Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah Readelle50340 Bheegi Palkon Par Naam Tumhara (Episode 43)
No Download Link
Rate this Novel
Bheegi Palkon Par Naam Tumhara (Episode 43)
Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah
صبح ہوتے ہی دھڑکن کی پارٹی کی تیاریاں شروع ہوگئیں ۔
اس پارٹی میں گھر کے علاوہ اور کوئی باہر کا انسان نہ تھا ۔
کہنے کو یہ صرف گھرمیں ایک چھوٹی سی ہی پاڑٹی تھی لیکن اس کی تیاری کسی بہت بڑی محفل کی طرح کی گئی تھی ۔
رضوانہ پھوپھو نے بھی اسے وش کیا تھا ۔
لیکن ان سے گفٹ مانگنے کی غلطی دھڑکن نے نہیں گئی تھی
جب سے اس کا نکاح کر دم سے ہوا تھا وہ خود ہی ان کا کھچا کھچا رویہ نوٹ کر چکی تھی ۔
پہلے تو اسے بہت برا لگا لیکن اب اسے اس بات کا برا نہیں لگتا اس کی شادی دادا سائیں کی مرضی سے ہوئی تھی اس لئے اگر گھر میں اس وجہ سے اس سے کسی کا موڈ آف ہے تو اس میں دھڑکن اس کی کوئی غلطی نہیں ہے
لیکن وہ چاہ کر بھی لاپروا نہیں ہوسکتی تھی ۔
کیونکہ جب وہ یہاں آئی تھی پھوپو اس سے اتنے پیار سے ملی تھی کہ وہ خود ہی انہیں چاہنے لگی تھی ۔
اب انکا رویہ اسے ہرٹ کرتا تھا ۔
وہ بنا کسی غلطی کے ان کی ناپسندگی کا شکار ہوئی تھی
ملک سائیں مجھے لگتا ہے کہ اماں سائیں کو شہر بڑے ہسپتال میں شفٹ کر دینا چاہیے ان کی طبیعت دن بدن بڑھتی جارہی ہے ۔اس کے خاندانی ملازم نے آکر کہا تھا
اماں سائیں بار بار ایک ہی بات کر رہی ہیں جبکہ میں ان کو سمجھا چکا ہوں کہ قاسم شاہ اپنے پوتے اور اپنی نواسی کو ہم سے نہیں ملنے دے گا ۔
وہ مجھ سے میری بیٹی کو دور رکھ کر اپنی بیٹی کا بدلہ نکال رہا ہے ۔
میری وجہ سے اہانہ نہیں رہی میں نے اس پر بہت ستم ڈھائے ہیں بہت ظلم کیا ہے اور اب وہی وہ میری بیٹی کے ساتھ کر رہا ہے
میری معصوم بچی کی شادی اس نے اپنے پوتے سے کرتی لیکن وہ مجھے نہیں جانتا میں اتنی آسانی سے اپنی بیٹی کو خود سے دور نہیں جانے دوں گا میں جان سے مار ڈالوں گا اس کے پوتے کو ۔
میں اپنی بیٹی کو خود آزادی دلواؤں گا میں اپنی بیٹی پر دن رات ستم نہیں ہونے دوں گا
مجھے پتا ہے مقدم شاہ نےمیری بیٹی سے شادی صرف اپنا بدلا پورا کرنے کے لئے کی ہے ۔
اپنے باپ کی موت کا بدلہ لینے کے لئے اس نے میری بیٹی کو استعمال کیا ہے لیکن میں ایسا نہیں ہونے دوں گا ۔
اگر میری بیٹی کی آزادی کی قیمت مقدم شاہ کی موت ہے تو مجھے اسے جان سے مارنے پر بھی کوئی افسوس نہیں ہوگا
حوریہ میرے کپڑے نہیں مل رہے ۔
یہ تیسری بار ہوا تھا جب حوریہ نے کچن میں قدم رکھا اور مقدم نے پھر آواز دے کر اسے کمرے میں بلا لیا ۔
مقدم سائیں سامنے تو رکھے ہوئے ہیں اس نے دروازے سے ہی بیڈ پر پڑے کپڑوں کی طرف اشارہ کیا اور پلٹ گئی
ابھی اس نے کچن کے دروازے پر قدم رکھا ہی تھا ۔
حوریہ میرا وولٹ نہیں مل رہا ایک اور آواز نے اسے پلٹنے پر مجبور کردیا ۔
یہ چوتھی دفعہ تھا جب وہ کمرے میں آئی ۔
اس نے کمرے میں آکر دیکھا کپڑے ویسے ہی بیڈ پر پڑے تھے جبکہ وہ آرام سے بیڈپر لیٹا فون پر کچھ کر رہا تھا ۔
حوریہ کو کام کرتے دیکھ کر فون ایک طرف رکھ کر وہ حوریہ کو نظروں کے حصار میں لے کر مسکرانے لگا
حوریہ آگے بھری ڈریسنگ ٹیبل سے اس کا وولٹ اور گھڑی اٹھا کر بیڈ پر اس کے کپڑوں کے ساتھ رکھیں۔
اور پھر اندر جاکر اس کے لئے جوتے نکال کر لائی
وہ لا کر اس کے کپڑوں کے ساتھ زمین پر رکھ دیے ۔
آپ کی پرفیوم بوڈی سپرے ۔اور سگرٹ اور باقی سب کچھ یہاں سامنے ہے
اب میں جا رہی ہوں خبردار جو مجھے آواز آئی ۔
آج دھڑکن کی برتھ ڈے ہے اور مجھے بہت کام ہے اچھے بچوں کی طرح جلدی سے تیار ہو کہ باہر آ جائے ۔
