267.3K
86

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bheegi Palkon Par Naam Tumhara (Episode 57)

Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah

ناجانے کتنی دیر ہو اس کے گلے سے لگ کر روتے رہی کردم نے بھی اس کے دل کا غبار نکلنے دیا وہ جاننا چاہتا تھا کہ آخر وہ اس سے ملنے ہسپتال کیوں نہیں آئی اور جانتا تھا اگر دھڑکن اس کے لئے اتنی بے چین تھی ضرور وہ کسی کے منع کرنے کی وجہ سے ہسپتال نہیں آئی

اسے منع کون کرسکتا ہے یہ تو وہ جانتا ہی تھا لیکن پھر بھی وہ اس کی زبان سے سننا چاہتا تھا ۔

بہت سارا دھونے کے بعد جب وہ چپ ہوئی تو کردم نے اس کا ہاتھ تھام کر اسے اپنے قریب بیڈ کر بٹھایا ۔

اب بتاؤ کردم نے اسے دیکھتے ہوئے سوالیہ انداز میں پوچھا کیا بتاؤں۔۔۔۔۔؟ دھڑکن نے بھی اسی کے انداز میں سوال کیا

یہیں کہ جب تمہیں میری اتنی پرواہ ہے تو تم ہسپتال میں مجھ سے ملنے کیوں نہیں آئی کردم نے اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے کہا

ایسے ہی دھڑکن نے چھپانے کی کوشش کی

مجھ سے جھوٹ بولنے کی کوشش بھی مت کرنا دھڑکن مجھے سخت نفرت ہے جھوٹے لوگوں سے تمہیں اپنی زندگی میں شامل کرنے کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ تم جھوٹ نہیں بولتی اور یقین کرو کہ اگر تم نے تو یہی کام کیا تو تم میں اور دوسرے لوگوں میں کوئی فرق نہیں رہ جا ئے گا اس کے سامنے وہ تائشہ کا نام نہیں لے پایا

دادا سائیں بات ہی نہیں کر رہے تھے انہوں نے اتنے سارے دن سے میرے ساتھ لڈو بھی نہیں کھیلی ۔

دھڑکن نے سچ بولا تھا لیکن سچ چھپایا بھی تھا

یہ ہسپتال نہ آنے کی وجہ تو نہیں ۔۔۔۔۔

میں نے منت مانگی تھی کہ جب تک آپ ٹھیک نہیں ہو جاتے تب تک میں آپ کے سامنے نہیں آوں گی

میں نے اللہ تعالی سے دعا کی تھی ۔آپ بالکل ٹھیک ہوجائیں گے تبھی میں آپ کے سامنے آوں گی ۔

کیونکہ میں جب سے آپ کی زندگی میں آئی ہوں آپ کی زندگی میں کچھ بھی اچھا نہیں ہوا

دھڑکن تم اتنی چھوٹی سوچ کی مالک ہو۔۔۔،مجھے یقین نہیں آرہا ۔کس نے تم سے کہا کہ تم جب سے میری زندگی میں آئی ہومیرے ساتھ کچھ اچھا نہیں ہوا ۔

دھڑکن تم جب سے میری زندگی میں آئی ہو مجھے سکون مل گیا ہے وہ سکون میں جو میں ڈیروں کی تنہائی میں جاکے ڈھونڈتا تھا وہ مجھے گھر کے شور میں ملا ۔

میں جب بھی بے چین ہوتا تھا تب ڈیرے پر چلا جاتا تھا کیونکہ وہ جگہ میرے ماں باپ کی تھی ۔

مجھے اس دنیا میں سب سے زیادہ وہ جگہ پسند ہے کیونکہ مجھے بہت سکون ملتا ہے وہاں لیکن دھڑکن جب سے تم میری زندگی میں آئی ہو تم میرا سکون بن گئی ہو ۔

وہ اس کا ہاتھ کا میں آہستہ آہستہ بول رہا تھا جیسے اسے اس کی اپنی زندگی میں اہمیت بتا رہا ہوں ۔

اب مجھے جلدی سے بتاؤ تمہیں کس نے کیا کہا ہے کیوں کہ یہ منت بھی تم نے بے وجہ نہیں مانگی ہوگی اتنا تو میں تمہیں جان ہی چکا ہوں ۔

ذرا سوچا ہے تم نے کہ ایک دن کی دلہن کیا آپ اپنے شوہر سے ملنے نہ آئے تو کتنا برا لگتا ہے ۔لیکن اگر مجھے اپنے نہ آنے کی صحیح وجہ بتاؤ گی

