Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah Readelle50340 Bheegi Palkon Par Naam Tumhara (Episode 23)
No Download Link
Rate this Novel
Bheegi Palkon Par Naam Tumhara (Episode 23)
Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah
تائشہ کمرے میں آ کر پھوٹ پھوٹ کر روئی ۔
وہ جتنا دھڑکن کو کر دم سے دور کرنے کی کوشش کر رہی تھی انجانے میں ان کے قریب آنے کی راہ بنا رہی تھی
سویرا کا جب موڈ ہوتا وہ اسے منہ لگاتی اور جب نہیں اسے دیکھنا بھی پسند نہیں کرتی ۔
کاش میں سویرا کی بات نہ مان کر اپنے پلان پر عمل کرتی ۔
ایک چھوٹی سے خودکشی کرنے کی کوشش کردم کو ہمیشہ کے لئے اسکا کرسکتی تھی لیکن اب اس کی آنکھوں کے سامنے کردم کسی اور کا ہو چکا تھا ۔
وہ اس کی آنکھوں کے سامنے دھڑکن کو اپنے ساتھ اپنے کمرے میں لے کر گیا تھا ۔
اور وہ بس دیکھتے ہی رہ گئی کردم نے تو شاید اسے دیکھنا تک گوارا نہ کیا تھا ۔
وہ کسے کردم کو اپنی زندگی میں واپس لائے گی
کیسے دھڑکن کو اس سے دور کرے گی اس کی سوچ یہیں سے شروع ہوکر یہیں پر ختم ہو رہی تھی ۔
سویرا کو بٹے ہوئے آدمی سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کیونکہ شاید وہ خود ہی بٹی ہوئی عورت تھی ۔
لیکن تائشہ کے جذبات تو ایک ہی شخص سے شروع ہوکر ایک ہی شخص سے ختم ہو رہے تھے وہ کیسے اسے کسی اور کا ہونے دے سکتی تھی۔
میں تمہیں جان سے مار ڈالوں گی دھرکن ۔تم نے مجھ سے میرے کردم شاہ کو چھین کر ٹھیک نہیں کیا اس شخص پر صرف میرا حق تھا ۔
روتے ہوئے اپنے بیڈ پر بیٹھ گئی ۔
کیونکہ سوائے رونے کے اب وہ اور کچھ نہیں کرسکتی تھی
دھڑکن اپنے آپ ہاتھ نہیں جلتا اور جب ہاتھ جلنا شروع ہوتا ہے انسان کو پتہ چلتا ہے بتاؤ مجھے تمہارا ہاتھ کیسے جلا کردم غصے سے پوچھ رہا تھا ۔
میں بتا تو رہی ہوں مجھے نہیں پتا کس طرح سے جلا ہاتھ مجھے نہیں پتہ چلا کہ ٹرے گرم ہے ۔دھڑکن دھیمی آواز میں منمنائی ۔
اس کی منمناہٹ نے کردم کا غصہ کم کرنے میں بڑا اہم کردار ادا کیا تھا کردم کو لگا کہ شاید وہ اس سے ڈر رہی ہے اگرٹرے گرم تھی تو تم اسے رکھ دیتی واپس تمہیں اٹھاکر لے کر جانے کی ضرورت کیا تھی
وہاں کیچن میں تائشہ موجود تھی نہ تم اسے کہہ سکتی تھی ۔ہاتھ پر مرہم لگاتے ہوئے اس بار ذرا نرمی دکھائی تھی وہ اسے یہ نہیں بتا پائی کہ تائشہ نے ہی تو اسے زبردستی ٹرے اٹھانے پر مجبور کیا تھا ۔
نجانے کیوں ایسے لگ رہا تھا کہ تائشہ نے یہ سب کچھ جان بوجھ کر کیا ہے ۔
شاید وہ اسے جان بوجھ کر ہرٹ کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔لیکن تائشہ کی بلا اس کے ساتھ کیا دشمنی وہ خود سے ہی سوال کرتی کردم کے چہرے کو دیکھنے لگی
ہاں یہی تو دشمنی کی سب سے بڑی وجہ تھی۔
کردم شاہ ۔۔
تائشہ کی پہلی اور آخری محبت ۔جو اب صرف اور صرف دھڑکن کا ہوچکا تھا وجہ جاننا دھڑکن کے لئے مشکل نہ تھا لیکن ایک فیصلہ اس نے کر لیا تھا ۔
وہ تائشہ کو اپنے ساتھ اس طرح کبھی نہیں کرنے دے گی
