Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah Readelle50340 Bheegi Palkon Par Naam Tumhara (Episode 80)
No Download Link
Rate this Novel
Bheegi Palkon Par Naam Tumhara (Episode 80)
Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah
اس ندی پر میری اماں سائیں اپنی سہیلیوں کے ساتھ آئیں تھیں اور یہاں سے میرے باباسائیں نے انہیں پہلی بار دیکھا اور پھر دیکھتے ہی رہ گئے
پھر اکثر اس وہ پانی بھرنے کے لیے اپنی سہیلیوں کے ساتھ آتی اور پھر بابا سائیں کو ایک دن ان کے وقت کا اندازہ ہو گیا ہے بابا سائیں ہر روز یہاں اسی وقت ان کا انتظار کرتے تاکہ ایک جھلک ان کی دیکھ سکے
ایک دن اس سب کی خبر دادا سائیں کو ہوگی اور انہوں نے اپنے بیٹے کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے فوراً ان کے گھر میں رشتہ ڈالا لیکن ملک نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ وہ پہلے سے ہی منگنی شدہ ہیں
جبکہ یہ بات جھوٹ تھی اور باباسائیں نے ایک دن اماں سائیں کو راستے میں روک لیا اور ان سے ان کی منگنی کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے سچ کہا کہ ان کی کوئی منگنی نہیں ہوئی اور اگر وہ ان کا رشتہ چاہتے ہیں تو ان کے گھر رشتہ لے کے جائے بابا سائیں نے ایک بار پھر سے داداسائیں کو کو منا کر ان کے گھر بھیجا اور پھر نہ امید لوٹ آئے
اسی دوران ایک دن پتہ چلا کہ ملک زبردستی اپنی بہن کی شادی کسی سے کروا رہا ہے اور یہ خبر اماں سائیں نے اپنے ایک نوکر کے ہاتھوں باباسائیں تک پہنچائی تھی۔
اور نکاح سے ٹھیک کچھ دیر پہلے ہی دادا سائیں اور بابا سائیں ان کے گھر پہنچ گئے
اماں سائیں کی رضامندی پوچھنے پر انہوں نے شادی سے انکار کردیا اور اس دن اسی وقت ان کا نکاح بابا سائیں سے کروا دیا اور انہیں اپنے ساتھ حویلی لے آئے اس بات کے بعد ملک کی بہت بےعزتی ہوئی وہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہا ۔
اسے لگتا تھا کہ اسے بد نام کرنے میں سب سے بڑا ہاتھ اس کی اپنی بہن کا ہے اسی لئے وہ کچھ عرصہ گاؤں چھوڑ کر امریکا چلا گیا ۔
اور پھر سات سال بعد واپس آیا جب میں چھ سال کا تھا جب اچانک ایک دن پتہ چلا کہ اہانہ پھوپو کالج سے واپس آتے ہوئے کنڈنپ ہوگئی ہیں ۔
بابا سائیں کا پہلا شک ہی ملک تھا وہ ان کے گھر پہنچے تو پتہ چلا کہ ان کا نکاح ملک سے ہو چکا ہے
جب ہنگامہ ہوا تو ملک نے کہا کہ اہانہ خود یہاں بھاگ کر آئی ہے اور اہانہ پھوپو نے بھی اس بات کو قبول کر لیا ۔دادا سائیں کو اس دن بہت دکھ ہوا وہ گھر واپس لوٹ کر آئے تو اپنے آپ کو ایک کمرے تک محدود کردیا
