Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah Readelle50340 Bheegi Palkon Par Naam Tumhara (Episode 32)
No Download Link
Rate this Novel
Bheegi Palkon Par Naam Tumhara (Episode 32)
Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah
اس کا فون کب سے بج رہا تھا ایک بار اس نے فون کی طرف دیکھا کردم کا نمبر آتا دیکھ کر اسے فون اٹھانا پڑا جب کہ اس وقت وہ بہت مصروف تھا اس کا کسی سے بھی بات کرنے کا کوئی ارادہ نہ تھا ۔
ہاں کردم سائیں جلدی بولیں میں بہت مصروف ہوں مقدم نے فون اٹھاتے ہوئے جلدی سے کہا ۔
ایسی بھی کیا مصروفیت ہیں جناب ابھی تو آپ کو گئے ہوئے بمشکل ایک دن گزرا ہے کردم نے اس کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا ۔
یار میں حور کے لیے سرپرائز پلان کر رہا ہوں تم بتاؤ کیا کام ہے مقدم نے وجہ بتاتے ہوئے کہا تو کردم مسکرا دیا
وہ کتنا پیار کرتا تھا حوریہ سے وہ اپنے ہرانداز میں میں حوریہ کے لیے چھپی ہوئی محبت کو ظاہر کر رہا تھا ۔
مجھے آپ کی تھوڑی سی مدد چاہیے لو گرو دراصل میری بیوی مجھ سے خفا ہے کردم کی بات ابھی ادھوری تھی کہ مقدم کا قہقہ بلند ہوا ۔
مطلب تم نے اپنی ننھی سی بیوی کو خفا کردیا جو ابھی تک رخصت ہو کے بھی نہیں آئی تھی ۔
مقدم سائیں خدا کا واسطہ بار بار اسے ننھی نہ بلایا کرو دادا سائیں نے بھی نہ جانے کیا سوچ کر یہ پٹاخہ میرے ساتھ باندھ دیا ہے ۔ایک دن اس کی باتیں سن لو کھڑے کھڑے فوت ہو جاؤ گے ۔
ایسی باتیں کرتی ہے جن کا نہ تو سر ہوتا ہے اور نہ ہی پیر اتنا فضول بولتی ہے کہ حد نہیں اور اب روٹھ کر بیٹھ گئی ہے اور یہ کہہ دیا ہے کہ کوئی سرپرائز پلان کرو مجھے منانے کے لیے ۔اور ساتھ میں یہ بھی کہا ہے کہ مجھ سے کسی پلان کی امید بھی نہیں رکھتی کیونکہ میں بونگ ترین انسان ہوں ۔کردم نے اپنی پریشانی ظاہر کرتے ہوئے کہا
کردم سائیں کتنے بورنگ انسان ہو تم ۔چلو اب تم نے مجھے لو گرو بول ہی دیا ہے تو میں تمہاری مدد ضرور کروں گا مقدم نے احسان جتاتے ہوئے کہا
جی بڑی نوازش ہوگی آپ کی کردم نے اس کا احسان قبول کہا۔
ویسے تو میں یہ پلان صرف اور صرف اپنی حور کے لیے کر رہا تھا لیکن میں تمہارے شیئر کر رہا ہوں ۔
مقدم نے اسے پلان بتاتے ہوئے کہا
تمہارا دماغ خراب ہے کیا میں ایسی بچکانا حرکتیں ہرگز نہیں کروں گا کردم کو اس کا آئیڈیا بالکل بھی پسند نہ آیا تو ٹھیک ہے خود کچھ کرلو لیکن نازک دل کی لڑکیاں نے ایسی سے خوش ہوتی ہیں ۔
میں تو اپنی بیوی کو ایسے ہی خوش کروں گا اب تمہیں اسے راضی کرنا ہے تو میرے پلان پر عمل کرو اگر نہیں کر سکتے تو اپنا اکڑو مائنڈ چیک کرکے دھڑکن کو روٹھا ہوا ہی رہنے دو ۔
