267.3K
86

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bheegi Palkon Par Naam Tumhara (Episode 68)

Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah

نہ جانے مقدم اور دادا سائیں کیا بات کر رہے تھے بس جو کچھ بھی ہوا اس کے بعد نازیہ بہت خوش تھی اور سویرہ خاموش بالکل خاموش جیسے کوئی پتھر کی مورتی ہو ۔

آو سویرا میں تمہیں تمہارے کمرے میں چھوڑ دوں مقدم شاہ کی بیوی نے تو اس کا حکم مانا ہی نہیں

لیکن تمہاری ساس تمہیں ایک بہو کی طرح شوہر کے کمرے میں چھوڑ کے آئے گی نازیہ نے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا جب کہ وہ انہیں دیکھ کر رہ گئی اس کمرے میں تو ابھی ابھی حوریہ گئی تھی

بلکہ مقدم اسے خود چھوڑ کے آیا تھا سویرا نے انکار کرنا چاہا لیکن نازیہ نے اس کی ایک نہ سنی اور اسے اپنے ساتھ حوریہ کے کمرے میں لے آئیں ۔

بند کرو یہ رونا دھونا ۔کوئی پہلی بار نہیں ہوا یہ مرد ہے مقدم اور مرد دوسری شادی کرتے رہتے ہیں اٹھو یہاں سے نکلو اس کمرے سے آج کے بعد اس کمرے میں میری بہو رہے گی

اپنا سامان صبح لے جانا فی الحال مقدم آنے والا ہوگا ۔

ارے ایسے نہیں روتے بیٹا اگر تم نے ایسے ہی رونا دھونا مچائے رکھا کا مقدم کے دل سے جلدی ہی اتر جاؤ گی تمہارے عشق کا بھوت تو اس کے سر سے اتر ہی گیا تب ہی تو اتنی خوبصورت بہو لے کے آیا ہے وہ میرے لیے ۔

بڑی امی سائیں میں اپنے کمرے میں جا رہی ہوں سویرا نے جیسے اپنے اندر سے گھوٹتی ہوئی آواز نکالی

تم کہیں نہیں جاؤگی سویرا مقدم تمہیں بیا کے لایا ہے تم سے نکاح کر کے لایا ہے تمہیں یہاں اور آج سے تم اسی کمرے میں رہو گی مقدم کے کمرے میں اور جہاں تک اس کا سوال ہے ۔

تو ابھی تو میں اسے مقدم کے کمرے سے نکال رہی ہوں اسے تومیں مقدم کے دل سے بھی نکال پھینکوں گی یہ کہتے ہوئے نازیہ نے حوریہ کا ہاتھ تھاما اور اسے دھکا دینے والے انداز میں باہر کی طرف پھینکا ۔

چلو لڑکی اب میرے بیٹے کے آنے سے پہلے اپنی شکل گم کرو یہاں سے ۔تاکہ وہ سویرا کے ساتھ ایک خوبصورت زندگی کی شروعات کر سکے ۔

تھوڑی دیر پہلے کی ہمت دلیری نہ جانے کہاں گئی تھی محبت کی طاقت جاتے ہی جیسے حوریہ سے ہر طاقت ختم ہو گئی تھی اس کی زبان میں کوئی لفظ ہی نہ آیا سب کچھ بے مول ہو چکا تھا بنا کچھ بولے وہ آہستہ آہستہ چلتی واپس اسی کمرے میں آگئی جہاں سے کبھی رخصت ہو کر مقدم کے کمرے میں گئی تھی ۔

آنسو کا نہ رکنے والا سلسلہ ایک بار پھر سے شروع ہوگیا

اس نے زندگی میں بہت غم جیلے تھے اورہر غم کے بعد لگا کے اس سے بڑا دکھ زندگی میں کبھی نہیں سہا ۔لیکن دکھ کیا ہوتا ہے تکلیف کسے کہتے ہیں درد سہنا کیا ہے اسے آج پتا چلا تھا ۔وہ بیڈ پر بیٹھنا چاہتی تھی لیکن اسے پتہ بھی نہیں چلا کہ کب بیڈ کے سہارے وہ زمین پر آ گری ۔

