Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah Readelle50340 Bheegi Palkon Par Naam Tumhara (Episode 86) Last Episode
No Download Link
Rate this Novel
Bheegi Palkon Par Naam Tumhara (Episode 86) Last Episode
Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah
گولی کی آواز کے ساتھ ہی ملک نے ڈر کر اپنا دل تھام لیا ۔
اس سے پہلے کہ گولی حوریہ کو لگتی حیدر کے سامنے آجانے سے اس کا بازو چیڑ گئی
بے وقوف آدمی یہ کیا کیا تم نے سویرا نے چلاتے ہوئے ایک اور گولی اس کی طرف چلانی چاہی لیکن اس سے پہلے ہی مقدم زمین پر پڑا ہوا لکڑی کا ٹکڑا اٹھا کر اس کے ہاتھ پے مار چکا تھا ۔
پستول سویرہ کے ہاتھ سے نکل کر دور جا گری اس نے غصے سے گھور کر مقدم کو دیکھا
حیدر شوٹ ہئر ۔۔۔ ۔ ۔
میں کہتی ہوں گولی مار دواسے یہی تمہارے باپ کی قاتل ہے تمہارے باپ کے قتل کی وجہ ہے ۔
اگر وہ مر جائے گی تو تمہارا بدلہ پورا ہو جائے گا وہ چلاتے ہوئے حیدر سے بولی
حیدر اپنے بازو پہ ہاتھ رکھ کے خون روکنے کی کوشش کر رہا تھا اس کے باتیں سن کر اسے دیکھنے لگا
بند کرو اپنی بکواس تم نے ہی اس کے دماغ میں یہ سب ڈالا ہے جان نکال دوں گا میں تمہاری مقدم غصے سویرا کی طرف بڑھا
مار دیجیے گا مقدم سائیں لیکن اس حوریہ کی لاش دیکھے بغیر نہیں مروں گی میں ۔اس لڑکی نے مجھ سے میری محبت چھین لی ہے میں اسے معاف نہیں کروں گی حیدر یا تو تم اسے مار دو یا میں اس کی جان لے لوں گی وہ غصے سے چلاتے ہوئے بولی
تم ہاتھ تو لگاؤ میری حوریہ کو میں جان نکال دوں گا مقدم غصے سے اس کی طرف بڑھا جب کردم نے اسے تھام لیا
مقدم پولیس آرہی ہوگی وہ خود ہی اپنے انجام تک پہنچ جائے گی اس سے پہلے ہمیں اسے روکنا ہوگا وہ حیدر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا جو حوریہ کو کبھی بھی نقصان پہنچا سکتا تھا
تھوڑی دیر میں یہاں پولیس آ جائے گی ہم دونوں پکڑے جائیں گے اس سے پہلے اپنے باپ کی موت کا بدلہ لے لو مار دواس کو ان کی باتیں سنتے ہوئے سویرا چلائی تھی
مار دیں مجھے حیدر بھائی لیکن ایک بات اچھی طرح سے سوچ لیں ۔روز قیامت اپنے باباسائیں سے نظریں کیسے ملائیں گے آپ۔۔۔۔ چلیں میں آپ کی نظروں میں گناہ گار ہی سہی لیکن میرا بچہ جو ابھی تک اس دنیا میں ہی نہیں آیا اس کے قتل کا بوجھ کیسے اٹھائیں گے آپ ۔حوریہ اسے دیکھ کر احساس دلاتے ہوئے بولی اور اس کی باتیں سن کر حیدر کے ہاتھ ایک بار پھر سے کانپ اٹھے
میں نہیں مار سکتا اسے یہ ماں بننے والی ہے میں اتنا بڑا گناہ نہیں کر سکتا حیدر نے اپنے ہاتھ سے پستول دور پھینک دیا
جب کہ حیدر کو اس طرح سے دیکھ کر حوریہ کو اس پر ترس سا آنے لگا تھا یہ بھی اس کے باپ کا ڈسا تھا ۔
حیدر نے ایک نظرحوریہ کو دیکھا اور پھر پلیر سے بندھے ہوئے اس کے ہاتھ کھولنے لگا ۔
بے وقوف آدمی تم پر یقین کر کے میں نے زندگی کی سب سے بڑی غلطی کی ہے ۔سویرا غصے سے کہتی ایک بار پھر سے ریوالور اٹھنے لگی لیکن اس سے پہلے ہی جنید نے پیرسے کک مارتے ہوئے ریوالور کو دور پھینکا
سائیں میں نے پولیس کو انفارم کردیا ہے وہ کبھی بھی یہاں پہنچتی ہوگی جیند نے آگے بڑھ کر زمین سے ریوالور اٹھایا۔
جبکہ مقدم سیدھا حوریہ کی طرف بھاگا تھا
اور حوریہ کو اپنے سینے سے لگائے اس کے ہاتھ پیر ٹٹوالنے لگا
میں ٹھیک ہوں مقدم سائیں وہ اسے دیکھتے ہوئے یقین دلاتے انداز میں بولی ۔
جب مقدم نے اسے خود میں بھیج لیا ۔
جبکہ ان دونوں کا ایک دوسرے کے اتنے قریب دیکھ کر سویرا کی آنکھوں میں مرچیں بھرنے لگے ۔
اس نے جنید کو دھکا دیتے ہوئے پستول اس سے چھیننے کی کوشش کی ۔
اور تب ہی ملک نے حیدر کی پستول اٹھائی اور بناسوچے سمجھے سویرا پرگولی چلا دی ۔
ایک دردناک چیخ کے ساتھ کارخانے میں سناٹا چھا گیا سویرا دور زمین پر جا گری
گولی اس کی کمر پر لگی تھی وہ الٹی زمین پر پڑی تھی لیکن کھلی آنکھوں سے حوریہ کو مقدم کے سینے سے لگا دیکھ رہی تھی
