب بھی حوریہ کو محاطب کرے تب اس کے لہجے میں کسی قسم کی کوئی تلخی نہ ہو
اور مقدم کی غیرموجودگی میں وہ اسے مخاطب نہیں کرتی تھی۔
حوریہ نے بھی یہ بات بہت نوٹ کی تھی کہ وہ اسے صرف اور صرف مقدم کے سامنے ہی بلاتی ہیں ۔لیکن یہ بات اس نے مقدم کو نہیں بتائی تھی وہ خود بھی جانتی تھی کہ حوریہ کو قبول کرنا ان کے لیے اتنا آسان نہیں ہے ۔
اسی لیے وہ خود کوشش کر رہی تھی کہ وہ نازیہ کے سامنے زیادہ نہ جائے ۔اور نا ہی انہیں مجبور کرے کہ وہ اس سے بات کریں یا خود سے اسے مخاطب کریں وہ جانتی تھی کہ یہ چیز انہیں تکلیف دیتی ہے
دادا سائیں کی تو ہر بات حوریہ سے شروع ہوکر حوریہ پہ ختم ہو رہی تھی
اس کے یہاں آنے سے پہلے ہی دادا سائیں نے رضوانہ پھوپھو اور نازیہ کو اپنے کمرے میں بلایا تھا
اور ان دونوں سے کہا تھا کہ خبردار جو انہوں نے حوریہ کے ساتھ کوئی بھی غلط رویہ رکھنے کی کوشش کی
دادا سائیں نہیں چاہتے تھے کہ اب حوریہ کے ساتھ کسی بھی قسم کی کوئی زیادتی کی جائے جس سے وہ ہرٹ ہو رضوانہ پھوپھونے تو واپس آکر اسے طعنہ مارنا تودور کی بات۔ بات تک نہ کی تھی ۔
اور نازیہ اپنے بیٹے کی محبت میں مجبور ہو کر اس کے سامنے اس سے بات کرنے کی کوشش کر رہی تھی ۔
جبکہ دادا سائیں اپنی ہر پرانے زیادتی اپنے ہر بُرے رویے کو بھول کر حوریہ کو محبت سے ویلکم کر چکے تھے ۔
اورحوریہ جو ساری زندگی اپنے نانا کی محبت کے لیے ترسی ہوئی تھی ان کی ہر پرانی بات بھلا کر ان کے ساتھ خوش خوش رہنے لگی
اسے نہ رضوانہ کے رویے سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا اور نہ ہی نازیہ کے وہ تو نانا سائیں کے کو دیکھ کر حیران تھی جو اس سے بہت محبت سے پیش آرہے تھے ۔
اس وقت حوریہ کو کہیں بھی ایسا محسوس نہیں ہو رہا تھا کہ یہ سب کچھ مقدم کی وجہ سے ہوا ہے
ایسا محسوس ہورہا تھا کہ نانا سائیں کے دل میں اپنے آپ ہی اللہ نے اس کے لئے محبت ڈال دی ہے ۔
آج سالگرہ تو دھڑکن کی تھی مگر کھانے کی ساری ڈش نانا سائیں کےحکم پر حوریہ کی پسند کی بنائی گئی تھی ۔
جبکہ دھڑکن بھی دادا سائیں کو حوریہ سے اس طرح پیار سے بات کرتے دیکھ کر بہت خوش تھی ۔وہ جب سے آئی تھی دادا سائیں کو حوریہ سے کھچا کھچا نوٹ کر چکی تھی اس نے کئی بار حوریہ سے وجہ بھی جاننا چاہی لیکن وہ اسے باتوں میں لگا کر کبھی اصل بات نہ بتاتی تھی پھر ایک دن اسے خود ہی سب کچھ پتہ چل گیا جس دن دادا سائیں نے اسے کمرے سے باتیں سنا کر نکالا تھا ۔
اس دن اس نے احمد شاہ کے کمرے میں جا کر ان سے سب کچھ پتہ کر لیا تھا