اور پھر پھوٹ پھوٹ کر بلک بلک کر رونے لگی جیسے کوئی مر گیا ہوں ہاں مر ہی تو گیا تھا اس کا اعتماد اس کا یقین ۔کیا بچاتھا اس کے پاس وہ تو خالی ہاتھ تھی

دیکھو مقدم تم نے بہت سمجھداری سے کام لیا ہے یہ بات گھر میں کسی کو پتہ نہیں چلنی چاہیے ۔

دادا سائیں نے سمجھاتے ہوئے کہا

جی لیکن حوریہ کو بتانا ہوگا ورنہ وہ ۔۔۔

تم ابھی اسے بھی کچھ نہیں بتا سکتے دیکھو میری بات کو سمجھنے کی کوشش کرو دادا سائیں نے سمجھانے کی کوشش کی لیکن مقدم سمجھنا نہیں چاہتا تھا

نہیں دادا سائیں آپ نے دیکھی نہ میری حوریہ کی حالت مجھ سے طلاق مانگ رہی تھی اس کا دماغ میں کمرے میں جاکر ٹھیک کروں گا اسے سب کچھ بتاوں گا ۔

تم اسے کچھ نہیں بتاؤ گے مقدم سائیں کچھ وقت انتظار کرلو اپنے چچا کی حالت دیکھو ۔

وہ کسی سے نظر اٹھا کر بات نہیں کر پا رہا اور اگر یہ بات گاؤں میں پھیل گئی کہ سویرہ کے ساتھ ۔۔ ہم کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے ۔

تم نے اتنی بڑی قربانی دی ہے تو تھوڑا سا صبر کرو میں جانتا ہوں تم حورکے بغیر نہیں رہ سکتے لیکن ہمارے لئے اتنا تو کر سکتے ہو کہ اسے حقیقت کچھ عرصے بعد بتاؤ داداسائیں نے سمجھاتے ہوئے کہا ۔

ٹھیک ہے میں حوریہ کے پاس جا رہا ہوں اسے میری ضرورت ہے ان کی بات سننے کے بعد وہ کافی جذباتی ہو چکا تھا غصے سے کمرے سے ہی نکل گیا ۔

وہ کمرے میں آیا تو سامنے سویرا کو اپنے بیڈ پر بیٹھ کر روتے ہوئے دیکھا

تم یہاں کیا کر رہی ہو اور حور کہا ں ہے وہ اسے دیکھتے ہوئے غصے سے بولا

وہ ویسے بھی بہت غصے میں تھا اور اب سویرہ کو اپنے کمرے میں دیکھ کر اس کا دماغ خراب ہوگیا

وہ ۔۔۔۔۔۔۔

اسے یہاں میں لے کے آئی ہوں مجھے بہت خوشی ہوئی مقدم کے تم نے اس حوریہ کے علاوہ کچھ اور بھی سوچا مجھے پتا تھا میرے بیٹے کو میری پسند نظر آئے گی سویرا کو اپنی بہو کے روپ میں دیکھنا تو میری خواہش تھی جو تم نے پوری کر دی

آج سے سویرا یہی رہے گی

میں نے پوچھا میری حوریہ کہاں ہے اس بار اس نے اپنا غصہ چھپانے کی بالکل کوشش نہ کی تھی ۔

وہ اپنے پرانے کمرے میں جا چکی ہےنازیہ نے کہتے ہوئے اس کے چہرے کو دیکھا جب کہ وہ انہیں دیکھے بغیر کمرے سے باہر جانے لگا

اگر تمہیں یہ رشتہ نبھانا ہی نہیں تھا مقدم تو پھر کیوں کیا تم نے سویرا سے نکاح کیوں لے کے آئے ہو اسے یہاں اگر تم اسے قبول ہی نہیں کر رہے تو یہ یہاں کیا کر رہی ہے میں پوچھتی ہوں اس نکاح کی وجہ کیا ہے اماں سائیں نے غصے سے کہا اور مقدم کے باہر نکالتے ہوئے مقدم دروازے پر ہی رک گئے۔

اماں سائیں وجہ وہی ہے جو آپ کو لگ رہی ہے میں اپنی بچپن کی منگ ایسے چھوڑ نہیں سکتا تھا اسی لئے نکاح کرلیا یہی کہا تھا نہ آپ نے کہ بچپن کی منگنی توڑی نہیں جاتی ۔

