Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah Readelle50340 Bheegi Palkon Par Naam Tumhara (Episode 39)
No Download Link
Rate this Novel
Bheegi Palkon Par Naam Tumhara (Episode 39)
Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah
وہ اسے اپنے ساتھ جیولری شاپ پر لے کے گیا تھا تاکہ دھڑکن کے لیے کوئی گفٹ لے سکے
لیکن اسے دھڑکن کی بات بھی بہت اچھے سے یاد تھی کہ وہ حوریہ کے ساتھ کوئی ناانصافی نہیں ہونے دے گی ۔
مقدم اپنے دل کے قرار کے ساتھ کوئی ناانصافی کرے ایسا تو ممکن ہی نہ تھا ۔
اس نے پہلے دھڑکن کے لیے اسپیشل برتھ ڈے گفٹ لیا اور پھر اپنے نام کے پہلا حرف سے بنا ایک خوبصورت سا لاکٹ اس نے اپنی حورکے لیے خریدا تھا ۔
اپنی نند کو کہنا کہ میں تمہارے ساتھ کوئی ناانصافی نہیں کرتا ۔کسی کی پرواہ کئے بغیر حور کا رخ آئینے کی طرف کرتا وہی شاپ پر ہی اسے وہ لاکٹ پہنانے لگا ۔
وہ میری نند نہیں میری بہن ہے حوریہ نے بتانا ضروری سمجھا
اور ویسے بھی آپ میرے ساتھ کبھی کوئی ناانصافی نہیں کرسکتے مقدم سائیں مجھے خود سے زیادہ یقین ہے آپ پر ۔
شاید یہ دنیا مجھ سے میرا حق چھین لے لیکن آپ مجھ سے میرا حق بھی نہیں چھنیں گے ۔۔وہ آہستہ سی آواز میں بولی یار ایسی باتیں تم پبلک پلیس میں کیوں بتاتی ہواکیلے میں بتایا کرو نہ ۔
ماشاءاللہ سے اتنی خوبیاں ہیں مجھ میں لیکن ساری خوبیاں تمہیں پبلک پلیس میں ہی آکر یاد آتی ہیں بندہ داد بھی نہیں دے سکتا مقدم نے شرارت سے کہا تھا ۔
آپ کی داد نہ ملے اسی لئے تو پبلک پلیس میں بتاتی ہوں اور ویسے بھی آپ کوکون سا پبلک پلیس کی پرواہ ہوتی ہے آپ تو کہیں پر بھی شروع ہو جاتے ہیں حوریہ شرماتے ہوئے بولی جس پر مقدم قہقہ بلند ہوا ۔
اچھا یار میں کچھ نہیں کہوں گا چلو واپس ہوٹل چلتے ہیں ہمیں ابھی نکلا ہے واپسی کے لیے مقدم اس کا ہاتھ تھا میں باہر لے جانے لگا ۔
جبکہ واپسی کا سن کروہ بہت خوش تھی
•••••••••••
سویرا دیدہ یہ آپ کیا کر رہی ہیں سویرا کو کچن میں دیکھ کر تائشہ اس کے پاس آ گئی ۔
دھڑکن کی سالگرہ ہے نااس کے لئے کیک بنا رہی ہوں اس کی ہر سالگرہ پر میں خود اپنے ہاتھوں سے کیک بناتی ہوں یہ دن ہم سارا دن ۔ایک ساتھ گزارتے ہیں بابا سائیں میں دھڑکن گھومنے جاتے ہیں ۔
بہت سارے گیمز کھیلتے ہیں بہت مزے کرتے ہیں ۔سویرا مصروف انداز میں بولی ۔
یہاں میں دن رات خوار ہو رہی ہوں ان دونوں کی طلاق کے لئے اور آپ ہیں جو دھڑکن کے لئے کیک بنا رہی ہیں میرا بس چلے تو میں اس کی جان لے لوں تائشہ نے غصے سے کہا ۔
