Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah Readelle50340 Bheegi Palkon Par Naam Tumhara (Episode 61)
No Download Link
Rate this Novel
Bheegi Palkon Par Naam Tumhara (Episode 61)
Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah
تائشہ خوفزدہ انداز میں اپنے سامنے کھڑے مقدم شاہ کو دیکھ رہی تھی ۔
جس کے تھپڑ نے اس سے ایک ہی لمحے میں زمین بوس کر دیا تھا
میں تمہیں مطلبی سمجھاتا تھا تائشہ لیکن تم بے حس اور گھٹیا نکلی ۔
تم ملک کے ساتھ مل کر میری حوریہ کو مجھ سے چھینا چاہتی تھی تم میری حوریہ کو مجھ سے دور کر دینا چاہتی تھی اسے میرے خلاف کرنا چاہتی تھی۔
مقدم غصے سے اس کے سر پے کھڑا دھاڑ رہا تھا ۔
نہیں ۔۔۔۔۔۔لالا میں نہیں۔۔۔۔۔میں اس۔ ۔۔۔۔س بارے میں کچھ نہیں جانتی ۔۔۔۔۔۔۔ی۔ ۔تھی یہ سسس۔ ۔سب کچھ تو۔۔۔ مجھے بعد ۔۔۔میں پتہ چلا ۔تائشہ نے گھبراتے ہوئے کہا اسے یقین نہ تھا کہ مقدم یہاں آئے گا ۔
اور اس کی ساری باتیں سن لے گا وہ کیسے اپنے ہی ہاتھوں سے اپنی حویلی واپسی کے سارے راستے بند کر سکتی تھی ۔
سائیں آپ چھوڑیں اسے تو میں بعد میں دیکھ لوں گا فی الحال چلیں میں آپ کو وہ پیپرز دیتا ہوں ۔
جنید نے اسے پیچھے کرتے ہوئے کہا جبکہ اس کی سرخ انگارہ آنکھیں دیکھ کر جنید سمجھ چکا تھا اگر اسے مزید ایک سیکنڈ بھی یہاں رہنے دیا تو یقیناً تائشہ کو جان سے مار دے گا ۔
مقدم شاہ حوریہ کے لیے کس حد تک پاگل تھا یہ وہ خود بھی نہیں جانتا تھا
جنید نے بہت مشکل سے اس کا دھیان باہر کی طرف دلایا ۔
جبکہ تائشہ وہیں زمین پر بیٹھی سوچ رہی تھی کہ اب کیا ہوگا
یا تو مقدم شاہ اسے ماردے گا یا شاید ملک کو
وہ صبح بہت خوشگوار موڈ میں گھر سے نکلا تھا ۔لیکن اس وقت اس کا سر درد سے پھٹا جا رھا تھا یہ سوچ ٹھیک تھی حملہ اس پر ہوا تھا
لیکن وہ حملہ اس پر ملک کروائے گا یہ اس نے کبھی نہیں سوچا تھا
اور اس میں تائشہ بھی شامل تھی ہاں وہی تائشہ جیسے وہ بچپن سے اپنی چھوٹی بہن مانتا ہے جیسے وہ بچوں کی طرح ٹریٹ کرتا تھا ۔
وہ تائشہ ایسے جان سے مروانا چاہتی تھی
اس کے غصے کی کوئی انتہا نہ تھی وہ اس سے اس کی حوریہ کو دور کرنا چاہتی تھی وہ اس سے اس کے جینے کی وجہ چھیننا چاہتی تھی ۔
مجھے گھر جانا ہے مقدم نے پیپرز اس کی طرف پھنکتے ہوئے کہا وہ جنید کے ساتھ زمینوں کے کاغذات لے کر شہر جانے والا تھا ۔
کچھ کاغذی کاموں کیلئے یہ کاغذات جنید کے گھر پے رکھے ہوئے تھے ۔
مقدم کا غصہ دیکھتے ہوئے جنید نےبھی اسے کسی کام کے لیے فورس نہ کیا ۔شاید ہی اس وقت اس کا غصہ کوئی کنٹرول کر سکتا تھا
