267.3K
86

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bheegi Palkon Par Naam Tumhara (Episode 45)

Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah

کردم سائیں جنید تو کہہ رہا تھا کہ چودھری آپ کو دھمکیاں دے رہا ہے ۔اگر آپ نے اس زمین پر کام شروع کروایا تو وہ آپ کو قتل کروا دے گا میں تو صبح سے یہاں پہ کام پر لگا ہوں یہاں پر تو کوئی نہیں آیا ۔

کردم ابھی باقی کام نمٹا کر واپس آیا تھا جب اسے پتہ چلا کہ مقدم اسی زمین پر کام شروع کروا چکا ہے ۔

اسی لیے وہ فوراً ہی اس زمین پر آگیا ۔

ویسے اسے چودھری کا کوئی ڈر تو نہ تھا لیکن پھر بھی وہ مقدم پر کوئی رسک نہیں لینا چاہتا تھا

جی مقدم سائیں وہ کہہ تو رہا تھا لیکن شاید اسے پتہ چل گیا ہے کہ یہاں آپ ہیں ۔اسی لیے اس طرف نہیں آیا ۔

ڈرتا ہے آپ سے کردم نے مسکراتے ہوئے کہا

ارے مجھ سے کیوں ڈرتا ہے میں تو اس کا مسیحا ہوں میں نے اس کی جان بچائی ہے اسے اسپتال چھوڑکےآیا تھا وہ بھی اپنی زندگی کے سب سے خاص دن پر اپنی شادی کے دن پر ۔

کوئی کرتا ہے کیا کسی کے لئے اس طرح لیکن میں نے کیا مقدم نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا

لیکن آپ نے ایسا کیوں کیا ۔۔کیا یہ بتانا پسند کریں گے آپ ۔۔ ؟کردم اب بھی مسکرا رہا تھا ۔

اس کی جان بچانے کے لیے مقدم نے یقین دلانا چاہا

جی نہیں مقدم سائیں آپ نے یہ سب کچھ اس کی جان بچانے کے لیے نہیں بلکہ اپنا ہاتھ بار بار اس پر صاف کرنے کے لیے کیا ہے ۔

آپ کو ایک پنچنگ بیگ چاہیے تھا کیوں کے اس بے جان پنچیگ بیگ سے آپ کا دل بھر چکا ہے اس لیے آپ نے اپنے لئے ایک جیتے جاگتے پنچنگ بیگ کا انتظام کیا ہے تاکہ جب بھی آپ کا کسی کو پیٹنے کا دل کرے آپ اپنے اس پنچنگ بیگ میرا مطلب ہے چودھری کا استعمال کر سکیں ۔

کردم کی مسکراہٹ ابھی بھی برقرار تھی۔

ویسے ایسا کچھ نہیں ہے لیکن اگر آپ کو ایسا لگتا ہے تو میں آپ کی سوچ کو بدل نہیں سکتا مقدم نے اپنی مسکراہٹ دباتے ہوئے کہا تھا جبکہ اس کے اس انداز پر کردم قہقہ لگا کر ہنس دیا

سب کچھ تیار ہے نا دیکھو کوئی گڑبڑ نہیں ہونی چاہیے جس طرح سے میں نے کہا ہے بالکل اسی طرح سے ہونا چاہیے ۔

گولی اس کے سینے کے بیچوں بیچ لگنی چاہیے اگر وہ زندہ بچ گیا تو تم میں سے کوئی ایک بھی زندہ نہیں بچے گا ۔

اور ایک بات کا دھیان رکھنا مقدم شاہ پر گولی کس نے چلائی ہے یہ بات کبھی کسی کو پتا نہیں چلنی چاہیے اس کے بعد میں اپنی بیٹی کو اپنے پاس لے آؤں گا ۔

میرا نہیں خیال کے شاہ خاندان اپنے پوتے کی بیوہ کو واپس اس خویلی رکھنا چاہے گا۔

اور میں اپنی بیٹی کو سمجھا کر ہمیشہ کے لیے اپنے پاس لے آؤں گا ۔

مقدم شاہ جو اپنے باپ کے موت کا انتقام لینے کے لیے میری بیٹی کا استعمال کر رہا ہے ایسا کبھی نہیں ہونے دوں گا ۔

تم بس وہ کرو جو میں کہتا ہوں ۔

ملک نے حکم دیتے ہوئے فون بند کر کے رکھا تھا جب اسے احساس ہوا کہ جیسے کوئی اس کی بات سن رہا ہولیکن پلٹ کر دیکھنے پر وہاں کوئی بھی موجود نہ تھا ۔

اگر کوئی سن بھی لیتا تو اس کا کیا اکھاڑ سکتا تھا یہ حویلی اس کی تھی کوئی اس کی باتیں سن بھی لیتا تو اس کا کیا جاتا کیونکہ ملک کے علاقے کے کسی بھی انسان کو اس طرف جانے کی اجازت نہ تھی۔