ایک منٹ تائشہ میری بات غور سے سنو دھڑکن میری بہن ہے ۔کل اسپیشل ڈے ہے اس کا اور ہر سال میں اس کے کیک میں اپنے ہاتھوں سے بناتی ہوں ۔
اور اپنا سارا وقت بھی اس کے ساتھ ہی گزارتی ہوں۔
اور ایک بات اپنے کان کھول کر سن لو میں دھڑکن اور کردم کے طلاق کےلیے تمہاری مدد ضرور کر رہی تھی اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دھڑکن میری بہن نہیں ہے ۔
یامیں اس کی خوشیوں میں خوش نہیں ہو سکتی وہ میری بہن ہے ۔اور اگر مجھے میری بہن اور تم میں سے کسی ایک کو چننا پڑا نہ تو میں صرف اور صرف اپنی بہن کو چنوں گی اور آج کے بعد اس لہجے میں مجھ سے بات مت کرنا ۔
آج تم مجھ سے میری بہن کو مارنے کی بات کر رہی ہو یہ بھی صرف اس لیے کہ میں نے تمہیں یہ کہنے کا موقع دیا
پتا نہیں مجھے کیا ہوگیا تھا ۔
میں کیوں مقدم سائیں کے پیچھے پڑی تھی۔ یہ سب کچھ نصیبوں کا لکھا تھا اور اب مجھے خود پتہ ہے کہ ان کی شادی ہو چکی ہے اور میں انہیں کبھی حاصل نہیں کر سکتی ۔
اسی لئے اب میں نے یہ کوشش بھی نہیں کروں گی تائشہ تم بھی سنبھل جاؤ ۔
ہماری زندگی میں وہی ہوتا ہے جو ہمارے نصیبوں میں لکھا ہوتا ہے نہ تو تمہارے نصیب میں کردم شاہ ہیں اور نہ ہی میرے نصیب میں مقدم شاہ ۔
اسی لئے لیسٹ موو آن۔
وہ اس کے قریب سے گزرتی باہر جا چکی تھی۔
جب کہ تائشہ بس اسے دیکھ کر رہ گئی وہ ایسے گرگٹ کی طرح رنگ بدل جائے گی یہ تائشہ نے کبھی نہیں سوچا تھا
۔••••••••••••
حور یار جاگو ایک تورات کا سفر ہے اوپر سے تم سو رہی ہو میں قسم کھا کے کہتا ہوں تمہارے ہوتے ہوئے میں سفر میں بور ہوا تو میں یہ گاڑی کہیں درخت کے ساتھ ٹھوک دوں گا ۔
وہ سوات سے واپسی کے لیے نکلے ہوئے تھے ۔
اس وقت سواک رات کے آٹھ بج رہے تھے ۔اس نے راستے میں ایک ہوٹل سے حور کو کھانا بھی کھایا ۔
کافی دیر سے سفر میں ہونے کی وجہ سے حور اب کافی تھک چکی تھی اسے نیند آ رہی تھی جب اس نے آنکھیں بند کر کے سیٹ کے ساتھ سر رکھا ۔
تو مقدم اسے دیکھ کر بولا ۔
مقدم سائیں مجھے نیند آرہی ہے حوریہ نے بے بسی سے کہا ۔
تمہاری یہ نیند میں ایک سیکنڈ میں دور کر سکتا ہوں بس تم اجازت دو مقدم نے شوخی سے اس کی طرف رخ پھیرا ۔
مقدم سائیں آپ آگے دیکھ کر گاڑی چلائیں ا بھی میرا مرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے میں آپ کے ساتھ بہت لمبی زندگی گزارنا چاہتی ہوں
حوریہ نے اس کا رخ واپس سڑک پر کیا ۔