تومجھے بہت خوشی ہوگی وہ اسے دیکھتے ہوئے بولا

جب دھڑکن نے نرمی سے اس کا ہاتھ تھام کر اپنے سر پے رکھا ۔

آپ میری قسم کھائیں کہ آپ کسی کو کچھ نہیں کہیں گے ۔

یعنی میرا شک ٹھیک ہے پھوپو سائیں نے کچھ کہا وہ اس کے بولنے سے پہلے بولا تھا

پہلے آپ قسم کھائیں پھر بتاؤں گی ۔

مجھے قسم کھانے سے نفرت ہے دھڑکن بتاؤ مجھے کیا کہا ہے پھوپو سائیں نے وہ اس کے سر سے اپنا ہاتھ ہٹاتے ہوئے بولا ۔

نہیں بتاؤں گی پہلے آپ مجھے وعدہ کریں کے آپ کسی سے کچھ نہیں کہیں گے اس بارے میں بلکہ اس بات کو یہیں پر بھلا دیں گے ورنہ میں آپ کو بتاؤں گی ہی نہیں ۔

وہ ضدی انداز میں ہولی ۔

ٹھیک ہے بتاؤ یہ بات تمہارے اور میرے درمیان رہے گی ۔

وہ بس جاننا چاہتا تھا کہ پھوپو سائیں نے اس سے ایسا بھی کیا کہا ہے کہ وہ اس سے ملنے تک نہیں آئی ۔

کیونکہ یہ بات تو وہ بھی جانتا تھا کہ تائشہ کی کسی بات کو وہ کوئی اہمیت نہیں دیتی اور نازیہ تو کبھی ایسے معاملات میں پڑتی ہی نہیں تھی تو پھوپو سائیں کے علاوہ اور کوئی ایسا نہیں ہوسکتا جو دھڑکن سے اس طرح کی کوئی بات کرے

دھڑکن نے اسے ایک ایک بات بتا دی۔جسے سن کر کر دم کاری ایکشن بالکل دھڑکن کی بالکل سوچ کے مطابق تھا

اب اس بارے میں آپ بالکل بھول جائیں گے جیسے آپ نے وعدہ کیا ہے دھڑکن نے اس کو اس کا وعدہ یاد دلاتے ہوئے کہا ۔

چائے پیئں گے دھڑکن نے اس کا غصہ کم کرنے کی کوشش کی ۔

جبکہ اس کے شرارتی انداز پر وہ بے ساختہ مسکرایا تھا ۔

ابھی بنا کے لاتی ہوں لڈو بھی لےکےآتی ہوں اتنے دن ہو گئے دادا سائیں تو بالکل مجھے پوچھتے ہی نہیں ۔لڈو کھیلنا تو دور کی بات

ہم دونوں کھیلیں گے ۔کھیلیں گے نا اس نے امید بھری نظروں سے اس کی طرف دیکھا تھا ۔

جاؤ جلدی سے آؤ کردم نے مسکراتے ہوئے کہا ۔

نہ جانے کتنے دنوں سے وہ ذہنی ٹینشن لے رہی تھی اور اپنی ٹینشن کسی کے ساتھ شئیر تک نہیں کر پا رہی تھی۔

اب اس کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ دیکھ کر وہ اندر تک پرسکون ہو گیا تھا ۔

جبکہ پھوپو سائیں سے اسے اسی طرح کے رویے کی امید تھے پچھلے 19 سالوں سے انہوں نےحوریہ کو یہ طعنے دیے تھے اور اب دھرکن اس چیز کا شکار ہورہی تھی جو کردم نے تو کم از کم نہیں ہونے دینا تھا ۔

حوریہ کی بات الگ ہے پھوپو سائیں لیکن میری دھڑکن کسی ملک کی بیٹی نہیں ہے اور آپ کو یہ بات سمجھنی ہوگی کردم نے سوچتے ہوئے کہا

وہ اس کے سینے پر سر رکھیے گہری نیند سو رہی تھی ۔

جب اچانک کھڑکی پر ذرا سی آواز پیدا ہوئی

حوریہ کی آنکھ اچانک ہی کھل گئی تھی آج کل اسے عجیب بیچینی نے گہرا ہوا تھا ۔

اکثر اس کی آنکھ کھل جاتی اسے عجیب عجیب سے خواب آنے لگے تھے وہ خوابوں میں اکثر مقدم کو خود سے دور جاتا دیکھتی ۔

