267.3K
86

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bheegi Palkon Par Naam Tumhara (Episode 58)

Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah

دادا سائیں نے تائشہ کو اپنے کمرے میں بلایا تھا وجہ وہ اچھے سے جانتی تھی لیکن پھر بھی ان کے سامنے انجان بننے لگی

ملک نے جو کہا تھا اس نےاب وہی کرنا تھا ۔

اب وہ دن دور نہیں تھا جب کردم ہمیشہ کے لئے اس کا ہونے والا تھا اور کردم کے ساتھ ساتھ یہ پورا گاوں بھی اس نے جو فیصلہ کیا تھا اس کے بعد ہو سکتا ہے کہ کردم اس سے نفرت کرنے لگے لیکن اس کا تو ہو سکتا تھا ۔

وہ چاہے ساری زندگی اس سے نفرت کرتا رہے کبھی اس سے بات نہ کرےلیکن وہ اس کے نکاح میں شامل تو ہو سکتی تھی نہ وہ اس گاؤں کی مالکن تو بن سکتی تھی

اب اس کا مقصد صرف کر دم کو حاصل کرنا نہیں بلکہ دھڑکن کو ہارانہ تھا وہ دھڑکن کا غرور ختم کرنا چاہتی تھی ۔

وہ غرور جس میں دھڑکن کہتی تھی کہ کردم اس کا شوہر ہے اوروہ دھڑکن کو اس گاؤں کی مالکن بنتے نہیں دیکھ سکتی تھی

اس نے ناناسائیں کے کمرے میں قدم رکھا تو انہوں نے مسکراتے ہوئے اپنے قریب بلایا ۔

بیٹا کل صبح تمہارے سامنے ہم نے کچھ مہمانوں کا ذکر کیا تھا آج وہ لوگ یہاں آنے والے ہیں میں جانتا ہوں تمہارے لیے فی الحال یہ سب کچھ بہت مشکل ہے تم کردم کے لیے جذبات رکھتی تھی لیکن بیٹا زندگی ایک ہی جگہ کھڑے رہنے کا نام تو نہیں ہے تمہیں اپنی زندگی میں آگے بڑھنا ہوگا اور ارحم بہت اچھا انسان ہے

اور تمہیں پسند بھی کرتا ہے اگر تمہاری اجازت ہو تو ہم یہ بات آگے بڑھائے انہوں نے اسے اپنے قریب بٹھاتے ہوئے بہت مان سے پوچھا تھا

جب تائشہ جیسی آپ کی مرضی نا نا سائیں کہتے ہوئے ذرا سا مسکرائی

اس کی مسکراہٹ نے دادا سائیں کو پرسکون کر دیا تھا ۔

ٹھیک ہے پھر ہم اپنے اس پیاری سی نواسی کو رخصت کرنے کی تیاریاں کرتے ہیں انہوں نے مسکراتے ہوئے اسے اپنے سینے سے لگایا ۔تائشہ شرمیلی سی مسکراہٹ اپنے لبوں پہ سجائے ان کے کمرے سے باہر نکل آئی

سارے گھر میں خوشبو پھیلی ہوئی تھی نئے نئے پکوان بنائے جارہے تھے امریکہ سے جو رشتہ تائشہ کے لیے آیا تھا وہ لوگ آج تائشہ کو انگھوٹھی پہنانے والے تھے ۔

جبکہ تائشہ نے بھی اپنی پوری پلاننگ کر رکھی تھی اور ملک کے کہنے میں آکر آج تائشہ وہ کرنے جارہی تھی جس سے کردم شاہ ساری زندگی کے لئے صرف اس کا ہو سکتا تھا ۔

شام کے سائے گہرے ہوتے ہیں گھر کے سب افراد گھر آ چکے تھے ۔

مہمانوں کی آمد نے خوشگوار سا ماحول پیدا کر دیا تھا ۔

تائشہ ہر تھوڑی دیر کے بعد نظر اٹھا کر مسکرا کر سامنے بیٹھے نوجوان کو دیکھتی وہ اس کی نظروں اور مسکراہٹ سے ہی اپنے لیے پسند کی کا اندازہ لگا سکتا تھا ۔

ٹھیک ہے پھر اس جمعہ کو نکاح رکھتے ہیں تائشہ کو انگوٹھی پہناتے ہوئے عورت نے خوشگوار انداز میں کہا

جبکہ تائشہ مسکرا کر شرماتے ہوئے نانا سائیں کی طرف دیکھنے لگی ۔

اس کی مسکراہٹ نے نانا سائیں کو اندر تک سرشار کر دیا تھا ۔

اتنا تھوڑا وقت ہمیں تھوڑا اور وقت دیں ہم دھوم دھام سے اپنی بچی کو رخصت کرنا چاہتے ہیں ۔

