Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah Readelle50340 Bheegi Palkon Par Naam Tumhara (Episode 72)
No Download Link
Rate this Novel
Bheegi Palkon Par Naam Tumhara (Episode 72)
Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah
تھوڑی دیر کے بعد داداسائیں دوبارہ اس کے کمرے میں آئے تھے مطلب صاف تھا کہ کردم جا چکا تھا
اس کا بھائی اسے اس طرح سے چھوڑ کر کیسے جاسکتا ہے وہ سمجھ نا پائی۔
تو کیا اس کا بھائی بھی اسے انصاف نہیں دلائے گا
مقدم کب سے اس کا ہاتھ تھامیں کچھ نہ کچھ بول رہا تھا لیکن حوریہ بالکل خاموش تھی وہ اس کی باتیں سن بھی رہی تھی یانہیں مقدم نہیں جانتا تھا وہ تو بس اپنی ہی صفائیاں پیش کئے جا رہا تھا
مقدم تمہیں اپنے کمرے میں سونا ہوگا سویرا کے ساتھ گھر میں مہمان ہیں
دادا سائیں یہ ممکن نہیں ہے میں مزید یہ سب کچھ نہیں کر سکتا آپ کو اندازہ بھی ہے حوریہ کتنی تکلیف میں ہے ۔پلیز جو کچھ بھی ہو رہا ہے میں مزید نہیں کرنا چاہتا
اور میں اپنے کمرے میں نہیں جاوں گا جب تک سویرہ میرے کمرے میں رہے گی وہ منت کرنے والے انداز میں بولا لیکن
داداسائیں شایدہی اس کی بات سمجھنا چاہتے تھے
کیا چاہتے ہو مقدم میں بد نام ہو جائیں پورے گاؤں میں اگر ہماری عزت کے لئے تم اتنا بڑا قدم اٹھا سکتے ہو تو کیا ہماری عزت کیلئے اپنے کمرے میں نہیں رہ سکتے ۔
دیکھو مقدم سویرا تمہاری بیوی ہے انہوں نے حوریہ سے نظریں چراتے ہوئے کہا
جب کہ بیوی کے لفظ پر حوریہ بھی انہیں دیکھنے لگی تھی ۔
اور پھر تھوڑی دیر کے بعد دادا سائیں کمرے سے نکل گئے اور ان کے پیچھے مقدم بھی جانے لگا
وہ جو دیر پہلے اسے منا رہا تھا اس کی منتیں کر رہا تھا اسے اپنا یقین دلارہا تھا وہ اس کی سوتن کے پاس جا رہا تھا
اس نے ایک نظر مڑ کر حوریہ کو دیکھا آج رات تو وہ اسے سب کچھ حقیقت بتانے والا تھا ۔
حوریہ کے لبوں پر تلخ مسکراہٹ نے جگہ بنائی آنسو ایک بار پھر سے چھلک پڑے لیکن وہ بولی کچھ نہیں ۔
یہ سب کیا ہے تم ابھی تک یہاں کیوں بیٹھی ہوئی ہو اسے ویسے دلہن بنے اپنے بیڈ پر بیٹھے دیکھ کروہ غصے سے بولا
مقدم سائیں بڑی اماں سائیں نے مجھے یہاں بیٹھنے کے لیے کہا ہے سویرانے اسے اٹھتے ہوئے کہا
دیکھو سویرا ہماری شادی ایک کنڈیشن پر ہوئی تھی کہ میرا تم سے کوئی تعلق نہیں ہوگا میں نے تم سے نکاح اس شرط پر کیا تھا کے کچھ ہی دنوں میں تم یہاں سے ہمیشہ کے لئے چلی جاؤ گی تمہیں بس چاچوسائیں کے سامنے میرے نام کی ضرورت تھی جو میں نے دیا اب یہ سارا ڈرامہ کرنے کی ہرگز ضرورت نہیں ہے
لیکن مقدم سائیں ۔۔ ۔ ۔
لیکن کیا سویرا ۔۔۔۔؟ اب آگے کوئی بات ہی نہیں رہتی تم نے ہم سب سے چھپایا کہ چاچوسائیں کو کینسر ہے۔
