267.3K
86

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bheegi Palkon Par Naam Tumhara (Episode 60)

Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah

کردم کی آنکھ کھلی تو بیساختہ اس کے لبوں پر مسکراہٹ آ گئی ۔دھڑکن اس کے سینے پر سر رکھیے بالکل اس کے قریب سو رہی تھی ۔

اس کے بال اس کے چہرے کو پوری طرح سے کور کیے ہوئے تھے ۔کردم نے آہستہ سے ہاتھ اٹھا کر اس کے بالوں کو اس کے چہرے سے پیچھے کیا ۔

اور خاموشی سے اس کا حسین چہرہ دیکھنے لگا ۔

جب سے دھڑکن اس کی زندگی میں آئی تھی وہ اپنے آپ کو خوش نصیب تصور کہنے لگا تھا ۔

یہ تو اللہ پاک کا کرم تھا کہ اللہ نے اس کا نصیب دھڑکن کے ساتھ جوڑا تھا نہ کہ تائشہ کے ساتھ ۔

لیکن جس کا تائشہ کے ساتھ جورا تھا کردم سوچ کر رہ گیا ۔۔۔۔۔

اس نے کل جیند کو صبح صبح حویلی آنے کے لیے کہا تھا لیکن وہ یہ بھی جانتا تھا کہ جنید ساری رات زمینوں پر لگا رہا ہے ۔

اس نے بس ایک بار جنید کو کہا تھا کہ کے دادا سائیں کا یہ خواب صرف دادا سائیں کا ہی نہیں بلکہ اس کا بھی ہے اور اسی دن سے جنید نے یہ ذمہ داری اپنے کندھوں پر اٹھا لی تھی ۔

اور وہ جو بھی ذمہ داری اٹھاتا تھا اسے پوری ایمانداری کے ساتھ نبھاتا تھا ۔

اسے پتہ تھا دادا سائیں بہت پریشان ہوں گے کل جو کچھ بھی ہوا اس کے بعد پورے گھر میں ایک ناخوشگوار سی فضا پھیلی ہوئی تھی ۔

گھر کے سب لوگوں کے بارے میں سوچتے ہوئے وہ اپنے لب بھیج گیا پھر اس کی نظر دھڑکن کے چہرے پر پڑی ۔پرسکون بے فکرسا چہرا جہاں کوئی فکرمندی کوئی پریشانی نہیں تھی ۔

کردم کو یقین تھا کہ تائشہ کی شادی کی خوشی سب سے زیادہ دھڑکن کو ہوئی تھی ۔اب جوبھی تھا اس کے اندر بیویوں والی جیلیسی تو تھی

لیکن وہ جانتا تھا دھرکن مطلبی نہیں ہے وہ تب تک اپنی خوشی کا اظہار نہیں کرے گی جب تک گھر کا ماحول بالکل نارمل نہیں ہو جاتا ۔

ابھی وہ دھڑکن کے چہرے کو دیکھ رہا تھا جب اسے اچانک یاد آیا کہ چاچوسائیں نے ٹکٹ منگوانے کے لیے کہا تھا وہ اور سویرہ واپس جانا چاہتے تھے

وہاں ان کے بزنس میں کافی لوز ہو چکا ہے ان کے ورکرز اس کے کام کو ٹھیک سے سنبھال نہیں پا رہے اسی لئے انہوں نے واپس جانے کا فیصلہ کیا ہے ۔

اس نے نرمی سے دھڑکن کو خودسے الگ کرتے ہوئے اس کے ماتھے پر اپنے لب رکھے ۔

اور آہستہ سے اس کے قریب سے اٹھ کر فریش ہونے چلا گیا

جب کے دھرکن میڈم نے اپنی نیند پوری کرکے ہی جاگنا تھا

اس نے آہستہ آہستہ سہمے ہوئے انداز میں کمرے میں قدم رکھا کل رات مقدم کی نگاہوں میں غصہ دیکھ کر وہ کافی ڈر چکی تھی۔

