Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah Readelle50340 (Bheegi Palkon Pe Naam Tumhara Hai) Epi 07
No Download Link
Rate this Novel
(Bheegi Palkon Pe Naam Tumhara Hai) Epi 07
کردم کے ڈانٹ کھانے کے بعد وہ کافی دیر خاموش رہی بابا نے بھی اس کی خاموشی نوٹ کی تھی
لیکن وہ دھڑکن تھی زیادہ دیر چپ ہو بیٹھ ہی نہیں سکتی تھی اس کو تو پیدا ہی بولنے کے لئے کیا گیا تھا
ابھی ان کے سفر کو شروع ہوئے تقریبا دس منٹ ہی ہوئے تھے کہ دھڑکن کی ٹیپ ایک بار پھر سے سٹارٹ ہوگئی ۔
وہ اتنا کیسے بول سکتی ہے کردم نے تو کبھی کسی لڑکی کو اس طرح سے بولتے ہوئے نہ سنا تھا ۔
اور اوپر سے چاچا سائیں کا اس کی ہر بات کا جواب دینا شاید انہی کے لاڈ پیار کا نتیجہ تھا ۔
اس کی باتوں سے کردم سخت اریٹیٹ ہو چکا تھا ۔
بے فضول بے معنی باتیں جن کا کوئی سر پیر ہی نہیں ہے ۔
یقیناً اگر اس وقت وہ دھڑکن کے ساتھ اکیلا ہوتا تو اسے گاڑی سے باہر پھینک دیتا
•••••••••••••••
چاچا سائیں گھر ابھی بہت دور ہے آپ لوگوں کو بھوک لگ رہی ہوگی
اس نے گاڑی ایک چھوٹے سے ہوٹل کے سامنے رکی
بابا سائیں مجھے بہت بھوک لگ رہی ہے اس سے پہلے کہ احمد شاہ انکارکرتے دھڑکن نے معصومیت سے کہا
کردم نے ایک نظر اس کے چہرے کودیکھا پھر کچھ آرڈر کرنے لگا
سویرا تم بھی کچھ کھا لو احمد شاہ نے اس کی طرف دیکھ کر کہا جبکہ وہ بہت دنوں سے اس سے بات نہیں کر رہے تھے
مجھے زہر کھلا دے آپ کے بھتیجے سے شادی کرنے سے تو بہتر ہے کہ میں زہر کھا کے مر جاؤں سویرا نے تپ کر کہا جبکہ اس کے الفاظ کردم تک پہنچ چکے تھے احمد شاہ نے اپنے قریب کردم کو کھڑا دیکھا تو پریشان ہوگئے جبکہ سامنے کھڑی لڑکی نظریں جھکا گئی لیکن چہرے پر کوئی شرمندگی نہیں تھی یقیناً یہ الفاظ اس تک پہنچانے کے لیے ہی بولے گئے تھے
کھانا کھالیں چاچا سائیں پھر خویلی چلنا ہے حوری اور تائشہ آپ لوگوں کا بے چینی سے انتظار کر رہی ہیں کردم نےسویرا کو اگنور کرتے ہوئے کہا
بابا سائیں جلدی چلیں مجھے حوری دیدہ سے ملنا ہے
میں نے حوری دیدہ کے لیے بہت سی شاپنگ کی ہے دھڑکن نے پھر سے نان اسٹاپ بولنا شروع کیا
اف یہ لڑکی کتنا بولتی ہے کردم کی بڑبڑاہٹ وہ سن چکی تھی جبکہ بابا سائیں کے چہرے پر مسکراہٹ دوڑ گئی
بابا سائیں یہ حوری دیدہ سے جلتے ہیں
کیوں کہ ان کی منگیتر میرا مطلب ہے تائشہ دیدہ کے بارے میں بات نہیں کر رہی اس لیے وہ احمد شاہ کے کان میں پھسپھوسائی جو کردم نے بخوبی سن لیا لیکن بولا کچھ نہیں