پھر انہیں نوکروں سے پتا چلے لگا کے ملک اہانہ پھوپوکو دن رات مارتا ہے طعنے دیتا ہے لیکن دادا سائیں نےکہا کہ یہ سب کچھ اہا نہ کی اپنی غلطیوں کا نتیجہ ہے ۔
پھر ہمیں تین سال بعد پتا چلا کہ ملک کے ہاں بیٹی پیدا ہوئی ہے اور اس سے کچھ دن بعد ہی آہانہ پھوپو آدھی رات کے وقت ایک چھوٹی سی بچی کو اپنے ہاتھوں میں لیے گھر میں داخل ہوئی اور انہیں آکر یہ بتایا کہ ملک داداسائیں اور ان کے تینوں بیٹوں کو قتل کرنے کی سازش کر رہا ہے
اور انہوں نے اپنے پہ بیتی ہوئی ساری داستان سنائی کہ ملک کس طرح سے انہیں دن رات مارتا پیٹتا تھا اور کس طرح سے اس نے ان سے زبردستی نکاح کرلیا اس نےان کے سامنے یہ شرط رکھی کہ اگر انہوں نے اس رشتے سے انکار کر دیا تو وہ انہیں کسی کے سامنے منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑے گا
اور پھوپو کے کہنے کے مطابق اسی رات حویلی پر حملہ ہوا جس میں چاچا سآئیں بابا سائیں آہانہ پھوپواور پھوپھاسائیں کا قتل ہو گیا اور ملک 19 سال سے اپنی بیٹی کو دیکھنے کے لیے تڑپتا رہا پر دادا سائیں نے حوریہ کو سے واپس نہ دیا ۔
بس یا اور کچھ بھی جاننا دھڑکن جوندی کی لہروں کو دیکھتے ہوئے اس کی باتیں سن رہی تھی کردم کے پوچھنے پر اسے دیکھنے لگی۔
تو آپ کی ماما کہاں ہیں۔دھڑکن نے اگلا سوال پوچھا جس پر کردم مسکرایا ۔
میرے اماں سائیں بابا سائیں ایک دوسرے سے بہت محبت کرتے تھے ۔اماں سائیں ان سے اتنی محبت کرتی تھی کہ ان کے چھوتھے تک بھی سانسیں نہ لے سکی۔
چلو بارش ہونے والی ہے گھر چلتے ہیں کردم اسے جواب دیتے ہوئے اٹھا اور اس کا ہاتھ تھام کر گھر کے راستے چلنے لگا ۔
جبکہ دھڑکن خاموشی سے اپنی کیٹی کو ہاتھ میں لیے کے ساتھ چلتی رہی
۔
مبارک ہو یہ ماں بننے والی ہیں لیکن دھیان رہے کہ یہ بہت کمزور ہیں اور آپ کو ان کا بہت خیال رکھنا ہے ۔
ڈاکٹر نے تائشہ کامکمل چیک اپ کرنے کے بعد بتایا جنید کی تو خوشی کی کوئی انتہا ہی نہ تھی
وہ اس کے پاس بیٹھا بس اس کا حسین چہرہ دیکھے جا رہا تھا جبکہ تائشہ ہر تھوڑی دیر کے بعد اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لے کر دوسری طرف پھیر دیتی اور جنید شرارتاً اسی وقت اپنی نظریں دوبارہ اس کے چہرے پر ٹکا دیتا
جنید ہم اپنے بےبی کا کیا نام رکھیں گے
وہ دونوں گھر واپس آ رہے تھے جب تائشہ نے پوچھا اس کے ہر انداز میں اس کی خوشی جھلک رہی تھی