اور یہ خواہش بھی تھی نہ آپ کی کہ یہ بہو بن کر اس گھر میں آئے تو آگئی ۔

اب جائے یہاں سے ہمیں آرام کرنا ہے سویرا اماں سائیں چلی جائیں تو دروازہ بند کر دینا وہ اپنے کمرے کپڑے نکالتے ہوئے واش روم میں گھس گیا ۔جب نازیہ نے ایک نظر سہمی ہوئی سویرا کو دیکھا

ہاں ہاں سویرا بہو دروازہ بند کر لو میں جا رہی ہوں شاید مقدم کی بدتمیزی سے زیادہ ان کی خوشی بڑی تھی ۔

اسی لئے سویرا کی بلائیں لیتے ہوئے وہ کمرے سے باہر چلی گئیں ۔

ان کے جانے کے تقریبا پانچ منٹ کے بعد وہ نہا کر باہر نکلا

تم بیڈ پے سو جاؤ میں صوفے پر سو جاؤں گا ٹھنڈے پانی نےبھی اس کا غصہ ٹھنڈا نہ کیا تھا

نہیں مقدم سائیں آپ سو جائیں میں صوفے پر سو جاؤں گی جو میں نے کہا ہے وہی کرو وہ غصے سے بولا تو سویرا نے فوراً ہاں میں سر ہلایا

پہلے میں اپنے کمرے سے کپڑے اٹھ کر لاتی ہوں۔ اس نے مقدم کی چادر ٹھیک سے اڑتے ہوئے کہا اور کمرے سے باہر جانے لگی جب مقدم تیزی سے دروازے کی طرف آکر اس سے پہلے ہی دروازہ بند کر چکا تھا

اس وقت کمرے سے باہر جاکر باتیں بنوانی ہیں کیا ایسا کرو فلحال حوریہ کے کوئی کپڑے پہن لو۔

یہ الماری میں ہے اس کے کپڑے وہ الماری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا جبکہ سویرا بنا کچھ بولے الماری کی طرف بڑھ گئی مقدم خاموشی سے صوفے پر بیٹھ گیا

کچھ دیر میں سویرا مقدم کی سب سے زیادہ پسندیدہ ڈریس پہنے بیڈ کے طرف جا رہی تھی

تم پہننے سے پہلے مجھ سے پوچھ بھی تو سکتی تھی کہ تم نے کیا پہننا ہے اپنا غصہ قابو کرتے ہوئے اپنے آپ پہ چادر پھیلاتے صوفے پر لیٹ گیا

جبکہ اس کے انداز نے ہی بتا دیا تھا کہ حوریہ کے یہ کپڑے سویرہ کا پہنا مقدم کو ہرگز پسند نہیں آیا

کمرہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا وہ دونوں جاگ رہے تھے دونوں کے بیچ جائز رشتہ تھا لیکن مقدم کو اس رشتے کی خواہش نہ تھی تو سویرا کے اندر ہر خواہش مر چکی تھی

سویرا خاموشی سے چھت کو دیکھ رہی تھی کہ اسے آہستہ سے کمرے کا دروازہ کھلتا ہوا محسوس ہوا

اس نے فوراً دروازہ کی طرف دیکھا جہاں مقدم کمرے سے باہر نکل گیا ۔

اس وقت کہاں چلے گئے سویرا نے سوچا نہ سمجھ آنے پر دوبارہ لیٹ گئی ۔

اور آج دن میں ہوئے واقعے کو ایک بار پھر سے سوچنے لگی آنسو خود بخود اس کی آنکھوں سے گرنے لگے ۔

اور وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔

بہت کوشش کے بعد بھی اسے نیند نہ آئی۔ بیڈ پر لے لیٹے ہوئے دوسری طرف کروٹ لیے ہوئے تھی وہ جب بھی مقدم سے ناراض ہوتی تو دوسری طرف کروٹ لے لیتی اور مقدم اسے بہت پیار سے مناتا

لیکن شاید آج وہ اسے منانے نہیں آئے گا آج تو وہ اپنی نئی زندگی کے نئے خواب سجا رہا تھا

اس کی دنیا برباد کر کے اپنی دنیا سجا رہا تھا

کیا اتنا جلدی ختم ہو گیا اس کا جنون اس کا عشق ۔اس نے اپنی سوچ کو جھٹک کر سونے کی کوشش کی لیکن شاید بے سکونی نیند پر غالب تھی

