Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah Readelle50340 (Bheegi Palkon Pe Naam Tumhara Hai) Epi 05
No Download Link
Rate this Novel
(Bheegi Palkon Pe Naam Tumhara Hai) Epi 05
دروازہ دھڑم سے کھلا تھا حوریہ جو ابھی سونے کے لئے لیٹی تھی اٹھ کر بیٹھ گئی اور خوفزدہ نظروں سے دروازے پر کھڑے وجود کو دیکھنے لگی
جو ہاتھ میں پستول پکڑے آہستہ آہستہ قدم کمرے کے اندر رکھ چکا تھا اس نےاٹھنے کی کوشش کی اس کا ارادہ کمرے سے باہر جانے کا تھا ۔
لیکن وہ دروازے کے بیچوں بیچ کھڑا تھا
مقدم لالا آپ یہاں کیوں ۔۔۔۔۔۔؟ میرا مطلب ہے اس وقت ۔۔۔۔۔؟
وہ اس کا راستہ روکے کھڑا تھا حوریہ کا باہر نکلنا مشکل تھا
بات کرنے آیا ہوں وہ نشے سے لڑکھراتی آواز میں بولا
اگر رات کے اس وقت مقدم شاہ کو کوئی اس کے کمرے میں دیکھ لیتا خاص کرکے رضوانہ خالا وہ اس سے آگے سوچ بھی نہیں سکتی تھی
وہ سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھنے لگی
جی کہیں وہ بہت ہمت کرکے بولی کیونکہ اس کے ہاتھ میں جو پستول تھی وہ نجانے کتنے لوگوں کو زخمی کر چکی تھی ۔
اور خون خرابے سے تو اسے بچپن سے ہی ڈر لگتا تھا کہیں پر بھی اس طرح کی بات سن کر اس کی جان کانپ جاتی تھی
اور اس نے تو یہ بھی سنا تھا کہ نشے کی حالت میں انسان کو اتنا بھی خوش نہیں ہوتا کہ وہ کیا کرنے جا رہا ہے یہ نہ ہو کہ نشے کی حالت میں وہ اس کی جان ہی لے لیں اپنی جان تو حوریہ کو ویسے بھی بہت پیاری تھی۔
کم ازکم قتل نہیں ہونا چاہتی تھی ۔
اس کا خوف زدہ چہرہ دیکھ کر اس کے بلکل قریب آکر رکا۔
حوریہ اسے اپنے مزید قریب آتے دیکھ کر پریشان ہوگئی
جی کہیں کیا کہنا چاہتے ہیں وہ سہمی ہوئی آواز میں بولی
کل تمہیں دیکھنے کے لیے کچھ لوگ آرہے ہیں جانتی ہو نا وہ سخت لہجے میں بولا
جی ہاں مقدم شاہ کی پستول کی نوک اس کی تھوڑی کو چھو رہی تھی حوریہ کی آواز لڑکھڑائی
انکارکردینا مقدم شاہ نےحکم دیا تو وہ اسے دیکھنے لگی
ایسے کیا گھور رہی ہوجتنا کہا ہے اتنا کرنا وجہ پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی میں بتانا ضروری سمجھتا ہوں بس انکار کر دینا ورنہ پستول کی نوک سے وہ اس کی تھوڑی اوپر کرتے ہوئے اسے ڈرا رہا تھا جس پر حوریہ نے نظروں سے اقرار کیا
اس کے اس طرح سے خوفزدہ ہونے پر مقدم کے لبوں پر مسکراہٹ کھلی تھی جسے وہ فورا چھپا گیا
پھر کل ملتے ہیں حوریہ سائیں وہ مسکراتے ہوئے اس کا چہرہ اپنی آنکھوں میں بھرے کمرے سے باہر نکل کیا جبکہ حوریہ کی سانس میں سانس آئی اب وہ یہ سوچ رہی تھی کہ نانا سائیں کے سامنے وہ اس رشتے سے انکار کیسے کرے گی اور کیوں۔ ۔۔۔۔؟
••••••••••••••
اس کا فون بج رہا تھا نہ جانے کس میں اتنی ہمت آ گئی تھی کہ مقدم شاہ کی نیند میں خلل ڈالنے کی گستاخی کرے
صبح کے چار بج رہے تھے اس وقت اسے فون کرنے کی ہمت کسی میں نہ تھی اس نے غصے سے فون اٹھایا