میری حسین سجنی ابھی تو پورے آٹھ مہینے پرے ہیں آرام سے سوچیں گے جنید نے مسکرا کر جواب دیا
نہیں میں نے سوچ لیا ہے صائم نام رکھیں گے آپی سنعیہ کے ناول کے ہیرو کا نام ہے
آپ کو پتہ ہے وہ اتنا ہینڈسم ہے میرا بیٹا بالکل ویسا ہی ہوگا تائشہ نے اندازہ لگاتے ہوئے کہا جبکہ اس کے بچگانہ انداز میں وہ مسکراتے ہوئے گاڑی کو گاوں کی کچی سڑک پر ڈال چکا تھا
نازیہ مقدم کے کمرے میں آئیں تو کمرہ باہر لاک تھا وہ پریشانی سے دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئیں تو سویرا سامنے ہی بیڈ پر لیٹی ہوئی یہ دروازہ کس نے باہر سے بند کیا تھا وہ اسے دیکھ کر پوچھنے لگی
پتا نہیں شاید اٹک گیا تھا کھولنے کی کوشش کی لیکن کھلا نہیں
سویرا نے اٹھ کر بیٹھتے ہوئے کہا جبکہ وہ اس وقت ان کے کمرے میں آنے کی وجہ جاننا چاہتی تھی
تم نے پوچھا مقدم کے سر پر کیا ہوا ہے اسے چوٹ کیسے لگی میں نے پوچھا تھا ٹال گیا کہتا ہے کچھ نہیں بس چھوٹا سا ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا مجھے تو کافی گہرا زخم لگتا تھا
مجھے بھی یہی بتایا انہوں نے خیر اتنی بڑی بات نہیں ہے آپ تو بس ذرا ذرا سی بات پر پریشان ہو جاتی ہیں اتنا گہرا زخم نہیں ہے میں نے دیکھا ہے وہ ٹھیک ہیں اور اس وقت اپنے دوستوں کے پاس گئے ہوئے ہیں سویرانے ٹالتے ہوئے کہا
تمہارا کام بنا اب وہ اس سے پوچھنے لگی
نہیں آپ کی وجہ سے سب کچھ گربڑ ہو گیا رضوانہ پھوپو کو بھی بہت جلدی تھی مجھ پر پگنیٹ کرنے کی فالحال آپ جائیں میں آرام کرنا چاہتی ہوں وہ بدتمیزی سے کہتی لیٹ گئی جبکہ اس کا یہ انداز نازیہ کو بالکل پسند نہ آیا تھا لیکن بنا کچھ کہے اٹھ کر باہر چلیں گئیں
اپنے کمرے کی کھڑکی پر بار بار دستک سن کر حوریہ کھڑکی کھولنے پر مجبور ہوگئی یہ تو وہ جانتی تھی کہ باہر کون ہے لیکن وہ وہاں سے اس شرط پر یہاں آئی تھی کہ مقدم سائیں اس سے کوئی تعلق نہیں رکھیں گے اور اب رات کے اس وقت مقدم سائیں اس سے ملنے یہاں تک آ گے تھے یہ تو وہ بھی پہلے سے ہی جانتی تھی کہ وہ چاہے جتنا بھی مقدم کو منع کردے اس سے پیچھے نہیں ہٹے گا
اس کے سر پر بہت شدید چوٹ لگی تھی وہ خود بھی اس سے ملنا چاہتی تھی
لیکن فی الحال وہ اسے احساس دلانا چاہتی تھی کہ مقدم نے غلطی کی ہے وہ کیسے کسی اور کو اپنی بیوی کا مقام دے سکتا ہے چاہے جو کچھ بھی ہو وجہ جو بھی ہو یہ کرنے کی کیا تک بنتی تھی فلحال وہ اسے معاف کرنے کا بالکل بھی کوئی ارادہ نہیں رکھتی تھی لیکن اب دستک کی آواز تیز ہوتی جا رہی تھی