کیوں کہ لڑکیوں کو منانا تمہارے بس کی بات نہیں ہے اور میں بہت بیزی ہوں اپنی بیوی کے لئے اسپیشل پلانینگ کر رہا ہوں مجھے ڈسٹرب مت کرنا مقدم نے فون بند کرتے ہوئے کہا ۔
مطلب حد ہوتی ہے بندا کوئی عقلمندی کا کام بھی تو کر سکتا ہے یہ احمقانہ حرکتیں کر کے میں دھڑکن کو مناوں گا۔ ۔۔۔؟۔
یہ سب کچھ میرے بس سے باہر ہے مجھے سیدھے سے دھڑکن سے بات کرنی چاہیے ۔
یہ روٹھنا منانا مجھ سے نہیں ہوگا ۔
پتا نہیں مقدم یہ سب کچھ کر کیسے لیتا ہے
بچہ سمجھ کے رکھا ہے مجھے کیا پڑی ہے میں دھڑکن کے لیے ایسی حرکتیں ہرگز نہیں کروں گا سیدھے سے اس سے بات کروں گا اگر ایسے ہی راضی ہوتی ہے تو ٹھیک ہے ورنہ روٹھی ہی رہے ۔
کردم فیصلہ کرکے اٹھا ۔
••••••••••••
حوریہ جاگی تو کمرے میں بالکل تنہا تھی اس نے ایک نظر پورے کمرے کو دیکھا جو مقدم شاہ کے وجود سے خالی تھا وہ جلدی سے بیڈ سے اٹھ کر اسے ڈھونڈنے لگی انجان جگہ انجان کمرے میں وہ بالکل اکیلی تھی ۔
واشروم اور بلکنی چیک کرکے اسے عجیب سے خوف نے آ گھیرا ۔
یہ مقدم سائیں کہاں چلے گئے ۔دروازےکے قریب ہی باہر گلی نما رہداری میں اسے ڈھونڈنے لگی ۔
لیکن اسے دور تک نہ پا کر وہیں سے پلٹ آئی ۔ اکیلے کہیں جانے کے بارے میں تو وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی اور وہ بھی اس انجان جگہ سے ہرگز نہیں
اب سوائے کمرے میں اس کے پاس انتظار کرنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہ تھا ۔
•••••••••••
دھڑکن کہاں ہے گھر میں کام کرتی ملازمہ کو دیکھتے ہوئے کردم نے پوچھا
چھوٹے شاہ سائیں وہ تو اپنے کمرے میں ہیں
ملازمہ نے جلدی سے بتایا تو کردم نے ہاں میں گردن ہلائی ۔
جنید ایک کام کرو ایک رسی اور ایک مضبوط لکڑی اور تازہ پھولوں کی لڑیاں لے آؤ ۔
کردم نے اس سے آرڈر دیا تو وہ اسے حیران نظروں سے دیکھنے لگا ۔
سائیں آپ ان کا کیا کریں گے۔۔۔۔؟جنید پوچھے بنا نہ رہ سکا تم اتنا کرو جتنا میں کہہ رہا ہوں بیکار میں فضول سوال پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے ۔
مجھے کچھ چیزیں چاہیے فٹافٹ لے کے آؤ ۔کردم نے اسے ڈپٹتے ہوئے کہا۔
تووہ حکم سائیں کرتا باہر کی طرف دوڑگیا ۔
کردم کو اپنے آپ پر حیرانگی ہو رہی تھی وہ دھڑکن کو منانے کے لیے مقدم کے آئیڈیا پر عمل کر رہا تھا جبکہ اس نے خود ہی کہا تھا کہ وہ بچکانہ حرکت نہیں کرے گا لیکن شاید محبت چیز ہی ایسی ہے کسی کو کچھ بھی کرنے پر مجبور کردے
محبت ۔۔۔۔۔۔
محبت ہی تو تھی وہ محبت جو نکاح کے اصل بندھن میں بندھ کر پیدا ہوتی ہے ۔
ہر ناپاکی سے محفوظ محبت ۔
ہر لحاظ سے محرم محبت ۔
بنا ڈر اور خوف کے محبت ۔
خوبصورت اور پاکیزہ محبت
