267.3K
86

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Bheegi Palkon Par Naam Tumhara Hai) Epi 18

یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں دادا سائیں ملک یہاں آیا تھا ۔
آپ نے مجھے کیوں نہیں بتایا ۔کردم کو ملک کے بارے میں سوچ کا ہی غصہ آنے لگا تھا ۔
کردم سائیں اپنا غصہ کنٹرول کریں ۔
آج کی تاریخ میں اس شخص کے لئے یہی شکست کافی ہے کہ اسے اس کی بیٹی کے نکاح میں شامل نہیں کیا گیا ۔
ہم جانتے ہیں ہم نے حوریہ کو کبھی اس کی اولاد نہیں مانا کبھی اس سے ملنے نہیں دیا لیکن سچ یہ بدل تو نہیں سکتا کہ حوریہ اس کا خون ہے ۔
جس سے وہ بے پناہ محبت کرتا ہے ۔
لیکن یہ بھی حقیقت ہے دادا سائیں کہ حوریہ صرف اس کا ہی نہیں بلکہ پھوپھو سائیں کا بھی خون ہے ۔
ہم نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ ہم حوریہ کی زندگی اس شخص کے حوالے کبھی نہیں کریں گے ۔
حوریہ اس گھر کی بیٹی ہے ۔
دادا سائیں جانتے تھے کہ کردم شاہ کے سامنے ملک کا ذکر بھی غلط ہے اس شخص کے نام پر وہ غصے سے آگ بگولا ہو جاتا
آج انہوں نے کردم کو یہاں دھڑکن کے بارے میں پوچھنے کے لیے بلایا تھا ۔لیکن کسی نوکر نے یہاں آتے ہوئے اسے یہ بتا دیا کہ ملک حویلی آیا تھا تھا جس کی وجہ سے وہ بہت غصے میں تھا ۔
ملک کے سامنے تو وہ کہہ آئے تھے کہ وہ جیت گئے ہیں ۔لیکن یہ بھی بات سچ تھی کہ آج ملک کو دیکھ کر ان کے پرانے سارے زخم تازہ ہو گئے تھے ۔
کردم ہم نے آپ کو یہاں کسی اور مقصد کے لیے بلایا تھا ۔اور آپ ہیں کہ دشمن کو لے کر بیٹھ گئے ہیں اس آدمی کا ذکر کرنے سے بہتر ہے کہ ہم اپنی خوشی آپ کے ساتھ منائیں
کردم شاہ جانتا تھا کہ آج اس کے دادا کی خوشی کی کوئی انتہا نہیں ۔اسی لیے فی الحال وہ بھی ملک کا ذکر نہیں کرنا چاہتا تھا ۔
کہیں آپ نے کیوں بلایا ہے وہ تھوڑا نارمل انداز میں پوچھنے لگا ۔
ہم نے یہ پوچھنے کے لئے بلایا ہے کہ تمہیں دھڑکن پسند تو ہے میرا مطلب ہے کہیں تائشہ کے لیے تمہارے دل میں جذبات تو نہیں اس دن تائشہ کا نام ہٹا کر جب ہم نے دھڑکن کا نام لیا تو تمہارا چہرہ بے تاثر تھا ۔
ہمیں تمہارے چہرے پر کہیں پر بھی اس کے لیے محبت نظر نہیں آئی ۔ہم جانتے ہیں کہ جذبات میں بہہ کر ہم نے تائشہ کے ساتھ ناانصافی کی ہے ۔
لیکن بہت جلد ہم اسے پیار سے بٹھا کر سمجھائیں گے تو وہ ہماری بات سمجھ جائے گی بہت سمجھدار بچی ہے ۔
لیکن ہمیں ڈر ہے کہ ہم نے تمہارے ساتھ کوئی ناانصافی نہیں کی نا ۔
دادا سائیں نے اس سے پوچھا تو وہ مسکرا دیا ۔
دھڑکن کا معصوم چہرہ ایک بار پھر سے نظروں کے سامنے لہرایا تھا ۔
