267.3K
86

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bheegi Palkon Par Naam Tumhara (Episode 67)

Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah

جنید گھر واپس آیا تو رات کا اندھیرا پوری طرح سے پھیل چکا تھا

گھر میں بھی بالکل اندھیرا تھا کوئی لائٹ نہیں جل رہی تھی ۔

وہ تیزی سے کمرے کی طرف بڑھ رہا تھا جب کوئی نازک وجود اس کے پیروں سے ٹکرایا یہ وہی جگہ تھی جہاں وہ تائشہ کو پھینک کر گیا تھا ۔

یقینا یہ وجود اسی کا تھا اور وہ صبح سے یہی پڑی تھی ۔

جنید نے فورا جھک کا اسے یہی اندھیرے سے اٹھایا اور اپنے کمرے میں لے آیا ۔

اس نے تائشہ کو بیڈ پر لٹایا اور کمرے کی لائٹ آن کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو دیکھا ۔

جو خون سے سرخ ہو چکے تھے ۔اس نے فورا پلٹ کر دیکھا تائشہ اس وقت اسی لباس میں تھی جو وہ کل رات گھر سے پہن کر آئی تھی ۔

اس کے سارے کپڑے اس کے جسم کے ساتھ چپکے ہوئے تھے اور اس پر اس کے خون کے دھبے تھے ۔

جنید کو یاد نہیں تھا کہ اس پائپ کے ساتھ لگا موٹر کا لوہے کا چھوٹا سا حصہ بھی تھا جس سے یقینا یہ سارے زخم آئے تھے

کیسا حیو ان بن گیا تھا وہ اسے خود سے نفرت محسوس ہونے لگی ۔کیا وہ مرد تھا کیا ایسا ہوتا ہے ایک مرد وہ اسے عزت دینا چاہتا تھا اور اسے اسی کی نظروں میں گرا کر رکھ دیا

جنید الماری کی طرف آتے ہوئے اپنا سوٹ نکال کر واپس بیڈ پر آیا ۔

اور بنا ہچکچائے اس کے زخموں پر مرہم لگاتا اس کے کپڑے بدلنے لگا ۔

تائشہ کے جسم پر کہیں پرانے نشان تھے اس کا جسم زخموں سے بھرا ہوا تھا وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا اس کے جسم پر نئے زخم زیادہ ہے یا پرا نے ۔

جیسے جیسے اس کے زخموں پر مرہم لگایا ویسے ویسے ہی اسے اپنے بالکل قریب سے تائشہ کی سانسوں کی آواز محسوس ہونے لگی ۔

اور پھر دبی دبی سسکیاں ۔معافی نہیں مانگ سکتا تھا کیونکہ معافی کے لائق ہی نہیں تھا اس نے اس لڑکی کی زندگی کتنی تنگ کردی تھی وہ سانس لیتے ہوئے بھی تکلیف محسوس کر رہی تھی

یقینا صبح سے اس نے پانی تک نہ پیا تھا ۔گھر کی لائٹ آن کرتا وہ کچن کی طرف آیا جہاں خوشبو دار کھانوں کی مہک اس کی نتھوں سے ٹکرائی ۔

اس کے گھر کا کچن شیشے کی طرح چمک رہا تھا ۔

جس طرح سے جنید نے کہا محبت سے اسے اپنی زندگی میں شامل کیا تھا اسی طرح سے تائشہ نے اس کے گھر کو شاید اپنا گھر مان لیا تھا ۔

پانی کا گلاس بھر کر اس نے کھانا گرم کیا ۔

اپنے اس گناہ کا ازالہ میں تم سے معافی مانگ کر نہیں بلکہ تمہارا خیال رکھتے کروں گا ۔میں معافی کے قابل نہیں ہوں لیکن تم مجھے سزا دینے کی حقدار ہو ۔اور تم جیسے ہی ٹھیک ہو جاؤ گی تم میرے ساتھ کیسا بھی رویہ اختیار کرنے کی حقدارہو ۔