جائز اور اصل محبت ۔
محبت کے بھی کتنے خوبصورت نام ہوتے ہیں نا ۔لیکن آج کل کے عاشقوں نے محبت کو اس طرح سے بد نام کیا ہے کہ اس کا نام لینے سے بھی خوف آنے لگتا ہے ۔
جبکہ سچ تو یہ ہے کہ دنیا میں بنایا گیا پہلا رشتہ آدم اور حوا کا تھا ایک خوبصورتی جائز رشتہ تھا ان کے درمیان جذبات پیدا کیے گئے وہ محبت تھے ۔
وہ محبت جو نکاح کے بعد ہوئی تھی نکاح ہی تو محبت ہے محبت کا دوسرا نام ہی نکاح ہے ۔
اگر تمہیں کسی سے محبت ہو تو اسے اپنے نکاح میں لے لو
اپنا وہ رشتہ جائز کرلو اپنی محبت کا ثبوت دے دو ۔
وہ ہوتی ہے اصل محبت ۔
جنید بھاگتا ہوا آیا اور رسی اور لکڑی اس کے ہاتھوں میں تھی۔
یہ لے سائیں پھولوں کی لڑیاں میں نے آرڈر دیا ہے وہ آدھے گھنٹے میں دے جائے گا ۔
ہاں ٹھیک ہے جب پھولوں کی لڑیاں آجائے مجھے بتا دینا کردم نے اسے بیجتے ہوئے کہا
میں کچھ مدد کروں آپ کی
تم کچھ مدد نہیں کر سکتے میرا یہ کام مجھے اکیلے کرنا ہوگا کردم نے اسے آنکھ کے اشارے سے جانے کا کہا ۔
وہ فورا ہی پلٹ گیا جبکہ اندر تجسس ضرور موجود تھا کہ آخر کردم سائیں کرنے کیا والے ہیں۔
•••••••••••
مقدم کمرے میں آیا تو حور بے چینی سے اس کا انتظار کر رہی تھی اس کے آتے ہی وہ اس کے قریب آ کر رکی ۔
کہاں تھے آپ مقدم سائیں میں کب سے آپ کا انتظار کر رہی تھی کیوں چھوڑ کر اکیلے چلے گئے تھے مجھے پتہ ہے مجھے ڈر لگ رہا تھا ۔
وہ اس کے قریب کھڑی اسے بتانے لگی ۔
اتنے دور سے کیسے پتہ چلے گا مجھے تمہیں کتنا ڈر لگ رہا تھا یہاں آکر بتاؤ وہ اس کی کمر میں ہاتھ ڈالتا اسے اپنے قریب کھینچ چکا تھا ۔
بس کریں مقدم سائیں دیکھیں میرا دل کس طرح سے دھڑک رہا ہے اور آپ ہیں کہ آپ کو مستیاں سوج رہی ہیں حور نے ناراضگی سے کہا
کیا کہاں بتاؤ مجھے تمہارا دل کس طرح سے دھڑک رہا ہے مقدم نے شرارت سے کہا توحور نے گھور کر فاصلہ قائم کیا ۔
آپ بہت بے شرم ہیں مقدم سائیں میں آپ سے کبھی بات نہیں کروں گی ۔
وہ کہتے ہوئے اس سے الگ ہوئی ۔
اچھا بابا میں کچھ نہیں کہتا فلحال چلو میرے ساتھ تمہارے لئے ایک بہت خوبصورت سا بالکل تمہارے جیسا سرپرائز پلان کیا ہے ۔
مقدم اس کے کندھے پہ ہاتھ پھیلاتا اپنے ساتھ باہر آیا ۔
ہم کہاں جا رہے ہیں مقدم سائیں
او ہو میری جان تم چلو تو سہی وہ محبت سے کہتا ہوا اسے اپنے ساتھ لے کر جانے لگا جب اسے محسوس ہوا کہ ان کے پیچھے کوئی آ رہا ہے اس نے پیچھے دیکھا لیکن پیچھے دور دور تک کوئی نہ تھا ۔
کیا ہوا آپ رک کیوں گئے حوریہ نے اسے روکتے دیکھ کر پوچھا
کچھ نہیں چلو مقدم نے ہنستے ہوئے اس کے کندھے پر پھر سے ہاتھ رکھا ۔
جبکہ اس کا دھیان ابھی بھی پیچھے کی طرف تھا
•••••••••••••