زندگی میں پہلی بار ایسا ہوا تھا کہ سویرہ نے کسی شخص کو چاہا ہو اور وہ اس کا نہ ہوا ہو سکول میں کالج میں یونیورسٹی میں کلب میں پارٹیز میں آؤٹنگ ایریاز میں آج تک اس نے جس شخص کو اپنے لئے پسند کیا تھا وہ خود ہی اس کے حسن کے سامنے گھٹنے ٹیک دیتا ہوا اس کے قریب آ گیا ۔لیکن مقدم نہیں اسے خود پر ترس آ رہا تھا حوریہ کو مقدم کے سینے سے لگا دیکھ کر ۔آہستہ آہستہ سویرا کی آنکھیں بند ہونے لگی ۔
اس کے ساتھ ہی کارخانے میں پولیس داخل ہوئی
ملک پر چار بار جان لیوا حملہ کرنے کی کوشش میں اور مسز مقدم کو اغوا کرنے کی کوشش میں پولیس آپ کو گرفتار کرتی ہے ۔
پولیس آفیسر نے ہتھکڑی حیدر کے سامنے لہراتے ہوئے کہا
اس سے پہلے کہ وہ حیدر کو ہتھکڑی پہناتے حوریہ بول اٹھی
انسپیکٹر حیدر بھائی نے مجھے اغوا نہیں کیا اور ملک صاحب پر بھی حملہ انہوں نے نہیں کروایا تھا
یہ سب کچھ سویرا کا کیا دھرا ہے اور یہ زمین پڑی سویرا کو دیکھتے ہوئے بولی
ان پر گولی کس نے چلائی ہے پولیس آفیسر سویرا کے قریب جا کر پوچھنے لگا ۔
یہ میری بیٹی کو مارنے والی تھی اگر میں اسے نہیں مارتا تو میری بیٹی کو جان سے مار دے دیتی یہ ایک پاگل عورت ہے میں نے اپنی بیٹی کو بچانے کے لئے اس پر حملہ کردیا ملک انسپکٹر کو دیکھتے ہوئے بولا
ٹھیک ہے ملک صاحب یہ قتل آپ نے سلف ڈیفنس میں کیا ہے لیکن گناہ تو گناہ ہے اور گناہ کی سزا ضرور ملتی ہے ہمیں آپ کو گرفتار کرنا ہوگا ۔انسپکٹر پروفیشنل انداز میں کہتا ہوا اسے ہھتکری پہنانے لگا
اور انہیں وہاں سے چلنے کا اشارہ کیا۔
اس سے پہلے کہ وہ کار خانے سے باہر نکلتے اسے اپنے نام کی پکار سنائی دی حوریہ نے مڑ کر دیکھا تو سویرا اسی جگہ کھڑی تھی ہاتھوں میں ریوالور پکڑے ہوئے تھی اس بار اس کا نشانہ مقدم تھا
جو میرا نہیں ہو سکتا اسے میں تمہارا بھی نہیں ہونے دوں گی اس نے کہتے ہوئے مقدم پر ایک کے بعد ایک گولیوں کی بوچھاڑ کر دی ۔
لیکن اس سے پہلے کہ گولیاں مقدم کو لگتی ملک نے وہی گولیاں اپنے سینے پر کھا لیں ۔
اور اس کے ساتھ ہی انسپیکٹر کی گولی نے سویرا کا سینہ چیر دیا ۔
کیونکہ انسپیکٹر کے چلانے کے باوجود بھی سویرا نے فائرنگ بند نہیں کی تھی ۔اس کی وجہ سے انسپیکٹر کو مجبور ہوکراس پر گولی چلانی پڑی۔
ایمبولینس کو کال کرو پولیس انسپکٹر نے ملک کے قریب بیٹھتے ہوئے کہا
نہیں ۔۔۔۔۔انسپکٹر ۔۔میرے پاس ۔۔ ۔۔۔۔زیادہ وقت ۔۔۔۔نہیں ہے اور نہ ۔۔۔۔ہی اب جینے کی خواہش۔۔۔۔۔۔ ہے
ملک حوریہ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھامے ہوئے بولا
اس کے خون سے لت پت لاش دیکھتے ہوئے نہ چاہتے ہوئے بھی حوریہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے
حوریہ بیٹا میں۔۔۔۔۔۔ تمہارا ۔۔۔گنہگار ہوں ۔۔۔۔۔۔۔میں نے بہت گناہ کیے۔۔۔۔ ہیں بہت۔۔۔۔ برا سلوک کیا ۔۔۔۔ہے تمہارے ۔۔۔۔۔خاندان کے۔۔ ۔ ۔ ۔۔ ساتھ کردم ۔۔۔مقدم ۔۔۔۔اوو۔ ۔۔اور۔ ۔۔۔حیدر کو یتیم کر دیا۔ ۔ ۔۔۔۔۔ اور بدلے میں مجھے ۔۔۔۔۔۔۔۔کیا ملا مجھ سے میری ۔۔۔۔۔۔۔۔بیٹی ہی دور ہوگی
ساری زندگی۔۔۔۔۔ اس کے منہ سے ۔۔۔۔۔بابا۔۔۔۔۔سننے کو ترستا رہا ۔۔۔۔اس کا معصوم سا چہرہ ۔۔۔۔۔۔۔دیکھنے کو تڑپتا رہا جانتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔میری زندگی یہی تک تھی ۔۔۔۔۔۔۔مرنے سے پہلے ۔۔۔۔۔۔اپنے کئے ہوئے گناہ۔۔۔۔۔۔ کی بھرپائی ۔۔۔۔۔۔۔تو نہیں کرسکتا ۔۔۔۔۔۔لیکن تم لوگوں سے۔۔۔۔۔۔۔۔ معافی تو مانگ سکتا ہوں بس۔ ۔۔۔۔۔ایک چھوٹی ۔۔۔۔۔۔۔۔سی خواہش۔۔۔۔۔ ہے جب پچھلے ۔۔۔۔۔۔۔۔19 سال سے اپنے ۔۔۔۔۔۔دل میں رکھے ۔۔۔۔۔شاہ سائیں۔ ۔۔۔۔ کی حویلی۔۔۔۔ در پر ناک رگڑتا رہا۔ ۔۔۔ہوں کہ میری بیٹی مجھے۔۔۔۔۔۔ بابا کہہ کر پکارے ۔
ایک بار حوریہ۔ ۔۔۔۔ میں جانتا ہوں میرے گناہ اتنے بڑے ہیں کہ مجھے۔۔۔۔۔۔۔ اس طرح کی راحت ۔۔۔۔۔۔۔کبھی نصیب نہ ہو لیکن میری۔۔۔۔۔۔ خواہش ہے خواہش ۔۔۔۔۔۔سمجھ کے پوری کر دو تم مت ۔۔۔۔۔سوچو کہ۔۔۔۔۔۔ میں تمہارا باپ ۔۔۔نہیں۔۔۔ہوں مجھ جیسا گھٹیا ۔۔۔۔۔۔شخص تمہارا باپ۔۔۔۔۔۔۔ ہو ہی نہیں سکتا بس ایک۔۔۔۔۔۔ مرتے ہوئے انسان۔۔۔۔۔۔۔ کی آخری خواہش ۔۔۔۔۔پوری کر دو ۔۔۔۔۔۔مجھے ایک۔۔۔۔۔ بار بابا کہہ ۔۔۔۔کر پکارو
