267.3K
86

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bheegi Palkon Par Naam Tumhara (Episode 76)

Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah

سویرا کی آنکھ کھلی تو مقدم آئینے کے سامنے کھڑا تیار ہو رہا تھا

اسے جاگتا دیکھ کر اس نے ایک نظر اس کی طرف دیکھا اور بے ساختہ مسکرایا

اسے اس طرح سے مسکراتے پا کر سویرا آہستہ سے بیڈ چھوڑتی اس کے قریب آئی

آپ کہیں جا رہے وہ اس کے کندھے کی چادر درست کرتے ہوئے بولی ۔

ہاں مجھے ایک بہت ضروری کام تھا میں تھوڑی دیر میں واپس آ جاؤں گا ۔

میرا ارادہ آپ کے ساتھ لنچ کرنے کا تھا وہ روٹھے ہوئے انداز میں بولی

لنچ نہیں لیکن بریک فاسٹ ساتھ کر ہی سکتے ہیں لیکن اس سے پہلے یہ ساری چیزیں یہاں سے ہٹا دو ۔نہ صرف یہاں سے بلکہ اس کمرے میں حوریہ کی کوئی چیز نہیں ہونی چاہیے ۔

عجیب سے چڑ ہو رہی ہے مجھے یہ سب کچھ دیکھ کر

میں آج اپنے دوستوں کے ساتھ شام میں شکار پر جاؤں گا کوشش کروں گا کہ صرف تمہارے نشے کا خمار ہو لیکن بہت ڈھیٹ دوست ہیں میرے جب تک زبردستی پلانا دیں تب تک جان نہیں چھوڑتے ۔اسی لئے پوچھنا یہ تھاکہ اگر تھوڑی بہت ہو جائے تو تھوڑی گنجائش نکل سکتی ہے کیا وہ اس کی کمر میں ہاتھ ڈالتا اسے بالکل اپنے نزدیک کرتے ہوئے مسکرا کر پوچھنے لگا

جی نہیں کوئی گنجائش نہیں نکل سکتی۔ میرے پاس آنے کے لئے آپ کو شراب سے تعلق ختم کرنے ہوں گے ورنہ پھر ۔۔۔۔۔وہ شرارتی انداز میں کہتی اپنی بات ادھوری چھوڑ گئی

ورنہ پھر یہ نشہ میسر نہیں ہوگا وہ اس کی بات مکمل کرتے ہوئے اس پر جھکا جب اماں سائیں دروازہ کھل اندرآ گئیں اگلے ہی لمحے مقدم نے اسے خود سے دور کیا

معاف کرنا بیٹا لگتا ہے میں غلط وقت پہ آگئی میں پھر آتی ہوں سویرا کی سخت گھوری اور مقدم کا بگھڑا موڑ دیکھ کر اماں سائیں معذرت کرتے واپس باہر جانے لگیں۔

اماں سائیں یہ ایک میاں بیوی کا کمرہ ہے آپ کو اس طرح سے آنا ہی نہیں چاہیے اور کچھ نہ سہی تو دروازہ کھٹکھٹا ہی سکتی تھی آپ سویرا کاموڈ سخت خراب ہو چکا تھا ۔لیکن اپنے انداز کو نوٹ کرتے ہوئے اس نے ایک نظر مقدم کی طرف دیکھا جو سخت نظروں سے اسے گھور رہا تھا

میرا مطلب ہے یہ آپ کے بیٹے کا کمرہ ہے اب جب چاہیں یہاں آ سکتی ہیں لیکن آئندہ احتیاط کیجئے ۔وہ اپنی ناگواری چھپاتی مسکرا کر بولی

جبکہ نازیہ شرمندہ سی ہاں کہہ کر باہر چلی گئیں

وہ سویرا کا ہاتھ تھامیں محبت سے اسے لے کر ٹیبل پر آیا تھا دادا سائیں نے ایک ناگوار نظر ان دونوں پر ڈالی

بڑی جلدی اتر گیا عشق کا خمار مقدم سائیں مجھے تو لگتا تھا کہ تم حوریہ سے محبت کرتے ہو لیکن تمہیں دیکھ کر تو مجھے ایسا محسوس نہیں ہو رہا