جینا تو میں بھی تمہارے ساتھ بہت لمبی زندگی چاہتا ہوں لیکن تمہیں نیند آ رہی ہے اسی لئے میں نے سوچا کیوں نہ تمہاری نیند بھگا دوں مقدم نے مسکراتے ہوئے شرارت سے کہا ۔
کوئی ضرورت نہیں ہے آپ کو میری نیند بھگانے کی۔جاگ رہی ہوں میں جب تک حویلی نہیں آ جاتی تب تک نہیں سونگی ۔حوریہ نے اس کے سامنے ہاتھ باندھتے ہوئے کہا تو مقدم قہقہ کر ہنسا
جب تک حویلی نہیں آتی تم خود سے مت سونا اور جب حویلی جائےگی میں تمہیں نہیں سونے دونگا مقدم آنکھ دبا کر شرارت سے کہا ۔
مقدم سائیں آپ بہت خراب ہیں ۔
تو تم ٹھیک کر دو نا ۔مقدم نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچا ۔
خدا کے لئے مقدم سائیں مجھے صحیح سلامت حویلی پہنچا دیں آپ کے ارادے بہت خطرناک لگ رہے ہیں ۔حوریہ نے منت بھرے انداز میں مسکراتے ہوئے کہا ۔
چلو پھر حویلی پہنچ کر ہی تمہاری خبر لیتا ہوں مقدم نے فی الحال اسے بخشنے کے ارادے سے کہا ۔
اچھا ٹھیک ہے تھوڑی دیر سو جاؤ وہ اس کی سرخ آنکھیں دیکھتے ہوئے بولا
نہیں اب نہیں سووں گی تب تک نہیں سووں گی جب تک حویلی نہ پہنچ جاؤں حور نےانکار کرتے ہوئے کہا ۔
دیکھو بیوی تم اپنی مرضی سے جاگ رہی ہو بعد میں مت کہنا کہ میں نے تمہیں سونے نہیں دیا ۔مقدم شرارتی انداز میں بولا تو حوریہ مسکرائی۔
اوراندھیری سڑک کو دیکھنے لگی اسے ایسا محسوس ہوا جیسے پیچھے سے کوئی گاڑی کافی دیر سے ان کا پیچھا کر رہی ہے
مقدم سائیں آپ کو نہیں لگتا کہ جب سے ہم ہوٹل سے نکلے ہیں یہ گاڑی ہمارے پیچھے آرہی ہے حوریہ نے اپنا شک اس کے سامنے بیان کیا ۔
ارے نہیں یار ایسے ہی تمہیں شک ہو رہا ہے مقدم نے اگنور کرتے ہوئے کہا
جبکہ ہوٹل سے اپنی گاڑی نکالتے ہی یہ گاڑی اس نے اپنے گاڑی کے پیچھے آتے دیکھی تھی
••••••••••••••••••
کردم اپنا کام کر رہا تھا کہ دروازہ بجا۔
اس نے نظریں اٹھا کر سامنے دیکھا پھر مسکرا دیا وہ دروازے کے ساتھ کھڑی تھی ۔
کیا ہوا دھڑکن تم پریشان لگ رہی ہو وہ اس کا پھولا ہوا چہرہ دیکھتے ہوئے بیڈ سے اٹھ کر اس کے پاس آیا ۔
کردم سائیں یہاں اتنا سنگین مسئلہ چل رہا ہے اور آپ سونے کی تیاریاں کر رہے گے
آپ کو چاہیے جو خاندان میں کبھی کسی نے نہیں کیا وہ آپ کر کے ریکارڈ قائم کردیں
تاکہ آنے والے وقت میں آپ کا ایک نام بن جائے ۔۔۔ بالکل سیریس انداز میں کہتی وہ کمرے کے اندر قدم رکھ چکی تھی ۔
کیا مطلب ہے تمہارا کردم سچ میں اس کی بات کو نہیں سمجھا تھا وہ اس کے پیچھے ہی کمرے میں آتا اس کے سامنے کرسی رکھ کر بیٹھ گیا ۔
