267.3K
86

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bheegi Palkon Par Naam Tumhara (Episode 82)

Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah

آج حیدر کی شادی تھی گاؤں کے سب ہی لوگ اس کی شادی میں شرکت کر رہے تھے

نکاح تو کل ہی ہو چکا تھا آج رخصتی باقی تھی ۔

تائشہ نے جب شادی پر جانے کی اجازت مانگی تو جیندنےخوشی خوشی جانے دیا اسے بھی حیدر کا فیصلہ بہت پسند آیا تھا کہاں ہوتے ہیں آج کے زمانے میں حیدر جیسے شخص جو اتنی تلخ حقیقت کو بھی سینا ٹھوک کر قبول کرتے ہیں

حیدر نے نوری کی ذمہ داری لے تھی اور اب اسے ساری زندگی خوش رکھنے کا ارادہ رکھتا تھا اپنی شادی پر اپنی ماں کو نہ دیکھ کر اسے افسوس ہوا تھا ۔

لیکن اتنا بھی نہیں کہ وہ کسی سے شیئر کرتا اس نے اپنی ماں کی غیر موجودگی کو اس طرح سے نظر انداز کیا تھا کہ جیسے اسے کوئی فرق ہی نہ پڑا ہو ۔

نوری کی رخصتی دھوم دھام سے ہوئی تھی۔

حیدر نے بس ایک ہی نظر سرخ جوڑے میں مبلوث اس لڑکی کو دیکھا اس معصوم سی لڑکی پر کیا قیامت ٹوٹی تھی وہ اچھے سے سمجھتا تھا ۔

جب نوری کو اس کے پاس بٹھایا گیا تو نوری کے الفاظ یہ تھے کیا تم میرے گوڈے ہو ۔اور اس کے سوال پر حیدر بس اسے دیکھ کر ہی رہ گیا

میں کچھ سمجھا نہیں تم کیا کہنا چاہتی ہو ۔۔۔۔؟ حیدر نے پوچھا

جیسے میری گڑیا کی شادی ہوتی ہے گوڈے کے ساتھ ویسے ہی آج میری اماں کی گڑیا کی شادی ہے گڑیا میں ہوں تو گوڈے تم ہوئے نہ ۔اس حادثے کے بعد وہ اپنا ذہنی توازن کھو چکی تھی ۔

اب وہ دوسروں کی باتوں پر عمل کرتی تھی لیکن حیدر کو یقین تھا کہ وہ اپنی محبت اور توجہ سے اسے جلد ہی نارمل زندگی دے سکے گا ۔

وہ جانتا تھا کہ اس نے اپنی زندگی میں ایک بہت بڑا چیلنج لیا ہے اور اس چیلنج کو پورا کرنے میں اللہ اس کی مدد ضرور کرے گا

حوریہ کو ہر کام کے لیے منع کر دیا گیا تھا وہ کچن میں نہیں جا سکتی تھی ہر کوئی اس پر نظر رکھے ہوئے تھا

نوکروں نے تواسے بالکل کچن میں آنے سے منع کر دیا جب کہ مقدم شاہ نے اسے ہتھیلی کا چھالا بنا رکھا تھا

اب تووہ کی جان ایک سیکنڈ کے لئے بھی نہیں چھوڑتا تھا اور سویرہ انہیں دیکھ کر جل بھن جاتی

مقدم اپنے کمرے میں چینج کرنے آیا تو وہ بول اٹھی میں بھی پریگنیٹ ہوں اور اس کی یہ بات سن کر مقدم کا دل چاہا کہ اسے رکھ کر دو لگا دے لیکن پھر بھی اسے سنانے والے انداز میں بولا

حوریہ کی کوکھ میں میرا بچہ پل رہا ہے ۔اور اس بات نے سویرہ کو اندر تک ہلا کر رکھ دیا غصے سے اس کا برا حال ہو رہا تھا

تو حوریہ کی اہمیت اس لئے تھی کیونکہ وہ مقدم شاہ کے بچے کی ماں بننے والی تھی اور اگر سویرا ایسا ہونے ہی نہ دے تو سویرا نے اپنے شاطر دماغ میں چال بنتے ہوئے سوچا ۔اور اس کی اس چال میں اماں سائیں نہیں لیکن رضوانہ پھوپو شامل تھیں۔

حیدر نے کمرہِ عروسی میں قدم رکھا تووہ اپنے دونوں ہاتھوں میں گڑیا لئے باتوں میں مصروف تھی ۔

وہ مسکراتے ہوئے اس کے قریب آ بیٹھا جبکہ وہ اسے دیکھ کر نظر انداز کرتی پھر سے باتوں میں مصروف ہو گئی