لیکن اب وہ اپنے خواب مقدم کے ساتھ شیئر نہیں کرتی تھی کیونکہ اس کے خواب سننے کے بعد مقدم کا ری ایکشن اسے خواب سے زیادہ ڈر ا دیتا ۔

اس کھڑکی کی جانب دیکھا پردے ہوا سے اڑ رہے تھے ۔

اس نے آہستہ سے مقدم کے حصار سے نکلنا چاہا جب مقدم کی آنکھ کھل گئی ۔

کیا ہوا تم ٹھیک تو ہو وہ اسے اس طرح سے اٹھتے دیکھ کر فوراً اس کے ساتھ اٹھا تھا ۔

مقدم سائیں کھڑکی کھلی ہے بند کرنے جا رہی ہوں ۔وہ اس کےانداز پر بے ساختہ مسکراتے ہوئے اٹھنے لگی ۔

دیکھو کتنی تیز ہوا چل رہی ہے ایسی ہواؤں میں اگر میری خوبصورت سی بیوی کا کوئی جن عاشق ہوگیا تو خبردار تم کھڑکی کے پاس گئی میں خود بند کر کے آتا ہوں ۔

وہ جارحانہ انداز میں اس کا گال چومتا اس کے قریب سے اٹھا تھا جب کہ جن والی بات سن کر حوریہ کی ہنسی نکل گئی ۔

میں اتنی خوبصورت نہیں ہوں مقدم سائیں لیکن آپ پر کوئی چڑیل عاشق ہو سکتی ہے ۔

وہ اس کے دلکش چہرے کو دیکھتے ہوئے مسکرا کر بولی ۔

مقدم سائیں اب چڑیلوں کا کیا کرے گا ایسے تو ایک خوبصورت پری مل گئی ہے کھڑکی بند کرتے ہوئے وہ مسکراتے ہوئے واپس اس کے قریب آگیا ۔

خوبصورت پریاں میرے جیسے ہوتی ہیں ۔حوریہ نے مسکراتے ہوئے پوچھا تھا کیونکہ وہ کبھی بھی اپنےآپ کو خوبصورت لوگوں میں شمار نہیں کرتی تھی ۔

یہ تو مقدم کی چاہت تھی کہ اسے دن بدن خوبصورت ترین کرتی جا رہی تھی ۔

محبت خوبصورت لوگوں سے نہیں ہوتی حوریہ جس سے محبت ہو وہ خوبصورت ہوتا ہے لیکن یہ بات صرف دل سمجھ سکتا ہے نظریں تو ہمیشہ سے بھٹکتی آئی ہیں

قابو صرف دل رکھنا پڑتا ہے جس طرح سے تم نے میرے دل کو قابو کیا ہوا ہے ۔

مجال ہے جو ٹس سے مس ہو جائے ۔وہ اس کا سر ایک بار پھر سے اپنے سینے پر رکھتے ہوئے بولا ۔

ایک بات بتائیں مجھے کیا رومینٹک باتوں کا کوئی کورس کیا ہوا ہے آپ نے وہ شرارتی انداز میں بولی ۔

جی نہیں یہ نیچرل ہیں جو تمہیں دیکھ کر نکلتی ہیں مقدم نے اپنا گھیرا تنگ کرتے ہوئے کہا ۔

حوریہ مسکراتے ہوئے اس کی باہوں میں سماتی آنکھیں موند گئی شاید ہی اس نے زندگی میں مقدم کی محبت سے زیادہ کچھ خوبصورت محسوس کیا تھا

کردم کی حویلی واپسی سے ملک حویلی میں بھی عید کا سماں تھا ۔

اماں سائیں نے تو اس دن سے ہی ملک سے بات کرنا چھوڑ دیا تھا جب انہیں یہ پتہ چلا تھا کہ مقدم کے نام کی گولی کردم کے سینے میں لگی ہے ۔

لیکن اس کے ٹھیک ہونے کی خوشی ملک حویلی میں بہت دھوم دھام سے منائی گئی تھی ۔

لیکن ملک کو اس وقت سب سے زیادہ غصہ تائشہ پہ آ رہا تھا جو اسے جھوٹے لارے لگا رہی تھی جبکہ دوسری طرف سویرا نے بھی اس کی کوئی مدد نہیں تھی ۔

سویرا سے رابطہ ختم ہونے کے بعد تائشہ نے خود اس سے رابطہ کیا تھا اس سے مدد مانگی تھی ۔