حوریہ تو جب سے مقدم گھر سے گیا تھا تب سے ہی اس کے انتظار میں بیٹھی تھی کہ کب وہ واپس آئے اور کب وہ اسے دادا سائیں کے بارے میں سب کچھ بتائیں کہ کس طرح سے دادا سائیں نے اس سے محبت سے بات کی ۔
ہر بات میں اس سے رائے مانگی
اور یہ تک کہہ دیا کہ اب حور یہ جب چاہے اہانہ کے کمرے میں جا سکتی ہے وہاں بیٹھ سکتی ہے حتیٰ کہ وہاں رہ بھی سکتی ہے ۔
حوریہ کی خوشی کی تو مانو کوئی انتہا ہی نہ تھی ۔دادا سائیں کی اجازت کے بعد وہ تھوڑی دیر اہانہ کے کمرے میں بھی گئی تھی ۔
اس کی پرانی چیزیں دیکھتی اسے محسوس کرتی نہ جانے کتنی دیر وہ اس کے کمرے میں روتی رہی جب نانا سائیں وہاں آئے ۔
اور اسے اپنے سینے سے لگایا ۔
یہ وہ واحد غم تھا جو نانا سائیں اور حوریہ کا ایک سا تھا اس غم پر دونوں کا برابر کا حصہ تھا برابر کا حق تھا ۔
اور آج یہ حق 19 سال کے بعد حوریہ کو نانا سائیں نے دیا تھا ۔
مقدم تو صبح ہوتے ہی اسے تنگ کرتے ہوئے اپنے کام پر جا چکا تھا اتنے دنوں سے کردم سب کچھ اکیلے سنبھال رہا تھا لیکن اب کردم کی شادی ہو رہی تھی تومقدم نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ اس پر زیادہ بوجھ نہیں ڈالے گا ۔
بلکہ دادا سائیں کے کہنے پر سب کچھ خود ہی سنبھالنے کی کوشش کرے گا
اور اس وقت اسے صبح کے گئے ہوئے رات کے آٹھ بج چکے تھے ۔وہ ابھی تک واپس نہ آیا تھا ۔
جبکہ پارٹی کے نام پر دھڑکن اور سویرا نے ملازماوں کے ساتھ مل کر تھوڑی بہت مستی کی تھی جس میں حوریہ بھی شامل تھی ۔
دھڑکن کی پارٹی بھی بالکل دھڑکن جیسی تھی اس میں گھر کا کوئی بڑا شامل نہ تھا بس رنگ برنگی کھانے بنائے گئے گھر کی ہی ملازمہ کے ساتھ گیمز کھیلیں گئی اور اینڈ پر شاہی کھانا کھا کر کیک کاٹ دیا گیا ۔
اور اس کی اس بچگانہ پارٹی میں کوئی بھی بڑا شامل نہ تھا ۔کیونکہ دھڑکن کاکیک تو سب کل رات کو ہی کاٹ چکے تھے جب کہ اس خاندان میں کبھی برتھ ڈے پارٹی نہیں منائی گئی تھی ۔ اس گھر میں یہ خوشی کا دن صرف اپنوں کے ساتھ ہی منایا جاتا تھا لیکن پھر بھی دھڑکن کو اس کی پارٹی کرنے کی اجازت دے دی گئی ۔
آج کی تاریخ میں تائشہ اپنے کمرے سے باہر نہ نکلی شاید یہ اس کی زندگی میں سایہ دن تھا
جبکہ دھرکن نے بھی اسے اپنی پارٹی میں بالکل نہیں بلایا وہ اس کی شکل دیکھ کر اپنا دن خراب نہیں کرنا چاہتی تھی ۔
چودھری صاحب اس دن آپ نے کہا تھا کہ آپ کردم شاہ کو جان سے مار ڈالیں گے ۔
تو کیا آپ سچ میں ایسا کچھ کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں چوہدری کا خاص آدمی اصغر اس کے پاس بیٹھا اس سے پوچھ رہا تھا ۔