اس غلطی کے بعد پھر میں ساری زندگی تمہاری غلامی کروں تو وہ بھی کم۔ ہوگا ۔

کھاناگرم کر کے کمرے میں آیا ۔

جہاں تائشہ بیڈ پر پڑی چھت کو گھور رہی تھی ۔

اس نے کھانا بیڈ پر رکھااور اسے اٹھانا چاہا ۔

لیکن اسے اپنے قریب محسوس کرتے ہی وہ اپنا چہرہ پھیر گئی شاید ناراضگی کا اظہار کر رہی تھی ۔

سارا دن وہ ایسے ہی پڑی رہی صبح وہ درد برداشت کرتے کرتے اس کے آنکھیں بند ہوگئی اسے لگاجیسے زندگی نے اس پر رحم کر دیا ہے ۔

لیکن ایسا نہ ہوا کڑکتی دھوپ میں نہ جانے کتنی دیر وہ بے ہوش پڑی رہیں ۔اور پھر جب اسے ہوش آیا اس نے اٹھنے کی کوشش کی لیکن اس کے جسم میں اتنی جان ہی نہ تھی ۔

جون کے اس مہینے نے اس تپتے فرش نے اس کی پیٹ کو جھلسا ڈالا اسے لگا شاید وہ جہنم میں ہے ۔اور آگ اسے ہر طرف سے جلا رہی ہے ۔

وہ مسلسل اٹھنے کی کوشش کرتی رہی اور اپنی کوشش میں ناکام ہوتی درد سے بے حال وہ پھر سے بے ہوش ہو گئی

اور پھر سورج ڈوب گیا ۔لیکن وہ فرش اب بھی آگ برسا رہا تھا ۔۔ آہستہ آہستہ شام بھی چلی گئی اور اندھیرا شروع ہوا ۔

وہ ہر تھوڑی دیر کے بعد آنکھیں کھول کے دیکھتی کہ شاید اس انسان کو اس پر رحم آ جائے وہ ایک بار ہی سے دیکھنے واپس آجائے ایک بار ہی پلٹ کر دیکھ لے کہ وہ زندہ ہے یا مر چکی ہے ۔لیکن شاید موت بھی اسے اتنی آسانی سے نہیں آنی تھی

سارا دن لیٹے ہوئے اسے بس ایک بات سوچی تھی کہ اس دنیا میں کوئی نہیں ہے جو اس سے محبت کرتا ہو۔کیا وہ محبتوں کے لائق نہیں ہے کیا وہ محبتوں کے لیے بنائی نہیں گئی ۔اس کی زندگی میں صرف ان محبتوں کا غم نہ تھا اپنوں کی بے رخی ماں کی بیگانگی ۔ ایک انچاہے شوہر کے ہاتھوں ذلت بھی تھی

اور پھر وہ وقت آگیا جنید تیزی سے گھر میں داخل ہوا وہ جانتی تھی کہ اس کے علاوہ کوئی نہیں ہوگا اس نے آنکھیں کھولنے کی کوشش کی مگر کھول نہیں پائی اسے اس کے پیروں سے ایک زور دار ٹوکر لگی تھی ۔

لیکن اس نے اف تک نہ کی ۔ چلاچلا کر وہ اسے اپنا یقین تو پہلے بھی نہ دلا پائی تھی۔ جب وہ اسے جانوروں کی طرح مار رہا تھا خیر اب تو ذرا سی ٹھوکر ہی لگء تھی۔ اگر اتنی مار کھانے کے بعد وہ نہیں مری تھی تو اس سے کیا فرق پڑ جانا تھا ۔

اور پھر جنید اسے اٹھا کر بیڈ روم میں لایا شاید اس کی حالت دیکھ کر اسے اس پر رحم آگیا اس نے اس کے زخموں پر مرہم لگایا اور وہ بس آنکھیں کھولے اسے دیکھتے رہی ۔

