Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah Readelle50340 Bheegi Palkon Par Naam Tumhara (Episode 64)
No Download Link
Rate this Novel
Bheegi Palkon Par Naam Tumhara (Episode 64)
Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah
کلک کی آواز کے ساتھ اسے اپنے کمرے کالاک کھلتا ہوا محسوس ہوا اس نے فوراً ہی دروازے کی طرف دیکھا تھا جہاں جنید مسکراتے ہوئے اسے دیکھ کر دروازہ دوبارہ بند کر چکا تھا ۔
تمہیں کیا لگتا ہے کہ میرے ہی گھر میں رہ کر تم مجھ سے چھپ سکتی ہو ۔۔۔۔۔؟
دیکھو جنید دور رہو مجھ سے تائشہ نے خوفزدہ ہو کے اسے اپنی طرف آتا دیکھا اور فوراً ہی بیڈ کی دوسری طرف سے اتر کر اس سے دور جانے لگی
بیوی سے دور رہنے کا قانون کسی کتاب میں نہیں لکھا اسی لئے مجھ سے ہرگز یہ امید مت رکھنا کہ میں تم سے دور رہوں گا وہ مسکراتے ہوئے اس کی طرف قدم بڑھانے لگا
دیکھو جیند ہماری شادی اچانک ہوئی ہے میں تمہیں ابھی قبول نہیں کر پارہی مجھے تھوڑا وقت دو وہ اس کا یہ انداز دیکھ کر منیتں کرنے لگی۔
وقت اور دوریاں رشتے کمزور کردیتے ہیں لیکن میں آپنا رشتہ مضبوط بنانا چاہتاہوں میں اپنے نکاح میں آئی لڑکی کو کسی دوسرے آدمی کے لئے آنسوبہاتے تڑپتے نہیں دیکھا سکتا وہ اس کے بلکل قریب آ کر اس کے کمر میں ہاتھ ڈالتا اسے اپنے مزید قریب لے آیا
میری غیرت گوارہ نہیں کرتی کہ میرے نکاح میں آئی لڑکی کے دل و دماغ میں کوئی اور شخص ہو میں دنیا کے کسی بھی مقام پر کردم شاہ سائیں کو دل و جان سے قبول کر سکتا ہوں تائشہ لیکن تمہارے دل میں نہیں ۔
کیونکہ میرے نکاح میں آئی لڑکی کے دل و دماغ پر صرف میرا حق ہے میری غیرت کو گوارا نہیں کہ میرے نکاح میں رہ کر تم اپنے دل و دماغ بھی کسی اور کو بساؤ تمہاری ہر سوچ پر صرف اور صرف جنید خان کا حق ہے جیسے وہ پورے حق سے وصول کرے گا اس کے دوپٹے کو اس سے دور پھینکتے جنید اس کے لبوں پر جھکا ۔تو وہ چہرہ موڑگئی
جنید پلیز میں اتنی جلدی یہ سب کچھ قبول نہیں کر سکتی ہو پلیز تم سمجھنے کی کوشش کرو وہ اسے سمجھانے والے انداز میں بولی۔
پہلی بات آج سے تم مجھے تم نہیں بلکہ آپ کہہ کے پکارو گی تھوڑا رشتے کا احترام تھوڑا عمر کا لحاظ اور دوسری بات کل صبح تم اس رشتے کو اپنے آپ ہی قبول کر لو گی اسی لیے فل حال میرا دماغ کھانے کی ضرورت نہیں ہے ورنہ جس انداز میں تم سے پیش آؤں گا اس کے بعد تم خود سے نظریں ملانے کے قابل نہیں رہوگی
اب فیصلہ تمہیں کرنا ہے کہ تم مجھ سے عزت چاہتی ہو یا رسوائی وہ اسے گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا
جو دھمکی اس کے لہجے میں تھی وہی اس کی آنکھوں میں وہ اسے اپنے قریب بلا رہا تھا اگر چاہتا تو زبردستی بھی کر سکتا تھا اور اگر وہ عزت سے نہیں مانتی تو وہ زبردستی ہی کرنے والا تھا
وہ کچھ دیر کچھ بھی نہ بولی ۔ لیکن اسے اپنے آپ کو دیکھتا پا کر جیسے اپنی ہمت ہار رہی تھی۔
جنید اسے چھوڑنے والا نہیں تھا اور نہ ہی وہ اس سے آزادی حاصل کر سکتی تھی وہ اسے اس کی تمام تر بدتمیزی اور غلطیوں کے بعد بھی معاف کر رہا تھا اور اسے ایک آسان زندگی دینے کے لیے بھی تیار تھا ۔