گھر کی بچی ایک مہینے سے غائب ہے اور تو عیاشیاں کرتے پھر رہے ہو کبھی اپنے عیاش دوستوں کے ساتھ شراب خانے میں ملتے ہو تو کبھی شکار کھیلنے جا رہے ہو

اور اب انہوں نے ایک نظر سویرا کی طرف دیکھا اور نظر پھیر گئے

اور اب سب کچھ بھلا کر سکون سے اپنی زندگی گزارنے کے بارے میں سوچ رہا ہوں تو اس میں غلط کیا ہے دادا سائیں آپ کی نواسی گھر چھوڑنے سے پہلے سوچ کر چھوڑتی ۔

بالکل صحیح کہہ رہا ہے ہی مقدم سائیں اب آدھی رات کو گھر چھوڑ کر گئی ہے ہمیں کیا پتا اکیلی گئی ہیں یا کسی کے ساتھ بھاگ گئی ہے اور ویسے بھی رات کو گھر سے نکلنے والی لڑکیوں کو ڈھونڈا نہیں جاتا اور اگر غلطی سے مل جائے تو وہی پر گولی مار دی جاتی ہے رضوانہ نے اپنی کرسی گھسیٹتے ہوئے کہا

خبردار رضوانہ ایک لفظ استعمال مت کرنا میری حوریہ کے خلاف ۔میری حوریہ وہ ہیرا ہے جسے پردوں میں چھپا بھی لیا جائے تو بھی اس کی چمک کم نہیں ہوتی ۔

دادا سائیں ایسے ہیرکو گھر پر رہنا چاہیے نہ کہ آدھی رات کو گھر سے غائب ہوجانا چاہیے مقدم کے الفاظ نے انہیں اس کی طرف دیکھنے پر مجبور کر دیا

سویرا ڈارلنگ جم دینا میں جلدی آنے کی کوشش کروں گا اور اگر میں اس کوشش میں کامیاب ہوگیا تو میں اور تم باہرچلیں گے ۔

ویسے بھی ایک مہینے سے ذہن پر کافی دباؤ آگیا ہے میں ریکس ہونا چاہتا ہوں ۔سوچ رہا ہوں کچھ دن کے لیے کہیں باہر چلا جاؤں سویرہ کے ساتھ ۔وہ بھی بول ہی رہا تھا جب دادا سائیں نے غصے سے اپنی کرسی چھوڑی اور اندر چلے گئے ۔

اب کیا چاہتے ہیں آپ ساری زندگی آپ کی نواسی کا انتظار کرتا رہوں اپنی زندگی جینا چھوڑ دوں وہ اونچی آواز میں انہیں سنانے والے انداز میں کہہ رہا تھا

جبکہ دادا سائیں اس کی آواز پر بھی نہ پلٹے آج مقدم نے انہیں ہرٹ کیا تھا ۔

حد ہے مطلب اپنی زندگی جینا چھوڑ دوں میں کیونکہ ان کی نواسی رات اندھیرے میں گھر سے غائب ہوگئی ہے وہ بھی کھانا چھوڑ کے اٹھنے لگا جب سویرا نے اس کا ہاتھ تھام لیا

مقدم سائیں اس طرح سے کھانا چھوڑ کے نہیں جاتے پلیز دیکھیں اگر آپ کچھ نہیں کھائیں گے تو میں بھی سارا دن بھوکی رہوں گئی اور مجھے یقین ہے کہ آپ یہ نہیں چاہیں گے کہ میں سارا دن بھوکی رہوں ۔وہ اسے جان لٹاتے نظروں سے دیکھتی ہوئے بولی تو وہ دلکشی سے مسکراتا دوبارہ بیٹھ گیا

ایک شرط پہ کھاوؤں گا اگر اپنے ہاتھوں سے کھلاؤ گی تو مقدم نے شرارت سے کہا تو وہ نازیہ رضوانہ کو دیکھنے لگی

