267.3K
86

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Bheegi Palkon Pe Naam Tumhara Hai) Epi 10

دھڑکن ناشتہ کرنے نیچے آئی تو ٹیبل پر دادا سائیں کو بیٹھا دیکھا احمد شاہ بھی ابھی ابھی آئے تھے بابا سائیں کو دیکھ کر نظر جھکا گئے
دادو سائیں شکر ہے آپ کا چہرہ نظر تو آیا ورنہ تو آپ غائب ہی ہو گئے تھے دھڑکن مسکراتی ہوئی ان کے قریب آئی اور جھک کر ان کا گال چوما گڈمارننگ وہ مسکرا کر ان کے دائیں سائیڈ والی چیئر پر بیٹھ گئی
جبکہ اس کی اس حرکت کو سب نے حیران نظروں سے دیکھا تھا دادا سائیں نے کوئی خاص رسپونس نہ دیا
بیٹاسائیں یہ آپ کی کرسی نہیں ہے رضوانہ پھوپھو نے کرسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ایک نظر سیڑھیوں کی طرف دیکھا
ارے پھوپھو سائیں یہ چیئر میری نہیں بلکہ لکڑی کی ہے وہ اپنی ہی دھن میں بول کر کھلکھلا کر ہنسی اور ناشتہ کرنے میں مصروف ہو گئی
لیکن یہ چیئر مقدم شاہ نے کچھ کہنا چاہا
مقدم لالہ آپ ناشتہ کریں ورنہ آپ کے پراٹھے پر میری نظر ہے پھر بعد میں مت کہیے گا کہ پہلے بتایا نہیں آج تک تائشہ میں بھی اتنی ہمت نہ ہوئی تھی کہ مقدم شاہ سے اس طرح سے بات کرتی اور حوریہ تو اس معاملے میں سب سے پیچھے تھی مقدم شاہ اس کی بات پر مسکرایا اور اپنے ناشتے میں مصروف ہوگیا
ویسے میں آپ سے ناراض ہو مقدم لالا فون پر آپ نے بولا تھا کہ ہم گھومنے والے ہیں لیکن آپ کے کام ہی ختم نہیں ہو رہے آپ کی وجہ سے میں اس “کھڑوس ” اس نے ایک نظر دادا سائیں کی طرف دیکھا میرا مطلب ہے کردم لالہ کے ساتھ گئی تھی گھومنے ہی نہیں دیا چلو گھر چلتے ہیں ساری رات یہی رہنے کا ارادہ ہے کیا وہ آواز کو موٹا کرتی منہ بناکر کردم شاہ کی نقل اتارنے لگی
اس نے پھرسے دادا سائیں کی طرف دیکھا جن سے ان کے پوتے کی برائی برداشت نہیں ہو رہی تھی
او کم آن دادو سائیں یہ صرف ایک جوک تھا ریلیکس اس نے شاہ سائیں کو دیکھ کر کہا
جبکہ احمد شاہ اسے چپ رہنے کا اشارہ کر رہے تھے
تایا سائیں اور تائی اماں سائیں نے نجانے کس چیز کی گھٹی دی ہے انکو قسم سے ایسے گھورتے ہیں جیسے کچا چبا جائیں گے وہ تیز تیز بول رہی تھی جبکہ اس کی باتوں پر مسکرانے والا صرف مقدم شاہ ہی تھا
اگر اتنا ہی ڈر لگتا ہے اس سے تو اس کی چیئر پر کیوں بیٹھی ہو مقدم شاہ نے مسکرا کر پوچھا لیکن دھڑکن اس صدمے کو سکون سے برداشت نہیں کر سکی
وہ کرنٹ کھاکر کرسی سے اٹھی
اوگاؤڈ آپ نے پہلے کیوں نہیں بتایا کہ یہ اس کھڑوس کی چیئر ہے وہ پریشانی سے پوچھنے لگی
بتا تو رہے تھے تم نے کہا لکڑی کی ہے مقدم شاہکو اس کی کنڈیشن مزا دے رہی تھی
