267.3K
86

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Bheegi Palkon Pe Naam Tumhara Hai) Epi 09

وہ گاڑی میں آکر بیٹھی تو کردم نے گاڑی آگے بڑھا دی
تھوڑی دیر میں گاڑی میں دھڑکن کی باتیں شروع ہوگئی
کردم کے سامنے وہ تیز تیز بولنے سے احتیاط کر تی تھی کیونکہ وہ پہلے دن ہی اسے ڈانٹ گیا تھا لیکن پھر بھی کسی کسی بات پر اس کی زبان تیزی پکڑلیتی
ہائے مجھے افسوس ہو رہا ہے کہ ہم یہاں اپنی باتوں میں مصروف ہیں اور وہاں کردم لالہ بیچارے
اگر ہم تائشہ دیدہ کو بھی ساتھ لے آتے تو کردم لالہ بھی بور نہ ہوتے اور ویسے بھی کردم لالا تو ہر وقت ہی غصہ کرتے رہتے ہیں ان پر اس نے ہلکی آواز میں کہا لیکن کردم سن چکاتھا
مجھے اپنی بوریت دور کرنے کے لئے تائشہ سے بات کرنے کی ضرورت نہیں وہ میری منگیتر ہے اس کی عزت مجھ پے فرض ہے شادی کے بعد میرا سارا وقت اسی کیلئے ہوگا اگر اس وقت میں اسے اپنے ساتھ لے کر نہیں چلتا تو وجہ صرف یہ ہے کہ میں شادی کے بعد اسے سمجھنا چاہتا ہوں میرے نزدیک منگنی کوئی ایسا رشتہ نہیں جس کی بنا پر تائشہ کو لے کر اپنے ساتھ لیے گھوموں
اس کی اہمیت میری زندگی میں تب ہوگی جب وہ میری بیوی بن کر میری زندگی میں شامل ہو گی کردم شاہ کے لہجے میں کوئی غصہ کوئی سختی نہ تھی اس کے بعد اسے ندی اور اپنی چند زمینیں دکھانے لے گیا لیکن باغ میں جھولے دیکھنے کے بعد دھڑکن کا واپس آنے کا دل نہیں کر رہا تھا پورا گاؤں اپنی مثال آپ تھا لیکن یہ باغ دھڑکن کا معصوم دل اس پر آکر رکا تھا
کردم نےچلنے کو کہا تو وہ جانے کے لئے تیار نہ تھی
جس کی وجہ سے کردم کو سختی دکھانی پڑی تو وہ منہ پھلاتی جھولے سے اتری تبھی ایک لڑکا دوڑتا ہوا ان کے پاس آکر رکا
چھوٹے شاہ سائیں
وہ دودسے ہی اسے پکار رہا تھا
جاوید تم اتنے پریشان کیوں ہو اس کے قریب آ کر رکا تو کردم نے پوچھا
چھوٹے شاہ سائیں وہ اکبر اپنی بچی کی شادی کر رہا ہے نکاح کی رسم ادا ہوچکی ہے جاوید نے بتایا تو کردم شاہ کے ماتھے پر بے شمار شیکنیں نمایاں ہوئی
جبکہ اس کے غصے کی وجہ دھڑکن سمجھ نہیں پائی تھی اکبر ایسا کیسے کر سکتا ہے اس کی ہمت کیسے ہوئی ایسا کرنے کی اگر دادا سائیں گاؤں میں نہیں ہیں تو ان کی مرضی کے خلاف اتنا بڑا قدم اٹھائے گا اس کی عقل کو ٹھکانے میں لگاوں گا تم چلو میں پہنچتا ہوں وہ حوریہ اور دھڑکن کو گاڑی میں بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے خود بھی ڈرائیونگ سیٹ سنبھال چکا تھا
گھر کی عزت کے معاملے میں وہ کسی پر یقین نہیں کرتا تھا
اگر کسی نے اپنی بیٹی کی شادی کردی ہے تو اس میں اس کی کیا غلطی ہے ہر انسان کو اپنی بیٹیوں کے حق میں بہتر فیصلہ کرنے کا حق ہے دھڑکن صرف سوچ سکتی تھی کیونکہ بولنے کی ہمت تو کردم شاہ کے سامنے اس میں پیدا ہی نہیں ہوتی تھی
••••••••••••••
ارے سویرا بچے تم بھی گھوم آتی گاؤں دھڑکن گئی ہے ۔
رضوانہ پھپھو تھوڑی دیر اس کے پاس بیٹھنے کے لیے اس کے کمرے میں آئی تھی ۔
