267.3K
86

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Bheegi Palkon Par Naam Tumhara Hai) Epi 11

دوپہر لنچ کے وقت سب لوگ آگئے سویرا کو بھی بابا سائیں نے خود آ کر کہا تھا کہ لنچ سب کے ساتھ کرے گی تو وہ بھی باہر آ گئی کیونکہ وہ سمجھ چکی تھی کہ تماشے کا وقت آ چکا ہے آج وہ سب کے سامنے اس رشتے سے انکار کرنے والی تھی
جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ احمدشاہ اپنی بڑی بیٹی کی شادی کے سلسلے میں یہاں آئے ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک منٹ ایک منٹ داداسائیں اس سے پہلے کے آپ کچھ کہیں میں کچھ کہنا چاہتی وہ ان کی بات کاٹتے ہوئے بولی احمد شاہ نے اسے چپ رہنے کا اشارہ کیا لیکن وہ خاموش نہ ہوئی
جو بھی کہنا ہے میری بات سُننے کے بعد کہہ لیجئے گا
وہ بدتمیزی سے گویا ہوئی مجھے یہاں آنے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی اور نہ ہی آپ کے پوتے سے شادی کرنی ہے سو پلیز آپ کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے میری یہ بات جان لیں گے میں کسی اور کو صرف چاہتی ہوں بلکہ اس کے ساتھ ریلیشنشپ میں ہوں بابا سائیں میری شادی مقدم شاہ سے کروانا چاہتے ہیں لیکن ایم سوری آپ کے اس گوار پوتے میں مجھے کوئی انٹرسٹ نہیں ہے وہ اپنی دھن میں بولتی اپنی بات مکمل کر چکی تھی
جس کے بعد احمد شاہ کا سر شرمندگی سے جھک گیا جبکہ سویرا کو اب یہ یقین تھا کہ شاہ سائیں اپنے ہونہار پوتے کی شادی کم ازکم اس سے تو نہیں کروائیں گے
بہو مقدم شاہ کے نام کی انگوٹھی لے کر آؤ وہ نازیہ کو حکم دیتے ہوئے بولے تو سویرا بے چین ہو گئی اتنا سب کچھ ہونے کے بعد بھی کیا وہ اسے انگوٹھی پہنانے والے تھے
اور ان کے حکم پر نازیہ فورا ہی انگوٹھی لے آئی
بہو مقدم شاہ کے نام کی انگوٹھی حوریہ کے ہاتھ میں پہنو انہوں نے فیصلہ کرنے والے انداز میں کہا تو حوریہ بوکھلا کر ادھر ادھر دیکھنے لگی
شاہ سائیں نے اس کی طرف دیکھا ہمیں یقین ہے کہ تم انکار نہیں کرو گی ہمیں ہماری تربیت پر پورا بھروسہ ہے وہ حوریہ کو دیکھتے ہوئے بولے جبکہ وہ نظریں جھکاۓ کھڑی تھی مامی سائیں خاموشی سے اس کے ہاتھ میں انگوٹھی پہنانے لگی سویرا بنا کسی کی پرواہ کیے اپنے کمرے کی طرف جا چکی تھی
کیونکہ اس کے خیال میں مقدم شاہ جیسے ان پڑھ گوار کے لئے حوریہ جیسی لڑکی ہی سوٹ کرتی تھی
جبکہ احمدشاہ خامو شی سے یہ کاروائی دیکھ رہے تھے ان کی اولاد نے آج انہیں کسی کے سامنے نظر اٹھانے کے قابل نہ چھوڑا جب کہ دھڑکن اپنے باپ کی تکلیف کو سمجھتے ہوئے بھی کچھ نہیں کر سکتی تھی