پھر وہ کہیں چلا گیا پھر کھانے کا ٹرے لے کر اس کے سامنے بیٹھا تھا ۔

اس وقت نہ تو تائشہ کا کچھ کھانے کا دل کر رہا تھا اور نہ ہی جنید کی شکل دیکھنے کا اوپر سے جس حالت میں وہ جنید کے سامنے تھی وہ بھی اسے اچھا خاصہ شرمندہ کر چکی تھی جنید کے کپڑوں میں شاید وہ اندر ایک گھر بنا کر اس میں رہ بھی سکتی تھی ۔

دیکھو تائشہ تمہاری ناراضگی مجھ سے ہے کھانے سے نہیں وہ جانتا تھا کہ وہ اس کے نرم انداز سے کبھی بھی کھانے کے لئے تیار نہ ہو گی اسی لیے تھوڑا سختی کرتے ہوئے وہ اس کا چہرہ اپنی طرف موڑ کر اسے زبردستی کھانا کھانے لگا ۔

کیونکہ جو بھی تھا جنید نے غلطی کی تھی لیکن وہ اسے بھوکا نہیں رکھ سکتا تھا

آج اس نے سب گاؤں والوں کے ساتھ مل کر کھانا کھایا تھا گاؤں کے ہر گھر سے اس کے لیے کھانا بنا کر بھیجا گیا تھا کر دم پہلے انکار کردینا چاہتا تھا لیکن جس محبت سے وہ سب کچھ اس کے لیے بنا کر لائے تھے وہ چاہ کر بھی انکار نہ کر سکا ۔

لیکن یہ ضرور کہا تھا کہ یہ کھانا صرف آج کے لئے اس کے بعد وہ خود اپنی اور اپنی بیوی کی ذمہ داری اٹھائے گا ۔

گاؤں والوں کے جانے کے بعد جب وہ واپس اپنے کمرے میں آیا دھڑکن استری اسٹینڈ کے قریب کھڑی اپنے کپڑے جما جما کر استری کر رہی تھی جو وہ صبح کالج پہن کر جانے والی تھی

جب کہ اس کے تھوڑے سے فاصلے پر کردم کا سفید کاٹن کا سوٹ کافی سلیقے سے استری کر کے رکھا گیا تھا

دھڑکن یہ تم نے کیا ہے کردم پوچھے بنا نہ رہ سکا ۔

ہاں یہ میں نے کیا ہے لیکن وہ براؤن والا نا وہ لڑکی جو دوپہر میں ہمارے گھر آئی تھی نا اس نے کیا ہے اس نے مجھے سکھایا ہے کہ کاٹن کے کپڑے کس طرح سے استری کیے جاتے ہیں اور اب مجھے آ بھی گیا ہے میں اپنے یہ والے کپڑے استری کر لوں پھر آپ کے باقی کروں گی

گڈ دھڑکن لیکن اب کافی وقت ہوگیا ہے میرے خیال میں سو جانا چاہے پھر تمہیں صبح کالج بھی جانا ہے میں نے دادا سائیں کو آتے ہوئے بتایا تھا کہ وہ جنید کو یہاں بھیج دیں مجھے اس سے تھوڑا کام ہے لیکن پتہ نہیں جنید بھی نہ آیا زمینوں میں لگا رہا ہوگا حویلی جانے کا وقت ہی نہ ملا ہو گا ۔

اس کا ہاتھ تھام کر اسے دوسرے کمرے میں لے جاتے ہوئے بولا

بیچارے جنید لالا کیسے برداشت کرتے ہیں آپ کو دن رات کبھی کبھی ان پر ترس آتا ہے نہ جانے کیسے سہتے ہونگے آپ کا یہ غصے والاانداز وہ اس کے ساتھ چلتی ہلکی آواز میں بولی

لیکن میں نے کہاں غصّہ کیا اس پر کردم نے حیرانگی سے دیکھتے ہوئے پوچھا اس یاد نہ تھا کہ اس نے کبھی بھی جیند پر غصہ کیا یا اس نے کبھی ایسا موقع نہیں دیا ہو

ارے جب بات کرتے ہیں اسے منہ بناکر وہ اب اسکی شکل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی ۔