حوریہ نے سے واڑن کرتے ہوئے کہا تو وہ مسکراتے ہوئے سر کو خم دیتا اسے جانے کی اجازت دے چکا تھا ۔
جبکہ اس کا یہ حکم چلاتا انداز اس کے دل پر بجلیاں گرا رہا تھا ۔
حوریہ مسکراتے ہوئے باہر جا چکی تھی
ہائے میرے دل کا قرار وہ زیرِلب بڑبڑاتا اٹھ کر تیار ہونے لگا
دھڑکن یہ بلی کس نے دی حوریہ نے پوچھا ۔
وہی جو مجھے سب سے زیادہ پیار کرتے ہیں دھڑکن نے شرماتے ہوئے کہا ۔
نانا سائیں نے حوریہ نے گیس کیا ۔
رونگ دھڑکن نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا
احمد ماموں نے ۔حوریہ جلدی سے بولی ۔
پھر رونگ ۔دھڑکن نے پھر سے نفی میں سر ہلایا ۔
جو تمہیں سب سے زیادہ پیار کرتی ہیں سویرہ دیدہ ۔۔؟حوریہ نے ایک اور گیس کیا
او ہو دیدہ اپنی سوچ کو تھوڑا آگے بڑھائیں ایک ہی جگہ اپنی سوچ کو رکھ کر بیٹھ جاتی ہیں کچھ بڑا سوچیں کچھ نیا سوچیں دھڑکن نے اسے حوصلہ دیتے ہوئے گیس کرنے کا ایک اور موقع دیا ۔
جو تمہیں سب سے زیادہ پیار کرتے ہیں ۔۔۔۔۔؟حوریہ نہیں سمجھ پائی تھی کہ یہ کیوٹ سی کیٹی اسے کس نے دی ہے ۔
کردم لالہ سویرہ نے دھڑکن کے کمرے کےدروازے پر رک کر کہا ۔
اور مسکراتے ہوئے اندر چلی آئی ۔
کیا تمہیں یہ کیٹی کردم لالہ نے دی ہے مجھے یقین نہیں آرہا ۔
حوریہ نے بےیقینی سے کہا تھا ۔
وہی تو یقین تو مجھے بھی نہیں آرہا تھا ۔لیکن جب میں نے اسے ٹچ کیا ۔اور اس نے آگے سے میائوں کرکے مجھے ہائے بولا تو مجھے یقین کرنا پڑا ۔دھڑکن نے اپنی کیٹی کے نرم نازک سفید روئی جیسے بالوں کو سہلاتے ہوئے کہا ۔
ماشاء اللہ اب تو کردم لالہ تمہاری پسند بھی جان گئے ہیں حوریہ نے خوشی سے کہا ۔
جان نہیں گئے زبردستی مجبور کرکے لیا ہے یہ گفٹ ورنہ وہ تو نہ جانے کون کون سے رسم و رواج نبھانے کے چکر میں تھے ۔
اور تو اور میں نے مقدم لالہ کو بھی فون کر کے کہا تھا کہ میری دیدہ کو گفٹ دیں ۔
دیکھا آپ کی بہن پپلس نند پلس بھابھی نے کیسے کتنا پرانا رواج ختم کر دیا دھڑکن نے اتراتے ہوئے کہا ۔
جس پر حوریہ اور سویرا نے باقاعدہ اس کے لیے تالیاں بجا کر اس کی حوصلہ افزائی کی تھی
کردم تم نے کیا تحفہ دیا دھڑکن کو دادا سائیں سب کے ساتھ باہر لانچ میں بیٹھے تھے جب اچانک انہوں نے کردم سے پوچھا
دادا سائیں اس وقت میں بہت بیزی ہوں پہلے ہی زمینوں کے بہت بڑے مسائل چل رہے ہیں میرے پاس ان فضولیات کے لئے بالکل ٹائم نہیں ہے ۔اور فکر نہ کریں دے دیا ہے میں نے اسے تحفہ ۔کردم لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا
وہ ابھی ابھی چوہدری سے مل کر واپس آیا تھا
ویسے دادا سائیں آپ لوگ دھڑکن کو بچی بچی کر کر بالکل ہی بچہ بناتے جا رہے ہیں اسے تھوڑا میچیور کیجیے بچوں کی طرح اس کی ساری باتیں مان کر آپ لوگ اس میں بچپنا زیادہ لا رہے ہیں ۔
کردم نے اپنے فون پر مصروف انداز میں کہا ۔
ہاں بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں کردم سائیں ۔مقدم نے بات میں حصہ لیا ۔
لیکن ماشاءاللہ سے آپ نے جو اسے گفٹ دیا ہے اس سے وہ جلدی میچیور ہوجائے گی ۔ہوپ سو اس سے اسے عقل آجائے اور وہ زیادہ سمجھداری والے کام کرے مقدم نے اپنی ہنسی دبی تھی جبکہ کردم پچھتا رہا تھا کہ آخر اس نے اسے بتایا ہی کیوں کے کردم نے دھڑکن کو ایک بلی کا بچہ گفٹ میں دیا ہے ۔
خیر چھوڑو ان سب باتوں کو کردم گاؤں میں سبھی گھروں میں شادی کے کارڈ بھجوا دیے گئے ہیں ۔
رخصتی کل ہی ہوگی اور کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہے اس سے ۔
احمد شاہ نے انہیں موضوع سے ہٹاتے ہوئے بتایا ۔
ان کے بات سن کر کردم کے چہرے پر ایک مسکراہٹ آئی تھی۔
تو انتظار ختم ہوا ۔تو کل میں تمہیں بتاؤں گا دھڑکن سائیں کہ تم کردم شاہ کے لیے کیا ہو ۔