جس کا مطلب تھا کہ وہ ساری رات کھڑکی کھٹکھٹاتا رہے گا لیکن وہاں سے جائے گا نہیں حوریہ نے مجبور ہوکر کھڑکی کھولی
کانوں میں روئی ٹھونس کے بیٹھی تھی کیا کب سے کھٹکھٹا آ رہا ہوں آواز نہیں آرہی تھی پچھلے ہٹو مجھے اندر آنا ہے وہ کافی جھنجلایا ہوا تھا
وہ ذرا سی پیچھے ہٹی تو وہ کمرے کے اندر آ گیا
حوریہ اب سینے پہ ہاتھ باندھے اسے دیکھ رہی تھی جیسے پوچھ رہی ہو کہ اب یہاں آنے کا فائدہ
ایسے گھورکیا آرہی ہو میرے دل کا قرار پہلے اپنے آپ کو دیکھنے تو دو ایک مہینے کتنا ستایا ہے تم نے مجھے وہ اسے باہوں میں لیے محبت پاش انداز میں بولا
دوررہیں مجھ سے شاید آپ بھول گئے ہیں کہ یہاں آنے سے پہلے میں نے ایک شرط رکھی تھی
بھاڑمیں گئی تمہاری شرط پہلے یہاں آو میری باہوں میں اور ویسے بھی پتا تو تمہیں چل گیا تھا کہ میں تمہاری کسی شرط پر عمل نہیں کرنے والا اتنے نخرے دکھانے کی ضرورت ہے کیوں بے کار اس معصوم ناک کو پھولا کر اس پر ظلم کر رہی ہو ۔
وہ شرارتی انداز میں کہتا اس کے رخسار پہ اپنے لب رکھ گیا
دوررہیں مجھ سے مقدم سائیں بس ایک تو آپ نے مجھے دھوکہ دیا ہے میری جگہ کسی اور کو دے دی میرے حق کسی اور کے ساتھ بانٹ آئے اب آپ یہاں آ کر مجھ سے اپنی محبت کا اظہار کر رہے ہیں
کیا یہ تھی آپ کی محبت میرے ہوتے ہوئے آپ کسی اور سے نکاح کرلیں
حوریہ اس سے اپنا آپ چھڑاتے ہوئے بولی
تمہارا غصہ بالکل جائز ہے میری جان لیکن تم کس نکاح بات کر رہی ہو مقدم انجان بنتے ہوئے بولا
اوتم کہیں اس نکاح کی بات تو نہیں کر رہی مقدم نے اپنی جیب سے ایک کاغذ نکالا
جی ہاں میں اسی نکاح کی بات کر رہی ہوں حوریہ نے اس کے ہاتھ سے نکاح نامہ لے کر بیڈ پر پھینکا
اس طرح پھینکنے سے پہلے غور سے دیکھ تو لو نکاح نامہ جھوٹا ہے مقدم کہتے ہوئے اس کے بیڈ پر لیٹ گیا
کیا مطلب ہے آپ کا نکاح نامہ جھوٹا ہے حوریہ حیرت سے دیکھنے لگی
اس کا مطلب تو یہی ہے میری جان کے نکاح نامہ جھوٹا ہے کوئی نکاح ہوا ہی نہیں ہے مقدم شاہ اپنی جان کی جگہ دنیا میں کسی کو نہیں دے سکتا
مطلب کے آپ نے نکاح کیا ہی نہیں وہ حیرت سے منہ کھولے ہوئے بولی تومقدم اس کے انداز پر بے ساختہ مسکرا دیا
نہیں میری جان کوئی نکاح ہوا ہی نہیں ہے یہ کاغذات جھوٹے ہیں اصل نکاح نامہ نہیں ہے دیکھو اسے
وہ پیپرزکھول کر ایک بار پھر سے اسے دکھانے لگا
تمہیں یاد ہے ہماری شادی پر ایک لڑکا آیا تھا میرا دوست ہے وہ انلیگل کام کرتا ہے میں نے اسے بہت بار سمجھایا کہ یہ کام غلط ہے اسے نہیں کرنا چاہیے لیکن وہ کبھی میری بات مانتا نہیں تھا اور پھر مجھے اس بے غیرت دوست کی ضرورت پڑ گئی