دھڑکن میں کام کے بارے میں کوئی سیریس بات کر رہا ہوں تو یقینا اس سے مسکرا کر بات تو نہیں کر سکتا کردم نے اس کی غلط فہمی دور کرنا چاہی اس کے سیریس کا مطلب یہ نہ تھا کہ وہ اسے ڈانٹا ہے یا غصہ ہوتا ہے

تو بتائیں یہ کونسی کتاب میں لکھا ہے کہ سیریس بات کرتے ہوئے انسان کا منہ بنا رہے اور وہ غصے سے بولتا رہے انسان کو ہر وقت مسکرانا چاہیے مسکرانے سے چہرہ کھلتا ہے انسان ہمیشہ ینگ رہتا ہے اور سب سے خاص بات ثواب ملتا ہے دھڑکن نے رازدانہ انداز میں کہا ۔

لیکن آپ میری بات نہیں سمجھیں گے کیونکہ آپ تو ہیں ہی ۔۔۔۔۔۔۔

دھڑکن مجھے نیند آ رہی ہے صبح بہت ضروری کام ہے مجھے چلو سونے اس سے پہلے کہ وہ اس کی بورنگ اور ان رومینٹک والے گردان پھر سے سٹارٹ کرتی وہ اسے زبردستی گھسیٹتے ہوئے کمرے میں لے گیا

یہ کیا بکواس کر رہے ہو تم احمق انسان تمہیں کیا لگتا ہے تمہاری گھٹیا بات پے میں یقین کروں گا ۔

اور تم لوگ کھڑے میرا منہ کیا دیکھ رہے ہیں وہ نکالو اسے یہاں سے باہر یہ میرے پوتے کے خلاف بکواس کر رہا ہے اور جھوٹ بول رہا ہے ۔

میں جھوٹ نہیں بول رہا شاہ سائیں اگر مجھ پر یقین نہ ہو تو کچھ ہی دیر میں تمہارا ہوتا تمہاری نئی بہو لے کر آئے گا تو تم بھی یقین کر لینا ۔

اور تب تک میں بھی یہاں سے نہیں جاؤں گا کیونکہ مقدم شاہ کی حقیقت جاننے کے بعد میری بیٹی میرے ساتھ چلے گی میں اسے یہاں نہیں رہنے دوں گا

حوریہ میں یہی اس حویلی کے باہر تمہارا انتظار کر رہا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ حقیقت جاننے کے بعد مقدم شاہ جیسے مکار انسان کے ساتھ نہیں رہنا چاہو گی ۔

ملک کہتے ہوئے باہر کی طرف قدم اٹھانے لگا ۔

یہاں باہر کھڑے رہنے کی تو ضرورت نہیں ہے آپ کو ملک صاحب لیکن اگر آپ یہاں رہنا چاہتے ہیں تو شوق سے روکے کیونکہ مجھے میرے نانا سائیں اور شوہر پر پورا یقین ہے میرے مقدم سائیں کبھی مجھے دھوکا نہیں دے سکتے کیونکہ وہ آپ کی سوچ سے زیادہ مجھ سے محبت کرتے ہیں

لیکن پھر بھی میں آپ کو اس بات کا یقین دلانے کے لیے آپ کو یہاں باہر رکھنے کی اجازت دیتی ہوں۔

حوریہ نے اسے گھورتے ہوئے کہا اور یہ کوئی اسے اس کی بات پر بھی یقین نہ تھا لیکن اس کے الفاظ اس کے قدم ڈگمگا گئے تھے ۔

لیکن پھر مقدم کی وہ محبت یاد آئی وہ اس کے بغیر رہ نہیں لے سکتا دوسری شادی کرنا تو ناممکن تھا۔

حوریہ بیٹی اپنے لفظوں پر پچھتاؤگی اس دوغلے انسان پر اتنا یقین اچھا نہیں ۔

میں آپ کی بیٹی نہیں ہوں ملک صاحب میں قاسم شاہ سائیں کی نواسی ہوں اور مقدم شاہ کی بیوی ہوں بہتر ہوگا کہ باہر جا کے آپ اپنی یہ غلط فہمی بھی دور کر لیں ۔

