Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah Readelle50340 (Bheegi Palkon Par Naam Tumhara Hai) Epi 13
No Download Link
Rate this Novel
(Bheegi Palkon Par Naam Tumhara Hai) Epi 13
سویرا پریشانی سے کمرے میں واپس آئی نہیں وہ مقدم شاہ نہیں ہو سکتا نہیں میں ایسا کیسے کر سکتی ہوں یہ میں نے کیا کر دیا اپنے ہاتھوں سے سب کچھ تباہ کر دیا اب کیا ہوگا کیا اس کی شادی ہو جائے گی ۔
نہیں مقدم شاہ میرا منگیتر ہے میں اسے اس طرح سے کسی سے شادی نہیں کرنے دوں گی مجھے بابا سائیں سے بات کرنی چاہیے ۔
میں ان سے معافی مانگ لوں گی مجھے یقین ہے وہ میری ساری باتیں مانیں گے ۔
نہیں میں اپنی پہلی محبت کو خود سے دور نہیں جانے دوں گی ۔اس وقت کو وہ بھول چکی تھی کہ وہ ولیم نامی کسی شخص کے عشق میں گرفتار ہے ۔
پتا تھا تو بس اتنا کہ وہ مقدم شاہ کے بغیر نہیں رہ سکے گی ۔
۔وہ جلدی سے کمرے سے باہر نکلی تاکہ اپنے بابا کے کمرے میں جا سکے لیکن سامنے سے مقدم شاہ کو آتے دیکھ کر اس کے لب مسکرائے
عجیب سا احساس اس کے چاروں اور تھا ۔
وہ شخص اپنی مثال آپ تھا اسے خود پر حیرت ہو رہی تھی کہ وہ اس شخص کے لئے کس قسم کے الفاظ استعمال کرتی رہی ۔
وہ شخص تو شہزادوں کی آن بان رکھنے والا تھا ۔
اس کے قدم اپنے آپ ہی اس کی طرف اٹھنے لگے ۔
پھر سویرا نے نوٹ کیا کے اس کا دھیان کہیں اور تھا
مقدم شاہ کے لبوں پر تبسم تھا ۔
سویرا نے اس کی نظروں میں کسی اور کے لئے جذبات دیکھے مقدم شاہ کے قدم کچن کی طرف اٹھ رہے تھے ۔
اس نے شاید سویرا کو دیکھا تک نہیں تھا یا شاید اگنور کر گیا ۔
وہ کچن میں کیوں جا رہا تھا سویرا کے لئے اندازہ لگانا مشکل تھا وہ تو بس اسے جاتا ہوا دیکھ رہی تھی
••••••••••
تم مجھ سے چھپ رہی ہو۔۔۔۔۔؟
اپنے پیچھے اچانک اس کی آواز سن کر حوریہ اچھلی تھی
اس کے ڈر جانے کی وجہ سے مقدم شاہ ہمیشہ کی طرح دل کھول کر مسکرایا ۔
وہ دل موہ لینے والی مسکراہٹ لیے اس کے ہوشربا حسین چہرے کو دیکھ رہا تھا۔
کتنی بار کہا ہے تمہیں عادت ڈالو زندگی بھر کام آئے گی خیر ویسے آب تک تو عادت ہو جانی چاہیے تمہیں مقدم شاہ نے فاصلہ کم کرتے ہوئے کہا وہ بالکل اس کے قریب آ گیا تھا
مقدم لالہ ۔۔۔۔۔میرا مقصد مطلب ہے مقدم سائیں حوریہ کو خود سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ سامنے کھڑے آدمی سے کیا کہے
اف ظالم دل خوش کر دیا تم نے
آج اپنے لبوں سے میرا نام لے کر وہ نثار ہوتے انداز میں ایک بار پھر سے اس کے قریب ہوا ۔
جبکہ وہ خاموش نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی
ایک بار پھر سے میرا نام لو نہ اپنے لبوں سے تمہارے لبوں سے اپنا نام بھی پیارا لگتا ہے سکون سا ملتا ہے وہ اس کے بالکل قریب کھڑا فرمائش کر رہا تھا
کوئی آجائے گا
یہ میرا نام نہیں ہے ۔۔۔وہ بدمزا ہوا
اس وقت اپنے نام کے سوا میں اور کچھ نہیں سننا چاہتا
مقدم سائیں راستہ دیں وہ اس کی ضد سے اچھی طرح سے واقف تھی اسی لیے دھیمی آواز میں احتجاج کیا
کوئی آتا ہے تو آتا رہے مجھے پروا نہیں مقدم شاہ کسی سے نہیں ڈرتا آج تم نے مجھے بہت خوشی دی ہے
اور تمہیں اس کا انعام ضرور ملے گا آج رات تم میرے کمرے میں آؤ گی مقدم شاہ نے ایک اور حکم دیا
مقدم شاہ میں کیسے ۔۔۔۔۔۔۔میں آپ کے کمرے میں کیسے آسکتی ہوں ۔۔،۔ ۔ کیا ہوگیا ہے آپ کو ۔۔۔۔۔۔۔۔میں کیوں میں ۔حوریہ بوکھلا کر بولی
حوریہ کا سارا دھیان دروازے پر تھا
کیوں آوگی کیا مطلب ہے بولا نہیں میں تمہیں انعام دوں گا ۔اور کیسے آؤگی کا جواب اس سے بھی زیادہ آسان ہے اپنے پیروں پر چل کر ۔ورنہ تمھارے لیے اپنی باہوں میں اٹھا کر لانے کا انتظام بھی کر سکتا ہوں وہ چہرے پر شرارت لیے بولا
مقدم سائیں بات کو سمجھنے کی کوشش کریں
کمرے میں آکر سمجھا دینا سمجھ جاؤں گا وہ اس کی بات کاٹتے ہوئے بولا
حوریہ نے بے بسی سے دیکھا لیکن سامنے کھڑے شخص کو اس بات کی پرواہ نہ تھی ۔وہ اس وقت بس اپنی ضد پوری کرنا چاہتا تھا
آخر اس کی ہونے والی بیوی اس کی بات کیوں کر نا مانے ایک تفصیلی نظر اس کے حسین سراپے پر ڈالتا وہ باہر نکل گیا
سویرا کی نظروں نے دور تک اس کا پیچھا کیا اور ایک غصلی نگاہ سے کچن میں کام کرتی حور یہ کو دیکھا ۔
میں مقدم شاہ کو تمہارا کبھی نہیں ہونے دوں گی حوریہ وہ صرف میرا ہے اور میرا رہے گا سویرا غصے سے اسے دیکھتی احمدشاہ کے کمرے کی طرف جا چکی تھی
•••••••••••••
تم یہاں کیوں آئی ہو۔۔۔۔؟
اب کیا کوئی کسر باقی رہ گئی ہے احمدشاہ اسے دیکھتے ہی نظر پھیر گئے
ایم سوری بابا سائیں میں نے آپ کو شرمندہ کیا پلیز مجھے معاف کر دیں مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوگئی آئی ایم ویری سوری پلیز معاف کردیں مجھ سے غلطی ہوئی ہے
میں نے جو بھی کیا وہ بہت غلط تھا مجھے یہ سب کچھ نہیں کرنا چاہیے تھا میں کل سے آپ سے معافی مانگنا چاہتی تھی لیکن ہمت ہی نہیں کر پائی
اس ولیم کے لئے میں آپ کو نہیں چھوڑ سکتی بابا سائیں مجھے معاف کردیں آپ جہاں کہیں گے میں وہی شادی کروں گی لیکن پلیز آپ مجھ سے خفا نہ ہوں آپ چاہتے ہیں میں اس مقدم شاہ سے شادی کر لوں تو ٹھیک ہے میں اس سے شادی کرنے کے لیے تیار ہوں چاہے آج ہی میرا نکاح کر دیں چاہے آج ہی میری شادی کر دیں
اس نے اپنی آنکھوں سے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا تو بابا سائیں نے اس کے چہرے پر دیکھا