اور وعدہ کیا تھا کہ وہ حوریہ کو مقدم کے اس حد تک خلاف کردے گی کہ وہ اس کا نام بھی لینا پسند نہیں کرے گی لیکن اس سے پہلے اسے تائشہ کے لیے کچھ کرنا ہوگا ۔

تائشہ کو کردم چاہیے تھا کہ کسی بھی قیمت پر ۔

اس لیے نہیں کہ وہ کردم سے محبت کرتی تھی بلکہ اس لئے کہ وہ دھڑکن کو ہرانے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتی تھی وہ دھڑکن کا غرور توڑنا چاہتی تھی ۔کردم کی محبت سے اس کا دل تو اسی دن خالی ہو گیا تھا جب اس نے تائشہ کی جگہ دھڑکن کو دی تھی ۔

وہ تو بچپن سے اس گاؤں پر حکومت کرنے کے خواب دیکھتی تھی اس کی ماں نے مقدم کو ہمیشہ ہی گاؤں کے مسائل سے دور رہنے کے لیے کہا مقدم پر یہ ظاہر کیا گیا یہ سب کچھ بورنگ ہے اور وہ یہ سب کچھ نہیں کرسکتا اور کردم کے لیےگاؤں سے بڑھ کر اور کچھ نہ تھا ۔

کہنے کو جائیداد میں مقدم اور کردم کا حصہ بالکل برابر تھا لیکن جس زمینوں پرگاؤں کے لوگوں کا قبضہ تھا وہ ساری زمین شاہ سائیں کےتھی اور وہی اس گاؤں کے مالک بھی تھے ۔اور ان کے بعد ان ساری زمینوں کا مالک اگلے سرپنچ یعنی کے کردم سائیں کو بننا تھا ۔

اس حساب سے گاؤں کے اگلے سرپنچ کا حصہ ان کی جائیداد سے چار گنا زیادہ تھا ۔تائشہ کو حکومت چاہیے تھی جس کے خواب بھی سے اس کی ماں بچپن سے دکھاتے آئی تھی اور سب ہی جانتے تھے کہ اگلا سرپنچ کردم نےہی بننا ہے کیونکہ مقدم نے اس چیز میں کوئی دلچسپی اب تک ظاہر نہ کی تھی ۔

یہ سچ تھا کہ تائشہ کردم کے لیے دلی جذبات رکھتی تھی لیکن کردم سے کہیں زیادہ اس کی نظر گاؤں کی مالکن بننے پر تھی

اسی لیے ملک نے اسے آئیڈیا دیا جس سے کردم اس کی زندگی میں شامل ہو سکتا ہے ۔

ملک نے اس سے گرنٹی دی تھی کہ اس کے بعد وہ تاتشہ سے نکاح کرلے گا

اس کے بعد وہ تائشہ کا کیا حال کرتا ہے ملک کی کوئی ذمہ داری نہ تھی ۔

اس نے تائشہ کو بتایا تھا اس کے بعد کردم اور تائشہ کی بدنامی ہوگی۔

لیکن اس نے ایک بات نوٹ کی تھی کہ تائشہ اپنے پاگل پن میں اس حد تک آگے جاچکی تھی کہ نہ تو اسے بدنامی کا ڈر تھا اور نہ کردم کا ۔

ملک نے اسے گرنٹی دی تھی کہ جو کھیل وہ کھیلے گا اس کے بعد دھڑکن خود کردم کو چھوڑ کر چلی جائے گی اور کردم کی شادی اس کے ساتھ ہو جائے گی ۔

تائشہ نے اس کا بھرپور ساتھ دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن اس سے پہلے اسے کردم کی شادی تائشہ کے ساتھ کروانی تھی

جنید ابھی کردم کے کمرے سے باہر نکلا تھا کہ تائشہ جو چائے لے کر اس کے کمرے کی طرف آرہی تھی اس سے بُری طرح سے ٹکرائی

دو ٹکے کے آدمی اندھے ہو کیا دیکھ کر نہیں چل سکتے ۔

وہ اس پر برسی تھی۔

دیکھ کر آپ نہیں چل رہی تھی تائشہ بی بی ۔اگر آپ کمرے کے اندر آ ہی رہی تھی تو سامنے سے آتی اس طرح سے چھپ کر کیوں آرہی تھی ۔

یا آپ اندر ہونے والی گفتگو کو ملاحظہ فرما رہی تھی لیکن آپ کی معلومات کے لئے میں بتادوں کہ اندر میں تھا کردم سائیں کے ساتھ دھڑکن بی بی نہیں جنید بھی اس کے انداز پر تپ کر بولا تھا ۔