نانا سائیں مقدم سائیں کو فون کریں اس نے ملک کو گھورتے ہوئے پلٹ کر نانا سائیں کی طرف دیکھا ۔

جب کہ اپنی بیٹی کی اس حد تک بے گانگی کو سہتے ہوئے ملک خود ہی وہاں سے باہر چلا گیا

رات 11 بجے کا وقت ہو چکا تھا وہ مسلسل مقدم کا انتظار کر رہے تھے

نا احمد شاہ واپس آئے اور نہ ہی سویرا اور اب تو مقدم بھی غائب تھا دادا سائیں نے فون پر اسے فورا گھر پہنچنے کے لئے کہا تھا جبکہ مقدم کے لہجے سے ہی وہ اندازہ لگا چکے تھے کہ وہ بہت پریشان ہیں

رات گیارہ بجے کے قریب احمدشاہ کے زخمی وجود کو سہارا دیتے ہوئے وہ اندر لایا ۔

جبکہ مقدم کے کندھے کی چادر سے سویرا نے اس وقت اپنا وجود چھپائے رکھا تھا

کہاں تھے تم مقدم سائیں اور یہ احمد سائیں کو کیا ہوا ہے داداسائیں احمد سائیں کو صوفے پر لٹاتے ہوئے اسے دیکھا اور پریشانی سے پوچھنے لگے

کچھ نہیں دادا سائیں بس ایک ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے اللہ کا شکر ہے وہ ٹھیک ہیں اور باقی میں سب کچھ آپ کو کمرے چل کر کے بتاتا ہوں وہ انہیں دیکھتے ہوئے بولا جبکہ احمد شاہ نظریں زمین میں گاڑے شاید اپنے آنسو چھپا رہے تھے جبکہ سویرا کی غیر ہوتی حالت دیکھ کر حوریہ کے اندر عجیب ساڈر جاگا تھا ۔

اس کی حالت بہت بری تھی لیکن حوریہ میں پھر بھی اتنی ہمت نہ ہوئی کہ وہ اسے سہارا دے سکتی اسے لگا سویرا ابھی گر کر بے ہوش ہو جائے گی ۔لیکن وہ پھر بھی اپنی جگہ سے نہ ہلی اس وقت اس کا دھیان صرف سویرا کے وجود سے لپٹی مقدم کی چادر پر تھا جس پر صرف اس کا حق تھا

نازیہ اور رضوانہ رات شروع ہونے سے پہلے ہی اپنے اپنے بیڈ روم میں گھس کر سو جایا کرتیں تھیں لیکن شاید باہر شورشرابہ سن کر وہ بھی باہر آگئیں

دادا سائیں کمرے میں چلے مجھے آپ سے بہت ضروری بات کرنی ہے وہ دادا سائیں کو دیکھ کر مخاطب ہوا تو دادا سائیں ہاں میں سر ہلاتے اپنے کمرے کی طرف قدم بڑھانے لگے ۔

حورسویرا کو اس کے کمرے میں چھوڑ دو اور تم بھی کمرے میں جاکر میرے کپڑے نکالو میں آرہا ہوں وہ اسے دیکھتے ہوئے بولا شاید اس کا دھیان سویرا کے وجود سے ہٹانا چاہتا تھا

تو وہ ہاں میں گردن ہلاتے سویرا کو دیکھنے لگی

آپ نے مقدم سائیں کی چادر کیوں اڑی ہوئی ہے حوریہ کے اندر جلن کی شدت اس کے چہرے پر ظاہر ہونے لگی تھی اس کے شوہر کی چادر اس کے پاس کیا کر رہی تھی یا شاید ملک کے لفظوں کا اثر تھا کہ وہ اس سے پوچھنے لگی ۔

وہ اتنے سالوں سے نازیہ کو دیکھتی آئی تھی وہ جب کبھی کہیں باہر جاتی تو اپنے محروم شوہر کی چادر کو اپنے گرد پھیلا کر جاتی یہ ان کے خاندان کا رواج تھا کہ اس اجرک پر عورت کے سر کے سائیں کے بعد اس کا حق تھا