اسے یقین تھا یہ خبر کبھی اس کی حویلی سے باہر نہیں نکلے گی ۔

لیکن پھر بھی کون ہو سکتا ہے جو اس کی باتیں چھپ کر سن رہا ہو

حوریہ کا فون کب سے بج رہا تھا ۔لیکن وہ کمرے میں نہیں تھی نہ جانے کتنی بار اس کا فون بج بج کر بند ہوگیا ۔

وہ باہر صوفے پر بیٹھی مقدم کے آنے کا انتظار کر رہی تھی ۔

لیکن مقدم تھا جو آنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا ۔

ویسے تو میرے بغیر ایک پل بھی نہیں گزرتا اور اب جب میں انتظار کر کرکے ہلکان ہو رہی ہوں تب آنے کا نام ہی نہیں لے رہے ۔

حوریہ نے ابھی تک کچھ نہیں کھایا تھا اس کا ارادہ مقدم کے ساتھ ڈنرکرنے کا تھا ۔

لیکن نجانے مقدم کہاں رہ گیا تھا ۔

اس کی واپسی کا انتظار کرتے وہ کبھی ادھر سے ادھر ٹہلتی تو کبھی صوفے پر تھک کر بیٹھ جاتی ۔

یہ انتظار کتنامشکل ہوتا ہے اس بات کا احساس آج حوریہ کو پہلی بار ہوا تھا ۔

دھڑکن جو ابھی دادا سائیں کے کمرے سے لڈو کھیل کر واپس اپنے کمرے میں جا رہی تھی اسے باہر صوفے پر بیٹھا دیکھ کر پوچھنے لگی ۔

کیسی لاپرواہ بیوی ہو تم دھڑکن ابھی تک کردم لالا نہیں آئیں اور تم اپنے کمرے میں سونے کے لئے جا رہی ہو اور اس سے پہلے نانا سائیں کے ساتھ مستیاں کر رہی تھی ۔

کتنی غلط بات ہے تمہیں یہاں میرے ساتھ بیٹھ کر دم لالہ کا انتظار کرنا چاہیے ۔نہ جانے انہیں کیا کام پڑگیا ہو اور کتنی دیر سے وہ آئیں نہ جانے ان بے چاروں نے کھانا بھی کھایا ہوگا یا نہیں

وہ اپنا غصہ اس پر نکالتے ہوئے اسے سمجھانے لگی ۔

میری پیاری بہن اگر آپ انتظار کر کرکے اتنی تھک چکی ہیں تو فون کس لیے بنائے گئے ہیں ابھی فون کر کر پوچھ لیں کے مقدم سائیں آپ کہاں رہ گئے ہیں اور کب تک آئیں گے دھڑ کن نے اسی کے انداز میں اس کی نقل اتارتے ہوئے کہا

اس طرح سے ان کا انتظار کرنے سے بہتر ہے کہ آپ آرام سے جاکر کمرے میں انہیں فون کریں اور انہیں جلدی واپس آنے کے لیے کہیں۔

اگر تو وہ کھانا کھا کے آئیں تو آپ آرام سے سو جائیں لیکن اگر وہ کھانانہ کھا پائیں تو آپ ان کا انتظار کریں یہاں پر باہر بیٹھ کر اپنی کمر کیوں توڑیں بھئی ۔۔۔؟مانا کے شوہر کا خیال رکھنا فرض ہے ۔لیکن شوہر جناب کوبھی تو پتہ ہونا چاہیے کہ گھر میں کوئی معصوم ان کا انتظار کر رہا ہے ان کے لیے بھوکھا بیٹھا ہے ۔

چلیں اب آپ بھی فوراً یہاں سے اٹھ کر اپنے کمرے میں جائیں اور مقدم لالہ کو فون کریں ان سے پوچھیں کہ وہ کب تک آئیں گے اور اگر جلدی آنے کا ارادہ نہیں ہے تو آپ آرام سے سو جائیں ۔

گڈ نائٹ وہ پیار سے اس کے گال پر چٹکی کاٹتی اپنے کمرے میں چلی گئی ۔

سہی تو کہہ رہی ہے دھڑکن یہ فون ہوتے کس لیے ہیں اپنی عقل سے ہاتھ مارتی وہ اٹھ کر اپنے کمرے میں چلی گئی

یہ تم کیا کہہ رہی ہو جدیجہ ایسا نہیں ہوسکتا ہے ۔

احسن اتنا نہیں گر سکتا کہ اپنے ہی داماد کو مارنے کی کوشش کرے وہ اتنا ظالم نہیں بن سکتا کہ وہ اپنی ہی بیٹی کو بیوہ کرنا چاہے ۔

اماں سائیں کو خدیجہ کی باتوں پر یقین نہ آیا جو ابھی ابھی ملک کی فون پر ہونے والی گفتگو کو سن کر انہیں بتا رہی تھی ۔