ملک نے آنکھوں میں آنسو لیے حوریہ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں دبایا
حوریہ جو کب سے صبر کئے بیٹھی تھی اس شخص کے سینے سے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔
آپ کو کچھ نہیں ہوگا بابا سائیں کوئی ڈاکٹر کو بلاؤ ان کو ہسپتال لے کر چلو ان کی طبیعت خراب ہے میرے بابا کو بچاؤ کوئی حوریہ چلاتے ہوئے کبھی مقدم تو کبھی کردم کو پکار رہی تھی ۔
جبکہ ملک کے سینے میں دھڑکتا ہوا دل بند ہو چکا تھا حوریہ نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا اس کے چہرے پر ایک مسکراہٹ تھی شاید آخری خواہش پوری ہوجانے کی مسکراہٹ ۔
اور اس کے ساتھ ہی ایک بار پھر سے بلک بلک کر رونے لگی ۔مقدم نے اسے تھام کر اپنے سینے سے لگا لیا ۔اور اس سے دلاسا دینے لگا جیند بنا سوچے سمجھے کردم کے سینے سے لگ گیا ۔یہ وقت تو اس کے لئے بھی بہت بُرا تھا اور جنید اس بات اچھے سے سمجھ سکتا تھا ۔
حویلی میں سناٹا چھایا ہوا تھا خاندان کی سب سے بڑی بیٹی اچانک دنیا سے رخصت ہو گئی
کردم کو جب پتہ چلا کہ دھڑکن واپس گھر جا چکی ہے تو وہ واپس گھر آیا اور اسے واپس حویلی لایا
بہت چاہنے کے باوجود بھی شاہ سائیں دھڑکن کو یہ نہیں بتا پائے تھے کہ اس کی بہن کیا کرنے جا رہی تھی انہوں نے یہ بات احمد شاہ بتائی تھی تو انہوں نے یہی کہا کہ دھڑکن کو بس اتنا ہی بتایا جائے کہ سویرا اس دنیا میں نہیں رہی اس کی موت کی وجہ سیڑھیوں سے گرنا ہے وہ نہیں چاہتے تھے کہ اس کی بہن ساری زندگی اس سے نفرت کرے
دھڑکن کے آنسو تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے اور اس میں کردم نے اس کا بھرپور ساتھ دیا
وہ جانتا تھا یہ وقت اس کے لیے کتنا مشکل ہے چاہے سویرا کی نظروں میں دھڑکن کی کوئی اوقات ہو نہ ہو لیکن وہ دھڑکن کی بہن تھی اور دھڑکن اسے بےتحاشا چاہتی تھی وہ بہت دن تک احمد شاہ سے ناراض رہی وہ کیسے اپنی ہی بیٹی کی موت پر واپس نہیں آ سکتے تھے کیا ان کو بزنس اپنی بیٹیوں سے زیادہ عزیز تھا ۔
فون پر ہوئی لڑائی کے بعد کردم کو مجبوراً اسے احمد چاچو سائیں کی بیماری کے بارے میں بتانا پڑا
جو جاننے کے بعد دھڑکن کو ایک اور صدمہ لگادھڑکن نجانے کتنے دن بیمار رہی اور کردم ہر ممکن طریقے سے اس کا خیال رکھتا رہا
آج سویرا کو گزر ایک مہینہ ہو چکا تھا ۔
سکول بننے کے بعد فصلوں کا کم کام بھی بہت اچھا چل رہا تھا جس کے بعد گاؤں والوں نے کردم سے معافی مانگ کر اسے واپس حویلی بیچ دیا کیونکہ کردم کی ضرورت صرف گاوں والوں کو ہی نہیں بلکہ حویلی والوں کوبھی تھی
وہ کمرے میں داخل ہوا تو دھڑکن کیٹی کو گود میں بٹھائے آئینے کو گھور رہی تھی
دھڑکن تم نے کھانا کھایا وہ اسے دیکھتے ہوئے اس کے قریب آ بیٹھا
آپ مجھ سے خفا نہیں ہیں وہ اسے دیکھ کر پوچھنے لگی
کوئی وجہ بھی تو ہونی چاہیے میری جان وہ مسکرا کر بولا
یہ وجہ کافی نہیں ہے کہ میں نے آپ کی ذات پر انگلی اٹھائی آپ کے کردار کو گندا کرنے کی کوشش کی وہ بالکل سیریس انداز میں پوچھ رہی تھی
نہیں دھڑکن اس میں تمہاری کوئی غلطی نہیں ہے مجھے اس طرح سے کسی کی مدد کرنے سے پہلے تم سے ڈسکس کرنا چاہیے تھا جس طرح سے باقی سارے مسئلے تم سے شیئر کرتا ہوں ۔
میں نے تمہیں اس بارے میں نہیں بتایا غلطی میری تھی اگر میں چاہتا تو اسے نور ملی ہینڈل کر سکتا تھا مجھے تم پر ہاتھ نہیں اٹھانا چاہیے تھا ۔اور اچھا ہی ہوا نہ اس سب سے مجھے پتہ چل گیا کہ فیوچر میں ایسی کوئی غلطی کرنے کی کنڈیشن میں نہیں ہوں ۔
ورنہ میری پٹاکا سائیں مجھے بم سے اڑا دے گی کردم نے شرارت سے کہتے ہوئے اس کے ماتھے پر اپنے لب رکھے۔
جبکہ اس کے انداز نے دھڑکن کو بھی مسکرانے پر مجبور کر دیا
آپ پھر یہاں آ گئیں میں کتنی بار کہہ چکا ہوں کہ میں آپ کی شکل نہیں دیکھنا چاہتا آپ کو ایک بار میری بات سمجھ میں نہیں آتی کیا انہیں اپنے گھر کے داخلی دروازے پر دیکھ کر حیدر کو ایک بار پھر سے غصہ آیا
حیدر میں تو صرف تمہیں دیکھنے آئی تھی بیٹا تمہاری طبیعت کیسی ہے رضوانہ شرم سے نظریں جھکا کر بولیں