بابا سائیں کیا ہوگیا ہے آپ کو میں بالکل ٹھیک ہوں۔تھوڑی دیر آرام کروں گی تو بالکل ٹھیک ہو جاؤں گی آپ پلیز پریشان نہ ہوں
کیسے پریشان نہ ہوں بیٹا تمہاری طبیعت صبح سے خراب ہو رہی ہے ایک تو تمہیں اتنا تیز بخار ہے اوپر سے تمہیں چکر بھی آرہے ہیں میرے خیال سے تمہیں ہوسپیٹل چلے جانا چاہیے ۔
اور میرے خیال میں اس وقت آپ کو دھڑکن کے پاس ہونا چاہیے کتنی اداس ہے وہ صبح سے ہم سے ناراض ہو کے کمرے میں بیٹھی ہے میرے خیال میں فی الحال ہمیں اس کے پاس جا کے اسے منانا چاہیے
سویرہ نے ان کا دھیان دھڑکن کی طرف لے جانے کی کوشش کی
نہیں بیٹا میں دھڑکن کو جتنا سمجھا سکتا تھا سمجھا چکا ہوں اب وہ چھوٹی بچی نہیں بلکہ ایک شادی شدہ لڑکی ہے اب اسے اپنا صحیح غلط خود سمجھنا ہوگا اور باقی اسے گائیڈ کرنے کے لئے میں نے ایک بہترین انسان کا اانتخاب کیا ہے میں نے تمہارے لئے بھی ایک بہترین انسان انتخاب کیا تھا سویرا وہ بولتے بولتے اچانک رک گئے
لیکن وہ میرا نہیں حوریہ کا نصیب تھا باباسائیں سویرا نے مسکرا کر کہا
خدا کا شکر ہے کہ میں نے کسی کا نصیب نہیں چھینا
اللہ حوریہ اور مقدم سائیں کو ہمیشہ ایک ساتھ خوش اور آباد رکھے دنیا کی کوئی بد نظر ان کی خوشیوں کو ان سے دور نہ کرے
آمین ثم آمین احمد شاہ نے ا سے اپنے سینے سے لگاتے ہوئے کہا جبکہ سویرا نے نرمی سے اپنا آپ ان کے سینے میں چھپایا
مقدم اس کے گھر سے جا چکا تھا جبکہ شہر جانے کا ارادہ وہ ملتوی کر چکے تھے
جنید کمرے میں واپس آیا تو تائشہ وہی زمین پر بیٹھی رو رہی تھی
میں نے تمہیں گھر سے جانے سے پہلے کچھ کہا تھا وہ اسے گھورتے ہوئے بولا
جاؤ کھانا لے کے آؤ ۔
میں نے کھانا نہیں بنایا وہ سرخ آنکھوں سے اسے گھورتے ہوئے بولی یقیناً اس وقت وہ بہت اداس تھی اور جنید اس کی اداسی کو سمجھنے کے بجائے اسے حکم دے رہا تھا
یہ رونا دھونا مچانے سے پہلے اپنے کرتوتوں پر غور کرو نکمی لڑکی کس کی باتوں میں آ رہی تھی تم ملک کی ارے وہ تو کتے کی دم ہے اپنے ہی دامادکو مارنا چاہتا تھا
لیکن تمہیں کس پاگل کتے نے کاٹا تھا جو اس کا ساتھ دینے لگی مانا کہ تمہیں مقدم سائیں سے کوئی لینا دینا نہیں تھا لیکن جیسے گولی لگی اس سے تم ۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اس کے پاس زمین پر بیٹھ کر نرمی سے بولتے ہوئے اچانک رک گیا
اٹھو جلدی سے کھانا تیار کرو مجھے بھوک لگی ہے وہ اس کے قریب سے اٹھتے ہوئے اس بار سختی سے بولا ۔
میں تمہاری ملازمہ نہیں ہوں وہ غصے سے کاٹ کھانے کو دوڑی
بیوی تو ہو۔۔وہ مسکراتے ہوئے اس کا دل جلانے لگا
میں نہیں مانتی تائشہ نے جوابی کارروائی کی