وہ جونکاح کے بعد محبت پر یقین رکھتا تھا آج دل سے اس بات پر ایمان بھی لے آیا تھا ۔
آپ کا ڈر بالکل بے مقصد ہے دادا سائیں آپ کی پسند میری پسند ۔
وہ لڑکی جو شادی سے پہلے ہی اپنے آپ کو اس کی پسند میں ڈال چکی تھی وہ اسے کیسے پسند نہ آتی ۔
اور کوئی سوال ۔۔۔۔۔۔؟اس نے مسکراتے ہوئے پوچھا تو دادا سائیں نے نہ میں گردن ہلائی ۔
جاو آرام کرو کل شادی ہے تمہاری ۔دادا ساری نے خوشی سے کہا
••••••••••••••••••
یہ کیا کہہ رہی ہے تو تائشہ تم لوگ چوہدری کے پاس کیوں گئی تھی
تمہیں اندازہ بھی ہے اگر اس بارے میں کر دم اور مقدم
کوپتا چل گیا تو۔ ۔۔۔؟
ایسا کیسے کر سکتی ہے تو رضوانہ تو غصے سے آگ بگولا ہو چکی تھی ۔
مجھےسویرا دیدا نے جو بولا وہ میں نے کردیا اماں سائیں غلطی ہوگئی مجھ سے
میں نےنانا سائیں کے کمرے سے اس زمین کے اوریجنل پیپر چودھری کو دے دیے لیکن میں نے سویرا دیدہ کے کہنے پر ایسا کیا انہوں نے کہا کہ چودھری ہماری مدد کرے گا توکردم سائیں کا اس دھڑکن سے نکاح رک جائے کا ۔
اور اگر نکاح رک گیا تو ان کی شادی مجھ سے ہو جائے گی ۔
تیرا دماغ خراب ہوگیا تھا یہ تو نے کیا کر دیا ۔
اب کیا ہوگا آج نہیں تو کل یہ بات کردم سائیں کو پتہ چل جائے گی پھر وہ کبھی تم سے شادی نہیں کرے گا ۔
اور اب تو بالکل بھی نہیں ۔ ہمارے خاندان میں مرد بس ایک ہی بار شادی کرتا ہے ۔
اور کردم شاہ کا نکاح ہو چکا ہے اس بات کو قبول کرو وہ اب تجھے کبھی نہیں اپنائے گا بھول جاؤ اسے اور اپنی آنے والی زندگی کے بارے میں سوچو ۔
تجھے اندازہ بھی ہے جو غلطی تو نے کی ہے وہ کیا رنگ لائے گی اور اس زمین پر بچیوں کا سکول نہیں بنے گا ۔
اگر اوریجنل پیپر چوہدری کے پاس چلے گئے ہیں تو اس کی بہت بڑی قیمت چکانی ہوگی تائشہ ۔
لیکن میں نے کچھ نہیں کیا جو بھی کیا سویرا دیدہ نے کیا ۔تائشہ نےا ماں کو سمجھاتے ہوئے کہا
لیکن تیری اس بات کو کون قبول کرے گا کہ تم نے جو کچھ بھی کیا وہ اس کے کہنے پر کیا ۔
کیا تو اپنی عقل نہیں رکھتی تھی ۔
رضوانہ کو پریشانی کھائے جا رہی تھی
جبکہ تائشہ کو اب اس بات کی فکر تھی کہ اگر کردم کو یہ پتہ چل گیا کہ وہ اوریجنل پیپر چودھری تک پہنچانے میں تائشہ کا ہاتھ ہے تو وہ اسے کبھی معاف نہیں کرے گا پیار تو بہت دور کی بات ہے
•••••••••••••••••••
اپنے سامنے مقدم شاہ کو کھڑا دیکھ کر اس کے رونگٹے کھڑے ہوگئے تھے جبکہ وہ اس کے کمرے کے اندر آیا اور آہستہ سے دروازہ بند کر دیا
تمہیں کیا کہا تھا میں نے ایک بار میری بات سمجھ میں نہیں آئی تھی وہ آنکھوں میں سختی لیے بول رہا تھا
اس کے آنکھوں کی سختی دیکھ کر حوریہ گھبرا کر پیچھے ہٹی ۔