تم نے ہم سب سے چھپایا کہ وہ اپنی زندگی کے آخری دن گزار رہے ہیں ۔تم نے کہا کہ تم اپنی عزت لٹا کے ان کے سامنے نہیں جا سکتی ۔تم نے کہا کہ ان کی زندگی بچانے کے لیے تمہیں میری مدد کی ضرورت ہے اور میں نے تمہاری مدد کی
اور اس کے پیچھے ایک شرط تھی اور وہ شرط یہ تھی کہ ہم دونوں میں کوئی تعلقات نہیں ہوں گے تو تم یہاں میرے بیڈ پر بیٹھی کیا کر رہی ہو ۔۔۔۔۔۔؟
دیکھو لڑکی مجھے تم سے کوئی ہمدردی نہیں ہے میں نے صرف چاچوسائیں کے لیے کیا ہے یہ سب کچھ
وہ غصے سے بول رہا تھا جبکہ سویرا بیڈ پر بیٹھی روئے جا رہی تھی
جب کہ اس کے پھوٹ پھوٹ کر رونے سے اکتا کر مقدم اپنے کپڑے لے کر واش روم چلا گیا جب واپس آیا تو تب بھی وہ وہیں زمین پر بیٹھی بری طرح سے رو رہی تھی
ان لوگوں کو مقدم شاہ کی بیوی چاہیے تھی صوفے کی طرف جاتے مقدم کے قدم رکے تھے
وہ مجھے نوچتے ہوئے بار بار کہتے تھے کہ تم مقدم شاہ کی بیوی ہو مقدم کے دل پر وار ہوا تھا
میرے کپڑے پھاڑتے ہوئے میری آبرو لوٹتے ہوئے وہ بار بار آپ کی بیوی کا نام لے رہے تھے مقدم شاہ ۔میں اس لوٹی ہوئی حالت میں اپنے باپ کا سامنا نہیں کر سکتی تھی ۔ جو پہلے ہی زندگی اور موت سے لڑ رہا تھا
آپ نے مجھ سے شادی کی بہت شکر گزار ہوں میں آپ کی میں نے نہیں کہا آپ سے یہ رشتہ نبھانے کے لیے اور میں اپنی شرط پر قائم ہوں مجھے بڑی اماں سائیں یہاں بیھٹا کر گئی تھی اور ویسے بھی اب یہاں بیٹھنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی تھی میں اٹھنے ہی والی تھی کہ آپ آگئے
اگر آپ کو برا لگا تو سوری لیکن میں جانے ہی والی تھی وہ زمین سے اٹھ کر واش روم کی طرف بھاگ گئی
جبکہ مقدم بنا شرمندہ ہوئے اپنی چادر کو وہیں صوفے پر پھینکتا لیٹ گیا
جنید ابھی تک کیوں نہیں آیا ابھی تک تو اسے آ جانا چاہیے تھا اتنا وقت گزر چکا ہے
وہ مسلسل چکر کاٹتے ہوئے اس کا انتظار کر رہی تھی
انتہائی غیر ذمہ دار آدمی ہے یہ بندے کو ہوش ہونا چاہیے گھر میں ایک بیوی بیٹھی ہے انتظار میں
انتظار میں۔۔۔۔۔؟
کیا میں اس کا انتظار کر رہی ہوں ۔۔۔۔۔؟
نہیں تو میں کیوں اس کا انتظار کرنے لگی وہ خود کو ہی نخرے دکھاتی بیٹھ گئی
ہاں میں اس کا انتظار کر رہی ہوں کیونکہ مجھے بھوک لگی ہے اور میں کھانا نہیں کھا سکتی ہاں میرے پاس انتظار کرنے کی وجہ ہے تائشہ پھر سے چہل قدمی کرنے لگی
اب کیا مجھے کھانا کھانے کے لیے جنید کی ضرورت ہے کبھی نہیں اکیلے بھی کھانا کھا سکتی ہوں
وہ خود سے کہتی کچن کی طرف آگئی
اتنی محنت سے میں نے کوفتے بنائے تھے کیا ہے جو آجاتا ساتھ مل کے کھاتے وہ پلیٹ میں کوفتے نکالتی منہ بسور کر بولی جب کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا
آگیا ۔۔۔۔وہ دونوں ہاتھ سے تالی مارتی خوشی سے چکہتے ہوئے دروازے کی طرف دوڑی
اور دروازہ کھولا تو سامنے ہی کھڑا نظر آیا
یہ کوئی وقت ہے گھرآنے کا میں کب سے انتظار کر رہی تھی اتنی محنت سے میں نے کوفتے بنائے ہیں تمہارے لیے میرا مطلب اپنے لیےلیکن تم بھی کھا سکتے ہو وہ اپنی زبان کی سپیڈ پر کنٹرول کرتے ہوئے بولی اور پھر سے کچن کی طرف آئی
میں سب کچھ اچھا بناتی ہوں لیکن میرے ہاتھ کی کوفتے مجھے خود کو بہت پسند ہیں تمہیں بھی بہت اچھے لگیں گے ۔وہ جلدی سے میز پر کھانا لگاتے ہوئے بولی یہ دیکھنے کی زحمت کئے بغیروہ کچن کے دروازے پر کھڑا اس کا نیا انداز دیکھ رہا ہے
کیا ہوا تمہیں بھوک نہیں لگی کیاتم کھانا کھا کے آیا ہو اگر تم کھانا کھا کے آئے ہو تو تم نے بہت برا کیا ہے کیوں کہ میں نے اتنی محنت سے بنائے ہیں اور اگر تم کھانا کھا کے آئے ہو تم میں تمہیں زبردستی کر کے اسے کھلاوں گی جیسے تو مجھے زبردستی کھلاتے ہو
وہ اس کے بالکل قریب کھڑی روعب سے حکم چلا رہی تھی
پہلی بات تم نہیں آپ پہلے بھی سمجھا چکا ہوں میں اور دوسری بات میں کھانا کھا کے نہیں آیا تھوڑی دیر میں کھاؤں گا آتے ہی کھانا نہیں کھا سکتا بری عادت ہے مجھے تھوڑا ریسٹ کر کے کھاتا ہوں
تیسری اور آخری بات میں کوفتے نہیں کھاتا سو اگر تم نے اتنی محنت سے میرے لیے نہیں اپنے لیے یہ کوفتے بنائے ہیں تو میرے لئے ایک آملیٹ بنا دو محبت پاش نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے بولا جب کہ اس کی بات سن کر تائشہ کا موڈ آف ہو گیا
تم ۔تم نہیں آپ ٹھیک ہے چلو میں تمہیں آج سے تم نہیں آپ کہہ کے بلاؤں گی لیکن اس شرط پر کہ تم میرے ہاتھ کے بنے کوفتے کھاؤ گے
دیکھو میں بہت اچھی بناتی ہوں سب لوگ تعریف کرتے ہیں تمہیں پسند آئیں گے ۔
اور انہیں کھانا چاہیے انڈے کھانے سے طبیعت خراب ہو جاتی ہے زکام ہوجاتا ہے تائشہ نے اپنی ڈاکٹری جھاڑی
تم نہیں چاہتے نہ کہ تمہیں زکام ہو اگر ہو گیا تو اتنا کام کرتے ہو زکان میں کیسے کرو گے ذرا سوچو
اور آتے ہی کھانا کھا لینا چاہیے بعد میں ٹھنڈا ہو جاتا ہے اور اگر گرم کرو تو اس کا ذائقہ پہلے جیسے نہیں رہتا پھر گرم ہوا کھانا کھانے سے نہ گلے میں بھی درد ہوتا ہے تو پھر میں کوفتے نکالوں وہ اسے دیکھتے ہوئے بولی جبکہ اس کے انداز پر وہ مسکرائے بنا نہ رہ سکا
منہ ہاتھ دھونا چاہیے یا کیا اس سے بھی کوئی بیماری لگ جاتی ہے ۔وہ مسکراتے ہوئے بولا تو اس نے نفی میں سر ہلایا
میں دلواتی ہونا آپ کے ہاتھ وہ کہتی ہوئی جلدی سے کچن کی طرف گئی اور پانی سے بھرا ہوا جگ لے کر کھڑی ہو گئی