کیونکہ بولنے کے لیے کچھ تھا ہی نہیں
اس نے تائشہ کو اپنی زندگی میں کبھی اتنی اہمیت دی ہی نہیں تھی کہ وہ اس کے نام سے ڈسٹرب ہوتا
وہ شادی کے بعد کی محبت پر یقین رکھتا تھا اس کے نزدیک منگنی کی کوئی اہمیت نہ تھی لیکن اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ وہ تائشہ کے جذبات سے انجان ہے
سویرا چپ چاپ بیٹھی تھی چاچا سائیں کھانا کھا رہے تھے جبکہ دھڑکن کھانے کے دوران بھی مسلسل بول رہی تھی اس کا منہ ایک سیکنڈ کے لیے بھی بند نہیں ہو رہا تھا اس کا دل چاہا کہ ایک بار اسے منع کرئے کھانے کے دوران بات کرنے سے لیکن چچا سائیں جس طرح سے اس کی ہر بات توجہ سے سن رہے تھے وہ کچھ بھی نہ بول سکا
سوائے اس کے کہ یہ لڑکی کتنا بولتی ہے
پھر وہ لوگ گاڑی میں بیٹھنے لگے جب دھڑکن بولی
بابا مجھے ہاتھ وش کرنے ہے ۔
کیونکہ احمدشاہ گاڑی پر چڑھ چکے تھے اسی لئے کردم نے یہ فریضہ بھی سرانجام دیا ۔
زبان کو تھوڑا آرام بھی دیا جاتا ہے دھڑکن یہ صرف بک بک کرنے کے لئے نہیں بنائے گی ۔وہ اس کے ہاتھ دلاواتے ہوئے دھیمی آواز میں بولا تھا ۔
اور پھر وہ گاڑی کی طرف بڑھ گیا جبکہ اس پیچھے سے اسے ایک لفظ سنائی دیا تھا
کھڑوس شاہ
•••••••••••••••••••
دادا سائیں اورمقدم شاہ شہر آئے تھے دادا سائیں کو بہت ضروری کام نہ تھا لیکن مقدم جانتا تھا کہ وہ شہر کیوں آئے ہیں ۔
دادا سائیں کو آفس چھوڑنے کے بعد وہ حور کے لیے کوئی پریزنٹ لینے باہر آیا تھا ۔
وہ چاہتا تھا کہ جب حوریہ اس کے نام کی انگوٹھی پہنے وہ اسے کوئی گفٹ دے ۔
بس اسی لیے اس کا گف لینے مارکیٹ آگیا ۔
اسے ایک بہت نفیس وخوبصورت سا بریسلٹ پسند کیا تھا ۔
سریہ بک چکا ہے ۔کاؤنٹر پر کھڑے ہوئے آدمی نے اسے بتایا تو اس نے قہر برستی نگاہوں سے اسے دیکھا ۔
یہ نہیں بکا ہے اسے میں خریدوں گا ۔تم مجھ سے اس کی ڈبل قیمت لینا ۔پیک کروں سے مقدم نے آرڈر دیا
سر پلیز سمجھنے کی کوشش کریں یہ بریسلیٹ بک چکا ہے اور وہ ہمارے ریگولر کسٹمر ہے ہم ان کے ساتھ اس طرح سے نہیں کر سکتے ۔آدمی نے سمجھانے کی کوشش کی
تین گنا قیمت لے لو اس بار مقدم نے آفر کی تھی ۔
سوری سر یہ۔ ۔۔۔۔۔
چارگنا لے لو وہ اس کی بات ختم ہونے سے پہلے بولا تھا ۔
آئی ایم سو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سر آپ لے لیں آج سے یہ بریسلیٹ آپ کا اس کی ریوالور سے ڈر کر آدمی نے فورا ہی اس کی بات مان لی۔
گڈ پیک کر واسے ۔مقدم کا غصہ جاگ کی طرح بیٹھا تھا ۔جو چیز اسے اپنی حور کے لیے پسند آگئی تھی وہ اسے کسی اور کو کیسے لینے دیتا ۔بریسلیٹ پیک کروا کر وہ واپس اپنے آفس کی طرف چلا گیا