وہ کافی دیر اس کے قریب بیٹھا اس کی باتیں سنتا رہا

میں تمہاری مونچھوں کو ہاتھ لگاؤں ۔وہ آہستہ آواز میں منمائی حیدر خاموشی سےاسے گڑیا کے ساتھ بات کرتے ہوئے دیکھ رہا تھا اسے لگا کہ شاید وہ ابھی بھی اپنی گڑیا سے ہی مخاطب ہے

تم بولتے نہیں ہو اس بار نوری نے باقاعدہ اس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا

تم مجھ سے بات کر رہی تھی حیدر کو حیرانگی ہوئی

ظاہری سی بات ہے تم سے بات کر رہی ہو میری گڑیا کی تو مونچھ ہی نہیں ہے دیکھو اس نے اپنی دونوں گڑیا کو اس کے سامنے رکھتے ہوئے کہا

اچھا تو کیا کہہ رہی تھی تمہیں وہ دلچسبی سے پوچھنے لگا

میں پوچھ رہی تھی میں تمہاری مونچھوں کو ہاتھ لگاؤں وہ منہ بناتے ہوئے بولی جیسے اسے اپنی بات دہرانا پسند نہ ہو

آج تک کسی کی ہاتھوں کی اتنی ہمت نہیں ہوئی کہ حیدر شاہ کی مونچھ تک جائیں لیکن تم حق رکھتی ہو حیدر آہستہ سے اس کا دایاں ہاتھ تھام کر اپنے چہرے پہ لے آیا

جب کہ نوری نے اپنی گڑیا کو ایک سائیڈ پر رکھ دیا وہ دونوں ہاتھوں سے اس کی مونچھوں کو بل دینے لگی ۔

دیکھو اب تمہاری مونچھیں ایسے ہی اوپر رہنی چاہیے تم میرے گوڈے ہونا جیسا میں چاہتی ہوں ویسے ہی رہنا وہ سمجھانے والے انداز میں بولی

ٹھیک ہے تم جیسا کہو گی میں بالکل ویسا ہی رہوں گا لیکن پھر تمہیں بھی تو میری بات سنی ہوگی نہ اور ماننی بھی پڑےگی

آج کے بعد تو مجھے تم نہیں آپ کہہ کر پکارو گی ۔ اپنے کھیل کو تم اسی کمرے تک محدود رکھو گی اس کمرے میں تمہاری پہچان جو بھی ہو لیکن اس کمرے کے باہر تم حیدر شاہ کی بیوی ہو آئی میری بات سمجھ میں

اس نے سمجھاتے ہوئے پوچھا تو اس نے فورا نفی میں سر ہلایا

مطلب میں کھیلنے نہیں جا سکتی وہ منہ کھول کر پوچھنے لگی

ہم دونوں یہاں کھیلا کریں گے تم جو کہیں کھیل کہوگی ہم وہ کھیلیں گے لیکن اس کمرے کے باہرتمہیں بڑے لوگوں کی طرح رہنا ہوگا جیسے ۔۔۔۔

جیسے بی بی جی رہتی ہیں اس کے دماغ میں فورا ہی حویلی کی عورتوں کا عکس گھوما حیدر اس کی بات سن کر مسکرا دیا

ہاں بالکل ویسے ہی ۔حیدر نے کہا

لیکن میری ایک شرط ہے گوڈے تم صرف میرے گوڈے ہو اور میں صرف تمہاری گڑیا تم صرف میرے ساتھ کھیلو گے اور میں صرف تمہارے ساتھ اگر تم اس اقراء اور ندا کے ساتھ کھیلنے گئے تو میں تم سے کٹی کرلوں گی اس نے دھمکی دیتے انداز میں کہا تو وہ مسکرا دیا

ہاں مجھے منظور ہے نور چلو اب بہت دیر ہو گئی ہے تم سو جاؤ اب ہم کل کھلیں گے وہ اسے پیار سے سمجھاتے ہوئے بولا

نور نہیں میرا نام نوری ہے نوری منہ بنا کر بولی

تمہارا نام نور العین حیدر شاہ ہےاور تمہارا شوہر تمہیں نور کہہ کر پکارے گا چلو اب اور باتیں نہیں چلو لیٹ جاؤ وہ اسے سمجھاتے ہوئے بولا اور اس پر کمبل ٹھیک کرنے لگا

میں تم سے تمہاری ہر خوشی چھن لوں گی حوریہ تمہاری خوشی کی یہ وجہ بھی تم سے دور کر دوں گی