اس بار جنید نے جب اسے اپنے قریب کیا تو تائشہ نے مزاحمت نہ کی تھی ۔
جبکہ جنید کی مضبوط پکڑ میں تائشہ اس کی باہوں میں پھڑپھڑا کر رہ گئی۔
اور پھر اپنے آپ کو اس کے حوالے کردیا وہ اس سے لڑ نہیں سکتی تھی نہ ہی اس کا مقابلہ کر سکتی تھی ۔
وہ اپنے حق پر وہ کسی اور آدمی کو بھی برداشت نہیں کرسکتا تھا اُسے بھی نہیں جس سے وہ زیادہ محبت کرتا تھا
جنید نے انتہائی محبت سے اس کا نازک موجود اپنی باہوں میں بھرا اور اسے اٹھا کر اپنے کمرے میں لے آیا ۔
اس کے بعد تم مجھے اسی کمرے میں نظر آو ۔اس کمرے میں تم صرف ناراضگی کی صورت جا سکتی ہو تم شاید کبھی سمجھ بھی نہیں پاؤ گی کہ میں نے کن حالات میں معاف کیا ہے تمہاری غلطیوں نہ تو معافی کے قابل ہے اور نہ ہی نظر انداز کرنے کے۔
تم اس وقت میری باہوں میں موجود ہو صرف اس لئے کیونکہ میں اپنی بیوی کے ساتھ عزت اور محبت کا رشتہ بنانا چاہتا ہوں ۔بس اس بات کا خیال رکھنا کہ جتنی عزت میں تمہیں دے رہا ہوں اتنی ہی عزت کے تم قابل بن جاؤ ۔
میں تمہیں عزت و احترام کے ساتھ بیا کر اس گھر نہیں لایا لیکن اپنی زندگی میں تمہیں پوری عزت اور احترام سے شامل کر رہا ہوں
تائشہ نے اپنے کندھے سے اپنی شرٹ شرکتی محسوس کی تو زور سے آنکھیں میچ گئی
میری زندگی میں خوش آمدید ۔میں تمہیں خوش رکھنے کی ہر ممکن کوشش کروں گا۔ وہ اسے خود میں سمیٹتے ہوئے اس کے کانوں میں سرگوشی کرتے تائشہ کو ہر چیز سے بہت دور لے گیا
مقدم کی آنکھیں رات کے نجانے کون سے پہر کھلی ۔اور اس کے سینے پر سر رکھے گہری نیند سو رہی تھی
نجانے کتنی دیر وہ اسے دیکھتا رہا لائٹ بلب کی روشنی میں اس کا چہرہ اسے اپنا دیوانہ کر گیا۔
اور اگلے ہی لمحے اسے کھینچ کر مقدم اس کے چہرے پر جھکا اس کے لبوں کو اپنے لبوں میں قید کرتا اس کی سانسیں روک گیا ۔
اپنے سانسوں پر کسی کی حکومت محسوس کرتے ہوئے حوریہ کی آنکھ فورا کھلی ۔
مقدم سائیں یہ آپ کیا کر رہے ہیں اپنے ہونٹوں کے بعد گردن پر اس کا لمس محسوس کرتے ہوئے اس کے ہاتھوں سے اپنے ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کرتے ہوئے بولی ۔
شسش مجھے ڈسٹرب مت کرو حوریہ اس وقت میں تمہیں اپنے بہت قریب محسوس کرنا چاہتا ہوں ۔
وہ کہتے ہوئے دوبارہ اس کے لبوں پر جھکا اس کے سامنے مزاحمت کرنا تو ویسے بھی بے کار تھا۔
اپنی شہ رگ پراس کا لمس محسوس کرتے ہوئے وہ اس کے گرد اپنی باہوں کا گھیرا بنا کر اپنا آپ اس کے سپرد کر چکی تھی۔
مقدم شاہ نے مکمل اسحقاق سے اپنا حق وصول کرتے ہوئے اسے اپنی باہوں میں قید کر لیا
دھڑکن کی آنکھ کھلی تو کردم اس کے ساتھ بنا شرٹ کے گہری نیند سو رہا تھا ۔
اس کی بند آنکھیں دیکھتے ہوئے دھڑکن نے شرما کر اپنی نظریں چُڑالی
یا اللہ اس سے پہلے کہ یہ جاگ جائیں میں باہر چلی جاتی ہوں لیکن باہر تو بابا سائیں ہوں گے ان سے تو میں ناراض ہوں ۔
ہائے اللہ میں ان سے نظریں کیسے ملاوں گی ۔
دھڑکن نے سوچتے ہوئے اپنا ہاتھ اپنے منہ میں ڈالا اور زور و شور سے اپنا فیورٹ کام کرنے لگی ۔
جب اچانک اسے اپنے ہاتھ پر کسی کی گرفت محسوس ہوئی اس نے فورا نظریں اٹھا کر اپنے بالکل قریب گہری نیند میں سوئے کردم کو دیکھا تھا جواب نیند میں نہیں بلکہ پوری آنکھیں کھولے اسے غصے سے گھور رہا تھا
