Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah Readelle50340 Bheegi Palkon Par Naam Tumhara (Episode 84)
No Download Link
Rate this Novel
Bheegi Palkon Par Naam Tumhara (Episode 84)
Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah
سویرا کی طبیعت زیادہ بگڑگئی تھی اسے فوراً شہر لے جایا گیا
جہاں ڈاکٹر نے بتایا کہ وہ اپنا بچہ کھو چکی ہے
ڈاکٹر کے بات سن کر جہاں رضوانہ پھپھو سائیں اور نازیہ اماں سائیں حیران ہوئیں وہیں مقدم کے چہرے پر بھی پریشانی تھی
دیکھئے ان کی طبیعت بہت خراب ہے ۔اور اوپر سے وہ بہت کمزور بھی تھی ۔ان چار مہینوں میں انہوں نے بہت بار اس بچے کو گرانے کی کوشش کی ہے جس کی وجہ سے ان کی پریگنسی ویسے بھی بہت کریٹیکل تھی ۔
یہ کہنا ٹھیک ہوگا کہ ان کو ایک جھٹکا لگنے سے بھی نقصان ہو سکتا تھا یہاں تو وہ سیڑھیوں سے گری ہیں اسی لیے آئی ایم سوری ہم آپ کا بچہ نہیں بچا پائے جبکہ پیشنٹ کی حالت بھی بہت زیادہ ٹھیک نہیں ہے ڈاکٹر مقدم کے پاس کھڑی اسے تفصیل بتا رہی تھی
جبکہ ڈاکٹر کے بات نے رضوانہ اور نازیہ کو حیران و پریشان کردیا یہ جھوٹی پریگنسی اتنی آگے تک کیسے چلی گئی یہ سب کچھ جھوٹ تھا سویرا تو جھوٹ بول رہی تھی تو یہ بچہ کس کا تھا
اور 4 ماہ پہلے تو وہ انگلینڈ میں تھی تو کیا وہ سچ میں کسی کے ساتھ ریلیشن شپ میں تھی کیا وہ اپنی اور اپنے خاندان کی عزت کو بے مول کر چکی تھی
دادا سائیں خاموشی سے ڈاکٹر کی بات سن رہے تھے مقدم نے انہیں سویرا کے جھوٹے ریپ کے ڈرامے کے بارے میں بتایا تھا لیکن اس کی پریگنسی کا جان کر وہ خود ہی سے نظر ملانے کے قابل نہ رہے
احمد سائیں کو اس بارے میں کچھ بھی نہیں بتائیے گا مقدم سائیں وہ پہلے ہی اپنی بیماری سے لڑ رہا ہے اپنی اولاد کی بے غیرتی سے لڑ نہیں پائے گا داداسائیں بس اتنا ہی کہہ پائیں
کل تک جو ان کے دل میں سویرہ کے لیے تھوڑی سی نرمی جاگی تھی آج وہ بھی ختم ہو چکی تھی۔سویرا نے ان کے خاندان کی عزت کو دو کوڑی کا کر دیا ۔
اگر احمد کی حالت ٹھیک ہوتی تو اس کا گریبان پکڑ کر ان سے پوچھتے کہ یہ تربیت کی ہے تم نے اپنی بیٹیوں کی کیا اس تربیت کے لیے تم انہیں خون خرابے سے دور لے جاکر اپنی بیٹیوں کو پالا کیا یہ سبق دیا ہے کہ اپنے خاندان کی عزت پر کس طرح سے پانی پھیرا جاتا ہے
میں سچی کہہ رہی ہوں اگر میں اس کو دھکانہ مارتی تو وہ حور کومارتی پھر حور کو چھوٹ آتی ۔لیکن حور میری سہیلی بن گئی ہے اس لیے اس کو درد ہوتا تو مجھے بھی درد ہوتا
اور میں نے اس سویرا کو دھکا مار دیا اب وہ مجھ سے بدلہ لینے آئے گی وہ جب سے گھر آئی تھی حیدر کا سر کھائے جا رہی تھی
حیدر پہلے ہی سویرا کے بارے میں سوچ کر پریشان تھا اور یہ نور خود اپنی زبان سے اقرار جرم کر رہی تھی
دیکھو نور تم نے کچھ نہیں کیا جو بھی ہو غلطی سے ہوا اگر تم سے کسی نے پوچھا تو تم یہی کہو گی کہ کہ تم نے دھکا جان بوجھ کر نہیں مارا وہ اسے سمجھا نہیں پا رہا تھا کہ وہ اپنے بچپنے میں سویرہ کا کتنا بڑا نقصان کر چکی ہے