اس نے کمرے میں دیکھا جہاں مکمل اندھیرا چھا چکا تھا اور کافی حد تک کمرے میں دھواں بھی پھیلا ہوا تھا ۔

سگریٹ کی سیمل نےاس کی گھبرا ہٹ میں اضافہ کیا تھا اس نے ہاتھ آگے کرتے ہوئے لائٹ ان کی اور بیڈ کے جانب دیکھا ۔

بنا شکنوں کے سلیقے سے بیچھی بیڈشیٹ کو دیکھ کر وہ پریشان ہوگئی

اس نے گھبرا کر نظریں اٹھا کر سٹڈی ٹیبل کے ساتھ رکھی ہوئی کرسی کو دیکھا ۔جہاں وہ کرسی کے ساتھ ٹیک لگائیں آنکھیں موندھے لیٹا ہوا تھا ۔

یقینا وہ ساری رات سے یہی بیٹھا تھا اور نہ ہی وہ ساری رات سویا تھا ۔

حوریہ نے بے چینی سے آگے بڑھتے ہوئے اس کے کاندھے پہ ہاتھ رکھا ۔

اور اگلے ہی لمحے مقدم نے اس کا ہاتھ اتنی زور سے جھٹکا تھا کہ وہ گرتے گرتے بچی۔کیونکہ اس سے پہلے کہ وہ گرتی مقدم اس کا ہاتھ تھام کر اسے واپس سیدھا کر چکا تھا

کیوں آئی ہو میرے پاس اب بھی جاؤ اپنی رشتہ داریاں نبھانے جس طرح سے رات کو نبھا رہی تھی ۔وہ غصے سے گھورتے ہوئے بولا آنکھیں سرخ انگارا اس کے غصے کا پتہ دے رہی تھی ۔

مقدم سائیں رات کو پھوپوسائیں کو کسی کی ضرورت تھی وہ ساری رات روتی رہیں ہیں اس وقت بھی وہ بخار میں تپ رہی ہیں ۔حوریہ نے بے چینی سے اسے پھوپو سائیں کی کیفیت بتانی چاہی۔

حوریہ مجھے کسی سے کوئی مطلب نہیں ہے ساری زندگی وہ تمہیں تانے مارتی رہیں تمہیں باتیں سنتی رہیں اور اب جب ان کی اپنی بیٹی ان کا منہ کالا کر چکی ہے توانہیں تمہاری ضرورت ہے ۔

اور ایک بار تم نے مجھ سے پوچھنے کی زحمت نہیں کی ایک بار تم نے نہیں سوچا کہ جب تک میں تمہیں اپنی باہوں میں نہ لے لوں مجھے نیند نہیں آتی ۔

یہ بستر اب مجھے اکیلے قبول نہیں کرتا ۔ایک سیکنڈ کو بھی نہیں سو سکا میں ایک بار تم نے مجھ سے پوچھا نہیں کیوں کیا یہ اہمیت رکھتا ہوں میں تمہاری زندگی میں ۔

کیا اسی طرح سے ساری زندگی میرے سینے میں دل بن کر دھڑکتی رہو گی اور مجھے تڑپاتی رہو گی کیوں میرے جذبات کی شدت کو تم سمجھ نہیں پاتی ۔

کیوں تمہیں سمجھ نہیں آتا کہ تمہاری بھی نہیں ہوتم صرف میری ہو صرف اور صرف مقدم شاہ کی۔ وہ اسے اس کی گردن سے کھینچ کر اپنے قریب کرتا بے ساختہ اس کے لبوں کو قید کر چکا تھا ۔

اس کے شدت سے بھرپور انداز پر حوریہ کو اپنا سانس رکتا ہوا محسوس ہوا لیکن اسے روکنے کی گستاخی کرکے وہ مزید اسے غصہ نہیں دلا سکتی تھی۔

جبکہ اس کے ہونٹوں سے گردن کا سفر طے کرتے ہوئے وہ مزید حدود پار کرنے لگا ۔

حوریہ نے اسے روکنے کے لئے ہلکی سی مزاحمت کی جو اس کی گھوری کے آگے ناکام ٹھہرائی ۔