او کم ان یار اب بیٹھ کے شرمانے مت لگ جانا عجیب سی چڑ ہو گئی ہے مجھے شرم و حیا سے ۔

تم کھلا رہی ہو یا میں ایسے ہی چلا جاؤں وہ دھمکی دینے والے انداز میں بولا تھا سویرا فوراً ہی اس کے لئے بریڈ پرجم لگانے لگی۔ اور پھر بنا کسی کی پرواہ سے بہت محبت سے اپنے ہاتھوں سے مقدم کو ناشتہ کروایا

جنید کی آنکھ کھلی تو تائشہ اس کے بالکل قریب ہی گہری نیند میں سو رہی تھی حوریہ کو ڈھونڈنے میں اس نے اپنی جان لگائی تھی لیکن وہ کہیں نہ ملی حوریہ کی وجہ سے ان سب کی زندگی ایک جگہ رکی ہوئی تھی اور جس کی زندگی حوریہ تھی وہ اپنی زندگی میں آگے بڑھ چکا تھا اسے ابھی تک یقین نہیں آیا تھا کہ مقدم شاہ کے دل میں اس کی محبت اتنی جلدی ختم ہو گئی ۔

حوریہ کے بغیر بھی اس کا وقت اچھا گزر نے لگا تھا ۔

جنید اٹھ کر جانے لگا جب اس کی نظر تائشہ کے بریسلیٹ پر پڑی جب سے تائشہ کو پہنایا تھا اس نے ابھی تک نہ اتارا ۔

اور اس کے لئے یہی کافی تھا کہ وہ یہ رشتہ قبول کر چکی ہے ۔کچھ دن پہلے تائشہ نے اپنا فون بند کر دیا تھا جنید نہیں جانتا تھا وجہ اس نے اس کا فون چیک کیا تو اس پر صرف اماں سائیں کی فون کال آئی تھی ملک نے اسے فون کرنا چھوڑ دیا تھا تو کیا ہوا کیا اب وہ اپنی ماں سے بھی بات نہیں کرنا چاہتی جنید وجہ سمجھ نہیں پایا تھا لیکن وہ تائشہ میں آتے ہر دن ایک نئے بدلاؤ کو دیکھ کر بہت خوش تھا

اسے ایک ماہ میں سے جو بات بہت نوٹ کی تھی وہ یہ تھی کہ تائشہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر خوش ہونے والی تھی اسے اپنی تعریف پسند تھی اس سے ہمیشہ تیار رہنا پسند تھا ۔

جنید جب گھر واپس آتا تو وہ اسے اپنے سامنے فریش نظر آتی گھر کے سارے کام کرنے کے باوجود بھی وہ اتنی فریش کیسے رہتی تھی جنید سمجھ نہیں پاتا تھا

شاید یہ سب کچھ اس کےشوق کی وجہ سے تائشہ کو سجنے سنورنے کا شوق تھا

اب دو دن پہلے کچن میں روٹیاں پکاتے ہوئے تائشہ کے نظر اچانک نظر اپنے دائیں جانب بالوں پر پڑی جن کی نیچے سے کٹنگ خراب ہو چکی تھی

تائشہ نے وہی روٹی کا پیڑا چھوڑ اور پہلے آپنے بال ٹھیک کیے اور پھر اپنے موبائل میں 15 16 سیلفی لی پر باقی سب کو ڈلیٹ کر کے صرف دو ہی اسے دکھائی

اور انہیں دکھانے کا مقصد صرف تعریف وصول کرنا تھا ۔

وہ آئے دن فیشن کرتی اور ہر روز ایک الگ لک میں اسے نظر آتی وہ آۓ دن اس پر بجلیاں گر آنے لگی تھی ۔

اور پھر جنید اس کی تعریف میں جب چاند سورج ایک کرنے کو بیٹھاتا تو شرما شرما کے اپنی تعریف پہ شکریہ ادا کرتی۔

کہیں نہ کہیں یہ رشتہ زبردستی کا تھا لیکن تائشہ اسے بالکل ایمانداری سے نبھا رہی تھی جیسے شادی ان دونوں کی مرضی سے ہوئی ہو

