Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah Readelle50340 Bheegi Palkon Par Naam Tumhara (Episode 37)
No Download Link
Rate this Novel
Bheegi Palkon Par Naam Tumhara (Episode 37)
Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah
احمد شاہ تھوڑی دیر پہلے سویرا کے کمرے میں آئے تھے تاکہ وہ اسے یہ بتا سکے کہ وہ کچھ ہی دن میں واپس جانے والے ہیں
اور سویرا جانے کی تیاری مکمل کر لے
کیا مطلب ہے آپ کا کہ ہم واپس جانے والے ہیں میں ابھی نہیں جانا چاہتی بابا سائیں سویرا نے پریشانی سے کہا
لیکن بیٹا اب ہمارا یہاں رہنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے انشاءاللہ اگلے کچھ دن میں دھڑکن کی رخصتی ہو جائے گی پھر ہم نے واپس چلنا ہے اور ویسے بھی تمہیں تو پتا ہے میرا وہاں سارا کام رکا ہوا ہے
لیکن بابا سائیں میں واپس نہیں جانا چاہتی ۔سویرا نے پریشانی سے کہا
لیکن بیٹا پہلے تو آپ یہاں آنا نہیں چاہتی تھی اور اب جب سب کچھ ٹھیک ہو چکا ہے ہمیں واپس چلنا چاہیے ۔
اب ہم یہاں رہ کر کیا کریں گے آپ کو اندازہ بھی نہیں ہے کہ میرا کتنا نقصان ہو چکا ہے ۔
ٹھیک ہے بابا سائیں آپ چلے جائیں مجھے اپنے ساتھ نہ لے کے جائیں میں تھوڑا وقت یہیں پر رہنا چاہتی ہوں ابھی تو ٹھیک سے میں لوگوں کو جانتی تک نہیں ہوں میں اپنے دادا سائیں کے ساتھ تھوڑا وقت گزارنا چاہتی ہوں
بابا سائیں پلیز مجھے تھوڑا سا وقت دیں میں کچھ وقت دادا سائیں کے ساتھ گزارنا چاہتی ہوں سویرا نے منت کرتے ہوئے کہا ۔
احمد شاہ سمجھ نہیں پا رہے تھے کہ کل تک سویرا یہاں آنا تک نہیں چاہتی تھی اور اب یہاں سے جانا نہیں چاہتی ۔
ٹھیک ہے بیٹا ہم اس بارے میں کچھ سوچتے ہیں احمد شاہ نے کمرے سے جاتے ہوئے کہا ۔
نہیں بابا سائیں میں آپ کے ساتھ ابھی نہیں چل سکتی ابھی تو میرا مقصد کامیاب بھی نہیں ہوا اور مقدم شاہ کو حاصل کئے بغیر تو میں ویسے بھی یہاں سے نہیں جاؤں گی سویرا سوچتے ہوئے بیڈ پر آ بیٹھی ۔
مقدم سائیں آپ کو اب واپس آ جانا چاہیے کیوں کہ اب وقت آگیا ہے کہ آپ صرف میرے ہو جائیں
روز کی بانسبت دھڑکن نے آج چائے اچھی بنائی تھی ۔اور اب وہ اس کے سامنے بیٹھی اپنی تعریفیں سننے کے لیے منتظر تھی۔
اچھی بنی ہے نا اس نے خود ہی بتایا ۔
ہاں اچھی بنی ہے کردم مسکرایا تھا ۔
کتنی اچھی ۔۔۔۔۔۔۔؟دوسرا سوال آیا ۔
بہت ۔کردم پھر سے مسکرایا
ارے یہ تو کچھ بھی نہیں اب آگے آگے دیکھتے جائے میں اس سے بھی زیادہ اچھی چائے بناؤں گی دھڑکن خوش ہو کر بولی ۔
میں منتظر ہوں ۔ کردم اس کے معصوم انداز پر مسکراتے ہوئے بولا ۔
میری بکس آگئی ہیں دھڑکن نے خوشی سے بتایا تھا اس کے اس انداز سے کردم کو خوشی ہوئی تھی ۔
یہ تو بہت اچھی بات ہے تو آگے کیا پڑھ رہی ہو تم کردم نے دلچسپی سے پوچھا ۔
میں تو آرٹ ہی پڑہونگی ۔ بابا سائیں بتایا کرتے تھے کہ بڑے تایا ابو بہت اچھے پینٹر تھے میں بھی ان کی طرح پینٹر بنوں گی دھڑکن نے اپنا منصوبہ بتایا ۔
جب کہ اپنے باپ کے ذکر پر کردم کو بہت خوشی ہوئی تھی ۔