قسم سے مقدم سائیں میں آ رہی تھی ۔وہ اس سے ڈرتے ہوئے اتنی جلدی میں بولی تھی کہ مقدم شاہ کے لبوں پر مسکراہٹ آگئی جسے وہ بڑی صفائی سے چھپا گیا
اچھا مطلب عاشق کو تڑپا تڑپا کے آنے کا ارادہ تھا ۔
لیکن تمہارا عاشق نہ صبر کے معاملے میں بہت کمزور ہے ۔اسی لئے تمہارے آنے سے پہلے حاضر ہوگیا ۔
وہ اسے کھینچ کر اپنی باہوں میں بھر چکا تھا ۔
مقد م سے فی الحال وہ اس طرحکی امید نہیں رکھتی تھی اسی لئے اس کے باہوں میں بوکھلا کر رہ گئی
جویلری اور میک اپ وہ صاف کر چکی تھی لیکن مہندی کا پیلا جوڑا ابھی اس کے بدن پر موجود تھا ۔
بہت خوبصورت لگ رہی ہو ۔
اس کے نازک سے سراپے سے اٹھتی اوپٹن اور مہندی کی خوشبو اسے بے قابو کر رہی تھی۔
اوپر سے نکاح کا جائز رشتہ اور احساس ملکیت اسے بہت کچھ کرنے پر مجبور کر رہا تھا ۔
وہ بنا اس کی حالت کی پرواہ کیے اس کے لبوں پر جھکا اور اس اسحقاق سے اپنی محبت کی پہلی مہر لگائی ۔
اس کی اس بے ساختہ جرت پر حوریہ گھبرا کر پیچھے ہٹی
حوریہ نے اس سے دور اٹھنا چاہا لیکن نہ تو مقدم شاہ کے گرفت اتنی ڈیلی تھی اور نہ ہی حوریہ میں اتنی جان کہ وہ اس کے حصار سے نکل پاتی۔
حوریہ جتنا اس سے دور جانے کی کوشش کرتی مقدم اسے کمر سے پکڑ اتنا ہی اپنے نزدیک کر چکا تھا
وہ نازک سی جان بہت مشکل میں پڑ چکی تھی
اس کے لبوں کو آزاد چھوڑتا وہ نگاہوں میں خمار لیے اسے
کے حسین سراپے کو اٹھائے بیڈ پر آیا ۔
حوریہ کو لیٹا کر خود بالکل اس کے ساتھ لیٹتا ہوا اس کے دونوں ہاتھ تھام کر اپنے لبوں سے چھونے لگا
اب تو کوئی پابندی نہیں ہے نہ اس کے دونوں ہاتھوں کو قید کرتا مدہوش لہجے میں بولا ۔
اب ہوگیا نکاح وہ اس کی تھوڑی کو اپنے لبوں سے چھوتا اس کی صراحی دار گردن کی طرف آیا ۔
اور اپنے دہکتے ہوئے لبوں کو سیراب کرنے لگا
نہیں ۔۔۔۔۔مقدم نے اس کا دوپٹہ اس کے بدن سے الگ کیا اس سے پہلے کہ وہ زمین پر گرتا حوریہ اسے تھام چکی تھی ۔
مقدم شاہ نے آنکھوں میں غصے کے شرارے لئے اس کے چہرے کی طرف دیکھا
اس وقت تمہاری مزاحمتیں برداشت نہیں کروں گا میں ۔
تمہارے قریب آنے کی شرط تم نے نکاح رکھا تھا جو پوری ہو چکی ہے ۔
اب تم مجھے روکنے کا حق نہیں رکھتی ہو ایک بار پھر سے اس کے لبوں پر جھکتا ہوا سخت لہجے میں بولا ۔
مقدم شاہ نکاح ہوا ہے رخصتی نہیں ۔ لبوں کو آزادی ملتے ہی حوریہ بےبسی سے بولی
حوریہ کے دل کی دھڑکن مقدم کے سینے میں دھڑکتا اس کا دل محسوس کر رہا تھا
کل تک صبر کرلیں ۔۔۔۔۔ حوریہ نے اس کے باہوں میں قید بے بسی سے کہا تھا ۔
اگرمیرا جواب انکار ہو تو ۔شاید مقدم اس سے زیادہ بے بس تھا
آنسو خاموشی سے اس کی آنکھوں سے نکل کر تکیے میں جذب ہو چکا تھا ۔