وہ شخص ایک رات کی دوری برداشت نہیں کر پایا تھا اورحوریہ خوابوں میں اسے خود سے دور جاتا دیکھتی تھی کتنی نادان تھی وہ شاید دائمی جدائی کے علاوہ کبھی الگ ہوسکتے تھے یا مقدم شاہ اسے خود سے الگ کر سکتا تھا

کیا ہوا سویرا بیٹا تمہاری طبیعت بہت خراب لگ رہی ہے آو میں تمہیں ڈاکٹر کے پاس لے چلتا ہوں ۔ احمد شاہ نے سویرا کی بگڑتی حالت دیکھ کر کہا اس کا چہرا بالکل سرخ ہو چکا تھا جیسے ابھی وہاں سے خون ٹپکنے لگے گا ۔

حالت بھی کافی بگڑی ہوئی لگ رہی تھی اس نے ابھی تک کل والے کپڑے چینج نہیں کیے تھے ۔عجیب سی تھکاوٹ سے اس کے جسم کا ایک ایک حصہ دکھ رہا تھا ۔

نہیں بابا سائیں میں بالکل ٹھیک ہوں بس ہلکا سا بخار ہے تھوڑی دیر میں اتر جائے گا آپ پھو پوسائیں کو ہسپتال لے جائیں ان کی طبیعت کل رات سے بہت خراب ہے ۔

سویرہ نے انہیں سمجھاتے ہوئے کہا ۔

جبکہ اس کے مطمئن کرنے کے بعد بھی وہ مطمئن نہ ہوئے تھے ۔ وہ ان سے باتوں سے ہٹ کر اپنا سامان پیک کرنے لگی۔تین دن کے بعد ان کی فلائٹ تھی۔

کردم نے صبح اٹھتے ہی سب سے پہلے ان کے لئے یہ کام کیا تھا جبکہ دھڑکن کو تو جب سے پتہ چلا تھا کہ وہ لوگ واپس جارہے ہیں وہ ان دونوں سے روٹھ کر اپنے کمرے میں بیٹھی ہوئی تھی۔

لیکن احمد شاہ ا سے سمجھانا چاہتے تھے کہ وہ بیٹی کے گھر میں زیادہ دن نہیں رک سکتے مانا کہ یہ ان کا اپنا گھر بھی ہے لیکن وہ چاہتے تھے کہ اب دھڑکن خود اپنی ذمہ داریاں سنبھالے ۔اور ان کے بزنس میں بھی لندن میں کافی لوز ہو رہا تھا

اسی لئے انہوں نے جلدی واپس جانے کا فیصلہ کیا تھا جو دھڑکن کو بالکل پسند نہیں آیا تھا

دیکھو جنید جو کچھ بھی ہوا ہم تم سے اس سب کے لئے معذرت کرتے ہیں ہم نے تمہارے ساتھ بہت زیادتی کی ہے ۔

ہم نے دیکھا ہی نہیں کہ ہمارا ہی خون سفید ہو چکا ہے

مقدم سائیں نے صرف تم پر ہی نہیں بلکہ تمہاری وفاداری پہ ہاتھ اٹھایا ہے ۔

لیکن پھر بھی تم نے ہمارے خاندان کی عزت رکھتے ہوئے ہماری مطلبی بیٹی کو اپنے نکاح میں لیا ہم تمہارا یہ احسان مرتے دم نہیں تک نہیں بولیں گے دادا سائیں نے اپنے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا

لیکن ان کے ہاتھ جوڑنے سے پہلے ہی جنید ان کے ہاتھ تھام چکا تھا

میں نے آپ لوگوں پر کوئی احسان نہیں کیا شاہ سائیں یہ میرا فرض ہے ۔

یہ تو کچھ بھی نہیں اگر کردم سائیں کے لیے مجھے جان دینے کا موقع ملے تو مجھے خوشی ہوگی ۔

جنید نے مسکراتے ہوئے ان کے ہاتھ کھلے تو دادا سائیں نے بے اختیار سے اپنے سینے سے لگا لیا ۔