دادا سائیں نے کہا تو عورت اپنے بیٹے کی طرف دیکھنے لگی

نہیں شاہ سائیں ہمیں کچھ نہیں چاہیے ہمیں بس آپ کی بیٹی چاہیے اور پھر ارحم بھی کچھ ہی دنوں کے بعد امریکا لوٹ جائے گا اسی لئے ہم معذرت خواہ ہیں آپ کو زیادہ وقت نہیں دے سکتے

انہوں نے بہت طریقے سے دادا سائیں سے التجا کی تھی ۔

ٹھیک ہے پھر جمعہ کو سادگی سے نکاح کر دیتے ہیں لیکن باقی رسمی ہم دھوم دھام سے کریں گے دادا سائیں نےان کی بات کا مان رکھتے ہوئے کہا ۔

تھوڑی دیر میں سب بڑے الگ سے بیٹھ گئے جبکہ ارحم تائشہ سویرا دھڑکن اور حوریہ وغیرہ کے ساتھ بیٹھا تھا

میرے موبائل میں سروس نہیں آ رہی شاید یہاں پر سروس نہیں ہے ۔آپ پلیز مجھے کسی سروس والی جگہ پر لے چلیں گی اس نے تائشہ کو دیکھتے ہوئے اپنے موبائل کو ٹٹولا

تائشہ آرام سے بیٹھی ارحم کا انٹرویو سن رہی تھی

سروس تو ہے دھڑکن نے فوراً اپنا موبائل چیک کیا تھا ۔

شاید اس موبائل کی نہیں ہوگی دھڑکن سویرہ نے سے گھورتے ہوئے کہا تھا ۔

او اچھا اس طرف سروس ہے جائیں تائشہ دیدہ لے جائیں انہیں اپنے ساتھ سروس والی جگہ پے دھڑکن نے تائشہ کی طرف اشارہ کیا جبکہ وہ مسکراتے ہوئے ارحم کے پیچھے چل دی دھڑکن کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ آخر تائشہ کے دماغ میں چل رہا ہے وہ تو اس رشتے سے کچھ زیادہ ہی خوش نظر آ رہی تھی ۔

خیر جو بھی تھا دھڑکن کی تو جان چھوٹ رہی تھی اس لیے وہ بہت خوش تھی

سویرہ دیدہ یہ آپ نے کیاکیا مقدم سائیں کو پتہ چل گیا کی تائشہ دیدہ اور ارحم اکیلے ہیں تو بہت غصہ ہوں گے حوریہ نے سویرا کو سمجھاتے ہوئے کہا ۔

کم اون حوریہ مقدم سائیں کو کون بتائے گا اور ویسے بھی وہ باہر بڑوں کے ساتھ ہیں تائشہ کو ایک بار ارحم سے مل کر دیکھ تو لینا چاہیے کہ وہ کیسا ہے اس طرح سے اجنبی انجان بن کر زندگی کیسے کٹے گی سویرا نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا جبکہ مقدم کا تھوڑا سا ڈراسے بھی تھا

ارحم جی صحن میں شاید سروس نہ ہو اوپر ہوگی اس نے چھت کی طرف اشارہ کیا جبکہ باہر کردم کےساتھ اپنے بابا کو کھڑے دیکھ کر وہ اس کے ساتھ سیڑھیاں چڑھنے لگا ۔

سیڑھیاں چڑھتے ہوئے تائشہ نے پہلے سے ٹائپ کیا ہوا میسج کردم کے نمبر پر سینڈ کر دیا

ویسے کیا کرتی ہیں آپ اس نے تائشہ کے ساتھ چلتے ہوئے مسکرا کر پوچھا۔

کچھ خاص نہیں بس گھر پے ہی ہوتی ہوں وہ اس کے ساتھ چھت پے آئی۔

اس نے اس کے ساتھ چھت پر رکھی کرسی پر بیٹھتے ہوئے کہا

ابھی وہ اس کا دھیان آگے پیچھے کرنے کے لیے کوئی بہانہ ڈھونڈ ہی رہی تھی کہ ارحم کا فون سچ میں بول اٹھا ۔

آپ فون اٹینڈ کرلیں کوئی ضروری کال ہوگی اسے فون کاٹتے دیکھ کر وہ فوراً بولی تھی ۔

میں وہاں ہوں اس نےچھت پہ بنے تین چار کمروں میں سے ایک کمرے کی طرف اشارہ کیا

رات کے سائے گہرے ہو رہے تھے آہستہ آہستہ اندھیرہ چھا رہا تھا تائشہ اس کے قریب سے اٹھ کر اس کمرے کی طرف آگئی ۔