••••••••••••••••••
رضوانہ تو ہر تھوڑی دیر میں سویرا اور دھڑکن کی نظر اتار رہی تھی جب کہ دھڑکن مزے سے حوریہ اور تائشہ سے باتیں کر رہی تھی
سویرا کسی کو اہمیت دیے بغیر اپنے کمرے کا پوچھ کر آرام کرنے جا چکی تھی اس کا کھیچا کھیچا انداز سب نے نوٹ کیا تھا
حوریہ کو تو بس اتنا پتا تھا کے وہ مقدم شاہ کی منگیتر ہے اور ان کی شادی ہونے والی ہے لیکن مقدم شاہ کی کل والی باتیں کہ مامی اس کا رشتہ مانگنے آئیں گی
اگر مقدم شاہ کی شادی سویرا سے ہونے والی ہے تو وہ اس کا رشتہ کیوں مانگنے والا ہے
وہ صبح سے گھر سے غائب تھا دادا سائیں نے ایک ضروری کام کے لیے بھیجا تھا سویرا خوبصورت تو بہت تھی لیکن موڈی تھی
اس نے حوریہ کی طرف دیکھا تک نہیں تھا بات کرنا تو دور کی بات تھی
چھوٹے ماموں سائیں بہت اچھے تھے تائشہ توکب سے ان کے قریب بیٹھی باتیں کر رہی تھی اس کا بھی بہت دل چاہا کہ وہ ان کے پاس بیٹھ کر باتیں کرے
لیکن وہ ہمیشہ سے اس معاملے میں زیرو تھی جبکہ دھڑکن کے لئے اسے کچھ بھی کرنے کی ضرورت نہیں پڑی وہ تو جب سے آئی تھی اسی کے ساتھ تھی کچن میں روم میں ہر جگہ اس کے ساتھ ساتھ تھی
احمد شاہ نے ایک نظر سامنے فل سائز کی تصویر کو دیکھا جہاں دادا سائیں اپنے دونوں پوتوں کے ساتھ کھڑے تھے ۔
کردم بے شک بہت پرکشش نوجوان تھا لیکن مقدم آپ کے چہرے کی خوبصورتی اسے الگ بناتی تھی
کیا دیکھ رہے ہو احمد سائیں رضوانہ نے انہیں تصویر کی طرف اسے دیکھتے ہوئے بولا
اپنی بچی کا نصیب دیکھ رہا ہوں دیدہ سائیں ۔ماشااللہ مقدم کا بہت خوبصورت ہے ۔رہا ہے ابھی تک ملاقات نہیں ہوئی تھی احمد شاہ نے پوچھا
وہ بابا سائیں کے ساتھ شہر گئے ہیں رات دیر سے واپس آئیں گے ۔آپ بیٹھے میں چائے لے کر آتی ہوں رضوانہ ان کے قریب سے اٹھ کر کچن میں چلی گئی جبکہ احمد شاہ کا سارا دھیان سامنے تصویر پر پرکشش نوجوان کی طرف تھا
•••••••••
یہ کردم شاہ شکل سے بالکل بھی پینڈو نہیں لگتا یہ تو کافی ہینڈسم ہے ۔
نہ جانے مقدم شاہ کیسا دکھتا ہوگا کمرے میں آ کرسویرا کا دھیان کردم کی طرف گیا ۔
ضروری نہیں کہ دونوں ایک جیسے ہوں کردم شاہ تو کافی پڑھا لکھا لگتا ہے ۔
وہ نہ چاہتے ہوئے مقدم کے بارے میں سوچنے لگی تھی ۔
لیکن یہ فیصلہ تو وہ کرکے آئی تھی چاہے کچھ بھی ہوجائے وہ مقدم شاہ کی دلہن تو کبھی نہیں بنے گی
••••••••••••
مجھے مقدم لالہ اور دادا سائیں سے ملنا ہے وہ لوگ کب تک آئینگے دھڑکن نے پوچھا