سویرا سے نکاح سے کچھ دن پہلے مجھے ملک کا فون آیا تھاکوئی اس کی جان کا دشمن بنا ہوا ہے اور وہ صرف ملک کی ہی نہیں بلکہ تمہاری بھی جان لیناچاہتا ہے لیکن میں نے اس کی بات کو اگنور کر دیا پھرکچھ دن بعد میں پتہ چلا کہ ملک پرپھر جان لیوا حملہ ہوا ہے
اس کے کچھ دن بعد مجھے پھر سے ملک کا فون آیا اس نے مجھے بتایا کہ سویرا اس شخص کو جانتی ہے جو ملک اور تمہارا دشمن ہے ۔
میں اسی دن اس سے اگلوانے جانے والا تھا کہ آخر کون ہے جو تمہیں مارنا چاہتا ہے ۔
میں ملک کی بات پر کبھی یقین نہیں کرتا حوریہ لیکن میں نے ایک رات خود حویلی سے کسی کو بھاگتے ہوئے دیکھا تھا اس دن میں بہت ڈر گیا تھا تمہیں کھونے کے ڈر سے اور پھر اسے اگلے دن ہی سویرا ہسپتال جانے کے بہانے وہ سارا ڈرامہ کرنے والی تھی
چاچاسائیں پر حملہ ہونے کے بعد سویرا کا کڈنیپ ہونا سب ڈرامہ تھا ۔مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ سویرا آخر مجھ سے چاہتی کیا ہے ۔
ہسپتال سے میں سیدھا اسی جگہ پر گیا تھا جب میں وہاں پہنچا تو سویرا لوٹی حالت میں وہاں بیٹھی تھی۔
میں نے اسے چاچوسائیں کی حالت بتائی اور اسے اپنے ساتھ لے جانا چاہا لیکن میں اس سے ڈائریکٹ سب کچھ نہیں پوچھ سکتا تھا کہ وہ شخص کون ہے جو تمہیں مارنا چاہتا ہے مجھے ڈر تھا کہ یہ نہ ہو کہ میرے پیچھے ہی وہ کہیں تم پر حملہ کر دے
اسی لیے میں تحمل سے سویرا کی بات سننے کا ارادہ کیا لیکن وہاں جاتے ہی سویرہ نے مجھ سے کہا کہ جب تک میں اسے اپنا نام نہیں دیتاوہ میرے ساتھ نہیں چلے گی اور نہ ہی وہ جگہ چھوڑے گی بلکہ وہی خود کشی کر کے مر جائے گی ۔
پھر میں نے اپنے اس دوست کا سہارا لیا اسے فون کیا اسے نکاح کےپیپرز انتظام کرنے کے لئے کہا ۔
پھر وہیں سے ہم ایک قریبی مسجد میں گئے اور اس نکاح پر سائن کر دیے ۔جب کہ مولوی صاحب کو ہم پہلے ہی بتا چکے تھے کہ یہ نکاح صرف اس لڑکی کو غلط کام سے روکنے کے لیے کیا جا رہا ہے ۔
مولوی صاحب نے بنا نکاح کی کاروائی کیے پیپرز سائن کروا کے ہمیں واپس بھجوا دیا ۔اور سویرا کو لگا کہ ہمارا نکاح ہوچکا ہے جبکہ جن کاغذات پر اس نے سائن کیا تھا ان پر صرف اوپر ہی نکاح نامہ لکھا تھا
جبکہ اصل میں یہ نکاح نامہ تھا ہی نہیں نقلی کاغذات تھے مقدم پر سکون سے انداز میں سے سب کچھ بتانے لگا ۔
جب کہ حوریہ ان پیپرز کو دیکھ کر بنا کچھ سوچے سمجھے مقدم سے لپٹ گئی ۔
مطلب آپ کی شادی ہوئی ہی نہیں ہے آپ سے میرے شوہر ہیں وہ خوشی سے چہکتے ہوئے بولی