جب شروع شروع میں جنید اس کے قریب جاتا تھا تو وہ اکثر اماں سائیں کا نام لیتی لیکن اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ ان کو اس رشتے سے اعتراض کیوں ہے وہ رضوانہ سے اتنا کیوں ڈرتی ہے اس کا یہ ڈر دیکھتے ہوئے ہی جنید نے اس سے کچھ وقت دیا تھا اس رشتے کو سمجھنے کے لئے ۔

اور آج صبح اسے اتنے قریب دیکھ کر وہ پھر سے بہکنے لگا ۔

اس کے نیچلے لب کے ساتھ وہ نقطہ نما تل جنید کو بہت تنگ کر رہا تھا ۔

جس سے تنگ آکر جنید نے تائشہ کو دیا ہوا تھا وقت واپس لینے کا فیصلہ کیا ۔اور اس کے نیچلے لب پر جھکا

وہ گہری نیند سو رہی تھی جب خود پر دباؤ محسوس کرتے ہوئے اس کی آنکھ کھل گئی ۔

جنید نے ایک نظر اس کی نظروں میں جھانکا جو وہ شرم سے جھکا گئی اور اس کے لبوں پر پیاری سی مسکراہٹ اسے حدود پار کرنے پر اکسانے لگی۔

جنید نے اپنے دل کی سنتے ہوئے اس کے لبوں پر اپنے ہونٹ رکھے اورپھر گردن کو کی طرف آیا

جیند اماں سائیں ۔تائشہ نے ایک بار پھر سے خود سے دور کرنا چاہا

انہیں کیا اعتراض ہوگا ہمارے پاس آنے سے اور یہ کچھ انوکھا یا یونیک نہیں ہے تائشہ مجھے میرے بچوں کے بارے میں کچھ سوچنے دو ۔

مجھے میرے بچوں کی ضدی سی ماما کو پیار کرنے دو ۔تائشہ میں جانتا ہوں تو میں رشتہ قبول کر چکی ہو تم مجھے قبول کر چکی ہو میں جس حالات میں ہوں تم قبول کر چکی ہو۔جتنا وقت میں نے تمہارے ساتھ گزارا ہے تو مجھے کہیں سے بھی ویسی لڑکی نہیں لگی جو میرے ساتھ ارجسٹ نہ کر سکتی ہو ۔

تمہیں نہ تو میرے ماحول سے پرابلم ہے نہ ہی اس گھر سے پرابلم ہے تم میری آمدن پر گزارا کرنے کے لئے تیار ہو تم ہر طرح سے میرے ساتھ خوش ہو تو میں اس بہانے کی کیا وجہ نکالوں کہ تم ڈر رہی ہو ۔

اگر تم ڈر رہی ہو تو تمہارا یہ ڈر بھی دور کر دیتا ہوں اس کے ماتھے پر مہر ثبت کرتا مسکرا کر بولا اور اگر کوئی اور وجہ ہے تو میں تمہارا شریک سفر ہوں تمہارا فرض بنتا ہے کہ تم مجھے وہ وجہ بتاؤ

ایسی کوئی وجہ نہیں ہے جنید میں تو بس ۔

مطلب کے تم ڈر رہی ہو تو میری حسین سجنی میں کس مرض کی دعا ہوں ابھی تمہارا ڈر دور کرتا ہوں مسکراتے ہوئے ایک بار پھر سے اس کے لبوں پر جھک گیا اور اس بار تائشہ چاہ کے بھی مزاحمت نہیں کر پائی تھی اس قدر محبت سے پیش قدمی پر تائشہ نےخاموشی سے اپنا آپ اس کے حوالے کر دیا کیونکہ اس کی حسین سنگت پر وہ اپنی ماں کا خوف بھلانے لگی تھی

شام کے سائے گہرے ہوئے تو وہ گھر واپس آ گیا سارے کپڑے مٹی سے بھرے ہوئے تھے ۔سکول کی بلڈنگ کا کام شروع ہوئے آج پندرہ دن ہو چکے تھے ۔