جہاں پر کوئی دوسرے ملک کا نمبر شو ہو رہا تھا چا چو سائیں وہ زیر لب بڑبڑآتا ہوا فون اٹھانے لگا
اسلام علیکم وہ اپنے مخصوص روعب دارلہجے میں بولا وعلیکم سلام مقدم لالا میں دھڑکن بات کر رہی ہوں
دھڑکن نے چہکتے ہوئے کہا
اور حال وخیریت پوچھنے کی زحمت نہ کی
جی دھڑکن گڑیا بولیں کیسی ہیں آپ ۔۔۔مقدم نے اپنے لہجے کو نرم بنایا وہ اس سے شاید آج تیسری بار بات کر رہا تھا
ایک بار بچپن میں اس سے بات ہوئی تھی دوسری بار جب مقدم کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا اور آج
میں تو ٹھیک ہوں بس آپ سے کچھ پوچھنا تھا آپ کو تو پتا ہے میں پاکستان آ رہی ہوں میں نے بابا سائیں سے بولا کہ آپ مجھے گھمانے لے کے جائیں گے تو بابا سائیں نے کہا کہ آپ بہت بیزی ہوتے ہیں آپ کے پاس ٹائم نہیں ہوتا اس لئے میں نے سوچا کہ کیوں نہ میں خود ہی آپ سے پوچھ لوں کیا آپ مجھے گھمانے لے کے جائیں گے وہ ایک ہی سانس میں تیزتیز بولی مقدم شاہ کو اس کی پوری بات سمجھ میں نہ آئی تھی اس کے سامنے آج تک کسی نے اس طرح سے بات نہیں کی تھی
لیکن اسے چاچا سائیں کی یہ بیٹی اسے ہمیشہ سے بہت پیاری لگتی تھی
اسے دیکھ کر کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ وہ سامنے والے سے پہلی بار مل رہی ہے وہ جلدی ہی سامنے والے سے پہچان بنالیتی اور اس کی دوست بن جاتی
دھڑکن گڑیا آپ یہاں پہنچے تو سہی میں آپ کو پورا پاکستان گھماؤں گا مقدم شاہ نے نرم لہجے میں کہا
سچی ۔۔۔۔وہ چہکتے ہوئے بولی
جی بلکل وہ مسکرایا
ویسے میں آپ سے ایک بات پوچھوں اس بار اس نے پوچھنے کی زحمت کرلی
مقدم پھر سے مسکرایا جی پوچھیں
وہاں پاکستان میں ٹائم کیا ہوا ہے آخر بابا سائیں کی گوری نے اثر دکھا ہی دیا جو اسے اس وقت فون کرنے سے منع کر رہے تھے
جی گڑیا اس وقت یہاں ٹائم صبح کے چار بج رہے ہیں مقدم نے اپنی ہنسی دباکر کہا
اچھا وہاں صبح کے چار بج رہے ہیں ٹھیک ہے آپ آرام کریں ایم سوری میں نے آپ کو ڈسٹرب کیا
اوکے بائے وہ مقدم کو بولنے کا موقع دیے بغیر فون بند کر چکی تھی اور اب معصومیت سے بابا سائیں کو دیکھ رہی تھی
جس پر وہ نفی میں سر ہلاتے ہوئے مسکرائے
بابا سائیں مقدم لالہ بہت اچھے ہیں دیدہ ان کے ساتھ بہت خوش رہیں گی احمد شاہ کمرے سے باہر نکل رہے تھے کہ پیچھے مڑ کر اسے دیکھا اور پھر مسکرا دئیے
اسی لئے تو یہ فیصلہ کیا ہے
وہ کہتے ہوئے مسکرا کر باہر چلے گئے
•••••••••••••
وہ ٹیبل پر آکر بیٹھا تو اماں سائیں نے اس کے سامنے ناشتہ رکھا دادا سائیں اس کے سامنے بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے حوریہ کو جو لوگ دیکھنے آ رہے ہیں حوریہ کو ان کے سامنے آنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے آپ اکیلے میں پہلے ان سے بات کرلیں مقدم شاہ نے مصروف انداز میں کہا