ہاں میری جان مقدم شاہ پر صرف اور صرف تمہارا حق ہے مقدم شاہ صرف اور صرف تمہارا شوہر ہے ۔
تو میرا سوہنا ماہی میرے دل کے قرار اب میرے پاس آجاو میری پیاس بھجاو مقدم شاہ نے اسے مزید اپنی قریب کیا اور اس کے لبوں پر جھکا
میری جان نے اس قصے سے کیا سبق سیکھا مقدم نے اس کا خوبصورت چہرہ دیکھتے ہوئے بولا
یہی کے جھوٹا نکاح نامہ نہیں بنوانا چاہیے آپ کے دوست بہت غلط کام کرتے ہیں اور آپ کو انہیں روکنا چاہیے اس کے شرارت سمجھےبغیر حوریہ آج کا سبق سنانے لگی
حوریہ میری جان اگر وہ یہ کام نہیں کرتا تو اس وقت میں تمہارے ساتھ سویرا کابھی شوہر ہوتا مقدم نے اپنا سر پیٹتے ہوئے سے بتایا ۔
ارے نہیں میں یہ تھوڑی نہ کہہ رہی ہوں میں تو صرف بتا رہی ہوں ہمارا کام تو آپ کے دوست نے کر دیا اب آپ کو انہیں سمجھا نا چایے کہ یہ غلط کام نہیں کرنا چاہیے حوریہ نے اپنی بات سمجھانے والے انداز میں کہا
ویسے مقدم سائیں آپ نے غلط کیا کوئی رشتہ نہ ہونے کے باوجود آپ سویرا کے اتنے قریب رہے نہ صرف قریب رہے بلکہ ایک ہی کمرے میں رہے یہ تو غلط ہے نا وہ آپ کی محرم تھوڑی ہے اور ہمارا دین اس بات کی اجازت نہیں دیتا سویرا تو یہی سوچ رہی ہو گی کہ وہ آپ کی بیوی ہے یہی سوچ کے وہ آپ کے قریب آتی ہوگی ذرا سوچیں کہ جب اسے یہ پتہ چلے گا کہ آپ اس کے لیے نامحرم ہیں تو وہ اپنی ہی نظروں میں گر جائے گی ابھی تھوڑی دیر پہلے اسے سویرہ سے زیادہ برا اور کوئی نہیں لگتا تھا لیکن اب اسی کی فکر ہونے لگی
حوریہ ابھی تک ایک ایسی رات نہیں گزری کہ میں اس کے ساتھ ایک کمرے میں رہا ہوں ۔ہاں وہ میرے قریب آتی رہی ہے یقین کرو میں نے کبھی اپنی حدود کراس نہیں کی۔
میں جانتا ہوں ہمارا دین اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ میں ایک نامحرم لڑکی کے ساتھ اتنا قریب رہوں۔ لیکن میں مجبور تھا حوریہ مجھے میری بیوی کی جان بچا نی ہے اور جہاں تک بات ہے سویرا کی اپنی ہی نظروں میں گرنے کی تو تم اس بات کی بالکل فکر مت کرو
سویرا اتنی گری ہوئی ہے کہ تم کبھی سوچ بھی نہیں سکتی
وہ صرف مجھ سے محبت کے دعوے کرتی ہے سچ تو یہ ہے کہ اس نے مجھے کبھی چاہا ہی نہیں اسے بس میری شکل پسند ہے اور صرف میری ہی نہیں بلکہ دنیا کا کوئی بھی خوبصورت مرد اسے پسند ہوگا کل اگر اسے مجھ سے اچھا اور مجھ سے خوبصورت دیکھنے والا کوئی شخص مل گیا تو اس کے پیچھے بھاگنے لگے گی
یہاں آنے سے پہلے بھی اس کا ایک فرینڈ تھا ویلکم پلکس اور اس کے ساتھ اتنی آگے جا چکی تھی کہ اس کے بچے کی ماں بننے جارہی ہے یہ پریگنینسی کی باتیں جھوٹی نہیں ہیں حوریہ اور یہ بات میں نکاح والے دن سے جانتا ہوں