کمرے میں قدم رکھتے ہی اس نے دیکھا کردم پہلے ہی وہاں موجود تھا ۔

کمرے کی لائٹ بند تھی ۔اوپر والے کمرے کی لائٹ کم ہی کوئی جلاتا تھا صرف ملازم جب صفائی کرنے اس طرف آتے تب بھی یہ کمرے روشن ہوتے تھے ورنہ یہ کمرے حویلی کا فالتو حصہ تھے

تائشہ ملک کے کہنے پر عمل کرتے ہوئے فورا ہی بھاگتی ہوئی کردم کے پاس آئی اور اس کے سینے سے جالگی ۔

میں آپ سے بہت پیار کرتی ہوں میں کیسے رہوں گی آپ کے بغیر میں یہ شادی نہیں کرنا چاہتی پلیز بچالیں مجھے آپ جو دعوے کرتے تھے مجھ سے محبت کے کہ آپ میرے بغیر نہیں رہ سکتے تو پھر میرے بغیر پرسکون زندگی کیسے رہے ہیں آپ ۔

سمجھ سکتی ہوں کہ اب ہماری شادی گھر والوں کی رضامندی سے نہیں ہوسکتی لیکن کیا آپ کو میری تڑپ نظر نہیں آتی میں مر جاوں گی آپ کے بغیر میں مر جاؤں گی ۔وہ اس کے سینے سے لگی بلک بلک کر روتے ہوئے بولی جب کہ دروازے پر کھڑے ارحم کے پیروں سے جیسے زمین نکل چکی تھی ۔

جبکہ تائشہ اپنا پلان کامیاب ہوتے اندر ہی اندر بہت خوش تھی جب کسی نے اچانک ہی کمرے کی لائٹ آن کر دیں ۔

وہ فورا کردم سے الگ ہوئی تھی ۔

لیکن کردم کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے اس کے پیروں سے زمین نکل گئی

مقدم کو جیسے ہی یہ پتہ چلا تھا کہ تائشہ اور ارحم ایک ساتھ اکیلے چھت پے ہیں اس کی برداشت سے باہر ہوگیا وہ اس کے نکاح میں نہیں تھی جو وہ اسے اکیلے چھت پر جانے دیتا اور اس بات کا اظہار کرتے ہوئے مقدم نے ارحم کے ماں باپ کا بھی لحاظ نہ کیا تھا ۔

لیکن چھت پر جو نظارہ وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا اس کے بعد اس کی انا کو گہری چوٹ لگی تھی ۔

وہ اس کی شادی کسی شہزادے کے ساتھ کرانا چاہتا تھا اور وہ ایک نوکر کے ساتھ ۔۔۔۔غصے سے مقدم کا پارہ ہائی ہو اور اس نے کھینچ کا جنید کو وہاں سے باہر نکالتے ہوئے بری طرح پیٹنا شروع کر دیا ۔

دو ٹکے کے آدمی تجھے ہم نے عزت دی تجھے اپنی بہنوں کے ساتھ بٹھایا اور تونے ہمارے ساتھ اس طرح سے کیا ۔

اپنی پینٹ سے بلٹ نکالتے ہوئے اس نے جنید کو بری طرح سے پیٹا تھا ۔

تائشہ نے کہا کے بھرتے ہوئے ان کی غلط فہمی دور کرنی چاہیے تھی

لیکن جنید کے اگلے الفاظ سن کر تائشہ بیہوش ہونے کے قریب تھی

مجھے معاف کر دیجیے سائیں میں اپنی اوقات بھول گیا تھا میں اپنی اوقات سے بڑے خواب دیکھنے لگا تھا تائشہ بی بی سے محبت کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے میں بھول گیا تھا کہ میں کون ہوں ۔

مجھے معاف کر دیجئے لیکن خدا کے لئے مجھے میری محبت دے دیں میں ان کے بغیر مر جاؤنگا

وہ مقدم کے پیر پکڑتے ہوئے بولا تھا جبکہ حویلی والے سناٹے میں آ چکے تھے ۔

لالا یہ جھوٹ بول رہا ہے آپ نے جو کچھ دیکھا وہ سچ نہیں ہے میں اس سے پیار نہیں کرتی تائشہ نے روتے ہوئے اپنی سچائی بیان کرنے کی کوشش کی جب مقدم نے ایک زور دار تھپڑ اس کے منہ پر جھاڑ دیا ۔

مولوی کو بلائیں دادا سائیں ابھی کے ابھی سے فارغ کریں یہاں سے اور اس کے بعد یہ گھٹیا آدمی اپنی شکل نہیں دکھائے گا ۔مقدم نے جذبات سے بھرپور فیصلہ سنایا ۔