تم نہیں آپ ابھی تک یہیں کھڑے ہو میرا مطلب کھڑے ہیں آئیں میں آپ کے ہاتھ دلواتی ہوں
تائشہ نےباہر نکلتے ہوئے کہا تو جنید فورا سے اس کے پاس آ گیا اور ہاتھ دھونے کے بعد تھاوہ ایکسائٹڈ سی اس کے لیے کھانا نکالنے لگی۔
اور پھر جنید نے پہلی دفعہ کو فتے کھائے جو واقع ہی قابل تعریف تھے ۔
کیسے لگے تائشہ نے مسکراتے ہوئے پوچھا تو جنید نے کھل کر اس کی تعریف کی
جب کے زبردستی اپنی تعریف کروا کے وہ بہت خوش ہو رہی تھی
کیا ہوا کردم سائیں حوریہ دیدا نہیں آئی آپ کے ساتھ دھڑکن نے دروازہ کھولا تو کردم اس کے سامنے کھڑا تھا
نہیں وہ نہیں آئی میں اسے لے کر نہیں آیا کردم اندر آتے ہوئے بولا
کیوں نہیں لے کے آئے ہیں کیا وہ بات جھوٹی تھی کیا مقدم لالہ کا نکاح نہیں ہوا سویرا دیداسے دھڑکن خوشی سے اس کے پیچھے چلتے ہوئے بولی
نہیں نکاح ہوا ہے دھڑکن وہ اسے یہ نہیں بتا سکتا تھا کہ احمد چاچا سائیں اتنی ہربھری میں پاکستان کیوں ائیں اور اتنی جلدی دھڑکن کی شادی کے لئے تیار کیسے ہو گئے اور سب سے خاص بات انہوں نے سویرا کے لئے بھی اچھے رشتہ دیکھنے کے لیے داداسائیں سے گزارش کی تھی اور اب جب ان کی طبیعت اور زیادہ بگڑنے لگی تھی وہ واپس جانا چاہتے تھے کیونکہ وہ اپنوں کے سامنے دم نہیں توڑنا چاہتے تھے
اور آج انہوں نے کردم کے سامنے ہاتھ جوڑ کر التجا کی تھی کہ یہ بات دھڑکن کو نہ بتائی جائے ورنہ وہ بکھر جائے گی ۔
وہ دھڑکن کو کسی نہ کسی طریقے سے مطمئن کرتا اس ٹاپک سے ہٹا چکا تھا لیکن سچ تو یہ تھا کہ اپنے باپ اور چچا کے بعد احمد چاچا اس کا بہت بڑا سہارا تھے
وہ تھوڑی دیر میں حوریہ کے پاس جانا چاہتا تھا لیکن دن بھر کی تھکاوٹ کی وجہ سے تھوڑی ہی دیر میں سے نیند آگئی ۔
ابھی اسے سوئے ہوئے تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ خواب میں وہ حوریہ کو چیختے ہوئے سن کر اٹھ بیٹھا
سویرا سامنے بیڈ پر گہری نیند سو رہی تھی وہ جلدی سے وہاں سے اٹھ کر باہر چلا گیا
اس کا ارادہ سیدھا حوریہ کی کمرے میں جانے کا تھا لیکن وہاں پہنچتے ہی اس نے حوریہ کو نہ پایا
حوریہ کہاں چلی گئی وہ پریشانی سے داداسائیں کے کمرے کی طرف آیا لیکن وہ بھی گہری نیند سو رہے تھے
اس نے پریشانی سے حویلی کا ایک ایک کمرہ چھان مارا لیکن نہ جانے حوریہ کہاں چلی گئی تھی
اس وقت حویلی سنسان پڑی تھی بس گھر میں کچھ مہمان موجود تھے لیکن رات کے تین بجے وہ سب بھی گہری نیند میں سو رہے تھے
وہ پاگلوں کی طرح حوریہ کو ہر طرف ڈھونڈ رہا تھا
کہیں کورم سائیں سب کچھ جاننے کے بعد بھی اسے اپنے ساتھ نہیں لے گیا وہ اپنے سر پہ ہاتھ پھیر تھا فوراً اپنی گاڑی کی طرف بھاگا تھا
اس کا ارادہ سیدھے کر دم کے پاس جانے کا تھا