حور کافی دیر سے مقدم کا انتظار کر رہی تھی ابھی تک تو وہ اس کی کل رات کی شدتوں سے نہیں سنبھلی تھی ۔
اور پھر آج دوپہر میں اس کا غصہ دیکھ کر بھی وہ کافی گھبرا گئی تھی ۔
بیچاری سویرا دیدہ کو بھی کتنا ڈانٹ دیا ۔
سارا دن ایک ہی جگہ بیٹھنے کی وجہ سے اب وہ اتنا تھک چکی تھی کہ کوئی انتہا نہیں اور اوپر سے کل رات بھی وہ ایک سیکنڈ کے لیے بھی نہ سوئی تھی ۔
ایک بار اس کا دل چاہا کہ وہ تھوڑی دیر آرام کر لے لیکن مقدم کی خواہش اور اس کے جذبات کو اس طرح سے نظر انداز ہرگز نہیں کر سکتی تھی ۔
اس کے ہر انداز میں اپنے لیے بے پناہ محبت محسوس کر وہ ایک ہی رات میں مغرور ہو چکی تھی ۔
وہ اس شخص کی محبتوں کا جواب محبت سے دینا چاہتی تھی ۔تھکن کے باوجود بھی وہ اس کا انتظار کرتی رہی نہ جانے وہ کہاں تھا ۔
شاید ان سب مہمانوں کو سنبھال رہا ہوگا ۔کافی سارے مہمان تو جا چکے تھے اور کافی سارے حویلی میں رکے تھے اور کچھ ابھی بھی جا رہے تھے ۔
ساری حویلی ہی مہمانوں سے بھری ہوئی تھی۔
آخر شاہ سائیں کے دونوں پوتوں کی شادی تھی۔ نمائشوں کے عادی تو شاہ سائیں پہلے بھی کبھی نہ تھے اوپر سے کردم کی سادہ طبیعت ۔یہ سب ہنگامہ شور شرابہ تو انہوں نے مقدم کے کہنے پر کیا تھا ورنہ وہ تو سادگی سے ان کی شادی کرنا چاہتے تھے
جبکہ مقدم نے صاف لفظوں میں کہا تھا کہ وہ حور کو اس کی شادی کی ہر خوشی دینا چاہتا ہے ۔
جس پر دادا سائیں نے مجبور ہوکر شادی پر اپنے سارے رشتہ داروں کو بلایا تھا ان کے خاندان کا کوئی شخص ایسا نہ تھا جس نے ان کے دونوں پوتوں کی شادی نہ دیکھی ہو
وہ مہمانوں کو ایئرپورٹ تک چھوڑنے گیا تھا آتے آتے اسے رات ہو چکی تھی ۔
اسے یقین تھا کہ حور اس وقت تک سوچ چکی ہوگی ۔
شادی کے بعد اس نے اپنی ساری ذمہ داریوں کو سمجھنا شروع کر دیا تھا کیونکہ حور اس کی ذمہ دارا سائیں یا کردم سائیں کی نہیں ۔
اس لیے اس نے فیصلہ کیا تھا کہ اب اسے اپنی ساری ذمداریاں وہ خود سنبھالے گا آج اس نے دادا سائیں سے بھی اس بارے میں بات کی تو وہ بہت خوش ہوئے ۔
اور یہ بھی کہہ دیا کہ اب ان کا پوتا اسےزمہ دار ہوچکا ہے ۔
اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے لگا ہے لیکن ساتھ یہ بھی کہا کہ کہ یہ سوچ وقتی نہیں بلکہ ہمیشہ کے لئے ہونی چاہیے ۔
یہ نہ ہو کہ ذمہ داریاں سنبھالنے کا شوق صرف دو دن کا ہی ہو کیونکہ مقدم شاہ جب بور ہو جاتا تھا تب وہ کام چھوڑ دیتا تھا ۔
اس نے بھی کہہ دیا تھا آپ بے فکر رہیں دادا سائیں مقدم شاہ اس ہر اپنی ذمہ داریاں سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے اور بوریت کی بات تو کرنی ہی نہیں چاہیے کیونکہ وہ حوریہ سے کبھی بور نہیں ہو سکتا ۔
وہ تو 19 سال سے اس کی جان تھی ۔
مرہم لگانے کے بعد کردم نے اسے اپنے کمرے میں جانے کے لیے کہا ۔
اتنا مشکل نہیں تھا کردم سائیں یہ بات آپ مجھے کل رات میں خود کر کہہ سکتے تھے وہ اس کی زبان سےنکلا
کہنا چاہتا تھا درکن لیکن اس وقت میں واپس کمرے میں نہیں آنا چاہتا تھا ۔