مقدم شاہ کی نظروں سے وہ آنسو بھی چھپانا رہا وہ اس کے ایک ایک جذبات سے واقف تھا ۔
مقدم نے سختی سے اس کے بال اپنی مضبوط مٹھی میں پکڑے اور اس کا چہرہ اپنے چہرے کے بالکل قریب لے آیا ۔
اگر تم نے کل مجھے یہ نخرے دکھائے تو میں کوئی لحاظ نہیں کروں گا ۔
وہ اتنی سختی سے بولا تھا کہ حوریہ ایک لفظ بھی ادا نہ پائی
مقدم نے اسے پھینکنے والے انداز میں خود سے دور کیا تھا ۔
نظریں صاف اس سے ناراضگی کا اظہار کر رہی تھی ۔
لیکن حوریہ میں نہ تو اس اسے روکنے کی ہمت تھی ۔اور نہ ہی اپنی تربیب کو شرمندہ کرنے کا حوصلہ ۔
میں کل آپ کو منا لوں گی مقدم سائیں ۔اس کے جانے کے بعد حوریہ خاموشی سے اٹھی اور دروازہ بند کیا ۔
اسے یقین تھا کہ وہ اسے منا لے گی ۔
لیکن مقدم کا غصے میں جانا اچھا نہ لگا تھا
••••••••••••••••
آج ان کی رخصتی تھی کردم کی کل والی حرکت کے بعد دھڑکن اس حد تک ڈری ہوئی تھی کہ اسے کچھ سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا ۔
اس وقت بھی کردم اسے نظروں کے حصار میں لیے اس کے بالکل سامنے کھڑا تھا ۔جبکہ دھڑکن اس کی نظروں سے کنفیوز ہو رہی تھی
وہ ہر تھوڑی دیر میں نگاہیں اٹھا کر کردم کو دیکھتی اور ہر بار اسے خود کو دیکھتا پا کر نگاہیں جھکا لیتی
نہ جانے اس کے دل میں کیا چل رہا تھا ۔
جبکہ وہ اسے خود دیکھتے پاکر مسکرا رہا تھا
اپنی شادی پر بھی کردم بیچارا سب کچھ اکیلے سنبھال رہا تھا مقدم نہ جانے کہاں تھا ۔
صبح اسے کہہ کر گیا تھا کہ تھوڑی دیر میں واپس آ جاؤں گا لیکن وہ گیا کہاں یہ سوچ سوچ کر کردم پریشان ہو چکا تھا
ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی دلہنوں کو لاکر باہر بٹھایا گیا تھا ۔
ناجانے مقدم کہاں تھا ۔
کل رات کے بعد تو وہ حوریہ کو کہیں نظر نہ آیا ۔
شاید وہ اس سے بہت غصہ تھا ہاں یہ سچ تھا کہ حوریہ کو نکاح کے بعد اس کے قریب آنے میں کوئی مسئلہ نہیں تھا لیکن پھر بھی کل رات مقدم کے اس کے قریب آنے پر حوریہ نے اسے خود سے دور کردیا ۔
ٹھیک ہے حوریہ اس کی بیوی تھی لیکن ابھی تک اس کی رخصتی نہیں ہوئی تھی اسے عزت کے ساتھ مقدم کے کمرے تک رخصت نہیں کیا گیا تھا ۔
وہ کسے جاتی اس کے قریب
مقدم شاہ یہی سمجھ رہا تھا کہ وہ اس کے جذبات کی قدر نہیں کرتی ۔
حوریہ کو اس کا احساس نہیں ہے ۔لیکن مقدم جس طرح رات غصے سے اس کے کمرے سے گیا تھا وہ بہت ڈری ہوئی تھی نجانے وہ اس کے ساتھ کیا سلوک کرے ۔
••••••••••••••••••
دماغ خراب ہوگیا ہے تائشہ اگر یہ بات تم نے اسے بتا دی تو وہ کیا کرے گا ۔
تائشہ نے ابھی سویرہ کو آکرکہا تھا کہ وہ کردم کو یہ بات بتا دی گئی کہ وہ فائل چودھری تک ان دونوں نے پہنچائی ہء۔