کاش سویرہ دیدہ آپ بابا کی تکلیف سمجھ پاتی وہ صرف سوچ سکتی تھی
•••••••••••••
آپ نے اچانک فیصلہ کردیا دادا سائیں ایک بار پوچھ لیتے کردم کو جب سے پتہ چلا تھا کہ حوریہ کو مقدم شاہ کے نام کی انگوٹھی پہنا دی گئی ہے وہ ایک سیکنڈ بھی ڈیرے پر نہ
رکا اور اب جب سے آیا تھا تب سے شاہ سائیں کے کمرے میں تھا
وہ احمد شاہ کی بیٹی ہمارے پوتے کو گوار کہہ رہی تھی اتنی بدتمیز ہے اس کی بیٹی کے حد نہیں ہمیں برداشت نہیں کردم شاہ کہ کوئی ہمارے پوتے کے لیے اتنے گھٹیا الفاظ استعمال کرے ہم تو خود اس شادی سے انکار کرنے والے تھے لیکن اس لڑکی کی ہمت دیکھو تم کیسے اپنے باپ کے سامنے منہ کھولے بول رہی تھی
اور ہمارے سامنے کسی کا نام لے رہی تھی کہ اس کے ساتھ وہ تعلقات رکھتی ہے دل تو چاہا کہ اسی وقت گولی مار دیں اس بدلحاظ لڑکی کو
لیکن احمدشاہ کا لحاظ کر کے جو نظریں تک نہیں اٹھا پارہا تھا ہمارے سامنے اور ویسے بھی حوریہ کی مرضی کی بات ہے تو اس کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ اس حویلی کو چھوڑ کر کہیں نہیں جائے گی
اورمقدم سائیں کیا وہ شادی کے لیے تیار ہے کردم شاہ کو اب مقدم کا خیال آیا جس کی مرضی کے بغیر اس حویلی میں کبھی کچھ نہیں ہوا تھا اور یہاں اسے بتائے بغیر اتنا بڑا فیصلہ کردیا گیا
اس کی بات پر دادا سائیں مسکرائے تمیہں کیا لگتا ہے اس کے بارے میں دادا سائیں نے مسکراتے ہوئے پوچھا
آپ اس کی ضد سے واقف ہیں دادا سائیں پلیز پہلے اس سے پوچھ تو لیتے وہ ابھی بول ہی رہا تھا کہ ملازم نے مقدم شاہ کی واپسی کی خبر دی
چلو تمہارے سامنے اس سے پوچھ لیتے ہیں وہ مسکراتے ہوئے اسے لئے مقدم شاہ کے کمرے کی طرف آئے
••••••••••••
ارے دادا سائیں آپ یہاں مجھے بلا لیا ہوتا تو وہ کردم شاہ اور دادا سائیں کو اپنے کمرے کے باہر دیکھ کر وہ مسکرایا
وہ ابھی ابھی نہا کر نکلا تھا
کام ہی ایسا تھا کہ ہمیں خود آنا پڑا
ہاں بولیں نہ کیا بات ہے وہ انکا پریشان انداز دیکھ کر پریشان ہوا
وہ دراصل تم تو جانتے ہی ہو کہ تمہارے چچا سائیں اپنی بیٹی کی شادی کے سلسلے میں پاکستان آئے ہیں دادا سائیں نے بات شروع کی
ہماری اس بارے میں بات ہوچکی ہے دادا سائیں مقدم شاہ کوان کا انداز کچھ عجیب لگا تو وہ انہیں کچھ یاد کروانے کی کوشش کرنے لگا
ہاں ہماری بات ہوچکی ہے بیٹا سائیں لیکن
لیکن ۔۔۔۔۔؟لیکن کیا دادا سائیں میں چاچا سائیں کی بیٹی سے شادی نہیں کروں گا وہ ضدی انداز میں بولا
ٹھیک ہے ہم تمہاری شادی سویرہ سے نہیں کر رہے لیکن پھر لیکن میں آپ کو بتا چکا ہوں کہ میں اس سے شادی نہیں کروں گا وہ ان کی بات کاٹتے ہوئے بولا