مجھے خوشی ہے کہ تمہیں تمہاری غلطی کا احساس ہو گیا لیکن اب تمہاری شادی مقدم شاہ سے تو نہیں ہوسکتی اس کی نسبت طے ہوچکی ہے اگر نہ بھی ہوتی تو بھی وہ اپنی اتنی انسلٹ کے بعد تم سے شادی ہرگز نہ کرتا بابا سائیں نےگویا اسے احساس دلایا تھا کہ وہ اپنی تقدیر پر اپنے ہاتھوں سے پانی پھیل چکی ہے
وہ جن قدموں سے آئی تھی انہیں سے واپس لوٹ گئی
•••••••••••
احمد شاہ اپنے کمرے میں بیٹھے تھے جب باباسائیں کا پیغام آیا
بابا سائیں انہیں اپنے کمرے میں بلایا تھا
وہ خوشی سے ان کے کمرے کی طرف آئے آج اتنے سالوں بعد بابا سائیں نے انہیں بلایا تھا احمدشاہ کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا
کیا میں اندر آ سکتا ہوں ۔۔۔۔۔؟دروازے پر کھڑے ہو کر انہوں نے اجازت چاہی
ہاں احمد شاہ اندر آجائیں ہم آپ ہی کا انتظار کر رہے تھے ہمیں آپ سے ایک بہت ضروری بات کرنی ہے وہ انہیں اندر آنے کی اجازت دیتے ہوئے بولیں
جی بابا سائیں حکم کریں
احمد شاہ ہم سوچا رہے تھے کہ ہمیں تمہیں معاف کرنا چاہیے یا نہیں تو ہمارے دل کے ہر کونے نے یہی کہا کہ تم معافی کے لائق نہیں ہو ۔
بابا سائیں نے انہیں دیکھتے ہوئے کہا تو وہ نظر جھکا گئے
وہ جانتے تھے کہ ان کے سامنے بیٹھا ان کا بیٹا کچھ نہیں کہے گا
لیکن پھر بھی ہم نے سوچا ہے کہ ہم تمہیں معاف کریں گے لیکن اس کے لیے ہماری شرط ہے انہوں نے احمد شاہ چہرے پر خوشی کی ایک لہر دیکھی
بابا سائیں مجھے آپ کی ہر شرط منظور ہے آپ حکم کریں وہ کرسی سے اٹھ کر ان کے قدموں میں آ گئے تھے
حکم کریں بابا سائیں میں آپ کو کیا دے سکتا ہوں میرے لائق کوئی خدمت جو آپ کو خوشی دے آپ کو کیا چاہیے آپ کی معافی کے لئے احمد شاہ اپنی جان بھی دے دے گا
ہمیں دھڑکن چاہیے احمد شاہ بابا سائیں نے ان کی بات کاٹتے ہوئے کہا ہم چاہتے ہیں کہ دھڑکن ہمیشہ ہمارے پاس رہے ہماری نظروں کے سامنے
اس لئے ہم تم سے دھڑکن کا ہاتھ اپنے پوتے کردم شاہ کے لیے مانگتے ہیں بابا سائیں کےکہنے کی دیر تھی احمد شاہ ان کا چہرہ دیکھنے لگا
بولو احمدشاہ کیا تم اپنی بیٹی کا رشتہ ہمارے پوتے سے کرنے کے لیے تیار ہو بابا سائیں نے ان کے چہرے پر نظریں جما کر پوچھا
بابا سائیں کردم شاہ تو تائشہ کے منگیتر ہیں
تم اپنا فیصلہ سناؤ اس بار وہ زرا سخت لہجے میں بولے
بابا سائیں کردم شاہ اور دھڑکن کی عمر میں بہت فرق ہے
تو ہم تمہاری طرف سے انکار سمجھیں ۔۔۔۔۔۔؟بابا سائیں سخت لہجے میں کہا
میں ایک بار دھڑکن سے بات کرتا ہوں انیہں اٹھتے دیکھ کر وہ جلدی سے بولے
بابا سائیں نے ایک نظر ان کے چہرے کو دیکھا کہ ابھی تک تو انہوں نے کردم شاہ سے بھی بات نہیں کی تھی ۔