خدا کا شکر ہے بالکل ٹھیک ہوں میں اور اگر آپ نہیں ۔بھی پوچھیں گیں تب بھی ٹھیک ہی رہوں گا میں ۔
بچپن میں بیمار ہوا کرتا تھا یا چوٹ لگا کرتی تھی تب کبھی پوچھنے نہیں آئیں جب مجھے آپ کی ضرورت ہے اماں سائیں تب نہیں تو اب کیوں اب میں اپنے آپ کو خود سنبھال سکتا ہوں ۔
اسی لیے بہتر ہوگا کہ روز یہاں نہ آیا کریں آپ کو ذلیل کرنا مجھے بھی اچھا نہیں لگتا وہ اندر کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے بولا
میں تم سے معافی مانگنے آئیں ہوں رضوانہ نے اس کا راستہ روکنا چاہا
آپ پہلے تائشہ سے معافی مانگیں ایک سگی ماں ہو کر آپ نے کیسے اس پر دن رات ظلم۔ کیا آپ کے ہاتھ نہیں کانپے کلیجہ نہیں کانپا اپنی اولاد کو زخم دیتے ہوئے ۔
جائیں معافی مانگییں تائشہ سے اگر اس نے معاف کر دیا تو میں بھی آپ کو معاف کر دوں گا
اس بار حیدر نے بنا مڑے اپنا راستہ بنایا اور رضوانہ اس کے غائب ہونے تک اس کی پشت دیکھتی رہیں ۔
سویرا کی موت کے بعد سب کچھ بدل چکا تھا
سویرا کی موت کے کچھ دن کے بعد جب رضوانہ نے تائشہ سے ملنے کی کوشش کی دادا سائیں نے انہیں بہت باتیں سنائیں
جن میں انہوں نے یہ بھی بتا دیا کہ وہ ان کے گھٹیا ارادوں سے ہمیشہ سے واقف تھے اورتائشہ کو ان سے دور کسی محفوظ جگہ پر بھیجنا چاہتے تھے
اور اب وہ بہت خوش ہیں کہ تائشہ ان کی پہنچ سے دور ہے شاہ سائیں نے یہ بھی کہا کہ ان کے جیسی عورت کو اپنی بیٹی کہتے ہوئے انہیں شرم آتی ہے فیضان جیسے انسان کے ہاتھ میں رضوانہ کا ہاتھ دے کر شاہ سائیں نے اس پر بھی ظلم کیا تھا لیکن اس کے باوجود بھی فیضان نے اس رشتے کو خوب نبھایا شاید یہ اس کے اچھی تربیت اور حوصلہ تھا جو رضوانہ کے ساتھ بنا کر رکھ سکے اور اس کے ساتھ نباہ کر سکے سچ تو یہ تھا کہ رضوانہ ان کے قابل ہی نہ تھی
شاہ سائیں کے الفاظ نے رضوانہ کو اندر اور باہر سے توڑ کر رکھ دیا تائشہ اب حویلی آتی تھی دادا سائیں نے خود اس کے لیے اس کے حویلی کے دروازے کھول دیے تھے لیکن اس سب کے باوجود بھی وہ رضوانہ کو دیکھتی تک نہ تھی۔
اور یہی بات رضوانہ کو اندر ہی اندر کھائے جا رہی تھی ان کی دونوں اولادیں ان سے نفرت کرتی تھی حیدر نے جو کچھ بھی کیا وہ اپنے باپ کی موت کا بدلہ لینے کے لئے کیا لیکن اس کے باوجود بھی وہ اتنا نہ گرسکا کہ اسے معاف نہ کیا جائے حویلی کے سب مکینوں نے اسے دل سے معاف کر دیا تھا
اور اب حیدر کچھ ہی دنوں میں نور کا علاج کروانے اسے لے کر لندن جا رہا تھا ۔کیونکہ ڈاکٹر نے کہا تھا کہ نور بہت جلدی ٹھیک ہو سکتی ہے ۔اور اب سچ تو یہ تھا کہ ہمدردی میں جوڑا گیا یہ رشتہ حیدر کے دل کی دھڑکن بن چکا تھا اور اب وہ ہر ممکن طریقے سے اس رشتے کو نبھانا چاہتا تھا ۔
رضوانہ حیدر کے گھر سے نکل کر تائشہ کے پاس آئی تھی ان کی ٹوٹی پھوٹی حالت دیکھ کر جنید نے انہیں گھر کے اندر بلایا لیکن تائشہ منہ موڑ گئی
آپ دونوں باتیں کریں میں یہی باہر ہوں جنید ان دونوں کو کھلا چھوڑ کر خود کمرے سے باہر نکل گیا
اپنی ماں کو دیکھوگی بھی نہیں تائشہ میں جانتی ہوں میں نے زندگی میں بہت غلطیاں کی ہیں اور میری غلطی اتنی بڑی ہے کہ شاید تم کبھی مجھے معاف نہ کر سکو
لیکن پھر بھی اس امید سے تمہارے در پہ آئی ہوں کہ تم مجھے معاف کر دو گی وہ پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے بولی ۔
تم سچ کہتی تھی تائشہ برائی کا انجام برا ہی ہوتا ہے دیکھو اس برائی کا انجام میں کس طرح سے تنہا رہ گئی کوئی بھی تو نہیں ہے میرے ساتھ اس دولت کو حاصل کرنے کے لئے میں نے کیا کچھ نہ کیا یہاں تک کہ اپنی ہی بیٹی پر دن رات ستم ڈھاتی رہی لیکن میرے ہاتھ کیا آیا کچھ بھی نہیں بلکہ میں تو اپنے ہی بچوں سے محروم ہو کر رہ گئی حیدر کہتا ہے کہ تم مجھے معاف کر دو گی تو وہ بھی مجھے معاف کر دے گا ۔
لیکن اگر تم نے مجھے معاف نہیں کیا تھا یہ تو میں حویلی واپس نہیں جاؤں گی کیوں کہ جس عزت اور احترام سے وہ لوگ مجھے پکارتے ہیں میں اس کے قابل نہیں ہوں اگر تم نے مجھے معاف نہیں کیا تو میں یہی کسی کنوے میں کود کر اپنی جان ۔۔۔۔۔۔