ایم ناٹ انٹرسٹڈ ۔بیزاریت سے بھرپور جواب آیا جبکہ ان کا اس طرح سے اپنے کمرے میں آنا سویرہ کو ہرگز پسند نہ آیا تھا ۔
سویرا نے کیا کہا تھا یہ تو پھپھو سائیں کو سمجھ نہ آیا لیکن اس کا لہجہ بہت کچھ بیان کر رہا تھا ۔
اس کا سب سے کٹ رہنا سب ہی ٹوٹ کر چکے تھے ۔
لیکن پھر بھی وہ اس کی پھپھو سائیں تھی
رشتے کا احساس اور اس رشتے سے جڑے جذبات انہیں اس کے پاس بیٹھنے پر مجبور کر رہے تھے ۔
اچھا بتاؤ لنڈن کیسا ہے لنڈن میں اور پاکستان میں کیا فرق ہے وہ اس سے بے تکی باتیں کرنے لگیں ۔
زمین آسمان کا فرق ہے آپ کے پاکستان اور میرے لندن میں ۔
جب سے میں یہاں آئی ہوں کسی نے مجھے باہر نہیں جانے دیا آزادی نام کی کوئی چیز ہی نہیں ہے پرائیویسی نام کی کوئی چیز نہیں ہے جس کا دل چاہے وہ منہ اٹھا کر آ جاتا ہے کمرے میں پوچھنے کی بھی زحمت گوارا نہیں کرتا وہ کوئی بھی لحاظ رکھے بغیر بولی
جبکہ احساس توہین سے پھپھو سائیں کا چہرہ سرخ ہو گیا
اوروہ وہاں سے اٹھ کھڑی ہوئیں ۔
بیٹا سائیں اس کمرے سے باہر بھی نکلا کرو آخر ساری زندگی تم نے اسی گھر میں رہنا ہے ۔
وہ اسے کچھ احساس دلانے والے انداز میں بولیں اور اٹھ کر باہر چلی گئی ۔
جبکہ ان کے جاتے ہی سویرا کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی اس کا پہلا تیر بالکل نشانے پر لگا تھا
••••••••••••••
تائشہ تم یہاں کیا کر رہی ہو بیٹا تم بھی چلی جاتی کردم کے ساتھ ۔وہ کب سے گھرمیں بولائی بولائی پھر رہی تھی ۔
جب احمد شاہ نے اسے مخاطب کیا ۔
جی ماموں سائیں میں جانا تو چاہتی تھی لیکن گھرمیں بہت کام تھا اب کردم سائیں کے آتے ہی مجھے انہیں چائے بنا کر دینی ہوتی ہے
اور پھر صبح کے لئے ان کے کپڑے بھی تیار کرنے ہوں گے ۔
اور میرے خیال میں آج رسوئی میں بھی ان کی پسند کا کچھ نہیں بنا لگتا ہے ان کا کھانا بھی الگ سے بنانا پڑے گا ۔
ماشاءاللہ ماشاءاللہ میری بچی تو بہت سمجھدار ہو گئی ہے
ہر کام کردم کی مرضی کا ہوتا ہے یہاں تو ۔
احمد شاہ نے مسکراتے ہوئے کہا تو تائشہ شرما دی۔
تھوڑی سے اپنی عقل میری بیٹی کو بھی بانٹ دو ۔
اسے تو سمجھ ہی نہیں ہے مقدم کے مزاج کے مطابق خود کو ڈالتے ڈالتے اسے بہت وقت لگ جائے گا ۔
لیکن تم دونوں کا تو زندگی بھر کا ساتھ ہے ۔ اس کے ساتھ وقت گزارا کرو ۔احمد شاہ نے بہت محبت سے اس سے التجا کی تھی
کیوں نہیں ماموں سائیں آپ فکر نہ کریں تائشہ کی تو جیسے مراد بھر آئی تھی
وہ سویرا کے کمرے کی طرف آئی تھی لیکن کمرا اندر سے بند تھا دو تین بار کھٹکٹھانے کے بعد بھی اندر سے کوئی آواز نہ آئی تو وہ مایوس لوٹ آئی
••••••••••••••••••
وہ لوگ کہاں آئے تھے دھڑکن کو نہیں پتا تھا
اگر یہاں پر شادی ہو رہی تو یہ کس قسم کی شادی کے بابا سائیں اسے بتایا کرتے تھے کہ پاکستان کی شادی میں بہت مزہ آتا ہے
یہاں پر کسی کی آواز بھی نہیں آرہی تھی
دھڑکن سوچتے ہوئے حوریہ کے ساتھ اس کمرے نما گھر میں داخل ہوئے جہاں ابھی کردم شاہ تیزی سے داخل ہوا تھا
چھوٹے شاہ سائیں آپ یہاں۔۔۔۔ آپ لوگوں شہر گئے ہوئے تھے سامنے کھڑا اکبر کاپنتے ہوئے اس کی طرف آیا