سویرہ کمرے میں تیز تیز ٹہلتی مسلسل بربڑا رہی تھی آج اس کے غصے کی کوئی انتہا نہ تھی مقدم اس کے حسن کے سامنے جھکنے کے بجائے اپنی اولاد کے پیچھے پڑ چکا تھا کتنی سفاکی سے اس کے منہ پر وہ کہہ کر گیا تھا کہ وہ بچہ اس کا ہے ۔

اتنا کیوں خود کو تھکا رہی ہو سویرا میں جو کہہ رہی ہوں نا تم بس وہ کرو وہ بچہ بھی راستے سے ہٹ جائے گا اور شاید مقدم بھی حوریہ کو کبھی منہ نہ لگائیے ۔

کل شام کو دادا سائیں نے حیدر اور اس گاؤں کی گنوار کی دعوت رکھی ہے اور وہیں میں حوریہ سے اس کی ہر خوشی چھین لوں گی پر آپ کو میرا ساتھ دینا ہوگا

میں ہر قدم پر تمہارے ساتھ ہوں سویرا کے انداز نے رضوانہ کو جوش دلایا

اور میں وعدہ کرتی ہوں کہ میں تائشہ کو واپس حویلی لے آؤں گی ۔

کل اس بچے کے ساتھ ساتھ تم بھی مروگی حوریہ یہ بات سویرا نے دل میں سوچی تھی یہ بات اس نے اب تک رضوانہ سے شیئر نہیں کی تھی اور نہ ہی وہ اس معاملے میں کسی دوسرے تیسرے کی مخالفت چاہتی تھی ۔

اب تم کیوں اتنی پریشان ہو میری جان اب تو تمہارے بابا سائیں نے تمہیں فون کر دیا تم سے معافی مانگی اب بس کر دو میرا پٹاکہ سائیں ختم کرو یہ ناراضگی کردم دھڑکن کو سمجھانے والے انداز میں بولا جبکہ دھڑکن اب بھی اداس تھی

دھڑکن تمہارے ٹیسٹ ہونے والے ہیں میری جان تم اپنے پیپرز کی تیاری کرو ۔ان شاء اللہ چاچوسائیں جلدواپس آجائیں گے

کردم سائیں کیا ہوگیا ہے آپ کو میں ان کی وجہ سے پریشان نہیں ہوں وہ کیٹی کو اپنی گود میں رکھتے ہوئے بولی

تو پھر کیوں پریشان ہو اس کا مرجھایا ہوا چہرہ دیکھ کر پریشانی سے بولا

حوری دیدہ کے گھر میں خوشی آنے والی ہے سویرا دیدہ کے گھر میں خوشی آنے والی ہے اور تو اور تائشہ دیدہ کے گھر میں بھی خوشی آنے والی ہے اور ہم کیا بلی پالتے رہیں گے

اس نے کیٹی کو اٹھا کر کردم کی گود میں رکھا جس نے فورا ہی اسے زمین پر اتار دیا اسے شروع سے بلیوں سے عجیب سی چڑ تھی اور خاص کر کے جانوروں کو گود میں بٹھانا اسے ہرگز پسند نہ تھا دھڑکن یہ بات جانتے ہوئے بھی ضد کرتے ہوئے اس کی گود میں اکثر کیٹی کو رکھ دیتی

اس کے بات نے جہاں کردم کو مسکرانے پر مجبور کر دیا تھا وہی وہ فلحال بچے کے بارے میں کچھ نہیں سوچ رہا تھا

ہم اس سلسلے میں پلاننگ کریں گے فی الحال تم اپنی پڑھائی پر دھیان دو اور مجھے گاؤں پر دھیان دینے دو وہ محبت سے اس کا رخسار چوم کر بولا ۔

مطلب کے ہم کیٹی کو ہی پالیں گے اس نے زمین پر بیٹھی کیٹی کو دوبارہ اٹھا کر اپنی گود میں رکھ لیا

کیٹی آج سے میں آپ کی ماما ہوں اور یہ آپ کے بابا کردم جب اس کے قریب سے اٹھ کر بیڈ پر لیٹنے لگا تو اس کی بات پر اسے اچھوت لگا

دھڑکن میرے اتنے بھی برے دن نہیں آئے کہ میں ایک بلی کا باپ کہلاؤں اس کی ماں بہن چاچی تائی دادی نانی سب کچھ تم ہی بنو خدا کے لئے میرے ساتھ اس کا کوئی رشتہ نہ جوڑنا

حد ہے بلی کا باپ بنا کے رکھ دیا لگتا ہے مجھے بھی اس بےبی والی بات پر جلدی ہی غور کرنا ہوگا کردم سوچتے ہوئے سونے کے لئے لیٹ گیا

جبکہ دھڑکن منہ بناتے ہوئے کیٹی کواس کی باسکٹ میں رکھ کر اس کے پاس آئی ہر روز کی طرح بنا اس کی ڈانٹ کی پرواہ کیے آدھی اس کے اوپر چڑھ کر سو گئی