اچھا تو تم اپنے بڑے تایا کی طرح پینٹر بننا چاہتی ہو ویسے میں تمہیں بتا دوں کہ تمہارے بڑے تایاابو اپنے بیٹے کی بہت ساری تصویریں بناتے تھے ۔
لیکن میں آپ کی کوئی تصویر نہیں بناؤں گی دھڑکن نےاس کی بات ختم ہونے سے پہلے کہا تھا ۔
تمہارے بس کی بات بھی نہیں ہے کردم نے چیلنج کیا ۔
او ہیلو کسی خوش فہمی میں مت رہیے گا آپ کی شکل میں ایسا کچھ یونیک نہیں ہے جو میں نہ بنا پاوں لیکن میری سالگرہ کے ٹھیک دس دن کے بعد داداسائیں کی سالگرہ ہے اور فی الحال میں ان کی پینٹنگ پر کام کر رہی ہو ں دھڑکن نے تفصیل سے بتایا ۔
بالکل صحیح فرمایا آپ نے لیکن میں آپ کی معلومات میں اضافہ کرتے ہوئے آپ کو بتا رہا ہوں کے آپ کے دادا سائیں کی سالگرہ کے ایک دن کے بعد آپ کے شوہر کی سالگرہ ہے اور آپ کے شوہر کو بھی ایسا ہی ایک نایاب تحفہ چاہیے کردم اسی کے انداز میں بولا تھا ۔
پہلے تو کل آپ مجھے تحفہ دیں گے دھڑکن نے مسکراتے ہوئے کہا ۔
ہمارے ہاں رواج نہیں ہے شوہر کا بیوی کو تحفہ دینے کا کردم شرارتی انداز میں بولا وہ خود بھی سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ وہ اتنا کیوں بولنے لگا ہے وہ تو ہمیشہ سے چپ چاپ رہتا تھا وہ جب بھی اداس یاضرورت سے زیادہ خوش ہوتا تو ڈیرے پے جاتا تھا لیکن اب وہ جب بھی اداس ہوتا یا خوش ہوتا تو دھڑکن کے پاس آتا تھا
کیا مطلب ہے آپ مجھے تحفہ نہیں دیں گے جائیں میں آپ سے بات ہی نہیں کرتی
۔۔وہ اس کے قریب سے اٹھ کر باہر چلی گئی جب دروازے پر تائشہ کو کھڑے دیکھا
آپ کو عادت ہے کیا جاسوسیاں کرنے کی وہ اسے دیکھ کر آہستہ آواز میں بولی کہ کردم اس کو پھر سے بدتمیزنہ کہہ دے۔
وہ میں تو بس تائشہ نے بہانہ سوچنا چاہا
رہنے دیں وہ اس کے قریب سے فورا ہی نکل گئی اس وقت اس کے لئے یہی صدمہ کافی تھا کہ کردم اسے تحفہ نہیں دے رہا تائشہ کے منہ تو وہ ہرگز نہیں لگنا چاہتی تھی
یہ کیا بات ہودادا سائیں کے رواج نہیں ہے کیا آپ لوگ اپنی بیویوں کو تحفے نہیں دیتے ۔
آپ بتائیں کیا آپ نے کبھی بھی دادی سائیں کو کوئی تحفہ نہیں دیا وہ ان کے قریب بیٹھی کب سے ان کا دماغ کھانے میں مصروف تھی ۔
نہیں دھڑکن ہمارے گھر میں واقع ہی اپنی بیویوں کو تحفہ دینے کا رواج نہیں ہے دادا سائیں نے ہنسی دباتے ہوئے کہا انہیں کردم سے ہرگز ایسی امید نہ تھی آجکل کردم جو کچھ بھی کر رہا تھا اس سب کی ہی کردم سے انہیں کوئی امید نہ تھی ۔
مطلب آپ نے دادی سائیں کو کبھی کوئی تحفہ نہیں دیا دھڑکن خیرت اور صدمے سے دیکھتے ہوئے پوچھ رہی تھی جبکہ اس کی بات پر انہوں نے نفی میں گردن ہلائی ۔
اتنی بری ناانصافی وہ بھی میری دادی سائیں کے ساتھ ۔
اللہ اب تک میری دادی سائیں کے رخ پر سکون نہیں ہوگی ان کے شوہر نےکبھی انہیں کوئی تحفہ نہیں دیا لیکن آپ فکر نہ کریں دادی آپ کی پوتی آپ کا بدلہ لےگی میں دلاوں گی آپ کو انصاف ۔
دادا سائیں نے دل کی دل میں اس کی اوور ایکٹنگ کو داد دی تھی
سن لیجئے دادا سائیں کل میرے تحفے کے ساتھ ایک دادی سائیں کا تحفہ بھی آپ مجھے دیں گے کیونکہ دادی سائیں ایک عورت تھی اور ان کی ساری جائیداد پر ان کی پوتی کا حق ہے ۔