لالہ سائیں آپ کو نہیں پتہ یہ چیئر لکڑی کی نہیں بلکہ کردم تھا مونسٹر کی ہے وہ مڑکر کرسی کی طرف اشارہ کرنے لگی لیکن پیچھے دیکھتے ہی اس کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا
لالہ۔۔۔۔۔۔۔ آپ۔۔۔۔ کر۔۔۔کردم ۔۔۔لالہ آپ ۔۔۔اس کی آواز اا کا ساتھ نہیں دے رہی تھی کردم لالہ دھڑکن نے ایک نظر داداسائیں کی طرف دیکھا اور پھر بنا کچھ بولے بھاگ کر ان کی کرسی کی دوسری سائیڈ چھپ کر بیٹھ گئی
دادو سائیں بچا لیں یہ بِیسٹ مجھے کھا جائیں گے وہ ہلکی آواز میں منمنائی جبکہ کردم اس کو گھورنے میں مصروف تھا
کردم سائیں آپ بیٹھ کر ناشتہ کریں شاہ سائیں اپنی ہنسی دبا کر بولے تو وہ اسے گھورنا چھوڑ کر اپنی کرسی پر بیٹھ گیا
آپ بھی اٹھیں بیٹھ کر ناشتہ کریں شاہ سائیں کا لہجہ نرم تھا
نہیں دادو سائیں میرا ناشتہ ہوگیا میں روم میں جارہی ہوں وہ جلدی سے ان کا گال چومتی اپنے کمرے کی طرف چلی گئی
ناجانے کیوں دادا سائیں کو یہ لڑکی بہت پیاری لگ رہی تھی اسے دیکھ کر انہیں سکون ملتا تھا
مقدم شاہ اسے اپنی بہن کی طرح چاہنے لگاتھا حوریہ کیلئے وہ اپنے دل میں ہمیشہ سے جذبات رکھتا تھا تائشہ اس کے خوف سے کبھی اس کے ساتھ فرینک نہیں ہوئی تھی دھڑکن حویلی کی رونق بن گئی تھی پہلی بار اس حویلی میں کوئی ایسا آیا تھا جس سے یہ حویلی خالی خالی نہیں لگتی تھی
ہر وقت قہقہے شرارتیں دھڑکن سب کو ہی بہت پیاری ہوتی جارہی تھی سوائے کردم کے کردم شاہ نے ایک نظر پلیٹ کی طرف دیکھا جس سے ایک ہی چھوٹا سا نوالہ لیا گیا تھاحوریہ نے جلدی سے پلیٹ اٹھائی اور اس کے لئے دوسری پلیٹ تیار کرنے لگی
عاصمہ بی جائیں دھڑکن کے لئے ناشتہ لے جائیں اس نے ناشتہ نہیں کیا حوریہ نے ملازمہ سے کہتے ہوئے کردم کے سامنے ناشتہ رکھا
ہاں اس کے لئے کچھ بھیج دو اس نے ناشتہ نہیں کیا بیچاری سارا دن اچھلتی کودتی رہتی ہے بھوکی رہ جائے گی دادا سائیں نے بے اختیار کہا تو سب ان کی طرف حیرانگی سے دیکھنے لگے شاید ہی مقدم اور کردم کے علاوہ انہوں نے کبھی کسی کی اتنی پرواہ کی تھی
•••••••••••
یار یہ دھڑکن کیا چیز ہے کیسے کردم سائیں کی کرسی پر بیٹھ گئی اور پھر انہی کو انگریزی میں گالیاں دینے لگی تائشہ جب سے باہر سے آئی تھی تپی ہوئی تھی
اسے کردم سائیں کی کرسی پر دھڑکن کا بیٹھنا ہرگز پسند نہ آیا تھا
ارے تاشی دیدہ جو بھی تھا ویسے دھڑکن چھا گئی کیسے نانا سائیں سے باتیں کر رہی تھی اور مقدم لالہ سے کیسے باتیں کر رہی تھی آج تک تو ہم میں سے کسی نے اس طرح سے بات نہیں کی حوریہ کو دھڑکن کی دلیری بہت اچھی لگی تھی
