267.3K
86

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bheegi Palkon Par Naam Tumhara (Episode 73)

Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah

زور زور سے دروازہ کھٹکھٹانے کی آواز پر کردم کی آنکھ کھل گئی اس نے ایک نظر ٹائم کی طرف دیکھا ساڑھے تین بج رہے تھے اس وقت یہاں کون ہو سکتا ہے

اس نے دھڑکن کو سوتے ہوئے دیکھا تو بنا اسے جگائیں خاموشی سے دروازہ کی طرف آیا

کردم نےدروازہ کھولا تو مقدم سامنے کھڑا تھا

کیا ہوا مقدم سائیں آپ اس وقت یہاں کیا کر رہے ہیں وہ پریشانی سے بولا

حوریہ کہاں ہے ۔مقدم کے انداز نے کردم کو بھی پریشان کر دیا

کیا مطلب ہے آپ کا حوریہ کہاں ہے

کردم میرے ساتھ ڈرامے بازی بند کرو بتاؤ کہاں ہے میری حوریہ وہ دھارتے ہوئے بولا تھا

یہ کوئی انجان گھر نہیں ہے جہاں تم اندر نہیں آ سکتے چل کر دیکھ لو اگرحور یہ ہے تو لے جاؤ اسے اپنے ساتھ مقدم نجانے کیا سمجھ رہا تھا کہ وہ چوری اپنی بہن کو لائے گا اپنے گھر

حوریہ حویلی میں کہیں نہیں ہے کردم میں اسے ہر جگہ ڈھونڈ چکا ہوں اگر وہ تمہارے پاس ہے تو میں تمہارے سامنے ہاتھ جوڑتا ہوں میرا امتحان مت لو

مقدم ہمت سے کام لو اگر وہ میرے پاس ہوتی تو میں تم سے نہیں چھپاتا ۔

اور اگر حوریہ غائب ہے تو مجھ سے لڑنے سے بہتر ہے کہ ہم مل کر ڈھونڈے

آؤ میں تمہارے ساتھ چلتا ہوں اسے ڈھونڈنے وہ دروازہ بند کرتا گھر سے باہر نکلا تھا

کہاں جا سکتی ہے مقدم نے پریشانی سے کہا

شاید ملک کے پاس کردم کے جواب پر مقدم نےاسے دیکھا تھا

اگر وہ میری حوریہ کو اپنے ساتھ لے کے گیا تو میں اسے جان سے مار دوں گا وہ غصے سے گاڑی کی طرف بڑھ رہا تھا جبکہ اس کی جذباتی طبیعت کا سوچ کردم بھی اس کے ساتھ ہی آ گیا

دماغ خراب ہو گیا ہے تمہارا اپنی بیٹی کو میں اغوا کروں گا بلکہ میں تم لوگوں سے جواب مانگتا ہوں کہ میری بیٹی کہاں ہے ۔

وہ اس وقت ملک کے گھر کے باہر موجود تھے مقدم نے اپنے ریوالور سے فائرنگ کرکے حویلی کے سب لوگوں کو الرٹ کیا تھا

بکواس بند کرو ملک بتاؤ میری بیوی کہاں ہے وہ غصے سے دھاڑتے ہوئے بولا لیکن ملک پر اس کی دھاڑ کا کوئی اثر نہ ہوا

زبان سنبھال کے بات کرو تم ہوتے کون ہو میری بیٹی کے بارے میں پوچھنے والے اس پر سوتن لاتے ہوئے یہ نہیں سوچا تھا کہ اس پے کیا گزرے گی مجھے تو لگتا ہے تمہاری بے وفائی کے روگ سے وہ چلی گئی ہے کہیں تمہیں بھی چھوڑ کر اور مجھے بھی چھوڑ کر نجانے میری بچی کس حال میں ہو گی نجانے کہاں ہوگی یہ سوچنے کے بجائے تم لوگ آکر مجھ سے تفشیش کر رہے ہو