کاش تم بھی ہمارے پوتے ہوتے ۔آج ہمیں یہ کہتے ہوئے فخر ہو رہا ہے کہ ہمارے گاؤں کا کل تم تینوں ہو دادا سائیں نے مسکراتے ہوئے کردم اورمقدم کو اپنے قریب بلاکر ان تینوں کو اپنے سینے سے میں بھیجا تھا ۔مقدم جنید کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر ہلکا سا مسکرایا ۔

زیادہ زور سے تو نہیں لگی تھی وہ اس کی پیٹھ کو سہلاتے ہوئے مسکرا کر بولا ۔

آپ بتائیں آپ نے زور سے مارا تھا یا ہلکے ہاتھ سے اس حساب سے بتاؤں گا جنید نے مسکراتے ہوئے کہا ۔

ویسے مجھے لگ رہا ہے کہ آپ نے صرف اس وجہ سے نہیں مارا شاید آپ نے مجھ سے اس دن کا بھی بدلہ لیا ہے جب کردم سائیں کی شادی والے دن میں نے آپ کی بات نہ مانتے ہوئے کردم سائیں کو سب کچھ بتا دیا تھا جنید نے شرارت سے کہا

زیادہ کردم سائیں کا چمچا بننے کی ضرورت نہیں ہے اپنے کام پہ دھیان دو مقدم نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کمرے سے باہر جاتے ہوئے کہا ۔

جلتے ہیں آپ کردم سائیں سے آپ کے پاس ایسا چمچا نہیں ہے نا اس لیے ۔اس کے بات پر پیچھے آتے کردم نے بے ساختہ قہقہ لگایا تھا ۔

کردم سائیں مجھے سمجھ نہیں آرہا یہ چمچا ہے یا کانٹہ کب سے میرے ساتھ پنگے بازی کیے جا رہا ہے مقدم نے تنگ آکر اس کی شکایت کردم سے کی

جب کہ وہ ان دونوں کی باتوں پر مسکراتا نفی میں سر ہلاتا سیڑھیوں سے نیچے اتر گیا

پلیز احسن انکل سمجھنے کی کوشش کریں وہ جنید بہت ہی کمینہ ہے اس نے مجھے تھپر مارے ہیں آپ اندازہ نہیں لگا سکتے کردم سائیں کے سامنے بھیگی بلی بن کے رہنے والا کس طرح سے شیر بن کر مجھ دھاڑرہا تھا ۔

میں اس شخص کے ساتھ ایک گھر میں ایک کمرے میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتی خدا کے لئے میری بات کو سمجھنے کی کوشش کریں ۔

یہ آپ کا پلان تھا جو بُری طرح سے فیل ہو چکا ہے اور میں یہاں اس شخص کے ساتھ ایک لمحہ نہیں کاٹ سکتی زہر لگتا ہے انتہائی نفرت ہے مجھے اس سے بس مجھے یہاں سے باہر نکلا نکالیں ۔

اور اگر آپ نے میری مدد نہیں کی نہ تو میں آپ کو بتا رہی ہوں میں حویلی کے ایک ایک انسان کو بتا دوں گی کہ کردم سائیں پر جان لیوا حملہ کروانے والے آپ تھے جو کہ کردم سائیں پر نہیں بلکہ مقدم لالا پر کروایا گیا تھا

تاکہ مقدم لالہ مرجائیں اور حوریہ ہمیشہ کے لئے آپ کے پاس آجائے آپ چاہتے ہیں کہ حوریہ اورمقدم لالا الگ ہوجائیں لیکن اگر آپ نے میری مدد نہیں کی تو میں حوریہ کو بھی میں آپ کے اتنے خلاف کر دوں گی کہ وہ کبھی آپ کی۔۔۔

چٹاخ۔ ۔۔۔۔ نہ جانے وہ ابھی کیا کیا کہنے والی تھی جب کسی نے اسے اپنی طرف کھینچتے ہوئے ایک زوردار تھپڑ اس کے منہ پر لگایا ۔