اوہو کردم سائیں آپ بھی بہت معصوم ہیں میں سمجھاتی ہوں آپ کو دیکھیں آپ نے کہا تھا اس خاندان میں بیویوں کو تحفہ دینے کا رواج نہیں ہے ۔
دادا سائیں نے مجھے بتایا کہ انھوں نے بھی دادی سائیں کو کبھی کوئی تحفہ نہیں دیا اسی لئے میں نے سوچا کہ میں آپ سے گفٹ لے کر آپ کے لئے ایک ریکارڈ قائم کر دیتی ہوں تاکہ ہماری آنے والی نسلیں ہمیں اچھے الفاظ میں یاد رکھیں ۔
دھڑکن اس کی عقل پر ماتم کرتے ہوئے اسے اپنی بات بلکہ اپنے مطلب کی بات سمجھاتے ہوئے بولی ۔
جب کہ اس کے اس حد تک سیریس انداز پر کردم کا دل چاہا کہ وہ قہقہ لگا کر ہنسے پھر خود کو سنبھالتے ہوئے بولا دیکھو دھڑکن جو کام کبھی میرے آباواجداد نے نہیں کیا وہ کام میں کرکے ان کی توہین نہیں کرنا چاہتا ۔
دیکھو ہمیں اپنے بڑوں کے نقش قدم پر چلنا چاہیے اسی لیے میں نے سوچا ہے کہ میں تمہیں کوئی تحفہ نہیں دوں گا کردم نے مسکراتے ہوئے کہا ۔
مطلب کے آپ یہ بے تکاسا رواج ہمیشہ چلائیں گے دھڑکن نے صدمہ سے پوچھا
جس پرکردم نے ہاں میں گردن ہلائی
مطلب آپ مجھے کبھی گفٹ نہیں دیں گے
دھڑکن نےمزید صدمے سے پوچھا
اس بار بھی کردم نے نہ میں گردن ہلائی تھی ۔
لیکن آپ کو مجھے گفٹ دینا چاہیے یہ نکاح کے بعد میری پہلی سالگرہ ہے اور میں پہلی بار حویلی میں سالگرہ منا رہی ہوں تو آپ کا فرض بنتا ہے کہ آپ مجھے گفٹ دیں دھڑکن نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا ۔
ہاں دھڑکن کہہ تو تم ٹھیک رہی ہو تحفہ تو مجھے تمہیں دینا چاہیے لیکن میں رواج کا کیا کروں کردم ہنسی چھپاتے ہوئے بولا
توہم کزن بھی ہیں نہ آپ مجھے کزن کے طور پر گفٹ دے دیں ہسبنڈ کے طور پر مت دیں اس سے آپ کا صدیوں کا رواج بھی قائم رہے گا اور آپ کی طرف سے مجھے گفٹ بھی مل جائے گا ۔دھڑکن نے مسئلہ کا حل نکالتے ہوئے کہا لیکن کزن کہنے سے ہم کیا نکاح میں نہیں ہوں گے ہوں گے نہ میں اپنے رواج خراب نہیں کروں گا دھڑکن کردم نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا ۔
بس دکھا دیا نہ پھر سے کہ دنیا کے بورنگ ترین انسان ہیں آپ اتنا اچھا آئیڈیادیا آپ کو کہ کزن کے طور پر گفٹ دے دیں لیکن بورنگ تو بورنگ ہوتا ہے دوسروں کے آئیڈیا پر بیوی کو امپریس کرنے والے ۔اپنی بیوی کو گفٹ نہ دینے والوں کو اللہ کبھی معاف نہیں کرتا وہ غصے سے ڈراتی کمرے سے باہر جا چکی تھی۔
جب کہ اس کے جاتے ہی کردم نے دروازہ بند کرکے سائیڈ ٹیبل پر رکھے ہوئے کیک کو دیکھا
بیچاری دھڑکن اپنے غم اور غصے میں اس کے کو دیکھ ہی نہیں پائی ۔