ہاں بالکل آپ اس وقت کمرے میں کیوں آئیں گے آپ کو تو ڈیرے پر جانا تھا آخر دل بہلانے کا سامان جو موجود تھا وہاں خالص بیویوں والے انداز میں دھڑکن نے اس کے پیروں تلے سے زمین کھینچی تھی ۔
کردم اسے دیکھ کر رہ گیا اس لڑکی کو 17 دن کی رہائی کی تو ہر کی ضرورت نہ تھی وہ عمر میں ضرور چھوٹی تھی لیکن دماغ اس کا چھوٹے بچوں جیسا ہرگز نہ تھا ۔
دل بہلانے کا سامان ہاں۔ ۔۔۔۔ کردم نے حالت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کی بات پکڑی تھی جی بالکل سویرا دیدہ نے بتایا ہے مجھے کہ وہاں دل بہلانے کا سامان موجود ہے ۔
درک نے اپنی بات مکمل کی ۔
اچھا اور کیا بتایا تمہاری سوئی راجدھانی کردم نے اس کا ہاتھ تھام کر اسے اپنے نزدیک کیا ۔
بس یہی کہا کہ پوچھو کہ ڈیرے پر ایسا کونسا خزانہ موجود ہے ۔جب کل رات آپ میرے پاس کمرے میں آنے کے بجائے ڈیرے پر چلے گئے ۔
بلکہ اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے جانچتے نظروں سے پوچھنے لگے جبکہ قدم کا دل چاہا کہ اس کی باتوں پر کہہ کے لگائے ۔
سویرا اسے کونسیپٹ یا پر آ رہی تھی یہ تو وہ اچھے طریقے سے سمجھ چکا تھا ۔
لیکن فی الحال وہ اس کی یہ غلط فہمی دور کرنے قبل کوئی ارادہ نہیں رکھتا تھا اور ویسے بھی یہ بات سویرہ نے دھڑکن کی سوچ میں ڈالی تھی۔
کسی دن تمہیں لے کے جاؤں گا اس ٹیلے پر پھر بتاؤں گا کہ وہاں کیا حزانہ ہے ۔
لیکن فی الحال جلدی سے اس کمرے سے نکلوں کیونکہ تمہیں اس طرح سے دیکھ کر میری نیت خراب ہو رہی ہے ۔
کردم کی زمانی بات نے درکن کے کانوں کی لو تک سفر دی تھی ۔
آپ کی نیت پہلے دن سے ہی ٹھیک نہیں ہے ۔اس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ کھینچتی وہ جلدی سے باہر بھاگ گئی ۔
جبکہ کردم اس کی بات کا مطلب نکال رہا تھا
کیا وہ پہلے ہی نظر میں اس کی نظروں میں اپنے لیے پسندگی کی دیکھ چکی تھی ۔
کیا وہ پہلے دن سے جانتی تھی کہ کردم کا دل اس کے لیے مچلنے لگا ہے ۔وہ کردم جو اپنے جذبات کو قابو کرنے کیلئے اس پر پابندیاں لگاتا تھا جو اسے بے فضول میں ڈانٹا تھا ۔کیا اس سب کی وجہ دھڑکن جانتی تھی ۔
کیا دھڑکن کو اس بات کا اندازہ تھا کہ کردم نے جب پہلی بار اسے ایئرپورٹ سے باہر نکلتے دیکھا ۔تب ہی اس کا دل اس کے کنٹرول سے باہر ہو چکا تھا لیکن اس نے اپنے دل کو سمجھایا کہ اس سب پر ڈرف تائشہ کا حق ہے ۔
اس نے کبھی اپنے جذبات کو محبت کا نام نہ دیا تھا ۔پھر نہ جانے کس طرح سے اللہ نے اس کی سن لی اور دادا سائیں کے دل نے دھڑکن کے لیےکردم کو سوچ لیا ۔
کتنی حسین تھی وہ رات اس کی زندگی میں جب اس نے دھڑکن کا نام اپنے نام کے ساتھ محسوس کیا تھا اور دھڑکن نے اس سے شادی کرنے سے انکار کردیا ۔
لیکن پھر اس کا اقرار کردم کو ایک نئی زندگی دے گیا تھا
اوراب تو وہ مجبور تھا کیونکہ اب وہ اس کے نکاح میں تھی۔ اس سے محبت کرنا اس کو چاہنا ہیں تو آپ کردم کا کام تھا
میری چھوٹی سی پٹاہا
اسے خطاب سے نوازتے ہوئے وہ بے اختیار مسکرایا