تمہیں اس بات سے کوئی مطلب نہیں حور جو میں نے کہا ہے وہ کرو وہ سختی سے بولا

مجھے مطلب ہے ۔اس چادر پر آپ کے بعد میرا حق ہے مقدم سائیں اتاریں چادر اور دیں مجھے وہ انتہائی غصے سے بولی

زبان سنبھال کر بات کرو حوریہ اس پر سویرا کا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا کہ تمہارا وہ میری بیوی ہے۔

وہ اس وقت کسی قسم کی بحث نہیں چاہتا تھا لیکن پھر بھی یہ کہتے ہوئے وہ حوریہ سے نظریں چڑاگیا

اگر یہ بیوی ہے تو میں کون ہوں حوریہ چلائی تھی شاید وہ اس کے جواب کے لئے تیار کھڑی تھی

ؐلیکن آج وہ اسے یہ نہیں کہہ سکا تھا کہ تم مقدم شاہ کا “سب کچھ” ہو

میں بحث نہیں کرنا چاہتا ۔بس ایک بات یاد رکھنا

کہ سویرا کے ساتھ کسی قسم کی بدتمیزی میں برداشت نہیں کروں گا ۔

مقدم شاہ آنکھوں میں نرمی لیکن لہجے میں سختی لیے ہوئے تھا ۔

اگر آپ کو بیوی مل گئی ہے تو آپ کو میری کیا ضرورت ہے۔

شاید آج وہ اس کے لہجے سے خوف نہیں کھا رہی تھی ۔سب کچھ چھن جانے کے خوف سے بھر کر اور کوئی خوف نہ تھا

آپ کو آپ کی بیوی اور اس خاندان کو اس خاندان کی بہو مل چکی ہے میرا نہیں خیال کہ آپ میں سے کسی کو میری ضرورت ہے اسی لئے میں جارہی ہوں یہاں سے اسے یقین تھا اور کوئی ہو نہ ہو لیکن دروازے کے باہر اس کا باپ ضرور اس کا انتظار کر رہا ہو گا

اگر تم نے خویلی سے قدم بھی باہر رکھانہ تو چلنے پھیرنے کے قابل نہیں رہو گی وہ سخت نظروں سے اسے گھورتے ہوئے بولا ۔

مجھے نہیں رہنا آپ کے ساتھ طلاق چاہیے مجھے وہ روتے ہوئے اپنی شوہر کی بیوفائی کا سوگ منا لیتی

سویرا کو اپنی سوتن کے روپ میں قبول نہیں کر پا رہی تھی

لیکن اس کی بات سننے کے ساتھ مقدم شاہ کا طمانچہ پوری حویلی میں گونجا تھا ۔

اس کے بعد مقدم شاہ نے کسی کی بھی پرواہ کیے بغیر اس کا ہاتھ تھاما اور گھسیٹتا ہوا کمرے میں لے آیا۔

دیکھو حوریہ اس وقت مجھے تمہاری ضرورت ہے ۔میں تمہیں سب کچھ بتاوں گا بس تھوڑا سا صبر کر لو تمہارے علاوہ نہ تو مقدم شاہ کے دل میں کوئی آ سکتا ہے اور نہ ہی مقدم شاہ اس دل میں کسی اور کو آنے دے گا اگر تمہارے علاوہ اس دل نے کبھی کسی کا نام بھی لیا تو اسے چیر کر باہر پھینک دے گا لیکن تمہیں مجھے سمجھنا ہوگا ۔

اس کا چہرہ پکڑے شاید اسے اپنا یقین دلارہا تھا یا شاید اپنی بے وفائی کی کوئی وجہ بنانے کی کوشش کرنے کے لئے ٹائم مانگ رہا تھا جو بھی تھا حوریہ کے لئے اس بے وفائی سے بڑا اور کوئی عذاب نہیں۔

اس کے جانے کے بعد وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی

ایک ہی پل میں اس کا سب کچھ تباہ ہوگیا اس کے خواب سچ ثابت ہوگئے مقدم شاہ نے کسی اور کا ہاتھ تھام لیا ۔