نہیں بڑی بی بی جی میں نے اپنے کانوں سے سنا ہے وہ کہہ رہے تھے کی گولی مقدم شاہ کو لگنی چاہیے اور یہ بات کسی کو پتہ نہیں چلنی چاہیے اس کے بعد وہ حوریہ بی بی کو ہمیشہ کے لئے یہاں لے آئیں گے ۔

اور انہیں حویلی والوں کے خلاف کر دیں گے ۔

وہ کہہ رہے تھے کہ حوریہ بی بی کا شوہر اپنے باپ کے قتل کا انتقام لینے کے لیے حوریہ بی بی کو استعمال کر رہا ہے ۔

بڑی بی بی جی کیا وہ حوریہ بی بی پر بہت ستم ڈہاتا ہوگا جس طرح سے ملک صاحب اہانہ بی بی کو مارتے پیٹتے تھے خدیجہ نے ڈرتے ہوئے پوچھا

مجھے نہیں پتہ مجھے بس یہ پتا ہے کہ میں اپنی نواسی کو بیوہ ہوتے ہوئے نہیں دیکھ سکتی ہمیں جلد زا جلد کے بات شاہ سائیں تک پہنچانی پڑے گی انہیں بتانا پڑے گا کہ ان کے پوتے کی جان خطرے میں ہے ۔

لیکن یہ کیسے ہوگا بڑی بی بی جی ملک صاحب نے تو اس علاقے کے کسی بھی بندے کو اس علاقے میں جانے سے منع کر دیا ہے ۔خدیجہ نے فکر مندی سے پوچھا ۔

نہیں خدیجہ کچھ تو کرنا پڑے گا ہمیں کوئی نہ کوئی حل نکالنا پڑے گا ہمیں یہ خبر کسی بھی طرح شاہ سائیں تک پہنچانی ہوگی اس سے پہلے کہ کوئی بہت بڑا نقصان ہو جائے اماں سائیں نے فکر مندی سے کہا

حوریہ نے کمرے میں قدم رکھا تو اس کا فون پہلے سے ہی بج رہا تھا وہ تیزی سے دوڑتی ہوئی اس کے پاس پہنچی لیکن وہ پہلے ہی بند ہوگیا ۔

یہ مقدم کی 35ویں مسٹڈکال تھی۔

اپنے موبائل کی سکرین کو دیکھتے ہوئے وہ ایک پل کے لئے شرمندہ ہو گئی اور پھر اگلے ہی لمحے تیزی سے بٹن دباتی ہوئی کال بیک کرنے لگی

مانا کہ ہم عاشق ہیں آپ کے لیکن اس طرح سے تڑپانا عاشقی کے اصولوں میں نہیں آتا وہ ہر بار کی طرح اپنے دل موہ لینے والے انداز میں بولا ۔

وہ دراصل میں نیچے بیٹھی تھی آپ کا انتظار کر رہی تھی فون اندر کمرے میں تھا پتا نہیں چلا وہ جلدی سے بولی جبکہ اس کے انداز پر وہ دلکشی سے مسکرایا تھا ۔

اس بات کا بدلہ ہم آپ سے گھر آ کرلیں گے ۔آخر اتنا تڑپایا ہے آپ نے ہمیں وہ اب بھی دلکشی سے مسکرا رہا تھا

اوف یہ شخص ہر بار اتنی محبت سے بات کیسے کر لیتا تھا کیا اسے حوریہ کی کوئی بات بری نہیں لگتی تھی

میری کوئی غلطی نہیں ہے مقدم سائیں میں سچی میں آپ کا انتظار کر رہی تھی حوریہ نے یقین دلانے والے انداز میں کہا

مجھے پتا ہے میرے دل کا قرار میرا بیتابی سے انتظار کر رہا ہو گا لیکن میں اتنی دیر سے تمہیں یہیں بتانے کے لیے فون کر رہاتھا کہ کل کا سارا دن کردم سائیں شادی میں نکل جائے گا ۔

اور پھر پرسوں ولیمہ ہے اسی لئے کام کا بالکل ٹائم نہیں ملے گا ۔کردم سائیں نے چھوٹےچھوٹے بہت سارے کام چھڑ رکھے ہیں۔

جن کو نمٹاتے ہوئے مجھے بہت دیر ہو جائے گی اسی لیے تم آرام سے سو جاؤ میرا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور کھانا کھا لینا ۔

مقدم نے اسے پیار سے سمجھاتے ہوئے کہا ۔

ٹھیک کہتی تھی دھڑکن اگر وہ پہلے ہی مقدم کو فون کر کے پوچھ لیتی تو اس وقت تک وہ اپنی آدھی نیند بھی پوری کر چکی ہوتی ۔

ٹھیک ہے آپ اپنا کام ختم کر کےآرام سے آئیے گا حوریہ نے فون رکھتے ہوئے کہا ۔

اور خود کچن کا رخ کیا اسے اس وقت بہت بھوک لگ رہی تھی