نہیں سویرہ دیدہ مجھے یہ بات کر دم سائیں کو بتانی ہوگی کہ وہ فائل چوہدری تک پہنچانے والی میں ہوں نہیں تو وہ بعد میں مجھے کبھی معاف نہیں کریں گے ۔
اور ابھی معاف کردے گا نہیں نہ وہ اپنی شادی والے دن ہی ہو تمہیں شوٹ کردے گا ۔
تھوڑا صبر کر لو ۔میں نے تمہارے لئے بہت خاص پلاننگ کر کے رکھی ہے ۔مجھے پہلے سے ہی پتہ تھا کہ تم دھڑکن کو ڈرا نہیں پاؤ گی
اسی لئے اس بار جو میں نے پلاننگ کی ہے اسے کردم کبھی دھڑکن کے نزدیک نہیں جا پائے گا ۔
ایسا کیا کیا ہے آپ نے اب تائشہ کو سویرا پر بالکل بھی یقین نہ تھا تائشہ اور سویرہ کی ساری پلاننگ فیل ہوئی تھی کردم اور دھڑکن کا نکاح ہوگیا تھا تو اب ان دونوں کو ایک دوسرے سے الگ رکھنا ناممکن تھا تائشہ یہ بات سمجھ رہی تھی لیکن سویرا کے دماغ میں نہ جانے کیا چل رہا تھا ۔
تم دیکھتی جاؤ تائشہ تم نے تو میرا ساتھ چھوڑ دیا لیکن میں تمہارا ساتھ نہیں چھوڑوں گی ۔
شاطرانہ انداز میں مسکراتی سویرہ آگے بڑھ چکی تھی جبکہ تائشہ کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ سویرا نے کیا سوچا ہے
•••••••••••••••••••
رخصتی کا وقت ہو چکا تھا لیکن نہ جانے مقدم کہاں تھا
دادا سائیں دو تین بار اسے فون کر چکے تھے ۔
لیکن ہر بار ایک ہی جواب ملتا کہ اس کا فون بند ہے ۔
اب دادا سائیں کو پریشانی ہونے لگی تھی ۔
آخر مقدم گیا تو گیا کہاں ۔۔۔
میں ڈیرے پر چکر لگا کے آؤں وہ دو تین لوگوں کو ڈیرے پر بھیج چکے تھے لیکن مقدم کا کچھ پتہ نہ چلا اب کردم دادا سائیں کی پریشانی دیکھتے ہوئے بولا تھا ۔
نہیں کردم تم کہیں نہیں جاسکتے رخصتی کا وقت ہونے والا ہے بچیاں انتظار کر رہی ہیں مہمان انتظار کر رہے ہیں
تو پھر کیا کریں گے کردم نے پوچھا۔
اس طرح بغیر دلہے کے دلہن کو رخصت تو نہیں کر سکتے نا ۔پہلے دھڑکن کی رخصتی کرتے ہیں پھر حوریہ کے بارے میں سوچتے ہیں ۔
دادا نے سائیں نے پریشانی سے کہا
مقدم اتنا غیرزمادار تو کبھی نہ تھا
لوگوں کے بیچ میں باتیں شروع ہوچکی تھی کہ مقدم شادی سے غائب ہے ۔
لیکن وہ کہاں گیا ہے کوئی نہیں جانتا تھا ۔
••••••••••••••••••
مقدم سائیں آپ کہاں چلے گئے ہیں وہ مجھ سے ناراض ہو کر تو نہیں چلے گئے حوریہ کو اپنے ہی اندیشہ کھائے جا رہے تھے ۔
اسے بار بار مقدم کا غصے سے بھرا چہرہ یاد آتا ۔
نہیں مقدم سائیں آپ اس طرح سے نہیں کر سکتے میری غلطی اتنی بڑی نہیں ہے جس کی سزا اس طرح دی جائے
حوریہ کے ہاتھ پیر کانپنے لگے تھے
دھڑکن کو اکیلے رخصت کرتے ہوئے بہت عجیب لگ رہا تھا ۔
لیکن اس سے پہلے کے دھڑکن کی رخصتی شروع ہوتی مقدم پہنچ ایا ۔
کہاں تھے تم مقدم ہم تمہارا انتظار کر رہے تھے اتنی غیر ذمہ داری ۔