بس کریں اماں سائیں یہ کہہ رہی ہیں آپ نہیں ہوں میں آپ سے ناراض آپ کیوں مجھ سے معافی مانگ رہی ہیں آپ کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا میرے لیے یہی بہت ہے تائشہ نے تڑپ کر ان کے گھٹنوں پر اپنے ہاتھ رکھے ۔
اور پھر بلک بلک کر روتی انہیں گھٹنوں پر اپنا سر رکھ گئی۔
اماں سائیں نے روتے ہوئے اسے اپنے سینے سے لگا لیا ۔
اگر آپ دونوں کا یہ ایموشنل سین ختم ہوگیا ہو تو پلیز چائے پر غور کریں بڑی محنت سے بنائی ہے میں نے جنید ابھی ٹرے میں چائے رکھ کر لایا تھا انہیں اس طرح ایک دوسرے سے لپٹ کر روتے ہوئے دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولا ۔
جبکہ اس کی بات پر وہ دونوں مسکرائیں اور تائشہ نے اس کے ہاتھ سےٹرے تھام کر ایک کپ اماں سائیں کو پیش کیا ۔
دادا سائیں کی ایک سائیڈ پر مقدم اور دوسری سائیڈ پر کردم کھڑا تھا ۔
کردم اور مقدم نے اس گاوں کی ذمہ داریوں کو خوب سنبھالا ہے اسی لئے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اب ہم اس گاؤں کا اگلا سرپنچ چنیں گے دادا سائیں نے بات کا آغاز کرتے ہوئے کہا
دادا سائیں نے ایک نظر کردم کو دیکھا جو انہیں کی بات کی طرف متوجہ تھا لیکن مقدم کو دیکھتے ہوئے ان کا دل چاہا کہ ایک زور دار تھپڑ اس کے سر پر لگا دیں کیونکہ اس کا دھیان ان کی بات پر تھا ہی نہیں بلکہ وہ تو حویلی کے دروازے کے قریب حوریہ کو دیکھے جا رہا تھا
اس کا وقت مکمل ہو چکا تھا اب کبھی بھی ان کی زندگی میں ایک ننھا مہمان شامل ہو سکتا تھا اسی لئے مقدم کا سارا دھیان آج کل صرف اور صرف اپنی حوریہ پر تھا اس کو کیا کھانا ہے کیا پینا ہے کب اٹھنا ہے کیا کرنا ہے سب کا فیصلہ مقدم کرتا تھا ۔
اور حوریہ اس کی محبت میں ہر دن کے ساتھ کھلتی چلی جا رہی تھی
مقدم سائیں آپ وہیں چلے جائیے گا لیکن تھوڑا سا غور کریں اور یہ ہمارے گاؤں کا فیصلہ ہے دادا سائیں نے سخت نظروں سے گھورتے ہوئے کہا
دادا سائیں آپ فیصلہ کریں میں سن رہا ہوں مقدم نے مسکراتے ہوئے کہا جب کہ دھیان اب بھی دروازے پر کھڑی حوریہ کی طرف تھا
دادا سائیں نےیہ فیصلہ کیا تھا کہ وہ صرف اس گدی پر آپنے دونوں پوتوں کو بٹھائیں گے ایک لمحے میں ہی اپنا فیصلہ بدل کر اپنا اجرک اتارتے ہوئے کردم کے کندھوں پر پھیلایا
آج سے اس گاؤں کے سرپنچ آپ ہیں کردم سائیں اور یہ گاؤں صرف ایک گاؤں ہی نہیں بلکہ آپ کا گھر ہے داداسائیں نے مسکرا کر اسے اپنے سینے سے لگایا
مبارک ہوکردم سائیں ۔مقدم نے اسے گلے لگایا
داداسائیں میں زرا حوریہ کو دیکھ کے آتا ہوں میرے خیال میں اس نے میڈیسن نہیں لی ۔
دادا سائیں کے گھورنے پر مقدم حویلی کے اندر گھس گیا کیونکہ فیصلے کے بعد حویلی کی ساری عورتیں اندر کی طرف جا رہی تھی
اور مقدم سائیں کا فیصلہ یہ تھا کہ ان نو مہینوں کے دوران حوریہ کسی اور کے پاس نہیں بیٹھے گی بلکہ 24گھنٹے مقدم کی نظروں کے سامنے رہے گی تا کہ اس کا بچہ مقدم جیسا پیدا ہو ۔
یہ کتنی پیاری ہے ۔۔۔دھڑکن اپنے ہاتھوں میں گول مٹول سی بچی اٹھائے ادھر سے ادھر گھوم رہی تھی
ارے میری بچی ہے پیاری کیسے نہیں ہوگی جیند نے اس کے ہاتھوں میں اپنی چند گھنٹے کی بچی کو دیکھتے ہوئے کہا
لیکن جنید بھائی آپ تو اتنے پیارے نہیں ہیں یہ تو میری تائشہ دیدہ پر گئی ہے دھڑکن نے فوراً ہی اس سے پیارے ہونے کا سیٹفیکٹ لے کر تائشہ کو تھما دیا
جس پر تائشہ نے مسکراتے ہوئے نظر اٹھا کر دھڑکن کی گود میں اپنی معصوم بچی دیکھی
ہائے یہ تو سچی میں بہت پیاری ہے ۔تائشہ نے دھڑکن کی گود میں دیکھتے ہوئے آہ بھر کر کہا
یہ کتنی پیاری ہے اس کا فیصلہ ہم کریں گے دادا سائیں نے اپنی جیب سے انگوٹھی نکالتے ہوئے حوریہ کی گود میں موجود دوماہ کے بہرام کو اٹھایا اور اس کے ننھے سے ہاتھ میں انگوٹھی تھما کر بچی کا ہاتھ تھاما لیکن اس سے پہلے کہ وہ بہرام کے ہاتھ سے انگوٹھی اسے پہناتے جنید نے ان کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا
خدا کے لئے شاہ سائیں یہ ظلم نہ کریں معاف کیجیے گا لیکن بچپن کے ان رشتوں پر یقین نہیں رکھتا میں اپنی بچی پر کسی قسم کی کوئی زور زبردستی نہیں کروں گا یہ اپنی زندگی کا فیصلہ خود کرے گی میں اس پر کوئی فیصلہ تھوپوں گانہیں