جبکہ نور سینہ ٹھوک کر کہہ رہی تھی کہ یہ میں نے کیا ہے اور اب مقابل کی طرف سے ہونے والے حملے کے لیے بھی تیار تھی۔
جھوٹ بولنا گندی بات ہوتی ہے اور میں سچ بولوں گی میں نے کچھ غلط نہیں کیا میں نے اپنی دوست کو بچانے کے لئے کیا ہے ۔
اگر وہ حور کو دھکا مار دیتی تو حود کو چوٹ لگتی اچھا ہوا اسی کو چوٹ لگ گئی نور منہ بناکر بولی
حیدراسے سمجھا نہیں پا رہا تھا
مجھے حوریہ سے بات کرنی ہوگی ہوسکتا ہے وہ نور کو سمجھا پائے ۔
اگر نور نے سب کے سامنے کہا کہ اس نے جان بوجھ کر سویرا کو دھکا مارا ہے تو یہ نہ ہو کے نانا سائیں اسے پاگل خانے بھیجوا دیں حیدر پریشانی سے اپنی پیشانی مسل رہا تھا
آپ کو درد ہو رہا ہے لائیں میں آپ کا سر دبا دیتی ہوں ۔اس نے دونوں ہاتھ آگے کرتے ہوئے حیدر کے سر پر ہاتھ رکھیں
اس کی نرم و نازک انگلیوں کو حیدر چاہ کر بھی پیچھے نہ کر سکا
اور خاموشی سے اس کے قریب لیٹ کراس کی انگلیوں کی نرماہٹ محسوس کرنے لگا
کردم کی آنکھ صبح چڑیوں کے چہکنے سے کھولی ۔وہ خاموشی سے اٹھ کر باہر آیا
اس کا ارادہ سیدھا دھڑکن کے کمرے کی طرف جانے کا تھا
وہ دھڑکن کے کمرے میں آیا تو دروازہ بند تھا لیکن لاک نہیں تھا اس نے آہستہ سے دروازہ کھولا اور اندر داخل ہوا
بیڈ پر دھڑکن گہری نیند سو رہی تھی آنکھوں کی پتلیاں سوجی ہوئی تھی ۔مطلب صاف تھا کے وہ کافی دیر روتی رہی
جب کہ چہرے پر کردم کے پورے ہاتھ کا نشان تھا کردم آہستہ سے اس کے قریب آیا اور اس کے چہرے پر اپنی انگلیوں کے نشان پر اپنے لب رکھے
اسے اپنے قریب پاکر دھڑکن کی آنکھ فورا کھل گئی
ایم سوری میری جان جو بھی تھا مجھے تم پہ ہاتھ نہیں اٹھانا چاہیے تھا لیکن تم نے بھی تو غلط بات کی میں جانتا ہوں ساری رات تم اسی دکھ میں روتی رہی ہو گی کہ میں نے تم پر ہاتھ اٹھایا اپنی غلطی پر ایک پرسنٹ بھی غور نہیں کیا ہوگا
دیکھو دھڑکن تم نے مجھ سے ایک بار بھی نہیں پوچھا کہ وہ لڑکی ڈیرے پر میرے ساتھ اتنے قریب کیا کر رہی تھی
میں نے جو دیکھا اس کے بعد پوچھنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی دھڑکن اس کے ہاتھ خود سے جھٹکتی اٹھ کر بیٹھ گئی
بالکل سہی آنکھوں دیکھی ہر بات پر یقین کرنا چاہیے لیکن ضروری نہیں کہ جو آپ نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہو وہی سچ بھی ہو اب تم غور سے میری بات سنو میں جو کہہ رہا ہوں ۔
کردم نے سمجھانے والے انداز میں کہا
مجھے حویلی جانا ہے کردم سائیں وہ اس کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے بولی
اس طرح سے غلط فہمی کا شکار ہوکر تو جانے نہیں دوں گا میں اس غلط فہمی کی بنا پر اپنی اور تمہاری زندگی کے یہ خوبصورت دن برباد نہیں کروں گا ۔
اسی لیے بہتر ہوگا کہ میری بات سنو وہ رعب دار لہجے میں بولا ۔
مجھے آپ کی کوئی بات نہیں سنی اور نہ ہی آپ کی کسی بات پر یقین کرنا ہے ۔مجھے حویلی جانا ہے ۔اپنے گال پر پھسلتے آنسوؤں کو بے دردی سے صاف کرتی وہ منہ پھیر گئی