ارے نہیں میرا دماغ خراب ہو گیا ہے میں تو اسے ڈرا رہا تھا لیکن شاہ سائیں کے ان دونوں پوتوں کا میں کیا کروں ایک ضرورت سے زیادہ عقلمند ہے ہے تو دوسرا ضرورت سے زیادہ خطرناک ۔
لیکن اپنی زمین تو میں بھی ہاتھوں سے اس طرح سے جانے نہیں دوں گا ۔
زمین پر میرا حق ہے میرے باپ سے ایک غلطی ہوگئی ہے اسنے وہ زمین شاہ سائیں کے نام کردی لیکن وہ کڑوروں کی زمین کو میں کوڑیوں کے دام میں دے دوں اتنا پاگل نہیں ہوں میں ۔
لیکن اس زمین کی پہلے تو کوئی قیمت نہ تھی اس کی قیمت بنی ہے جب لوگوں کو یہ پتا چلا ہے کہ وہ وہاں پر لڑکیوں کا اسکول تعمیر ہونے والا ہے ۔
اور وہ زمین تو آپ کے ابا نے انہیں بیچ دی ہے اور وہ رقم بھی لے چکے ہیں ۔ان کے پاس سارے ثبوت موجود ہیں ۔
وہ بے وقوف لڑکیاں آپ کو کاغذات دے گئی تھی لیکن پھر بھی وہ کاغذات حویلی واپس کیسے پہنچے ۔اصغر نے پوچھا ۔
اصغر کے بات سن کر چوہدری کو وہ دن یاد آیا جب اپنی شادی والے دن مقدم شاہ نے آ کر اسے اتنا دھویا تھا کہ حد نہیں ۔
اس دن مقدم شاہ نے اس سے نہ صرف زمین کے کاغذات چھین لیے تھے بلکہ اسے یہ بھی کہا تھا کہ دوبارہ ایسی حرکت نہ کرے ۔
پھر وہاں سے چلا گیا تھا اور مقدم شاہ کی مار کھانے کے بعد چوہدری کو یہی لگا تھا کہ شاید ہی وہ زندہ بچ پائے لیکن اسے وہاں پڑے ہوئے ابھی تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ مقدم شاہ واپس آگیا ۔
اور اس سے کہا ۔
چودھری تم سے دشمنی میں ذرا مزہ نہیں آ رہا پلیز اتنی جلدی مت مرنا میں تمہیں مزید مارنا چاہتا ہوں لیکن آدھ مرے شخص کو مارنا مقدم شاہ کا اصول نہیں ہے چلو میں تمہیں اسپتال پہنچا دیتا ہوں ۔وہاں تم جلدی سے ان زخموں کی مرہم پٹی کروا لو تاکہ ایسے ہی زخم میں تمہیں اور دے سکوں
عنائی لبوں پہ گھنی مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے مسکرا کر مقدم شاہ نے اس کا بے جان وجود ہسپتال میں جا پھینکا تھا ۔
اور اس ساری کارروائی کے بعد ہی وہ اپنی شادی اٹینڈ کرنے گیا تھا جیسے کہ وہ کوئی دولہا نہیں بلکہ کوئی عام مہمان ہوں خیر مقدم شاہ کا تو ہر انداز ہی نرالا تھا لیکن اس کے بعد چوہدری نے مقدم سے پنگا نہ لینے کی قسم کھائی تھی ۔
جانتا تھا مقدم اگر ہر بات پر مارنے پر آجاتا ہے تو کردم ہر بات کو سمجھداری سے حل کرنے کے بارے میں سوچتا ہے ۔
لیکن آج زمینوں پر مقدم شاہ کو دیکھ کر وہ وہی سے لوٹ آیا وہ فی الحال اس کے ہاتھوں سے قیمہ نہیں بنا جاتا تھا ۔
اس کی ساری دھمکیاں صرف کردم شاہ کیلئے تھی۔