اور وہ بھی مزدوروں کے ساتھ ان کی پوری مدد کرنے کی کوشش کر رہا تھا جس کی وجہ سے آج کل وہ گھر واپس آتا تو اس کے کپڑے مٹی سے بھرے ہوئے ہوتے

دھڑکن نے ہمت کرتے ایک بار اس کے کپڑوں کو ہاتھ لگایا اور پھر دھو کر ہی دم لیا

اور اس کے بعد کہا کہ مٹی سے بھرے ہوئے کپڑوں پر داغ صاف نہیں ہوتے جس پر کردم نے کہا کے گاؤں کی ساری عورت اپنے شوہر کے کپڑے صاف کرتیں ہیں اور اس کے بعد دھڑکن نے یہ بات چینج کی طرح قبول کی اب چاہے سارا دن ہی ڈنڈے سے مار کٹائی کرتے ہوئے وہ اس کے کپروں کا حشر بگاڑ دیتی لیکن داغ نکالنے کے مانتی

آج وہ گھر واپس آیا تھا روز کے بانیست گھر میں خاموشی تھی

ایک نظر اپنے کمرے کی طرف دیکھا تو وہاں کوئی نہ تھا وہ آگے بڑھ گیا گھر کے کونے میں کچن تھا اور آج کل دھڑکن یوٹیوب سے اس کے لیے کچھ نہ کچھ بنانا سیکھ رہی تھی

وہ کچن میں داخل ہوا تو سوں سوں کی آواز سنائی دی شاید نہیں یقینا وہ رو رہی تھی

دھڑکن میری جان کیا ہوا اسے سامنے ہی وہ دوسری طرف منہ کیے کرسی پر بیٹھا دیکھ کر وہ فورا اس کے قریب آیا ۔

جب دھڑکن نے اپنے بائیں ہاتھ کی تیسری انگلی اس کے سامنے کی جو چھری لگنے کی وجہ سے اچھی حاصی کٹ چکی تھی

یہ کیسے ہوا دھڑکن دھیان سے نہیں کر سکتی تم وہ اسے ڈانٹتے ہوئے اٹھا اور فرسٹ ایڈ بوکس لے کر آیا

تمہارے ہاتھ کٹ گیا تو کھانا کس طرح سے بنایا وہ اس کا ہاتھ صاف کرتے ہوئے پٹی باندھ کر پوچھنے لگا

کیونکہ کچن میں پھیلی خوشبو اس بات کے گواہ تھی کہ کھانا بن چکا ہے

میں نے بنایا ہے آپ نے کہا تھا نہ آپ کو سلاد کھانا اچھا لگتا ہے تو وہ کاٹتے ہوئے ہے یہ مجھ سے کھیرے نہیں کاٹے جاتے

سوں سوں اب بھی جاری تھی ۔

سلاد میں صرف کھیرے نہیں ہوتے اور کٹر سے بھی تو کاٹ سکتی تھی جس طرح سے پیازکرتی ہو

کٹر سے ٹھیک نہیں کٹ رہے تھے اور ویسے بھی تو ہاتھ کی محنت سے پتہ چلتا ہے کہ ہم کسی سے کتنا پیار کرتے ہیں اور پیازتو میں اس لیے کٹر سے کاٹتی ہوں کہ اس میں ٹائم زیادہ لگتا ہے اور آنسو بہتے ہیں اس لیے کٹر سے کاٹ دیتی ہوں لیکن آپ کے لیے سلاد میں اپنے ہاتھوں سے کاٹنا چاہتی تھی تاکہ آپ کو پتہ چلے گا کہ میں آپ سے کتنا پیار کرتی ہوں

وہ سوں سوں کرتی کردم کو مسکرانے پر مجبور کر گئی

اور تمہیں کس نے کہا ہے کہ تم یہ ثابت کرو کہ تم مجھ سے کتنا پیار کرتی ہو ۔اب اس کے سامنے رکھی کرسی پر بیٹھتے ہوئے بولا