ایک بات کان کھول کر سن لو مقدم سائیں اگرمیری بیٹی پر آنچ بھی آئی تو میں تمہاری حویلی کی اینٹ سے اینٹ بجا دوں گا

ابے توکیا کرے گا اس سے پہلے میں تیری جان نکال دوں گا مقدم اس کا گریبان تھامتا ہوا اپنا پستول نکال چکا تھا جب کردم نے اسے اپنی طرف کھینچا

مقدم چلو یہاں سے میرے خیال میں ہمیں پولیس میں رپورٹ کرنی چاہیے پولیس اچھے اچھوں سے اگلوالے گی

تم چلو میرے ساتھ ۔۔پہلے حویلی چلتے ہیں داداسائیں کے پاس کردم نے سمجھاتے ہوئے کہا

تم لوگوں کا دماغ خراب ہو گیا ہے کیا پولیس رپورٹ کر کے عزت اچھالنی ہے کیا ۔

ڈھونڈو کہاں جا سکتی ہے وہ یہیں کہیں ہو گی دادا سائیں نے پریشانی سے کہا

یہاں کہیں نہیں ہے دادا سائیں میں اسے ہر جگہ ڈھونڈ چکا ہوں میری حوریہ کہیں نہیں مل رہی چلی گئی ہے وہ مجھے چھوڑ کے ۔

مقدم اپنے سر پر ہاتھ پھیرتا دیوانوں کی طرح ادھر سے ادھر گھوم رہا تھا

آخرحوریہ کہاں غائب ہو گئی تھی کہاں چلی گئی تھی وہ گھر میں سب لوگ پریشان تھے دادا سائیں نے پولیس میں رپورٹ کرنے سے منع کر دیا تھا

اسی لئے کر دم اور مقدم کے ساتھ جنید بھی حوریہ کو ڈھونڈنے گاؤں کا چپا چپا پھر رہے تھے

رات سے صبح صبح سے دن اور دن سے پھر سے رات ہو گئی حوریہ کا کہیں کوئی پتہ نہ چلا ۔

اماں سائیں تو بہت خوش تھی بلکہ مقدم کی غیرموجودگی میں انہوں نے تو یہ بھی کہہ دیا کہ کسی عاشق کے ساتھ بھاگ گئی ہو گی

جس پر کردم نے بنا لحاظ کے انہیں سنایا تھا ۔اور اس کے بعد وہ منہ بنا کر اپنے کمرے میں چلی گئی اور ابھی تک واپس نہیں آئیں تھیں

حویلی کے آدمی گاؤں کے ساتھ ساتھ آگے پیچھے کے ہر علاقے کے ایک ایک گھر کو دیکھ چکے تھے ۔

نہ تو کسی نے حوریہ کو آتے جاتے دیکھا تھا اور نہ ہی وہ گاوں میں کہیں تھی وہ کہاں گئی کوئی نہیں جانتا تھا مقدم نے کل سے کچھ نہیں کھایا تھا پر صاف کہا تھا جب تک اس کی حوریہ نہیں مل جاتی وہ کچھ نہیں کھائے گا ۔

جس پر دادا سائیں کے ساتھ ساتھ گھر کے سبھی لوگ پریشان تھے ۔

اماں سائیں نے بھی مقدم کے کمرے میں آ کر اس کی بہت منتیں کی کہ کچھ کھا لے اور نہیں تو پانی ہی پی رہا تھا

جبکہ مقدم اس وقت اپنی ہمدردی پر پچھتا رہا تھا ۔جو بھی تھا جیسا بھی تھا اسے سویرا سے نکاح نہیں کرنا چاہیے تھا ۔اس نکاح کی وجہ سے اس کی حوریہ اس سے دور ہو چکی تھی ۔جس کی وجہ سے وہ بہت پریشان تھا

سویرا یہاں کمرے میں کیا کر رہی ہو بیوقوف لڑکی جاؤ اپنے شوہر کو سنبھالو اسے کھانا کھلاو حوریہ تو جا چکی ہے ارے اب سوچوں اپنی آنے والی زندگی کے بارے میں کچھ تم مقدم کے پر اس طرح سے حاوی ہو جاؤ کہ اس کی زندگی میں حوریہ کی گنجائش ہی نہیں ہو