نہ جانے وہ کیسے ری ایکٹ کریں گے اس بات پر
بابا سائیں جانتے تھے کہ وہ احمد شاہ کو ایک بہت بڑے امتحان میں ڈال چکے ہیں ۔
احمد شاہ خامو شی سے ان کے قریب سے اٹھ کر دھڑکن کے کمرے میں آئے تھے
••••••••••••••••
ارے بابا سائیں آپ یہاں اندر آئیں انہیں اپنے کے کمرے کے دروازے پر کھڑے دیکھ کر وہ بولی
مجھے تم سے کچھ پوچھنا ہے وہ اس کے چہرے کو دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے بولے
جی پوچھیں نا ۔۔
اگر میں تمہاری شادی کرنا چاہوں اپنی مرضی سے تو کیا تم ہاں کرو گی احمد شاہ نے اس کے معصوم چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا تو پریشانی سے انہیں دیکھنے لگی
بابا سائیں ابھی تو میں اسٹڈی بھی کمپلیٹ نہیں ہوئی وہ انہیں دیکھتے ہوئے بولی
تم شادی کے بعد بھی اپنے اسٹڈی کر سکتی ہو بابا سائیں اس کے چہرے کو غور سے دیکھتے ہوئے بولے شاید وہ اس کے آگلے بہانے کا انتظار کر رہے تھے
وہ انہیں خود کو دیکھتے دیکھ کر مسکرائی
آپ کی مرضی بابا سائیں آپ کی دھڑکن آپ کی مرضی کے خلاف کبھی نہیں جائے گی دھڑکن ان کے گرد بازو پھیلا کر بولی تو مسکرا دیئے
تھینک یو سو مچ بیٹا تم نہیں جانتی کہ آج تم نے میری پرورش کا مان رکھا ہے
میں تمہارا یہ احسان کبھی نہیں بھولوں گا وہ اس کا ماتھا چومتے ہوئے جانے لگے
جبکہ ان کی خوشی کو دیکھ کر دھڑکن مسکرائی وہ خوش تھی کیوں کہ آج اس کے بابا سائیں اس کی وجہ سے خوش تھے
•••••••••••
آو کردم سائیں ہم کب سے تمہارا انتظار کر رہے تھے دادا سائیں نے اپنے نوکر کو کردم کے آتے ہی اپنے کمرے میں بھیجنے کا کہا تھا
حکم دادا سائیں وہ مسکرا کر ان کے قریب آ کر بیٹھا
ہم نے تمہاری زندگی کا ایک بہت اہم فیصلہ کیا ہے
اس کے لئے تمہاری اجازت چاہتے ہیں
ان کے انداز سے وہ سمجھ گیا تھا کہ وہ اس کی شادی کے بارے میں بات کر رہے ہیں
مطلب اب کردم شاہ کی ذمہ داریوں میں اضافہ ہونے والا تھا
جی دادا سائیں آپ کا جو حکم آپ جو چاہیں گے وہی ہوگا کردم شاہ نے فیصلہ ان کو دیا
ہم تمہاری شادی کرنا چاہتے ہیں لیکن تائشہ سے نہیں دادا سائیں اس کے چہرے کو غور سے دیکھتے ہوئے بولے جو بے تاثر تھا مطلب صاف تھا کی تاشتہ کے ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا
جیسی آپ کی مرضی دادا سائیں مجھے یقین ہے آپ نے جو بھی سوچا ہوگا بہتر سوچا ہوگا اس نے لڑکی کا نام جاننا ضروری نہ سمجھا
ٹھیک ہے پھر آج شام کو ہی ہم تمہاری نسبت دھڑکن سے طے کر رہے ہیں
کردم شاہ نے ایک نظر ان کے چہرے کی طرف دیکھا پھر نظریں جھکا گیا
جیسا آپ کا حکم وہ کہتے ہوئے کمرے سے باہر جانے لگا