آج رات کے بعد خود ہی ماننے لگو گی۔ کیونکہ آج رات میں تمہارے ساتھ ایک نئی زندگی کی شروعات کرنے جا رہا ہوں بالکل ویسے ہی جیسے ایک نیا شادی شدہ جوڑا اپنی زندگی کی شروعات کرتا ہے
اس سے پہلے تمہاری ہر غلطی کو میں نظر انداز کرتے ہوئے معاف کرتا ہے لیکن ایک بات یاد رکھنا کہ اس کے بعد تمہاری ہر غلطی کی تمہیں سخت سے سخت سزا ملے گی
ہاں لیکن اگر تم بیویوں والی ادائیں اپناوتو ہو سکتا ہے کہ میں تھوڑانرم پر جاؤں ۔
وہ تائشہ کا ہاتھ کھینچتے ہوئےاسے ایک لمحے میں کھڑا کر چکا تھا اور اسے سمجھنے کا موقع دیے بغیر ہی وہ اس کی باہوں میں تھی
چھوڑو مجھے تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھے چھونے کی تائشہ نے اپنا آپ اس کے شکنجے سے چھڑوانے کی ناکام کوشش کی ۔
تمہاری یہ مزاحمتیں مجھے رات کا انتظار نہ کرنے پر اکسا رہی ہیں وہ اسے کھینچتے ہوئے انچ بھر کا فاصلہ بھی مٹانے لگا
تو پھر کیا خیال ہے سارے پردے گرا نہ دیں۔
وہ اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیے بالکل اپنے قریب لے آیا ۔
تم بہت پچھتاؤگے جنید اگر تم نے میرے ساتھ ایسی کوئی بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تائشہ کے الفاظ جنید کے لبوں کی قید میں آ گئے اس کی اس حرکت پر وہ پھڑپھڑاکر رہ گئی ۔
جبکہ اس کے ہاتھوں کے نازک مُکے جنید کے سینے پر دھرا دھر بج رہے تھے جنید نے اس کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں قید کر کے اس کی کمر کے پیچھے لے گیا
تائشہ کی سانسیں رکنے لگی ۔جبکہ جنید اس کے لبوں پہ جھکتا بے خود سا ہوگیا ۔
تائشہ کو اپنی جان جاتی محسوس ہو رہی تھی اور اسی احساس نے اس کی آنکھوں میں آنسو بھر دیے ۔ شاید اس کی حالت کا اندازہ جنید بھی لگا چکا تھا اسی لیے سے نرمی سے اسےخود سے دور کیا لیکن اسے اپنی باہوں سے اب تک آزاد نہ کیا تھا
سوری میں کچھ زیادہ جذباتی ہو گیا وہ کیا ہے کہ میرا پہلا تجربہ تھا ۔ لیکن کوئی بات نہیں اب آہستہ آہستہ ایکسپرٹ کو جاؤں گا ۔
وہ ایک آنکھ دباتا دلکشی سے مسکرا کر بولا
جبکہ اس کی حرکت نے تائشہ کی بولتی بند کردی تھی ۔وہ شرم سے اس سے نظریں تک نہیں ملا پا رہی تھی کسی مرد نےاتنے قریب سے پہلی بار چھوا تھا
اب کھانا ملے گا یا اسی پر گزارا کروں وہ ایک بار پھر سے اس کے قریب آیا
میں کچھ بنا کے لاتی ہوں تائشہ فورا اس سے دور ہوتے ہوئے بولی ۔
ہاں کچھ بنا لاؤ لیکن ذائقہ یہ بھی برا نہیں ہے وہ اس کے لبوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا ۔
جبکہ تائشہ اس کے انداز سے گھبراتی فورا ہی باہر نکل گئی
چھچھوڑا آدمی تائشہ باہر آتی اپنے سانسوں کا تناسب ٹھیک کرتے ہوئے اسے خطاب سے نوازتے ہوئے بولی