وہ کرن ہے نہ آج اس کی بھابھی آئی تھی ہمارے گھر وہ کہہ رہی تھی کہ شوہر کے دل میں جگہ بنانے کے لیے اسے بتاتے رہنا چاہیے کہ آپ سے کتنا پیار کرتے ہو ضروری نہیں کہ لفظوں سے بتاؤ آپ اس کا خیال رکھے اس کے پسند کی چیزیں بنا کے اس کی ہر چیز کا دھیان رکھ کر بھی اسے بتا سکتے ہو کہ آپ کتنا پیار کرتے ہو پیار لفظوں کا محتاج نہیں ہوتا ۔ اور میں بھی وہی کر رہی تھی کہ میرا ہاتھ کٹ گیا اور اتنا خون بہہ گیا میرا اس نے ایک نظر زمین کی طرف دیکھا جہاں کچھ بوندیں پڑی تھی

کوئی بات نہیں تم مجھ سے پیار کرتی ہو میں جانتا ہوں اور ایسے ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہے لیکن تم جو میرے لئے کر رہی ہو نا یہ ساری چیزیں تمہاری محبت کو ثابت کرتی ہیں تمہارا سب کچھ چھوڑ کر یہاں میرے پاس آنا میرا اتنا خیال رکھنا میرے کپڑے جوتے کھانا تم ہر چیز ٹائم پے کرنے کی کوشش کرتی ہوجب کہ یہاں آنے سے پہلے تمیں یہ سب کچھ آتا بھی نہیں تھا کیوں کیا اتنا پیار کافی نہیں ہے مجھ سے محبت ثابت کرنے کے لیے ۔اب کیا تاج محل بنوا ہوگی میری محبت میں وہ سیریز انداز میں کہتا اینڈ پر شرارت سے بولا

جی نہیں تاج محل آپ بنوائیں گے اب سب کچھ میں کروں ایک تو میرا اتنا سارا خون بہہ گیا مجھے لگتا ہے کہ مجھے بلیڈ لگے گا دھڑکن نے ایک بار پھر سے زمین پر گرا ہوا اپنا خون دیکھا جبکہ کردم اس کے انداز پر اسے اس کرسی سے اٹھا کر اپنے بیڈ روم میں لے گیا وہ جب اپنا خون دیکھنے والی تھی ایسا ہی کہنے والی تھی ۔

دادا سائیں آج پورے ایک ماہ کے بعد اہانہ کے کمرے میں آئے تھے سب کچھ اتنا اچانک ہوا تھا سب کچھ بدل چکا تھا انہوں نے ساری زندگی اہانہ کی بیٹی کی قدر نہ کی اور جب اس کی قدر ہوئی تو وہ ان سے دور ہو گئی

شروع میں مقدم نے یہ سب کچھ ان کی عزت بچانے کی خاطر کیا تھا لیکن اب وہ یہ سب کچھ اپنے لیے کر رہا تھا آج پہلی بار مقدم نے انہیں اتناہرٹ کیا تھا وہ تو سوچتے تھے کہ وہ مقدم حوریہ کے بغیر سانس بھی نہیں لے پائے گا اور یہاں مقدم ایک اپنی دنیا میں بسانے جا رہا تھا

کتنی محبت تھی اس کی نظروں میں سویرہ کے لئے تو کیا حوریہ کی محبت کہیں کھو گئی

کہاں چلی گئی تھی حوریہ وہ ڈھونڈ ڈھونڈ کر تھک گئے تھے لیکن وہ کہیں نہ ملی

ہم جانتے ہیں حوریہ ہم نے تمہیں بہت مایوس کیا ہے شاید تم ہمیں کبھی معاف نہ کرو لیکن ایک بار بس آجاؤ ابھی تو ہم نے تم سے اپنی غلطیوں کی معافی تک نہیں مانگی تھی کہاں چلی گئی ہو تم شاہ سائیں پریشانی سے اپنی کرسی پر بیٹھ کے اہانہ کی تصویر دیکھ رہے تھے جس میں انہیں حوریہ نظر آرہی تھی وہ اپنی بیٹی سے بھی شرمندہ تھے اپنی بیٹی کی آخری نشانی کو بھی نہ سنبھال پائے ۔