جب میں اسے ہسپتال لے کر گیا
اس کی حالت اتنی خراب تھی کہ میں نے اسے چیک کروایا تم جانتی ہو ڈاکٹر نے باہر نکل کر مجھ سے کیا کہا کہ مجھے اس کا خیال رکھنا چاہیے وہ پریگننٹ ہے ۔
لیکن میں اس دن بھی کچھ نہیں بولا کیوں کے تم سے زیادہ امپرنٹنٹ میرے لیے کچھ نہیں تھا میں کسی بھی طرح سے سویرا کو اپنے جال میں پھنسا کر اس شخص تک پہنچنا چاہتا ہوں جو تمہاری جان لینا چاہتا ہے
میرے لئے سب سے اہم تم ہو اور تمہارے بعد ہی آتے ہیں باقی سب تمہارے لئے مجھے اپنی جان دینی پڑے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں یہ تو صرف نکاح تھا اور یقین کرو کہ تمہاری جان بچانے کے لئے مجھے سچ میں نکاح کرنا پڑتا تو میں کر لیتا
وہ اتنی گری ہوئی ہے کہ اس نے نہ اپنے خاندان کا سوچا نہیں اپنے باپ کا چاچا سائیں کو کینسر ہے اور کل لنڈن واپس جانا چاہتے ہیں سویرا یہ بات ہمارے نکاح والے دن سے جانتی تھی۔
وہ اتنی گری اور گھٹیا لڑکی ہے حوریہ کہ اس نے اپنی باپ کے موت کو استعمال کیا ۔۔ مقدم کے اس طرح سے کہنے پر حوریہ کی آنکھوں میں آنسو آنے لگے ۔جب مقدم نے اسے تھام کر اپنے قریب کیا
رشتے کتنے بے مول ہوتے جا رہے ہیں نہ حوریہ سویرا اتنا گر جائے گی کوئی نہیں جانتا تھا ۔لیکن تم فکر مت کرو میں تمہیں کچھ نہیں ہونے دوں گا ۔
میں خود تمہاری حفاظت کروں گا اس دوران اگر میں سویرا کے قریب چلا جاؤں تو برا مت منانا وہ اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتا اینڈ میں شرارت سے بولا جب اسے اپنے سینے پر چھبن محسوس ہوئی تو اس نے حوریہ کو خود سے الگ کیا
لڑکی چاہتی کیا ہو جان لے کر مانو گی کیا اس کے ہاتھ میں ہے پن دیکھ کر وہ تلملا اٹھا
آپ جا کر دکھاِیں مجھے اس چڑیل کے پاس پھر دیکھیے گا میں آپ کا کیا حال کرتی ہوں وہ دھمکی دیتے انداز میں بولی
اس کا نام سویرہ ہے مقدم نے شرارت سے کہا
کیا کہا آپ نے حوریہ نے گھور کر پوچھا
نہیں اس کا نام چڑیل ہی ہے مجھے غلط فہمی ہو گئی تھی تم کہاں جا رہی ہو یہاں آؤ میرے پاس اسے خود سے دور جاتا دیکھ کر مقدم نے اسے ایک پر کھینچ کر اپنی باہوں میں لے لیا
مقدم سائیں ایک اور بات ۔
بس باقی سب کچھ بعد میں پوچھ لینا فلحال مجھے خود سے پیار کرنے دو کتنا تڑپا ہوں تمہارے لیے ایک مہینے سے ایک بار نہیں سوچا ہوگا میرے بارے میں تم تو خوش ہوگی کہ جان چھوٹ گئی ہے اس کا دوپٹہ اس سے الگ کرتے ہوئے اس پر جھکا تھا