ارے مقدم لالہ کی تو ہونے والی سالی ہے لیکن نانا سائیں کے سامنے اس کی زبان کے تیور دیکھے تھے تم نے توبہ توبہ نہ کوئی شرم نہ کوئی لحاظ کردم سائیں کو تو اس کی باتیں بالکل بھی اچھی نہیں لگی دیکھا تھا تم نے کیسےاسے گھور رہے تھے مجھے تو پکا یقین ہے یہ لڑکی ان کے لہر کا نشانہ بنے گی تائشہ نے کہا
ہاں دیدہ کردم لالہ کافی غصے میں لگ رہے تھے لیکن مجھے نہیں لگتا کہ اتنی سی بات پر وہ اسے کچھ کہیں گے اور مونسٹر کوئی گالی نہیں ہوتی حوریہ نے بتانا ضروری سمجھا
ہاں ہاں مجھے پتا ہے میٹرک پاس ہوں میں زیادہ سمجھایا مت کرومجھے تم سے زیادہ انگریزی سمجھتی ہوں میں تائشہ کو اس کی بات پر غصہ آیا
لیکن حوریہ کچھ نہیں بولی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ وہ مونسٹر کو گالی سمجھ رہی ہے
لیکن وہ کبھی اس بات کو قبول نہیں کرے گی
•••••••••••••
ویسے کردم سائیں یہ دھڑکن بھی کیا لڑکی ہے قسم سے مقدم شاہ جب سے ڈیرے پر آیا تھا ہنسے جارہا تھا
مجھے تو انتہائی بدتمیز لگتی ہے بات کرنے کی تمیز نہیں ہے بڑے چھوٹے کا لحاظ تک نہیں ہے دیکھا تم نے وہ دادا سائیں سے کیسے بات کرتی ہے جانتی بھی ہے کہ داداسائیں ان لوگوں سے ناراض ہیں پھر بھی ہر بات میں گھستی ہے کردم نے اپنے خیالات بیان کیے
لیکن کردم سائیں شاید تم نے نوٹ نہیں کیا کہ دادا سائیں دھڑکن کی پرواہ کرنے لگے ہیں ہوسکتا ہے دادا سائیں چچا سائیں کو معاف کردیں مقدم شاہ نے کچھ سوچتے ہوئے کہا اگر تمہیں ایسا لگتا ہے کہ دھڑکن کی ان بچکانہ حرکتوں سے دادا سائیں چچا سائیں کو معاف کردیں گے تو تمہاری سوچ غلط ہے ہاں مجھے لگتا ہے کہ دادا سائیں دھڑکن کو پسند کرنے لگے ہیں ورنہ اتنی باتیں تو وہ کسی کی برداشت نہیں کرتے کردم نے سوچتے ہوئے کہا
بہت کیوٹ ہے ویسے مقدم شاہ نے مسکرا کر کہا
کیوٹ کا تو پتا نہیں باتیں بہت کرتی ہے کردم شاہ کی بات پر مقدم شاہ مسکراہٹ گہری ہوگئی
•••••••••••••••
دادا سائیں میں اندر آجاؤں وہ دروازے سے آدھی اندر جانکتی اجازت مانگ رہی تھی ان کے چہرے پر سکون ساآیا
آجاؤ انہوں نے اجازت دی
اس کے ہاتھ میں کچھ تھا جو وہ چھپانے کی کوشش کر رہی تھی
دادوسائیں میرے ساتھ لڈو کھیلیں نا پلیز حوری دیدہ کو اس ہٹلر نے میرا مطلب ہے کردم لالہ نے کالج بھیج دیا ہے
تاشی دیدہ کو کھیلنا نہیں آتا اور سویرا دیدہ سے بات کرنے سے بابا نے منع کیا ہے اور وہ خود وہ ڈیرے پر چلے گئے ہیں مقدم ملالہ کے ساتھ اور میں بور ہو رہی ہوں وہ معصومیت سے منہ بناتی سب گھر والوں کا بیزی شیڈیول بتا رہی تھی