اور اگر کل آپ میری دادی سائیں کے لیے تحفہ نہ لائے تو ہر رات آپ کو ان کی روح ڈرائیں گی ۔
دادی سائیں میں کہہ رہی ہوں بغیر تحفے کے مت ماننا آپ کے ساتھ بہت زیادتی کی گئی ہے اس حویلی میں لیکن اب آپ کی پوتی آپ کے ساتھ ناانصافی نہیں ہونے دے گی وہ انہیں سناتی اٹھ کر باہر چلی گئی جب کہ اس کے جاتے ہی دادا سائیں قہقہ لگاکر ہنسے تھے ۔
اوف یہ لڑکی
چودھری غصے سے چڑا بڑا ہوا زمینوں پر پہنچا تھا
تمہاری ہمت کیسے ہوئی یہاں یہ سامان رکھنے کی ۔
وہ عمارتی ضروریات کے لئے سامان رکھتے آدمیوں سے پوچھنے لگا
ہمیں کردم سائیں کا حکم ہے ۔
آدمی نے بنااس کی طرف دیکھے اپنا کام جاری رکھتے ہوئے بتایا ۔
یہ ساری میری زمین ہیں میں یہاں پر کردم شاہ کوکچھ نہیں بنا نے دوں گا ۔
میں کہتا ہوں اٹھاؤ ان سب چیزوں کو اور ابھی کے ابھی لے کے جاؤ واپس وہ غصے سے دہارتے ہوئے بولا لیکن سامنے کھڑے آدمیوں کو نہ تو اس کے غصے کی پروا تھی اور نہ ہی اس کی دہاڑکی ۔
سنو میاں یہ ڈرامے ہمارے سامنے مت کرو کردم سائیں نے کہا ہے کہ یہ زمین ان کی ہے اور یہاں بچیوں کے لیے سکول کا تعمیری کام شروع کروایا جا رہا ۔
اس نے اپنے پیچھے کردم کے خاض آدمی جنید کی بات سنی تھی ۔
کردم سائیں کا آرڈر ہے کہ جو بھی کام میں مخالفت ڈالنے کی کوشش کریں اسے اٹھا کر زمین سے باہر پھینک دو ۔
اب یاتو تم ایک سائیڈ پر ہو کر تماشہ دیکھویا میرے آدمی تمہیں یہاں سے اٹھا کر باہر پھینک دیں گے ۔
اب یہ بات تو تم بھی جانتے ہو کہ پولیس اور کچہریوں میں جانے سے تمہیں کچھ حاصل نہیں ہوگا کیونکہ آفیشل کاغذات ہی شاہ سائیں کے نام ہیں۔
اسی لیے بند کرو اپنے ڈرامے اور نکل جاؤ یہاں سے ۔میں تو صرف زبان سے کہہ رہا ہوں اگر سائیں آگئے تو اس گاؤں میں سر اٹھا کر چلنے کے قابل نہیں رہو گے تم ۔
جنید بنا ڈر اور خوف کے اس کے سامنے کھڑا تھا ۔
یہ اچھا نہیں کر رہے تم لوگ کردم سائیں کو تومیں زندہ نہیں چھوڑوں گا ان زمینوں پر صرف میرا حق ہے اور میں یہ زمینیں کسی کو نہیں دوں گا چاہے میں مر ہی کیوں نہ جاؤں ۔
ارے تم لوگوں نے کام روک کیوں دیا چلو جاری رکھو کام یہ پاگل آدمی ہے اسی طرح سے ڈرامے کرتا رہتا ہے جیند نے کام والوں کو واپس کام پر لگاتے ہوئے ایک نظر اس کی طرف دیکھا ۔
جو غصے سے گھور رہا تھا
نہیں چھوڑوں گا میں کر دم سائیں میرے ہاتھ سے مرے گا یاد رکھنا اس کی موت میرے ہاتھوں لکھی ہے بہت جلد اس کا وقت پورا ہونے والا ہے بتا دینا اسے
چودھری جس طرح اس سے غصے سے آیا تھا اسی طرح سے واپس چلا گیا ۔
اور اس کے جاتے ہی جنید نے کردم کو فون کرکے یہاں پر ہونے والے ساری کاروائی بتائی تھی اور یہ بھی کہا تھا کہ وہ اسے جان سے مارنے کی دھمکی دے رہا ہے ۔
لیکن کردم کو اس کی کھوکھلی دھمکیوں سے کوئی اثر نہ ہوا اور کام جاری رکھنے کو بولتا دھڑکن کی سالگرہ کی تیاری کرنے لگا
اس نے دھڑکن کے ساتھ مزاق کیا تھا کہ اس خاندان میں بیویوں کو تحفہ دینے کا رواج نہیں ہے ۔
جسے وہ سیریس لیے ہوئے تھی وہ دھڑکن کے لیے پہلی بار خود سے کچھ پلان کر رہا تھا ۔اور یقینا یہ سب کچھ دھڑکن کو بہت پسند آنا تھا