آپ کو کیا لگتا ہے آپ سے دور رہ کر خوش رہی ہوں میں حوریہ نے اس کی گردن میں اپنی باہیں ڈالتے ہوئے پوچھا
ہاں میرا سوہنا ماہی یہی سب کچھ میں تمہیں سویرا اور اس جھوٹے نکاح سے پہلے پوچھتا تو تمہارا جواب کچھ اور ہوتا ۔مقدم اس کے لبوں پر جھکا ۔
اور پھر اپنے انداز میں اس پر اپنی شدت لٹانے لگا جبکہ اس کے انداز نے حوریہ کو مسکرانے پر مجبور کر دیا تھی سہی تو کہتا تھا وہ اگر وہ اپنی اس محبت کا احساس سچ بتانے سے پہلے دلاتا توحوریہ کبھی اس پر یقین نہ کرتی جو بھی تھا وہ اپنے شوہر کو کسی کے ساتھ شیئرنہیں سکتی تھی
مقدم سائیں اگر سویرا یہاں آ گئی تو اپنے کندھے سے شرٹ سرکتی ہوئی محسوس کر کے حوریہ بولی
اس کا انتظام میں کر کے آیا ہوں میرے دل کا قرار دروازہ باہر سے لاک کر کے آیا ہوں وہ چڑیل ہمیں ڈسٹرب نہیں کر سکتی وہ کہتا ہوا ایک بار پھر سے اس کے لبوں پر جھکا
اور حوریہ خاموشی سے اس کی شدت میں پگلتی اپنا آپ اس کے سپرد کر گئی
مقدم سائیں اب جائیں اپنے کمرے میں یہ نہ ہو کہ کسی کو شک ہو جائے حوریہ نے اسے بھیجنے کی کوشش کی
ابھی نہیں وہ اسے اپنی باہوں میں کھینچتا ایک بار پھر سے اس کے بالوں میں اپنا چہرہ چھپانے لگا
مقدم سائیں کسی کو شک ہو جائے گا اور آپ کا پلان دھرا کا دھرا رہ جائے گا حوریہ نے سمجھاتے ہوئے کہا
بتا تو رہا ہوں سوہنا ماہی دروازہ لاک کر کے آیا ہوں رات کے گیارہ بجے کون کھولے گا اس کا دروازہ اب ڈسٹرب مت کرو اب اگر تم نےکچھ بھی کہا تو میں اس سویرہ کے پاس چلا جاؤں گا وہ تو ویسے بھی ہر وقت میرے پاس آنے کے لیے بے تاب رہتی ہے اور ایک تم ہو جو مجھ سے دور بھاگتی ہومقدم اس کی سانسوں میں اپنی سانسیں بسائے اس کی خود سے دور جانے والی ساری راہ بند کر چکا تھا
آپ مجھے خود سے دور جانے کہاں دیتے ہیں حوریہ نے ہار مانتے ہوئے کہا تومقدم دلکشی سے مسکرایا ۔
تمہاری یہ بات مجھے بہت اچھی لگتی ہے تم جلدی ہار مان جاتی ہو نہ کہ ٹائم ویسٹ کرتی ہو مجھے ایسی بیویاں اچھی لگتی ہیں اس کے لبوں پر مہر لگا تا اسے خود سے مزید قریب کرنے لگا
بیویاں ” حوریہ نے جیسے الفاظ پکڑے تھے مقدم نے ایک نظر گھور کر اسے دیکھا
تم ضرورت سے زیادہ اسمارٹ نہیں ہوتی جا رہی ہیں وہ اسے گھورتے ہوئے پوچھنے لگا
اب بیوی کی جگہ بیویاں ویڈیوز کریں گے تو اسمارٹ تو نہ پڑے گا ۔
حوریہ نے مسکراتے ہوئے کہا
ابھی تمہاری اسمارٹنس نکالتا ہوں میں وہ ایک بار پھر سے اپنے شکنجے میں لیتا اس پر اپنی محبت کی بارش کرنے لگا
ہمیشہ کی طرح حوریہ اس بار بھی اس کے سامنے ہار مان گئی