اپنی ضد کے معاملے میں وہ ایسا ہی تھا جہاں بات اس کی مرضی سے نہ ہوتی وہاں وہ بدتمیزی پر بھی اتر آتا تھا
اسی لیے ہم نے تمہاری شادی حوریہ سے طے کر دی ہے وہ اس کے پریشان انداز پر سیریس ہوکر بولے
جب کہ وہ تو انہیں دیکھتا رہ گیا
اس بار اگر تم نے انکار کیا تو ہم تم سے ناراض۔۔۔۔۔۔
آئی لو یو دادا سائیں اس سے پہلے کہ وہ اپنی بات مکمل کرتے مقدم شاہ ان سے لپٹ چکا تھا دادا سائیں کھل کر مسکرائے اس کی یہ حالت انہیں بہت مزہ لے رہی تھی اور آج وہ دعوے کہہ سکتے تھے کہ وہ اپنے پوتوں کی ہر خواہش کا مان رکھتے ہیں
انہوں نے ایک نظر اپنے نزدیک کھڑے کردم شاہ کو دیکھا جو مقدم شاہ کے لیے ری ایکشن پر مسکرایا اسے ڈر تھا کہ حوریہ کی زندگی کہیں ناپسندیدگی کا شکار نہ ہو
لیکن مقدم کی خوشی دیکھنے کے بعد اس کا اندیشہ دور ہوگیا اس لیے تو اس طرح سے انہیں گلے لگا دیکھ کر ان دونوں کے گرد باہیں پھیلا گیا
•••••••••••••
بابا سائیں کومقدم شاہ سے پوچھ کر فیصلہ کرنا چاہے تھا وہ کیسے اپنے پوتے کی نام کی انگوٹھی اس گھٹیا آدمی کی بیٹی کے ہاتھ میں پہنا سکتے ہیں
جو ان کے بیٹے کا قاتل ہے رضوانہ پھوپھو کب سے ادھر سے اُدھر ٹہل رہی تھی ان سے یہ بات برداشت نہیں ہو رہی تھی کہ اب ساری زندگی حوریہ ان کی نظروں کے سامنے رہے گی انہیں صرف حوریہ پر ہی نہیں بلکہ نازیہ پر بھی غصہ آ رہا تھا وہ کیسے اپنے شوہر کے قاتل کی بیٹی کو اپنے بیٹے کے نام کی انگوٹھی پہنا سکتی ہے
لیکن وہ جانتی تھی اب کچھ بھی نہیں ہوسکتا تھا کیوں کہ فیصلہ ہو چکا تھا اب انہیں حوریہ کی شکل ہمیشہ دیکھنی تھی
•••••••••••
حوریہ کب سے اپنے ہاتھ میں موجود انگوٹھی کو دیکھ رہی تھی
کیا سچ میں مقدم لالہ مجھ سے شادی کرنا چاہتے ہیں کیا وہ مجھے پسند کرتے ہیں کیا میں چاہے جانے کے قابل ہوں کیا اب میں ساری زندگی اسی حویلی میں رہوں گی تائشہ دیدہ کی طرح مجھے بھی یہ گھر چھوڑ کر نہیں جانا ہوگا ان کی طرح اب میں بھی ہمیشہ اپنے اپنوں کے ساتھ رہوں گی
حوریہ نے ایک بار پھر سے اپنی انگوٹھی کو دیکھا یہ حویلی کی بہو کو پہنائے جانے والا زیور تھا جس کی قیمت کا اندازہ لگانا آسان نہ تھا
اس حویلی میں حوریہ کو ہر وہ چیز دی گئی جس کی ایک لڑکی خواہش کرتی ہے سوائے محبت کے
اس حویلی میں اگر اسے کچھ نہیں ملا تو وہ محبت تھی اپنوں کا مان تھا لیکن شاید اب اس کی یہ شکایت بھی دور ہونے والی تھی
مامی نے کبھی اس سے بات نہ کی تھی نانا سائیں اس کی طرف نہیں دیکھتے تھے کیونکہ انہیں اس کی صورت میں اپنی بیٹی کی یاد ستاتی تھی