دھڑکن تیزی سی چلتی دادا سائیں کے کمرے کی طرف آ رہی تھی اچانک اس سے ٹکراتے ٹکراتے بچی
آرام سے چلا کرو کوئی پیچھے پڑا ہے کیا وہ سختی سے گویا ہوا
جبکہ دھڑکن نظریں زمین میں گاڑے کھڑی تھی
اب کیا ساری رات یہی درخت بن کر کھڑے رہنے کا ارادہ ہے کیا وہ سختی سے بولا
(درخت نہیں پودا درخت تو آپ ہیں) اس نے دل میں سوچا
اب راستے سے ہٹنا پسند کریں گی آپ اس نے سختی سے کہا
گویا اسے سائیڈ پہ ہٹنے کا اشارہ کر رہا ہو
وہ دروازے کے بیچوں بیچ کھڑا تھا جس کی وجہ سے دھڑکن اندر نہیں آئی پا رہی تھی
اس کے جانے تک دھڑکن کا سارا دھیان دروازے پر ہی رہا اب وہ اس کے خلاف بولنے سے پہلے احتیاط کرتی تھی
ہٹلر خود پورے دروازے کے بیچ میں کھڑے ہوکر مجھ پر روعب جماتے ہیں وہ منہ بناتی دادا سائیں کو بتانے لگی
تو وہ مسکرا دیئے
ایسا نہیں کہتے وہ اسے دیکھتے ہوئے بولے
بالکل ٹھیک کہا اس سے بھی بُری طرح سے کہتے ہیں وہ ان کے قریب بیٹھ گئی
آپ کو پتہ ہے بابا سائیں میری شادی کرنا چاہتے ہیں اس نے بریکنگ نیوز سنائی
ہاں ہم جانتے ہیں ہم ہی نے یہ فیصلہ کیا ہے تم نے کیا کہا تھا کہ تم ہمیں چھوڑ کر نہیں جانا چاہتی اسی لیے ہم نے تمہیں ہمیشہ اپنے پاس رکھنے کے لیے یہ فیصلہ کیا ہے بابا سائیں مسکراتے ہوئے بولے
کیا آپ میری شادی کر رہے ہیں لیکن کس کے ساتھ میرا مطلب ہے حویلی میں تو مقدم لالا اور کرد م لالہ کے علاوہ اور کوئی نہیں ہے اور وہ تو دونوں مجھ سے اتنے بڑے ہیں اس نے ہاتھ کے اشارے سے دونوں کے قدوں کا اندازہ لگایا
مقدم لالا کی شادی ہورہی ہے اور کرد م لالہ کی شادی تائشہ دیدہ سے ہوجائے گی
اس کی شادی تمہارے ساتھ کر رہے ہیں دادا سائیں نے اس کے سر پر دھماکہ کیا
کیا مطلب ہے آپ کا۔ ۔۔۔۔؟
کردم لالہ کی شادی تو تائشہ دیدہ سے ہونے والی ہے دھڑکن نے پریشانی سے کہا
ہونے والی تھی اب تمہارے ساتھ ہوگی دادا سائیں نے اس کی بات کاٹی
نہیں میں ایسے انسان سے شادی نہیں کروں گی جس نے کسی اور کے خوابوں کی دنیا سجائی ہو دھڑکن نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا
اور اگر تائشہ دیدہ نہ بھی ہوتی تب بھی میں کردم لالا جیسے انسان سے شادی نہیں کرتی ان کی پسند کے مطابق ڈھالنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے
وہ بہت روڈ اور سخت گیر انسان ہیں ہر وقت غصہ ان کی ناک پر ہوتا ہے میں کبھی اتنے سخت انسان سے شادی نہیں کرنا چاہوں گی
جس کی باتیں مجھے اس کی محبت سے نہیں بلکہ ڈر سے مانی پڑے
ایم سوری دادا سائیں میں انکار کرتی ہوں وہ کہتے ہوئے جانے لگی
جیسے ہی مڑی سامنے کردم شاہ کھڑا اس کی ساری باتیں سن چکا تھا۔ اسے اس طرح سے اپنے قریب دیکھ کر دھڑکن کا دل بری طرح سے دھڑکنے لگا