میں چاہتا ہوں کہ وہ اپنی زندگی آزادی اور خوشی سے جئے نہ کہ کسی ڈرو خوف کے زیر اثر ۔
جی داداسائیں میں بھی جنید کی بات سے بالکل ایگری کرتا ہوں بچپن کے رشتے صرف دوریاں پیدا کرتے ہیں بچوں میں بھی اور بڑوں میں بھی ۔بہرام بھی اپنی زندگی کا فیصلہ خود کرے گا فی الحال اسے وقت پر چھوڑ دیجئے اگر ہم بچپن میں ہی ان کے ہاتھوں میں انگوٹھیاں پہنا کر ان پر یہ فیصلہ تھوپ دیں گے کہ تم اس کی منگیتر ہو اسی کی رہو گی کبھی اپنی زندگی کو جی نہیں پائے گی ۔
ہمیں ہمارے بچوں کو وقت کے حوالے کر دینا چاہیے یہ خود اپنی زندگی کا بہترین فیصلہ کریں گے مقدم نے جنید کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا تو داداسائیں نے مسکراتے ہوئے انگوٹھی دوبارہ اپنی جیب میں ڈال دی
اور دونوں بچوں کو اپنے ہاتھوں میں لے کر بہلانے لگے ۔
جبکہ دادا سائیں کے اس فیصلے پر تائشہ اور حوریہ بھی بہت خوش تھی۔
انہیں بھی نہیں لگتا تھا کہ بچوں کو زبردستی رشتے میں باندھنے سے بہتر ہے کہ وقت کے حوالے کردیا جائے وہ خود ہی اپنا صحیح اور غلط سمجھ جائیں گے ۔
آٹھ سال بعد
کردم سائیں دیکھیں نہ یہ چپ نہیں ہورہی دھڑکن نے روتے ہوئے کمرے کے اندر آتے کردم کو دیکھ کر کہا جبکہ اپنے کندھے سے لگی بچی کو مسلسل بہلاتے ہوئے وہ خود زاروقطار رو رہی تھی
دھڑکن تم خود روتی رہو گی تو یہ کیسے چپ ہو گئی کردم نے آگے بڑھ کر اس کے ہاتھوں سے بچی لی
میں نے چپ ہو کر بھی اس کو چپ کرانا چاہا لیکن یہ چپ نہیں ہو رہی پلیز اسے کہیں نہ چپ ہو جائے دھڑکن ایک بار پھر سے روتے ہوئے بولی
دیکھیں نہ کردم سائیں یہ اور زیادہ رونے لگی ہے بچی کو روتا دیکھ کر دھڑکن کو اور زیادہ رونا آنے لگا ۔
کردم نے بچی کو ایک کندھے پر اٹھاتے ہوئے دھڑکن کو اپنے دوسرے کندھے کے ساتھ لگایا
دھڑکن یہ بچی ہے روے گی ہمیں اسے چپ کروانا ہوگا وہ اس کی پیٹھ سہلاتا آہستہ آہستہ بول رہا تھا جب کہ بچی کے رونے میں شدت آنے کے ساتھ ساتھ دھڑکن کے رونے میں بھی شدت آ رہی تھی اور کردم ایک طرف اسے اور دوسری طرف اپنی معصوم بچی کو چپ کروا رہا تھا ۔
کردم نے یہ سوچا تھا کہ جب تک دھڑکن میں میچیورٹی نہیں آ جاتی جب تک وہ اپنی اولاد کے بارے میں نہیں سوچے گا ۔
اور جب دھڑکن اسے میچیور لگنے لگی اپنی بچی کے دنیا میں آنے کے بعد اسے دھڑکن پھر سے ایک بچی لگنے لگی جب بھی دل روتی وہ بھی اس کے ساتھ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگتی اور بیچارا کردم ان کو چپ کرواتے ہوئے ہلکان ہوتا
چارسال بعد
تمہارا ہوم ورک کہاں ہے دل ٹیچر نے غصے سے پوچھا
ماما نے بید میں نی دالا(ماما نے بیگ میں نہیں ڈالا )
دل معصومیت سے منہ بنا کر بولی
تو تم خود ڈال دیتی کوئی مشکل کام تھوڑی ہے نکالو ہاتھ اپنا اگر اس گاؤں کے سرپنچ کی بیٹی ہو تو اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ تم روز ہوم ورک نہ کر کے آؤ ٹیچر نے کاپی پر نوٹ لکھ دیتے ہوئے کردم اور دھڑکن کو سکول بلایا
جب کہ دل اپنا معصوم سا ہاتھ آگے کیے ہوئے دونوں آنکھیں زور سے بند کئے کھڑی تھی
ٹیچر نےآہستہ سے لکڑی کا فٹ اس کے ہاتھ میں مارا یہ سزا تھی کہ دوبارہ یہ حرکت نہ کرے
لیکن ٹیچر کو دل پر ہاتھ اٹھاتے ہوئے بہرام دیکھ چکا تھا
تمہاری ہمت کیسے ہوئی میری دل پہ ہاتھ اٹھانے کی وہ جلدی سے کلاس میں داخل ہوتے ہوئے ٹیچر کو دھکا مار کے پیچھے کر چکا تھا
بہرام یہ کیا بدتمیزی ہے تم دن با دن بدتمیز ہوتے جا رہے ہو اب اگر تم نے دوبارہ ایسی حرکت میں اسکول سے نکال دوں گی ٹیچر نے اسے ڈانٹتے ہوئے کہا جب کہ ٹیچر ٹیبل پر رکھا ڈسٹر اٹھا کر بہرام نے ٹیچر کے سر پر دے مارا
اور اگر تم نے آئندہ دل پہ ہاتھ اٹھایا تو میں تمہیں جان سے مار دوں گا ۔بہرام بدتمیزی سے بولا ۔اس کی سرخ آنکھیں دیکھ کر ایک سیکنڈ کے لئے ٹیچر بھی سہم سی گئی ۔
وہ نویں کلاس کا بچہ نرسری کلاس کی اس بچی کے لیے کس حد تک پوزیسو تھا یہ پورا اسکول جانتا تھا