کردم لالا اسے بہت چاھتے تھے اور مقدم شاہ نے اپنی محبت کا احساس اس انگوٹھی سے کروایا تھا اور تائشہ کو تو حویلی میں کسی سے کوئی مطلب نہ تھا وہ تو صرف کردم شاہ کی دیوانی تھی اور رضوانہ خالہ وہی تھی جو اس سے نفرت کرتی تھی بلکہ اپنے نفرت کا اظہار بھی اس کے منہ پر کرتی تھی خیر وہ حق پر تھی
اس کے باپ نے ان کے شوہر کا قتل کیا تھا نہ صرف ان کے شوہر کا بلکہ اس کے دو ماموں کا بھی
اس کا باپ قاتل تھا جس کی شکل سے بھی حوریہ واقف نہ تھی حوریہ نے ایک بار پھر اس انگوٹھی کو دیکھا ایک انجانی سی خوشی اس کے چہرے پر تھی
••••••••••
کیا میں اندر آ سکتی ہوں دادا سائیں وہ کب سے اس کے منتظر تھے جو آنے کا نام نہیں لے رہی تھی اب آئی تو منہ لٹکائے ہوئے آدھی دروازے کے اندر اجازت مانگ رہی تھی
دادا سائیں نے اپنی ہنسی دبائی
آو کہو کیا کہنا چاہتی ہو وہ ناراضگی سے بولیں کیوں کہ صبح وہ ان سے کہہ کر گئی تھی کہ شام کو انہیں اپنی پینٹنگز دکھائے گی اور اب وہ رات کے دس بجے ان کے کمرے میں آئی
آپ کو توسویرہ دیدہ اور بابا سائیں سے ناراض ہونا چاہئے مجھ سے ناراض کیوں ہیں وہ منہ پھیلائے پوچھنے لگی
انہیں تو احساس بھی نہیں تھا کہ آج جو کچھ بھی ہوا کم نہ تھا لیکن یہ لڑکی اس مسئلہ کو اتنا سنجیدہ لے رہی تھی
مقدم شاہ کی خوشی دیکھ کر وہ اس معاملے کو رفع دفع کر چکے تھے
جو بھی ہوا وہ نہیں ہونا چاہیے سویرا دیدا کو بابا کا احساس نہیں ہے اگر وہ ایک بار مقدم لالہ کو دیکھ لیتی تو شاید۔۔۔۔
تم چھوڑو ان سب باتوں کو اپنی پیٹنگز دکھاو یہ سب باتیں تمہارے سوچنے کی نہیں ہیں بڑوں کے مسائل ہیں وہ حل کرلیں گے تم تو مستیاں کرو جو تم پر سوٹ کرتی ہیں دادا سائیں نے محبت سے اس کے گرد بائیں پھیلا کر کہا تو وہ مسکرائی
مطلب آپ ناراض نہیں ہیں مجھ سے وہ سوں سوں کرتی پوچھنے لگی جب دادا سائیں نے اسے اپنے سینے سے لگایا ناراض رہنے کہاں دیتی ہوتم اتنی پیاری ہو کہ کوئی ناراض رہ کر دکھائیں ان کی بات پر وہ کھل کر مسکرائی
آئی لو یو دادو سائیں آپ کو پتا ہے بابا سائیں کہہ رہے ہیں کہ میری برتھ ڈے سے پہلے ہم لوگ واپس چلے جائیں گے یہ سب کچھ سویرہ دیدہ کی وجہ سے ہوا ہے میں نہیں جانا چاہتی آپ پلیز بابا سائیں سے بات کریں نا انہیں سمجھائیں کہ مجھے اپنے ساتھ نہ لے کے جائے مجھے یہی آپ لوگوں کے پاس چھوڑ کے جائیں
وہاں جاکر تو پھر بابا سائیں بزنس میں بیزی ہو جائیں گے اور سویرا دیدہ اپنے دوستوں میں
وہ اداسی سے بولی تو دادا سائیں سوچ میں پڑ گئے
یہ تمہارے باپ نے کہا ہے کہ تم لوگ جانے والے ہو وہ اس سے پوچھنے لگے تو اس نے ہاں میں گردن ہلائی
میں نہیں جانا چاہتی وہ ناچاہتے ہوئے بھی ان کے سینے سے لگ کر رو دی
•••••••••••