رات تک وہ کسی کام کے لئے شہر گئے ہوئے ہیں آنے میں بہت وقت لگ جائے گا حوریہ نے کھانا بناتے ہوئے بتایا
مقدم لالہ بڑے ہیں یا کردم لالہ ایک اور اچھلتا کودتا سوال آیا حوریہ مسکرائی
کردم لالہ مقدم لالہ سے سترہ دن بڑے ہیں
وہ ہم سب سے بڑے ہیں سب سے پہلے کردم لالہ پھر مقدم لالا پھر سویرہ دیدہ پھر تائشہ دیدہ پھر میں اور پھر
پھرسب سے پیاری دھڑکن احمد شاہ حوریہ کے بولنے سے پہلے ہی دھڑکن نے ایک ادا سے کہا تو حوریہ مسکرائی
جبکہ کچن کے دروازے پر کھڑا کردم نے اس کے اپنے بارے میں خیالات جان کر سرجھٹکتے ہوئے حوریہ کو مخاطب کیا
ایک کپ چائے بنا دو حوری۔
اوہو آپ اتنی زیادہ چائے پیتے ہیں چائے پینے سے انسان کالا ہو جاتا ہے اور آپ کے لال لال ٹماٹر جیسے گال جلی ہوئی ڈبل روٹی جیسے ہو جائیں گے وہ تیز تیز بولی جبکہ حوریہ اسے روکنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی
چائے بنا کر کمرے میں لے آنا وہ اسے اگنور کرتا کہہ کر کچن سے باہر نکل گیا
عجیب کھڑوس بندے ہیں یہ مسکرانا گناہ ہے کیا اس نے پیچھے سے دھڑکن کی بڑبڑاہٹ سنی۔
اس لڑکی کا منہ بند نہیں ہوسکتا کیا ۔۔۔۔؟وہ خود سے سوال کرتا اپنے کمرے کی طرف چلا گیا
••••••••
پھوپھو سائیں دادا سائیں کب واپس آئیں گے اب تو رات کے دس بج چکے ہیں کب آئیں گے ابھی تو مجھے نیند بھی آ رہی ہے دھڑکن کب سے مسلسل ٹہلتی شاہ سائیں کا انتظار کر رہی تھی
بیٹا سائیں آپ سو جائیں سویرا تو کب کی سو چکی ہے رضوانہ کب سے اسے سونے کے لئے کہہ تھی کیونکہ وہ جانتی تھی اگربابا سائیں نے اسے دیکھ لیا تو غصہ ہوں گئے
وہ تو اپنے بیٹے کو بھی نہیں دیکھنا چاہتے تھے اور رضوانہ بھی یہ بات جانتی تھی
دھڑکن اپنی بات پر قائم رہے گی آخر پوتی تو انہیں کی ہے
لیکن ان کو ٹائم لگائے گا رضوانہ نے اسے سمجھانے کی ناکام کوشش کی
اگر میں بھی دادا سائیں اور دیدہ کی طرح سو گئی تو کتنا برا لگے گا انہیں
اس لئے مجھے انتظار کرنا ہے آپ فون کریں نا ان کو کہ جلدی آئیں میں ان کا ویٹ کر رہی ہوں وہ معصومیت سے کہتی اب رضوانہ پھوپھو سے کہنے لگی
لیکن ان کے آنے میں بہت وقت لگے گا وہ اکثر لیٹ ہو جاتے ہیں آپ سو جائیں صبح ان سے مل لیجئے
نہیں آپ سو جائیں میں ان کا انتظار کروں گی وہ کمبل لے کر صوفے پر آ کر بیٹھ گئی
پھوپھو سائیں نے ایک بار اس کی ضد دیکھی پھر ہار مان کر خود بھی سونے کے لئے چلی گئیں جبکہ ابھی تک دادا سائیں کا انتظار کر رہی تھی
•••••••••••••