دادا سائیں نے غصے سے کہا ۔
دادا سائیں زمین کے پیپرزکسی نے حویلی سے چوری کرکے چودھری کو پہنچا دیے تھے بس میں وہی پیپرز لینے گیا تھا میرے دادا سائیں کا خواب پورا نہ ہو ایسے میں ہونے نہیں دوں گا ۔مقدم نے اپنے ہاتھ میں پکڑے ہوئے پیپرز کی طرف اشارہ کیا
جسے دیکھتے ہی سویرااور تائشہ کے رونگٹے کھڑے ہو چکے تھے ۔
یہ پیپرز ہمارے روم میں تھے وہاں سے کس نے نکالے ۔
داداسائیں نے پریشانی سے پوچھا ۔
وہ تو پتہ چل ہی جائے گا آپ پریشان مت ہوں اس نے تائشہ کو سخت نظروں سے گھورتے ہوئے دادا سائیں کو جواب دیا ۔
اب چلے نہ میری دلہن کب سے میرا انتظار کر رہی ہے ۔مقدم نے مسکراتے ہوئے کہا تو دادا سائیں نے اس کے کپڑوں کی طرف اشارہ کیا ۔
اس حلیےمیں دلہن نہیں ملے گی کیا ۔مقدم نے مسکراتے ہوئے کردم کی طرف دیکھا ۔
بالکل نہیں اگر میری بہن چاہیے تو اپنا حلیہ درست کرو کردم نے روعب جھاڑتے ہوئے کہا ۔تومقدم مسکراتا ہوا اپنے کمرے کی طرف چلا گیا ۔لیکن ایک سخت نظر تائشہ کو ڈالنا نہ بھولا ۔
••••••••••••••••••••
میں تمہارا یہ احسان کبھی نہیں بھولوں گی بیٹا تم نے تائشہ کو کردم کی نظروں میں گرنے سے بچا لیا ۔
پھوپو سائیں آپ کے لئے کچھ بھی کروں گا لیکن تائشہ کو کہے کہ بازآ جائے ان سب حرکتوں کا کوئی فائدہ نہیں کردم کا نکاح ہوچکا ہے ۔
اللہ نے اس کے نصیب میں بھی کچھ اور لکھا ہوگا ۔
اسے کہیں کہ اس طرح سے ناشکری کرکے اپنا نصیب نہ بھگاڑے ۔
مقدم نے پھوپو سائیں سے نرم لہجے میں بات کی تھی لیکن تائشہ پر اسے اب بھی بہت غصہ تھا ۔
جو کردم کے لئے اپنے نانا کا خواب اس طرح سے کسی کے حوالے کر آئی تھی ۔
•••••••••••••••
رخصتی کی رسم ادا ہوچکی تھی ۔
دھڑکن کو کردم کے کمرے میں پہلے چھوڑا گیا ۔
جانے کتنی ہی چھوٹی چھوٹی رسم تھی جو اسی حویلی سے شروع ہوکر کی حویلی میں ختم ہوگئی ۔
لیکن اسے بار بار اپنے بابا یاد آرہے تھے جو رخصتی میں بہت زیادہ اداس لگ رہے تھے ۔
انہوں نے اس سے کہی بات کی تھی کہ کردم تمہارا سایہ ہے اور تم نے ساری زندگی اسی کے ساتھ گزارنی ہے ۔
مرد کے بغیر عورت کا کوئی وجود نہیں ۔
ایک مرد ہی عورت کا اصل محافظ ہے اور دھڑکن کا حافظ اب کردم ہے ۔
بابا کی ساری باتوں پر ہاں میں سر ہلاتی کو ان کے سینے سے لگ کر بہت روئی تھی ۔
جبکہ حوریہ کو اس طرح کا کوئی کندا نصیب نہ ہوا سوائے کردم کے ۔
وہ جو کہہ رہی تھی کہ وہ نہیں روئے گی اس نے کہاں کسی اور گھر جانا ہے لیکن نہ جانے کیوں کردم کا کندھا ملتے ہی اس کی آنکھیں نم ہونے لگی ۔
شاید ہی وہ اس گھر میں کردم سے زیادہ کسی سے محبت کرتی تھی وہ اس کا سگا بھائی نہیں تھا مگر سگوں سے بڑھ کر تھا