نیند میں کردم نے اس کے گرد گھیرا تنگ کیا تھا

کسی کو میری پرواہ نہیں ہے مطلب آدھی رات کو اپنی معصوم پریگننٹ بیوی کو کوئی چھوڑ کے جاتا ہے کیا

جنید کو رات کے گیارہ بجے اندر داخل ہوتے دیکھ کر تائشہ تپ کر بولی

اس کے انداز نے اسے مسکرانے پر مجبور کر دیا

مجال ہے جو کسی کو اپنی بیوی کی پرواہ ہو یہاں پر تو لوگ مسکرائے جا رہے ہیں تائشہ نے پھر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا اور کچن کی طرف چلی گئی جبکہ جنید چینج کرنے جا چکا تھا

واپس آیا تب بھی تائشہ کا منہ پھولا ہوا تھا

سوجا میرے معصوم بچے نامیرے شوہر کو میری پرواہ نہ ہی تیرے باپ کو تیری پرواہ ہے سوجا میری معصوم اولاد یہاں کوئی نہیں ہے جو ہم دونوں کو پیار کرتا ہو وہ کھانا نکالتے ہوئے اوور ایکٹنگ کی انتہا کرتے ہوئے بولی

جبکہ اس کے انداز پر جنید مسکراتے ہوئے کھانا کھانے میں مصروف ہو چکا تھا

اے خدا کیا اس دن کے لیے اتنا خوبصورت بنایا تھا مجھے کہ میرا شوہر سارا سارا دن باہر گھومتا رہے نا میری پروانہ اپنے ہونے والے بچے کی کیوں بنایا مجھے اتنا خوبصورت جب میرے شوہر کو میری قدر ہی نہیں ہے

جب میرے شوہر کو فرق ہی نہیں پڑتا کہ اس کی پسند کے کلر کا لباس پہنے اس کے انتظار میں بیٹھی ہوں تائشہ نے اسے اپنے کپڑوں کی طرف متوجہ کرنا چاہا

جبکہ جنید مسکراتے ہوئے ایسے کھانا کھا رہا تھا جیسے پہلی بار کھانا ملا ہو

جنید میں سونے جا رہی ہیں وہ برتن دھو کے رکھ دینا ۔ وہ تھک کر اس کے قریب سے اٹھ کر کمرے میں جا چکی تھی

سارا دن اس سج سجاوٹ کا اسے کوئی فائدہ نہیں ہوا تھا

کیوں بیکار میں اس کا انتظار کرتی رہی اسی لئے منہ بنا کر کمرے میں آ گئی

جب پیچھے تقریبا سات آٹھ منٹ کے بعد ہی جنید کمرے میں آ چکا تھا

ہاتھ گیلے تھے مطلب برتن دھوکر آیا تھا یہ بھی اس خوشخبری کے بعد ہی ہوا تھا جب تائشہ نے اسے بتایا کہ اسے برتن دھونے سے سخت نفرت ہے ۔

اس پر جو نیند نےاس پر ترس کھاتے ہوئے کہا کہ رات کے برتن وہ دھو دیا کرے گا پہلے تائشہ کو بہت برا لگا لیکن پھر جنید نے کہا کہ یہ آفر صرف بچہ آنے تک کی ہے اس کے بعد اپنے سارے کام خود ہی کرے گی

جس پر تائشہ کو یہ صدمہ ہوا کہ اسے پرواہ ہی صرف اپنے بچے کی ہے اس کی تو کسی کو فکر ہی نہیں

اسے اسطرح سے سوتے دیکھ کر وہ اس کے قریب آ کر لیٹا ۔

ویسے گلابی رنگ تم پر بہت سوٹ کرتا ہے وہ اس کے کان میں گنگنایا

اب مجھے نیند آرہی ہے تائشہ نے اعلانیہ کہا

ایسی کی تیسی تمہاری نیند کی پہلےتعریف تو وصول کر لو آخر اتنی محنت کرکے تیار ہوئی ہو وہ اسے کھینچ کر اپنی باہوں میں لیتے ہوئے بولا

چک تائشہ اپنی شرمیلی ہنسی دبائے اسے مزید نخرے دکھانے کا ارادہ رکھتی تھی لیکن وہ مزید نخرے اٹھانے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا آہستہ سے اس کا رخ اپنی طرف مڑ کر محبت سے اسے اپنی باہوں میں لے کر اس کے چہرے پر جھکتا چلا گیا ۔تائشہ اس کی محبت میں سمٹتی دن بدن اورخوبصورت ہوتی جا رہی تھی