تم میری بات کو سمجھ رہی ہو نا چلی گئی وہ مقدم کو چھوڑ کر تم۔ مقدم کے دماغ میں یہ ڈالؤ کہ وہ کسی لڑکے کے ساتھ بھاگ گئی

ارے بے وقوف لڑکی اس پے اپنے حسن کے جادو چالو یہی وقت ہے مقدم بکھرا ہوا ہے اسے سمیٹ لو اماں سائیں کب سے اس کے کمرے میں آکر اسے مقدم کے دل میں اپنی جگہ بنانے کیا کہہ رہی تھی

کیا ہوگیا ہے آپ کو بڑی اماں سائیں کیوں کر رہی ہیں اس طرح کی باتیں حوریہ گھرسے غائب ہے کہاں گئی ہیں کس حالت میں ہیں کوئی نہیں جانتا آپ کو مقدم سائیں اور میرے رشتے کی پڑی ہے

آپ بھی ایک ماں ہیں ارے حوریہ کا نہ سہی مقدم ان کا خیال کریں کس حالت میں ہے وہ کل سے کچھ کھایا پیا نہیں ہے بس اسے ڈھونڈنے جا رہے ہیں

اور میں کس طرح سے ان کے دل میں جگہ بنوں ایک نہیں تین تین لڑکوں نے ریپ کیا ہے میرا نہیں ہے مجھ میں اتنی ہمت کے میں کسی اور مرد کے پاس جا سکوں

وہ روتے ہوئے بولی ۔

بابا سائیں کو کینسر ہے ۔اپنی زندگی کے آخری دن گزار رہے ہیں وہ میں پاکستان نہیں آنا چاہتی تھی پر نن

بابالےکرجانا چاہتے تھے دھڑکن کے نکاحوالے دن مجھے یہ سب کچھ پتہ چلا میرے بابا زندگی اور موت سے لڑ رہے ہیں تو سوچا کیوں نا ان کی آخری سانسوں کا کچھ فائدہ اٹھا اماں سائیں شرمندگی سے نظریں جھکا کر کھڑی تھی اس کی آخری بات پر اسے دیکھ کر رہ گئی

اب وہ مسکرا رہی تھی

بے شرم لڑکی ایسا نہیں بولتے باپ ہے تمہارا اسے مسکراتے ہوئے دیکھ کروہ اس کے قریب آ بیٹھیں

تو کیا کروں ساسو ماں آپ تو میری بات کو سمجھ نہیں رہی تھوڑا وقت دے کر مقدم سائیں کو اس رشتے کو قبول کرنے کے لئے دھڑکن تو یہاں ہمیشہ کے لئے سیٹ ہو چکی ہے مجھے بھی سیٹ ہونے کے لئے وقت چاہیے بھئی

اسی لیے حوریہ کو یہاں میں سے ویسے بھی میں نکالنے والی تھی وہ تو اچھا ہوا کہ وہ خود ہی چلی گئی ۔

ویسے ماننا پڑے گا بندی کو مقدم سائٹمیں ایسا اپنا عاشق بنا کے رکھا ہے کہ وہ اس کے علاوہ کچھ سوچتے ہی نہیں میں نے تو سوچا تھا کہ پہلی رات کو ہی اس حسین ڈریس کے ساتھ میں مقدم سائیں کو اپنا گھائل کر لوں گی لیکن نہ جانے وہ کیا طلسم پڑھ کے گئی ہے ان پہ مجال ہے جو نظریں اٹھا کر میری طرف دیکھا ہو