چلو دل بہرام نے دل کا ننھا سا ہاتھ تھاما اور اسے گھسیٹتے ہوئے باہر لے آیا
میں نہیں جاؤں گی آپ کے ساتھ ٹیچر کو مالا اب وہ ماما بابا سے سکایت لگائیں گی ۔اور پھر مجھے بہت زور سے داٹ پڑے گی وہ اپنا ہاتھ بہرام کے ہاتھوں سے چھڑاتے ہوئے بولی
اور اگر تم میرے ساتھ نہیں آؤ گی تو چاکلیٹ کون کھائے گا بہرام نے چاکلیٹ اسکے سامنے کرتے ہوئے کہا جس سے دل کے منہ میں پانی آگیا
اور اگلے ہی سکینڈ وہ بہرام کا ہاتھ تھام چکی تھی۔
بہرام نے مسکراتے ہوئے اسے اپنی گود میں اٹھایا اور ایک نظر پلٹ کر کلاس روم کی طرف دیکھا جہاں ٹیچر اب بھی غصے سے اسے گھور رہی تھی
یعنی کہ آج پھر بابا سائیں کی ڈانٹ کھانی ہوگی ٹیچر کو گھورتے ہوئے سوچ کر آگے بڑھ گیا ۔
ٹیچر کیا میں اندر آ سکتی ہوں وہ دروازے پر کھڑی معصومیت سے پوچھ رہی تھی ٹیچر نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر سر کے اشارے سے اسے اندر بلایا
زمل جنید خان یہ جو سوال آپ نے اپنے بھائیوں کو سمجھآئے ہیں یہ غلط ہیں اور جب میں سمجھا رہی ہوں تو یہ کہہ رہے ہیں کہ ہماری ذمل آپی نے جو سمجھایا ہے وہی صحیح ہے اب ذرا آپ ہی انہیں بتائیں کہ یہ سوال آپ نے غلط سمجائے ہیں اور مجھ سے ٹھیک طریقے سے سمجھے
ٹیچر نے ایک نظر زمل کو دیکھا اور پھر قریب کھڑے شازل اور شازم کو
لیکن بابا تو کہتے ہیں کہ زمل جنید خان کا بھی غلط نہیں ہو سکتی ۔اس سے پہلے کہ ٹیچر شازل اور شازم کو سمجھآتی ہے زمل خود بول اٹھی
لیکن آپ یہاں ہیں غلط زمل اور اب سے آپ کو یہ سوال آپ سے نہیں بلکہ مجھ سے سمجھنےہوںگے
یہ آپ کے بس کی بات نہیں ٹیچر نے ایک نظر زمل کو دیکھتے ہوئے کہا
ہاں تو آپ ہی سمجھائے یہ آپ کا ہی کام ہے میں تو بس چیک کر رہی تھی کہ میرے بھائیوں کو کچھ آتا بھی ہے یا نہیں زمل نے اپنے دائیں بائیں کھرے شازم جنید خان اور شازل جنید خان کو دیکھتے ہوئے کہا
وہ دونوں جڑواں تھے اور اس سے2سال چھوٹے تھے
لیکن زمل اپنے برے ہونے کا فرض خوب اچھے سے نبھاتی تھی خود وہ پڑھائئ میں اچھی ہو یا نہ ہو لیکن اپنے بھائیوں پر بڑا ہونے کا روعب ضرور جماتی تھی
خیر ٹیچر میں جارہی ہوں اپنی کلاس میں مجھے میرا سامان پیک کرنا ہے بابا آنے والے ہوں گے
اور تم دونوں جلدی سے اپنی اپنی بیگ پیک کرو زمل ان سے کہتی کلاس سے باہر نکل گئی
ٹیچر نے ایک نظر بچوں کی طرف دیکھا جن کی آنکھوں میں صاف پڑھ سکتی تھی کہ ان کی زمل آپی غلط ہو کر بھی کبھی غلط نہیں ہو سکتی
بس بہرام بہت ہوگیا تمہاری بدتمیز دن بدن بڑھتی جا رہی ہیں
میں نے تمہیں آخری بار بار واڑن کیا تھا کہ اگر اب مجھے تمہاری شکایت ملی تو میں تمہیں یہاں سے ہمیشہ کے لئے لندن بھیج دوں گا ۔مقدم نے اسے ڈانٹتے ہوئے کہا
ٹھیک ہے چلا جاؤں گا لیکن دل کو بھی میرے ساتھ بھیجے وہ بے فکری سے بولا
کردم کی گود میں بیٹھی دل فیڈر سے اپنا دودھ پی رہی تھی چار سال کے ہو جانے کے باوجود بھی وہ فیڈر سےہی دودھ پیتی تھی۔
کچھ دھڑکن سے ضدکا اثر تھا تو کچھ کر دم کے بےجا لاڈکا ۔لیکن سچ یہی تھا کہ دل میں پورے خاندان کی جان بسی تھی۔
بہرام کے دل کے ساتھ ضرورت سے زیادہ اٹیچمنٹ نے ہی مقدم کو دوسرے بچے پر فورس کیا تھا
لیکن حورم کے دنیا میں آجانے کے بعد بھی وہ بہرام کی توجہ دل سے ہٹا نہیں پائے تھے
حوریہ کو تو لگ رہا تھا کہ بہرام اکیلا ہے اس لیے وہ دل سے بہت زیادہ اٹیچ ہے لیکن حورم کے دو ماہ کے ہو جانے کے باوجود بھی بہرام کی ساری توجہ دل پر تھی یہ نہیں تھا کہ وہ حورم سے محبت نہیں کرتا تھا وہ اپنی بہن کو بے تحاشہ چاہتا تھا لیکن دل کے ساتھ اس کے الگ ہی وابستگی تھی
اور مقدم اور کردم کو اصل جھٹکا تب لگا تھا جب بہرام کے غصے سے ڈر کر دل اسے لالہ کہہ کر پکارنا چھوڑ چکی تھی بہرام کی ضد اور دل کے ساتھ سختی نے ہی مقدم کو بہرام کو دوسرے ملک بھیجنے پر مجبور کر دیا
اس فیصلے پر حوریہ بہت دن اس سے ناراض رہی لیکن پھر اسی میں ہی ان کی بہتری سمجھ کر خاموش ہوگئی
لیکن بہرام کے جانے کے بعد بھی اس کا ڈر دل کے اندر بنا رہا۔بہرام جس طرح سے کہتا تھا وہ ایسا ہی کرتی تھی بہرام کی مرضی کے خلاف کچھ بھی کر کے اسے غصہ دلانا دل کے بس سے باہر تھا