ہاں گئے تھے شہر لیکن میں نہیں دادا سائیں اور تم نمک حرام ان کی غیر موجودگی میں اپنی بچی کی شادی کر رہے ہو
بلکہ یہ کہنا تو غلط ہوگا تم اس کی شادی نہیں کر رہے تم اس معصوم بچی کو بیچ رہے ہو بتاؤ کتنے میں بیچا ہے تم نے اپنا ایمان بتاؤ مجھے کیا قیمت لگائی ہے تم نے اس معصوم بچی کی اس نے سامنے کھڑی دلہن کے روپ میں دس سے گیارہ سالہ بچی کی طرف اشارہ کیا
دادا سائیں نے مجھ سے کہا تھا کہ تم گاؤں میں رہو گاوں میں کسی کا ہونا ضروری ہے لیکن میں نے کہا دادا سائیں آپ فکرنہ کریں یہ گاوں والے تو ہمارے اپنے ہیں
آپ کے خلاف کبھی نہیں جائیں گے لیکن تم نے کیا کیا تھا یہ صلہ دیا تم نے دادا سائیں کے احسانوں کا ارے ان کی نہ سہی اس معصوم بچی کا خیال کرلیتے یہ تو تمہاری اپنی بیٹی ہے جس کا نکاح تم نے اپنے سے دو سال کم عمر کے آدمی سے کردیا ہے
کردم نے اسے ایک زوردار جھٹکا دیا اور سامنے کھڑے آدمی کے پاس آیا ابھی کے ابھی طلاق دوبچی کو وہ اسے پکڑ کر سیدھا کرتے ہوئے بولا تو آدمی تو گھبرا کر اکبر کو دیکھنے لگا
باسل اس آدمی کو لے جاؤ اور جب تک یہ بچی کو طلاق نہ دے دیں اسے چھوڑنا مت
اور اگرتم اس کا خرچہ نہیں اٹھا سکتے تو آج سے اس کے منہ میں جانے والا ہر نوالہ بھی حویلی سے ائے گا لیکن اٹھارہ سال کے ہونے سے پہلے تم نے اس کی شادی کرنی چاہیے تو تمہیں بھول جاؤں گا کہ تمہاری بیٹی ہے
آج کے بعد اس گاوں میں اٹھارہ سال سے کم کسی بچی کی شادی نہیں ہوگی یہ کردم شاہ کا بنایا گیا قانون ہے اور اگر کسی نے اس قانون کی خلاف ورزی کی تو کردم کا وہ روپ دیکھے گا جو پہلے کبھی نہیں دیکھا لیکن ہمارے گاؤں میں بچپن میں نکاح کردیا جاتا ہے ایسا کرنے والے اٹھارہ سال سے پہلے بچی کی رخصتی نہیں کرسکتے فیصلہ سناتے ہوئے وہ اٹھ کر باہر نکل گیا جبکہ اکبر ابھی تک اپنے ہاتھ جوڑے کھڑا تھا
کردم کو باہر چلے جاتے حوریہ نے فوراً دھڑکن کا ہاتھ تھام اور باہر لے گئی
حوری دیدہ وہ بڑا آدمی دلہا تھا کیا وہ گاڑی میں بیٹھتے ہوئے پوچھنے لگی حوریہ نے آواز کم کرنے کا اشارہ کیا تو وہ لبوں پر انگلی رکھتے اس بار آرام سے پوچھنے لگی
وہ دلہن کتنی پیاری تھی اور دلہا تو بابا کی ایج کا تھا مجھے نہیں اچھا لگا وہ منہ بسور کر بولی
ویسے حوری دیدہ پاکستان کی شادیاں ایسی ہوتی ہیں کیا عجیب و غریب سی اتنی بورینگ ہوتی ہیں کیا یہاں کی شادیاں اب مقدم لالا اور سویرا دیدہ کی شادی بھی ایسی ہی ہوگی وہ معصومیت سے منہ پھلا کر پوچھنے لگی
جبکہ مقدم شاہ کے ذکر حوریہ سوچ میں پڑ گئی
اس نے کہا تھا کہ اماں سائیں اس کا رشتہ مانگے گی
بولو نہ حوری دیدہ پاکستان کی شادیوں ایسی ہوتی ہیں کیا وہ اس کا ہاتھ زور سے ہلاتی اسے خیالوں کی دنیا سے کھینچ کر باہر لائی
تم تھوڑی دیر اپنا رکھنا منہ بند رکھ سکتی ہو
اس بار کردم شاہ اسے آنکھیں دکھاتا سختی سے بولا تو اسے چپ لگ گئی
لیکن گاڑی جیسے ہی حویلی کے باہر آکر رکی اس کے منہ سے ایک لفظ نکلا
“کھڑوس “۔