دھڑکن اب تم بےکارمیں بات کو مزید بڑھا رہی ہو جبکہ یہ بات اتنی بڑی ہے ہی نہیں تم ذرا سی بات کو خود پر سوار کر رہی ہو ۔
یہ ذرا سی بات آپ کے لیے ہوگی شاید آپ کے قریب اسی طرح پہلے بھی لڑکیاں آتی رہیں ہوں گی جس کی وجہ سے آپ کو یہ ساری باتیں بری نہیں لگتی لیکن معاف کیجیے گا میں نے اپنی زندگی کے بارے میں کبھی ایسا نہیں سوچا تھا
جیسی میں ہوں مجھے ویسا ہی شوہر چاہیے اگر میں صرف آپ کی بن کے رہوں گی تو آپ کو صرف میرا بن کر رہنا ہوگا لیکن اب آپ صرف میرے نہیں ہیں یا شاید آپ کبھی میرے تھے ہی نہیں اور اس بات کا احساس کل اس لڑکی کو آپ کے قریب دیکھ کر مجھے ہو گیا تھا
دھڑکن اس کے قریب سے اٹھتی ہوئی واش روم میں گھس گئی ۔جبکہ کردم اس کی باتوں اور حرکتوں کو بیوقوفی قرار دے رہا تھا ۔
یہ سب کچھ حوریہ کی وجہ سے ہوا ہے اس نے دھوکا دیا ہے مجھے وہ میرا بچہ نہیں چاہتی تھی ۔
اس کی وجہ سے میرا بچہ مجھ سے دور ہو گیا اس نے مجھ سے میری ہر خوشی چھین لی میں اسے کبھی معاف نہیں کروں گی
ہسپیٹل کے کمرے میں چلا چلا کر سویرہ تھک چکی تھی جبکہ اماں سائیں اور پھوپھو اسے مسلسل اسے گھورے جا رہیں تھیں
ان کے چہرے سے صاف لگ رہا تھا کہ وہ سویرا کے ڈرامے سے امپریس نہیں ہورہی لیکن سویرا کی چیخ و پکار ابھی تک ختم نہ ہوئی تھی ۔
جب سے اسے ہوش آیا تھا وہ حوریہ کو مجرم ٹھہرائے جا رہی تھی۔
مقدم کو کمرے میں آتے دیکھ کر وہ اور زیادہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔
مقدم سائیں مجھے پتا ہے اور کوئی مجھ پر یقین کریں یا نہ کریں لیکن آپ ضرور کریں گے حوریہ کو اپنی اولاد کی اتنی خوشی تھی کہ اس سے میری خوشیاں برداشت نہ ہوئی۔ اسی لئے اس نے مجھے دھکا دیا تاکہ میری ساری خوشیاں مجھ سے چھین لے ۔
اس نے مجھ سے میرا سب کچھ ہی نہیں لیا ۔کچھ بھی تو نہیں بچا میرے پاس ۔بالکل خالی کر کے رکھ دیا اس نے میرا وجود ۔وہ گھٹیا لڑکی اتنی گرگئی کہ اپنی کوکھ میں پلنے والے بچے کی پرواہ کیے بغیر میرے بچے کا قتل ۔۔۔۔۔۔۔
چٹاخ۔ خبردار سویرا جب تم نے میری حوریہ کے خلاف ایک اور غلط لفظ استعمال کیا مجھے لگ رہا تھا کہ مجھے تمہیں تھوڑا وقت دینا چاہیے تاکہ تم سمجھ جاؤ لیکن تم ۔۔گھٹیا میری حوریہ نہیں گھٹیا تم ہو گری ہوئی میری حوریہ نہیں گری ہوئی تم ہو ۔ارے تم تو اتنی گری ہوئی بے غیرت عورت ہو کہ تم نے نا اپنے باپ کی پرواہ ہے اور نہ ہی اپنے خاندان کی
تمہیں کیا لگتا ہے میری حوریہ تمہارے بچے کو نقصان پہنچانا چاہے گی ۔وہ ایسا خواب میں بھی نہیں سوچ سکتی ویسے ڈرامہ کمال کا کیا ہے تم نے ریپ کا بچے کا لیکن وہ کیا ہے نہ کہ تم اس ڈرامے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔
کیونکہ تمہاری یہ آنکھیں ۔۔۔۔۔۔ اپنی آدھی ادھوری بات پر وہ دلفریب انداز میں مسکرایا