جہاں ہر گزرتے دن کے ساتھ بہرام کے دل میں دل کے جذبات بڑھتے جارہے تھے
وہی دل کے اندر اس کا خوف وڈر بیٹھتا چلا جا رہا تھا
آج کردم گھر آیا اس کے ہاتھ میں دل کا فیورٹ بالو پنکی تھا کیسے دیکھتے ہی وہ ناچنے لگی۔
ہمیشہ کی طرح دل کے ساتھ لاڈ کرتے ہوئے وہ فون پر بہرام اور دل کے درمیان ہونے والی ساری گفتگو جان چکا تھا بہرام جب بھی فون کرتا تھوڑی دیر کے لئے حوریہ سے بات کرتا اور اس کے بعد وہ ہوتا اور اس کی دل ۔
اس سب سے کردم کو کوئی مسئلہ نہیں تھا بلکہ وہ تو خوش تھا آنے والے حالات سے لیکن بہرام کی ضد اور جنون مقدم کو پریشان کر دیتا تھا
لیکن دادا سائیں ہمیشہ اس کی یہ ساری باتیں مقدم پر گیا ہے کہہ کر ٹال دیتے ۔
اس نے کمرے میں قدم رکھا تو وہ حورم کو سلانے کی کوشش کر رہی تھی یہ جاننے کے باوجود بھی کے وہ مقدم کے بغیر نہیں سوتی
وہ آہستہ سے اس کے قریب آیا اور اس کی گود میں سے حورم کو اٹھا کر اپنی گود میں رکھا
دونوں بچے بہت ضدی ہو گئے ہیں ایک وہ ہے جو وہاں بیٹھا اپنی ضد منواتا ہے اور یہ میڈم جو آپ کے بغیر سوتی بھی نہیں ۔
حوریہ اس کے قریب سے اٹھ کر اپنی سائیڈ جانے لگی جب مقدم نے اس کا ہاتھ تھام کر اپنی طرف کھینچا
تمہیں کیوں اتنی جلن ہو رہی ہے اب میرے بچے ہیں مجھ پر ہی جائیں گے ۔
لیکن اگر تمہیں اپنے لیے ایک الگ بےبی چاہیے تو میں تیار ہوں وہ اس کے لبوں کو نشانہ بناتے ہوئے بولا
دوتو سنبھالے نہیں جارہے یہ چلیں ہیں جناب تیسرے کی تیاری کرنے۔
حوریہ نے اس کے لبوں پے ہاتھ رکھتے ہوئے اسے خود سے دور کیا
تیسرے کی کیا ابھی تو میں چوتھے پانچویں چھٹے کی تیاری کرنا چاہتا ہوں ۔
وہ تو تم نے کہا تھا بہرام کے بعد دھیان بٹ جائے گا اسی لیے ابھی ایک ہی بچہ ٹھیک ہے لیکن تم تو مجھے اسی پر ٹڑخانے کا ارادہ رکھتی تھی ۔
وہ تو نہ جانے کیسے تمہیں اپنے بیٹے کا خیال آیا اور میری بیٹی اس دنیا میں آئی اب وہ حوریہ کو چھوڑ کر حورم کی طرف متوجہ ہو چکا تھا
جو باپ کی آواز سننے کے بعد جاگ چکی تھی ۔اب حوریہ کو پتا تھا ان دونوں باپ بیٹی کی یہ میٹنگ جلدی ختم نہیں ہونے والی اسی لیے وہ آہستہ سے ان کے قریب سے اٹھ کر باہر چلی گئی اس سے اماں سائیں کو بی پی کی میڈیسن دینی تھی
دل تم سو رہی ہو یا میں جنگل سے شیر کو بلاؤں دھڑکن نے سے ڈراتے ہوئے کہا
آپ سیر کو بلا لو میرا پنکی اس کو کھا جائے گا ۔وہ اپنے بھالو کے دونوں ہاتھ آگے کرتے ہوئے دھڑکن کو ڈراتے ہوئے بولی
جب کردم کمرے میں داخل ہوا ۔
بابا مجھے بھائی چاہیے کردم کو کمرے میں داخل ہوتے دیکھ کر وہ بیڈ پر اٹھ کر دونوں بازو کھول چکی تھی۔
جبکہ اس کے بات سن کر دھڑکن آںکھیں نکالیں اسے دیکھنے لگی
میری جان یہ آپ کو بھائی کا شوق کہاں سے آگیا کل تک تو آپ کو پنکی چاہیے تھا کردم نے دل کو اپنی گود میں اٹھاتے ہوئے پوچھا
میں نے آج زمل آپی کو بولنا کہ آپ کے پاش ایسا کیا ہے جو میرے پاش نی
تو انہوں نے بولا ان کے پاش دو بھائی ہیں ۔اس نے اپنے ہاتھوں کی ننھی سی دو انگلیاں الگ کر کے دکھائیں
اور پھر زیلہ آپی (حیدر اور نور کی بیٹی ) کے پاس بھی یاسم بھائی (حیدر اور نور کا بیٹا ) ہیں
پھرتائشہ پھوپھو سائیں نے بولا بھائی تو حورم کے پاش بھی ہے بہرام تو مجھے بھائی کہنے نہیں دیتے اسی لئے آپ مجھے الگ سے سپیشل والا بھائی کر دیں
جیسٹ میرا بھائی
وہ دونوں ہاتھ ہلاتے تیز تیز بول کے اپنی بات اسے سمجھا رہی تھی
جبکہ ان دونوں کی باتوں پر بالکل غور نہ کرتے ہوئے دھڑکن سر سے پاؤں تک بلینکیٹ لپیٹ چکی تھی
کردم نے مسکرا کر اسے دیکھا
نکالتے ہیں کوئی حل تمہاری اس فرمائش کا بھی وہ اس کے دونوں گال چومتا محبت سے بولا جبکہ اس کی بات سننے کے بعد دھڑکن نے منہ نکال کر اسے گھورا تھا ۔
ایک شیطان سنبھلتی نہیں ہے اور جناب چلے ہیں اس کی فرمائش پوری کر نے دھڑکن نے ایک بار پھر سے بلینکیٹ اپنے منہ پر اوڑ لی۔
جب کہ اس کے اس حرکت نے کردم کو قہقہ لگانے پر مجبور کر دیا۔
The End Alhamadulillah