اگر آج کے بعد میں نے تمہارا یہ ہاتھ تمہارے منہ میں دیکھانا دھڑکن تو یا تو یہ ہاتھ کاٹ دوں گا یا ناخن جڑ سے اکھاڑ دوں گا ۔
اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں قید کئے ہوئے اسے کھینچ کر خود سے قریب کرتا اسے اپنے مضبوط شکنجے میں قید کر چکا تھا ۔
جب کے دھڑکن نا تو اس کے چہرے کو دیکھ پا رہی تھی اور نہ ہی اس کی نظروں کو
کل تمہارے لیے ایک گفٹ لایا تھا میں ۔مجھے تو بہت پیارا لگا اگر تمہیں پسند نہیں بھی آیا تو بھی رکھ لینا
ٹھیک ہے ۔۔۔۔۔؟ اس کے شرمایا ہوا روپ اپنی نظروں کے حصار میں لے لیتا وہ اسے بولنے پر اکسا رہا تھا جبکہ دھڑکن نے بولنے کی بجائے گردن ہاں میں ہلا دی۔
دھڑکن ادھر دیکھو میری طرف اس کا چہرہ تھوڑی سے اوپر اٹھاتے ہوئے اپنے سامنے کرنے لگا ۔
وہ اس کے اتنے قریب تھا کہ اس کی سانسوں کی مہک اسے اپنی سانسوں میں اترتی ہوئی محسوس ہوئی ۔
جبکہ آنکھیں بند کئے اس کی گرم سانسوں کو اپنے چہرے پر محسوس کرتی رہی ۔
تم آنکھیں کھول رہی ہو یا پھر میں اپنے طریقے سے کھلواؤں ۔اس کے بند آنکھیں اور شرم و حیا سے سرخی چھلکتا چہرہ دیکھتے ہوئے وہ مصنوعی غصے اور سخت لہجے میں گویا ہوا ۔
جبکہ اس کے لہجے سے نہ گھبراتے ہوئے دھڑکن نے اب بھی اپنی آنکھیں بند ہی رکھیں۔
اور پھر اگلے ہی لمحے وہ اپنا انداز اپناتے ہوئے اس کے لبوں پر جھکا اور پھر جھکتا ہی چلا گیا دھڑکن کی ساری مزاحمتیں دھری کی دھری رہ گئی اور وہ اسے خودمیں سمیٹتا ایک بار پھر سے اس کے ہوش ٹھکانے لگانے لگا ۔
جیند کی آنکھ کھلی تو تائشہ اس کے بالکل قریب اس کے سینے پر سر رکھے ہوئے لیٹی تھی وہ جانتا تھا کہ وہ جاگ رہی ہے لیکن شاید وہ اس وقت اس سے نظریں ملانا نہیں چاہتی تھی
وہ آہستہ سے اس کے قریب اٹھا اور فریش ہونے چلا گیا
واش روم کا دروازہ بند ہوتے ہی تائشہ نے آنکھیں کھولتے ہوئے اس دروازے کو دیکھا ۔
اس کے آنکھوں میں آنسو آنے لگے کتنی جلدی کتنے اسحقاق سے وہ اس سے اپنے تمام تر حقوق وصول کر گیا
اور تائشہ مزاحمت تک نہ کر سکی
وہ نہ جانے اور کتنی دیر ایسے ہی بیٹھ کے رونے کا ارادہ رکھتی تھی جب واش روم کا دروازہ کھلا اور جنید باہر آیا ۔
رونا دھونا تو ایسے مچا رکھا ہے جیسے کل رات میں نے تم پر بہت کوئی ظلم کردیا ہو
بند کرو یہ رونا دھونا میں ذرا زمین کا کام دیکھ کے آتا ہوں ناشتہ گھر پر ہی کروں گا تمہارے ساتھ اور میں جب گھر واپس آؤں تو یہ روتی دھوتی شکل نہیں بلکہ اس پیارے چہرے پر ایک پیاری سی مسکان ہونی چاہیے
چلو اب اچھی بیویوں کی طرح اپنے شوہر کی خدمت کرو اور رات میں تمہیں کچھ نہیں دے سکا اسی لیے سوچ رہا ہوں کہ تمہارے لئے کوئی اچھا سا تحفہ بھی لے آتا ہوں ۔
کہیں تم اپنے دل میں یہ بات نہ بنا لوکہ اپنا حق لے لیا اور تمہارا حق دیا ہی نہیں وہ مسکراتے ہوئے اس کے قریب آیا محبت سے اس کا ماتھا چومتا اپنی چادر کندھے پہ ڈال کر باہر نکل گیا
تائشہ کتنی دیر دروازے کو گھورتی رہی پھر اٹھ کر فریش ہونے واشروم میں گھس گئی اور جیند کے آنے سے پہلے اس کا ناشتہ تیار کرنے لگی
کیوں ۔۔۔۔؟وہ خود بھی نہیں جانتی تھی