تمہاری یہ آنکھیں تمہارے اندر کی حقیقت کا آئینہ ہے تمھاری آنکھیں تمہارے اندر پلنے والے شیطان کو ظاہر کرتی ہیں یہ آنکھیں بتاتی ہیں کہ تم کس حد تک مکارہو کتنا فریب بھرا ہے تم میں تمہاری آنکھیں تمہارا اندر اور باہر بیان کرتی ہیں اور تمہیں لگا کہ میں تمہاری تعریف کرتا ہوں
نہیں سویرا میں تمہاری تعریف نہیں کرتا تھا ۔میں تمہیں سچ بتاتا تھا کہ آنکھوں کو چھپا کر وار کرو ۔شاید کامیاب ہو جاؤ تمہاری آنکھیں سچ میں سچ بولتی ہیں
تم کیا ہو کیا تھی یہ میں پہلے دن سے جانتا ہوں تمہارے کڈنپیگ والے ڈرامے کے ایک ایک لفظ سے واقف تھا میں
لیکن میں نے کچھ نہیں کہا تم یہ کھیل جس طرح سے چلا رہی تھی میں نے ویسے ہی چلنے دیا
کیوں کہ اس کھیل کے دوران مجھے یہ پتہ چلا تھا کہ تم میری حوریہ کو جان سے مارنا چاہتی ہو اور اس سب میں تمہارے ساتھ کوئی اور بھی شامل ہے
یور ٹائم از اوور اب مجھے بتاؤ کہ وہ کون ہے ۔۔۔۔؟ شاباش اب جلدی سے مجھے بتاؤ کہ وہ شخص کون ہے جو میری حوریہ اور ملک کو مارنا چاہتا ہے ۔
اس کے بعد ہو سکتا ہے کہ میں تمہیں واپس لندن بھجوا دوں
لیکن اگر تم نے مجھے اس آدمی کے بارے میں کچھ بھی نہیں بتایا تو تمہیں ساری زندگی کے لیے قید کر کے دنیا سے غائب کر ہوگا ۔میں تمہیں اتنا اکیلا کر دوں گا کہ خود سے بھی بات نہیں کر پاؤ گی ۔
تمہارے پاس آخری موقع ہے بتادو مجھے وہ شخص کون ہے جو حوریہ کو مارنا چاہتا ہے وہ غصے سے اس کے قریب بیٹھا بول رہا تھا جب کہ اس کی ساری بات سننے کے بعد سویرا قہقہ لگا کر ہنسی تھی
ایسے ہی تو نہیں ہوئی محبت آپ سے مقدم شاہ ۔اگر آپ میرے نہ ہو سکے تو ہونے میں آپ کو حوریہ کا بھی نہیں دوں گی۔
اگر آپ مجھے اور میرے اصل کو پہچان چکےہیں تو مجھے یہاں لانے سے پہلے حوریہ کو بھی لے آتے اب تک تو وہ شاید زندگی اور موت کا سفر بھی طے کر چکی ہوگی ۔
سویراقہقہ لگاتے ہوئے بولی جبکہ سویرا کے انداز نےمقدم کو حوریہ کو فون کرنے پر مجبور کر دیا
کون ہو تم کیوں اٹھا کے لائے ہو مجھے یہاں پر خدا کے لئے مجھے جانے دو یہ کون سی جگہ ہے میں نے تمہارا کیا بگاڑا ہے
حوریہ اونچی اونچی آواز میں چلا رہی تھی وہ پہچانتی تھی اس کار خانے کو یہ کارخانہ اس کے کالج کے راستے میں آتا تھا وہ اکثر کردم سے پوچھتی تھی کہ یہ کارحانہ بند کیوں ہے جس کے جواب پر کردم کہا کرتا تھا
کہ یہ کارحانہ پھوپھا سائیں نے بنوایا تھا اور ان کی موت کے بعد سے بند کر دیا گیا
حوریہ۔نے اندر سے یہ کارخانہ تو کبھی نہیں دیکھا تھا لیکن اسے یقین تھا یہ وہی جگہ ہے لیکن اسے یہاں پر کون لا سکتا ہے
وہ اونچی اونچی آواز میں چیخ و پکار کرتی ہوئی رو رہی تھی لیکن وہ بالکل وہاں اکیلی تھی ایک پیلرکے ساتھ اس کے دونوں ہاتھوں کو باندھا گیا تھا وہ کتنی دیر سے یہ وہیں بیٹھی تھی
اسے بس اتنا یاد تھا کہ وہ تو اپنی دوائیاں کھا کر سو چکی تھی لیکن وہ یہاں کیسے آئی کون لایا تھا اسے یہاں ابھی تک وہ اونچی آواز میں چلا رہی تھی کہ کسی کے قدموں کی آہٹ سنائی دی اور پھر ایک سایہ برآمد ہوا اور پھر اس سائے کے ساتھ وہ شخص
ہاں وہ شخص اس کا دشمن جو اس کی جان لینا چاہتا تھا