اس نے اپنے بالوں میں مقدم کی انگلیوں کا لمس محسوس ہوا تو اس نے فورا اپنی آنکھیں کھولیں

وہ خواب میں نہیں بلکہ سچ میں اس کے قریب تھا ۔

آپ یہاں کیا کر رہے ہیں وہ فوراًاٹھ کر بیٹھی تھی۔

میری جان اتنی بے سکون ہے تو کیا میں سکون سے سو جاؤں ۔۔۔وہ اسے کھینچ کر اپنے سینے سے لگاتے ہوئے بولا انداز شدت سے بھرپور تھا جیسے اسے خود میں چھپانے کی کوشش کر رہا ہو۔

یہ بےسکونی بھی تو آپ نے ہی دی ہے بڑی جلدی دل بھر گیا آپ کا مجھ سے رخسار کو ہتھیلی سے رگڑتے ہوئے وہ اسے خود سے دور کرنے لگی ۔

سکون بھی میں ہی دونگا مقدم شاہ کے لیے تم سے بڑھ کر کچھ نہیں وہ اس کی گردن پے لب رکھتے ہوئے بولا

اس وقت آپ کی ضرورت کسی اور کو مجھ سے زیادہ ہے وہ اب بھی ناراضگی کا بھرپور اظہار کر رہی تھی۔ اور اس کے الفاظ مقدم کے دل پر کیا قہر برسا رہے تھے یہ صرف وہ جانتا تھا

لیکن میں اپنی ضرورت کا کیا کروں جو صرف تمہارے قریب آنے پر پوری ہوتی ہے اس کا چہرہ ہاتھوں میں تھام کر اسے جابجا اپنے لبوں سے چھونے لگا

سائیں آپ نے کیوں میرا سب کچھ کسی اور کے حوالے کردیا وہ اس کے انداز پر بہکنے لگی تھی ۔

میں تمہیں سب کچھ بتاؤں گا حوریہ بس مجھے تھوڑا سا وقت دو ۔

پر آپ کے اس وقت کی مہلت میں میری جان نکل گئی تو اس کے الفاظوں نے مقدم کو اندر تک ہلا دیا تھا ۔

مقدم شاہ صرف تمہارا ہے حوریہ دنیا کی کوئی طاقت تم سے مقدم شاہ کو نہیں چھین سکتی ۔ وہ اسے اپنی باہوں میں سمیٹا اس کے وجود کی رعنائیوں میں کھونے لگا ۔

لیکن حور یہ سوچ رہی تھی کہ اگر وہ اس کا تھا تو سویرا ان کے بیج کیسے آئی ۔

آپ کو اس وقت یہاں نہیں آنا چاہیے تھا مقدم سائیں جائیں یہاں سے آپ کی دوسری بیوی آپ کا انتظار کر رہی ہو گی وہ اسے خود سے دور کرتے ہوئے بولی

اس نےگہری نظروں سے اس کی طرف دیکھا اور اگلے ہی پل سے کھینچ کر اپنی باہوں میں لے آیا ۔

بھاڑ میں گئی دوسری بیوی اور اب ایک اور لفظ بھی زبان سے نکالا تو زبان کھینچ لوں گا اس کے لبوں پر جھکتا ہوا اس کی سانسوں کی سلطنت پر اپنی حکومت جمانے لگا ۔

جبکہ حوریہ نے بھرپور مزاحمت کی ۔اور پھر ہار کر خود کو اس کے حوالے کر دیا ۔

جب پتا ہے کہ مقابلہ نہیں کر سکتی تو کیوں یہ نازک سی جان مشکل میں ڈالتی ہو اس کی گردن سے چہرہ نکالتے ہوئے دلکشی سے مسکرایا۔

اور اس کے لبوں پر جھکنے لگا جب حوریہ نے چہرہ پھیر لیا مقدم شاہ کو اس کا یہ انداز اچھا نہ لگا اسی لئے اس کا چہرہ اپنے ہاتھ سےپکڑ کر سیدھا کیا ۔

اور بھرپُر اسحقاق سے اپنا حق ہے وصول کرنے میں مصروف ہوگیا