اور اس وقت یہ فیصلہ دادا سائیں کو بالکل ٹھیک لگ رہا تھا ۔

تائشہ روتی رہی تڑپتی رہی لیکن کسی نے اس کی بات نہیں سنی ۔

کیونکہ سب نے اپنی کانوں سے محبت بھری داستان اس کے لبوں سے سنی تھی جب وہ جنید کے سینے سے لگی بلک بلک رو رہی تھی

دادا سائیں نے کہا تھا کہ اگر تائشہ نکاح کیلئے اپنی منظوری نہیں دیتی تو اسے گولی مار دی جائے ۔

دھڑکن تو خیرانگی اور پریشانی سے یہ سارا تماشہ دیکھ رہی تھی آخر اچانک ہوا کیا تھا کردم کو چھوڑ کر وہ جنید کے پیچھے کیسے لگ گئی ۔

جب کہ اس سارے معاملے میں اگر کوئی خاموش تھا تو صرف کردم ۔

وہ گہری نظروں سے جنید کو دیکھ رہا تھا جبکہ جنید نظر جھکائے وہیں بیٹھا تھا نہ تو اس نے جیند پر ہاتھ اٹھایا اور نہ ہی کوئی سوال پوچھا تھا وہ تو شاید اس کی مرضی سے سانس بھی نہ لے اور اسی کے گھر کی عزت پر اس طرح کی نگاہ کردم کے لیے اس بات پر یقین کرنا ناممکن تھا ۔

روتی دھوتی تائشہ کا نکاح جنید سے ہوگیا ۔

تائشہ کی اس حرکت کی وجہ سے نانا سائیں نے اس کے سر پہ ہاتھ رکھ کر دعا تک نہ دی تھی ۔

جبکہ پھوپھو سائیں تو بس تائشہ کو آخری لمحے تک پیٹتی ہی رہیں ۔

اور پھر وہ رخصت ہو کر حویلی سے گاؤں کے ایک مکان میں آگئی ۔

راستے میں جنید نے ایک لفظ تک نہ کہا تھا بلکہ جو کچھ بھی ہوا اس کی وجہ سے کافی غصے میں لگ رہا تھا جبکہ تائشہ اس کے گھر جاکر اسے اس کی نہ صرف اوقات بتانے والی تھی بلکہ اس سے طلاق لے کر کردم شاہ کی زندگی میں شامل ہونا چاہتی تھی

ملک کے کہنے پر عمل کرکے اس نے بہت بڑی غلطی کی تھی ۔

اس سے اچھا تو ارحم تھا تائشہ سوچ کررہ گئی کیا وہ ایک ملازم کی بیوی بن کے ساری زندگی رہے گی ۔

ہرگز نہیں کبھی زندگی میں نہیں ۔اس دو ٹکےآدمی کوتو میں اس کی اوقات بتاؤں گی ۔

تائشہ سوچتے ہوئے اس کے ساتھ چلتی رہی اور اس کے چھوٹے سے مکان کے اندر آگئی ۔

حویلی سے نکلتے ہوئے جنید نے کردم کا موبائل اس کے ہاتھ میں پکڑایا تھا ۔

اور اس سے کہا تھا کہ وہ کبھی کردم کی عزت پرآنچ نہیں آنے دے گا ۔یقینا اب تک وہ تائشہ کا میسج پڑھ چکا ہوگا ۔

جس میں لکھا تھا کردم سائیں چھت پہ آئیں مجھے آپ سے بہت ضروری بات کرنی ہے اگر آج آپ چھت پہ نہ آئے تو میں اپنی جان دے دوں گی ۔

اور میری موت کے ذمہ دار آپ ہوں گے ۔

کردم کا موبائل اس وقت جنید کے ہاتھ میں تھا اور یہ میسج پڑھتے ہی وہ فورا اوپر چلا گیا کیونکہ کردم اس وقت مصروف تھا اسے ڈر تھا کہ تائشہ کوئی الٹی سیدھی حرکت نہ کر دے ۔

لیکن جو تائشہ نے کیا تھا اس کے بعد اس پورے گاؤں میں کردم کی کتنی بدنامی ہونی تھی یہ وہ جانتا تھا ۔

اسی لیے کردم کو بدنامی سے بچانے کے لیے اس نے تائشہ کو اپنے نکاح میں لے لیا تھا

اور اب اس جلیبی جیسی لڑکی کو بالکل سیدھا کرنے کا خود سے عہد کرتا ہوا وہ گھر کے اندر چلا آیا ۔

جب اس کا موبائل بجا موبائل پر کردم کا میسج تھا جو ایسے ڈیرے پر بلا رہا تھا ۔

اپنے گھر کو باہر سے لاک کرتا ہوں ڈیرےکی طرف چلا گیا