پھر میں نے سوچا کچھ دن صبر کر لیتی ہوں آخر ریپ ہوا ہے میرا تھوڑا ڈر تھوڑے نخرے دکھانا بنتا ہے اور حوریہ کی اب کیا ٹینشن ہے اگر مقدم سائیں اسے ایک دن میں نہیں ڈھونڈ سکے تو ظاہر سی بات ہے وہ بہت دور چلی گئی ہے میں تو دعا کرتی ہوں کسی کنول میں چھلانگ لگا کے مر گئی ہو تاکہ مقدم سائئں صرف میرے ہو سکے ویسے باپ ہو تو ایسا مرتے مرتے بھی میرا فائدہ کر رہا ہے

اپنے ہی باپ کے بارے میں اس طرح سے کیسے بات کر سکتی تھی لیکن وہ سویرا تھی وہ کر سکتی تھی

ساری زندگی دھڑکن کو کسی شہزادی کی طرح پالا ساری پابندیاں سارے رول صرف میرے لیے تھے ان کا غصہ ان کی ڈانٹ صرف میرے لئے اور دھڑکن کے لیے پیار ہیں پیار

اگرمیں ان سے پارٹی کے لیے پیسے مانگوں تو وہ انکار کر دیتے لیکن اگر دھڑکن مانگتے تو اسے دے دیتے

میں چند پیسوں کے لئے اپنے دوستوں میں شرمندہ ہو کے رہ جاتی اور دھڑکن پتہ ہے آپ کو بلیوں کے بچوں کے ساتھ میرے باپ کے پیسے اڑاتے تھی

ساری زندگی میرے باپ نے مجھے کچھ نہیں دیا سوائے مقدم شاہ ان کی آخری سانسیں میرا فائدہ کر گئی

اس دن میں مقدم شاہ کے سامنے روتی حالت میں آئی پھر سارا الزام حوریہ پر لگا دیا کہ یہ سب کچھ حوریہ کی وجہ سے ہوا ہے وہ لوگ حوریہ کو اٹھانے والے تھے لیکن غلطی سے مجھے اٹھا لیا

میں نے کہا کہ میں ایسی حالت میں اپنے باپ کے سامنے نہیں جا سکتی مجھے مرنے دو اور میں نے خودکشی کا ڈرامہ کیا ۔

مقدم سائیں نے مجھے بہت سمجھانے کی کوشش کی کہ وہ میری شادی کسی بہت اچھے انسان سے کروائے گے۔

لیکن میں نہ مانی میں نے کہا میں اس اپارٹمنٹ سے باہر اسی کنڈیشن میں جاؤ گی جب وہ مجھے اپنا نام دیں گے ورنہ وہاں سے باہر صرف میری لاش لے کے جائے گا

پھر کیا تھا مجبور ہو کہ مقدم سائیں نے وہی قریب ایک مسجد میں مجھ سے نکاح کر لیا

پر میں بن گئی مسز مقدم شاہ اور اب میں ہی رہوں گی مسز مقدم شاہ کیوں کہ آپ کے آئیڈیا نے کمال کا کام کیا ہے ساسو ماں وہ نازیہ کو اپنے گلے سے لگاتی محبت سے بولی

حوریہ کو مقدم کی زندگی سے نکالنے کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار تھی اور جب مجھے یہ بتا چلاکہ تم اس سے محبت کرتی ہو تو مجھے تمہاری مدد کرنی پڑی اس کے انداز پر نازیہ بھی مسکرا کر بولی

ویسے تو میں نے تائشہ اور ملک سے بھی مدد لینے کی کوشش کی لیکن ایک نمبر کے بیوقوف ہے وہ دونوں کچھ نہیں کر پائے میرے لئے ۔

لیکن اپنے نکاح کے فورا بعد میں نے اسے فون کر کے کہا کہ اپنی بیٹی کو یہاں سے لے جائے کیونکہ میں یہاں آ رہی ہوں مقدم کی بیوی بن کر لیکن وہ بے وقوف سے یہی چھوڑ کر چلا گیا ۔

پھر کوئی بات نہیں اب تو گئی جان چھٹی اب تو مقدم شاہ صرف میرا ہے سویرا خوشی سے چہکتے ہوئے بولی جبکہ اس کے انداز پر نازیہ بھی قہقہ لگا کر ہنسی