سویرا کو ابھی پتہ چلا تھا کہ وہ کچھ دنوں میں واپس جانے والے ہیں اس کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا وہ ابھی بیڈ پر لیٹی اپنی واپس جانے کی خوشی منا رہی تھی کہ پیاس کی شدت ستانے لگی
شام میں پانی رکھنے آئی ملازمہ کو اس نے ذلیل کرکے واپس بھیج دیا تھا اب یہاں پر پانی نامی کوئی چیز نہ تھی اور اس کی پیاس بڑھتی جا رہی تھی
اسے اکثر رات میں پیاس لگتی تھی
دھڑکن اس بات کا خیال رکھتی اور اس کے کمرے میں روز پانی رکھواتی اور یہاں آنے کے بعد بھی دھڑکن روز ہی اس کے کمرے میں پانی رکھواتی تھی
آج بھی دھڑکن نے ہی ملازمہ کو یہاں پانی رکھنے کا کہا لیکن اسے غصہ آگیا
شادی سے انکار کرکے وہ بہت خوش تھی لیکن وہ اپنی اس خوشی میں اس دو ٹوٹکے کی ملازمہ کو شامل نہیں کرنا چاہتی تھی اس لیے کمرہ بند کرکے سکون سے اپنے بستر پر لیٹ کی اپنی واپسی کی خوشی منا رہی تھی
کہ پیاس کی شدت ستانے لگی تو وہ مجبور ہوکر اٹھی کمرے سے نکل کر زینے اترتی کچن کی طرف جانے لگی کہ اچانک اس کا پیر پھسلا اس سے پہلے کہ وہ گرتی کسی نے اسے تھام لیا ۔
وہ ٹھیک ہے یا نہیں ادے ہوش نہ رہا
وہ سامنے کھڑے شخص کو دیکھتی ہی رہ گئی اس نے زندگی میں بہت مرد دیکھے تھے لیکن آنکھوں کا جو جاود یہ شخص چلا رہا تھا وہ آج تک کوئی نہ چلا سکا تھا
نہ جانے اس شخص میں ایسا کیا تھا وہ ایک پل کو ولیم کو بھی بھول گئی نجانے وہ اسے کیا کیا بول رہا تھا
جبکہ وہ تو اس کی آواز اور آنکھوں کے سحر میں کھوئی ہوئی تھی اس کے ذہن میں صرف ایک سوال تھا آخر یہ شخص کون ہے ۔۔۔۔؟
وہ نہ جانے اسے کیا کہہ کر سیڑھیاں چڑھ گیا اور وہ کھڑی اسے دیکھتی رہ گئی وہ جیسے آئی تھی ویسے ہی واپس لوٹ گئی اس کے پانی کی پیاس بھی کہیں دور جا سوئی تھی
نجانے کون تھا یہ شخص جو اس سے ایک ہی نظر میں اپنا اسیر کر گیا اس کی شخصیت سے نکلنا اس کے بس سے باہر تھا ساری رات ایک پل کو بھی اسے نیند نہ آئی
کچھ دیر پہلے جو یہ سوچ کر خوش ہو رہی تھی کہ اب وہ ہمیشہ کے لئے ولیم کے پاس چلی جائے گی اس کی خوشی کہیں کھو گئی تھی
اب وہ یہ سوچ کر پریشان تھی کہ اگر وہ یہاں سے چلی گئی تو اس شخص کو کھو دے گی وہ اس شخص کے بارے میں کیسے معلوم کر پائے گی
وہ اس شخص کے بارے میں کیوں جانا چاہتی تھی اس سوال کا جواب اسے ایک ہی پل میں مل چکا تھا وہ پہلی نظرمیں اس کی دیوانی ہوگئی تھی اب اس کے بغیر رہنا اس کے بس سے باہر تھا وہ کسی ولیم سے محبت کرتی تھی یہ بات بھی اس وقت مکمل فرموش کر چکی تھی
وہ شاید اسی حویلی کا رہنے والا ہے لیکن کون۔۔۔۔؟ کون ہے وہ جو ایک نظر میں اپنا دیوانہ کر گیا اس شخص کو بھولنا اب سویرا کے بس سے باہر تھا