اگر وہ ان کے سامنے نہیں جائے گی تو وہ لوگ پسند کیسے کریں گے لگتا ہے آپ کا نشہ ابھی تک اترا نہیں مقدم سائیں اب سیریس ہوجائیں دادا سائیں کو لگاکہ وہ رات والی ساری باتیں بھول چکا ہوگا لیکن وہ ابھی بھی اپنی ضد پر اڑا ہوا تھا
حوریہ کے معاملے میں میں ہمیشہ سے سیریس ہوں دادا سائیں رات میں نے جو بھی کہا سب سچ تھا وہ لڑکی میری جان ہے اب مجھے نہیں لگتا آپ کو اسے ان سب کے سامنے لے کر جانے کی ضرورت ہے مقدم شاہ نے یقین سے کہا
آپ نے کہا تھا اس کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں ہوگا تو اب اس کی مرضی کے خلاف کچھ نہیں ہوگا مقدم شاہ نے اٹھتے ہوئے کہا
رضوانہ حوریہ کو میرےکمرے میں بھیجو
انہوں نے کچن سے نکلتی رضوانہ سے کہا
جی بابا سائیں آپ چلے میں بھیجتی ہوں وہ فرمانبرداری سے بولی
•••••••••••••
مقدم شاہ اپنے کمرے کی طرف جارہا تھا جب سامنے سے حوریہ کو آتے دیکھا اس کے چہرے پر مسکان کھل اٹھی
حوریہ جو اسے سامنے سے آتا دیکھ کر راستہ بدلنے لگی تھی اس کے دیکھتے ہی کسی ربورٹ کی طرح سیدھی چلتی اس کے قریب سے گزرنے لگی
جب مقدم شاہ نے اس کا راستہ روکا
دادا سائیں تمہیں اپنے کمرے میں بلاکر رشتے کے بارے میں پوچھیں گے
جواب کیا دینا ہے جانتی ہو یا میں ایک بار پھر سے یاد کرواؤں وہ ہاتھ پیچھے کی طرف لے جاتے ہوئے بولا
جی مجھے یاد ہے مقدم لالا فکر نہ کریں میں انکار کر دوں گی اس سے پہلے کہ وہ پستول نکالتا حور یہ بول اٹھی
مقدم شاہ کے چہرے پر مسکراہٹ ابھری
کافی فرمانبردار ہو تم اچھی بات ہے آگے تمہارے لیے آسانی ہوگی دادا سائیں کے سامنے کوئی بھی فالتو بات کرنے کی ضرورت نہیں ہے
جتنا میں نے کہا ہے بس اتنا کہہ دینا مقدم نے محبت سے اس کا گال تھپتھپایا اس کے اس طرح سے چھونے پر حور یہ پیچھے ہٹی جبکہ اس کی یہ حرکت سامنے والے کو پسند نہ آئی تھی لیکن فی الحال وہ کچھ بھی نہ بولا کیونکہ ان سب چھوٹی چھوٹی باتوں کا حساب وہ بعد میں سود سمیت لینے کا ارادہ رکھتا تھا
مقدم لالہ میں سب کے سامنے انکار کیسے کروں گی حوریہ جو سوال کل رات سے پوچھنا چاہتی تھی آخر پوچھ بیٹھی تمہیں کس نے کہا ہے تمہیں سب کے سامنے انکار کرنا ہے بس دادا سائیں کے کمرے میں جا کر ان کے سامنے انکار کر دینا تمہیں کسی کے سامنے نہیں جانا
مقدم جانتا تھا کہ وہ لڑکی کس حد تک ڈرپوک ہے گھر والوں کے سامنے بھی مشکل سے زبان کھول پاتی تھی تو سب کے سامنے انکار کیسے کرے گی یہ تو اس کے لیے ناممکن تھا اس لیے اس نے شاہ سائیں کوحوریہ سے اکیلے میں بات کرنے کے لیے کہا تھا
لیکن حوریہ اس کی بات سے مطمئن نہیں تھی وہ اس کے قریب سے گزر کر اپنے کمرے میں جا چکا تھا
جب ملازمہ نے اسے شاہ سائیں کے کمرے میں آنے کا حکم سنایا اور وہ ڈرتے ڈرتے ان کے کمرے کی طرف جانے لگی اسے سمجھ نہیں آرہا تھا وہ انکار کی کیا وجہ بتائے گی جبکہ وہ پہلے ہی نانا سائیں کو فیصلہ کرنے کا حق دے چکی تھی پھر اچانک انکار کی کیا وجہ بتا سکتی ہے