کیا بکواس کر رہے ہو تم اور تمہاری ہمت کیسے ہو مجھ سے اس طرح سے بات کرنے کی ہمارا کھاتے ہو اور ہم پر ہی زبان چلاتے ہو تائشہ غصے سے پھلکاری تھی جبکہ کردم بھی اس کی آواز سن چکا تھا

معاف کیجیے گا بی بی لیکن حرام نہیں کھاتا جو کھاتا ہوں کمائی کرتا ہوں ۔ دو نوالوں کے لیے دن رات محنت کرتا ہوں ۔آپ کوئی پکی پکائی آکر میرے ہاتھ میں نہیں رکھتی ۔کردم کے خاص ملازم کے سامنے تو ویسے بھی کسی کی نہیں چلتی تھی ۔

وہ صرف کردم کے لئے کام کرتا تھا اور کسی کی سننا یا ماننا اس کا کام نہیں تھا ۔

وہ تو کردم کے حکم کے بغیر دادا سائیں کی بھی نہیں سنتا تھا یہ تو پھر کردم کی کزن تھی ۔

ہاں اگر اس کی شادی کردم کے ساتھ ہو جاتی تو پھر شاید وہ اس کے لیے بھی اہم ہوتی

دو ٹکے کے آدمی تمہیں تو میں ابھی نوکری سے فارغ کرتی ہوں ۔مجھے باتیں سنا رہے ہو وہ ابھی تک ایسے سنانے میں مصروف تھی کہ کردم کمرے سے باہر آگیا ۔

بکواس بند کرو تائشہ ایک تو تم غلطی کرتی ہو اور اوپر سے تم جنید کو بیکار میں سنا رہی ہو

کرنا تو تمہیں یہ چاہے کہ ابھی کے ابھی تم جنید سے معافی مانگو ۔کردم نے غصے سے کہا جبکہ اس ہنگامے کے بعد گھر کے سب افراد وہاں جمع ہو رہے تھے ۔

کردم تمہارا دماغ تو نہیں خراب ہوگیا تائشہ کیوں ایک ملازم سے معافی مانگے گی ۔ پھوپھو سائیں سے اپنی بیٹی کی بےعزتی برداشت نہ ہوئی ۔

کیونکہ اس نے بدتمیزی کی ہےپھوپو سائیں اور جنید آپ سب کا ملازم نہیں ہے میرا ساتھی ہے اس پر حکم چلانے کا حق صرف مجھے ہے کسی اور کو نہیں جو اس سے بدتمیزی کرے گا کردم سائیں سے بدتمیزی کرے گا یہ بات یاد رکھیے گا ۔

تائشہ بہتر ہوگا کہ تم اس سے معافی مانگ لو ۔اس لیے نہیں کیونکہ وہ ملازم ہے بلکہ اس لئے کہ وہ تم سے بڑا ہے اور تم نے اس کے ساتھ بدتمیزی کی ہے ۔کردم نے غصے سے کہا تھا جبکہ تائشہ نفرت سے جنید کو گھور رہی تھی ۔

رہنے دیجئے سائیں یقیناًانہیں ان کی غلطی کا احساس ہو چکا ہوگا جنید نے اس کی گھوری کی پرواہ کیے بغیر کہا ۔

جب کہ اس کے الفاظ تائشہ کو ایک بار پھر سے سلگا گئے تھے ۔

دو ٹکے کا ملازم گھٹیا آدمی اسے تومیں دیکھ لوں گی تائشہ غصے سے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی ۔

آہستہ آہستہ سب لوگ اپنے اپنے کمرے کی طرف جا چکے تھے جبکہ دھڑکن اور کردم ابھی تک وہیں کھڑے تھے

کتنی بدتمیز ہیں نہ تائشہ دیدہ ۔۔۔۔

دھڑکن نے نفی میں گردن ہلاتے ہوئے معصومیت سے شرارت بھری آواز میں کردم کا کچھ یاد دلایا تھا ۔

میں اتنی بدتمیزی کروں تو مجھے معافی مانگنی پڑتی ہے پر جنید لالا کو ایسے معافیوں کی ضرورت نہیں وہ خاصی اونچی آواز میں اسے کچھ یاد کرواتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی جبکہ وہ نفی میں سر ہلاتا ہوا مسکراتا ہوا اس کے پیچھے آیا تھا