ہم بھی بیزی ہیں اور ویسے بھی ہم یہ سب کچھ نہیں کھیلتے وہ رعب دار لہجے میں بولے
آپ تو اتنا کام کرتے ہیں چھوڑیں زرا ریلیکس بھی کیا کریں
اور ریلیکس ہونے کا بیسٹ آئیڈیا تو لڈو کھیلنا ہے آپ ٹرائی تو کریں بہت مزہ آئے گا وہ انہیں مناتے ہوئے ساتھ والی چیئر پر بیٹھ گئی
ہم نے کہا تھا نہ ہم نہیں کھیلتے اس بار وہ ذرا سخت لہجے میں بولے
ارے یہ کیا بات ہوئی سیدھے سے بول دیں آپ مجھ سے ہار مان رہے ہیں
دھڑکن نے اٹھ کر باہر کا راستہ لینا چاہا
کیا مطلب ہے تمہارا تمیہں لگتا ہے ہم اس بچوں والے کھیل میں جتم سے جیت نہیں سکتے دادا سائیں نے حیرانگی سے اس ننھی سی لڑکی کی جرت دیکھی
جی ہاں آپ مجھے ہرا نہیں سکتے اسی لئے بہانے بنا رہے ہیں ٹھیک ہے میں جارہی ہوں باہر وہ نخرے دکھاتی اٹھ کر باہر جانے لگی
ایک منٹ ادھر اور یہ گیم یہاں لاو اور شروع کرو
وہ روعب دار لہجے میں کہتے سیدھے ہو کر بیٹھے
آپ میرے ساتھ کھیلیں گے وہ خوشی سے بولی
ہاں ہم تمہارے ساتھ کھیلیں گے اور تمہیں ہارا کر دکھائیں گے وہ ان کے اشارے پر فورا بیٹھ گئی جب کہ اس کے چہرے کی خوشی دیکھ کر نہ جانے کیوں انہیں سکون مل رہا تھا اس کی شرارت تو وہ شروع سے ہی سمجھتے تھے لیکن اسے خوش دیکھ کر وہ بھی خوش تھے اس کی پیاری پیاری باتیں انہیں بہت اچھی لگنے لگی تھی جب بھی یہ بچی ان کے سامنے آتی وہ اپنے بیٹے کا دھوکا بھول جاتے
سویرا سے تو وہ اتنے دن سے ٹھیک سے ملے تک نہیں تھے لیکن دھڑکن ہر وقت ان کے آگے پیچھے گھومتی رہتی
••••••••••••••
بابا سائیں کیا میں اندر آ سکتا ہوں احمد شاہ نے دروازے پر رک کر اجازت مانگی ابھی تھوڑی دیر پہلے دھڑکن ان کے قریب سے اٹھ کر گئی تھی ابھی وہ اس کی شرارتیں یاد کر کے مسکرا رہے تھے کہ احمد شاہ نے انہیں ڈسٹرب کر دیا آجاہیں وہ سرد مہری سے بولے
احمد شاہ اندر داخل ہوئے بابا سائیں مجھے آپ سے بہت ضروری بات کرنی ہے وہ ان کے قریب رک کر کہنے لگے باباسائیں نے ان کی طرف نہیں دیکھا
میں یہاں سویرہ اور مقدم شاہ کی شادی کے سلسلے میں آیا تھا میں جانتا ہوں آپ مجھ سے خفا ہیں اور آپ کی ناراضگی جائز ہے لیکن میں حالم لالا اور بھابھی کو دیا ہوا وعدہ پورا کرنا چاہتا ہوں
اگر آپ کی اجازت ہو تو شادی کی بات آگے برائے وہ ٹھہرٹھہر کر بول رہے تھے جبکہ شاہ سائیں انہیں بتانا چاہتے تھے کہ مقدم شاہ سویرا سے شادی کرنے سے انکار کر چکا ہے
وہ توحوریہ سے شادی کرنا چاہتا ہے اور اپنے پوتے کی ضد سے واقف تھے لیکن اپنے محروم بیٹے کا وعدہ بھی پورا کرنا چاہتے تھے
ہم اس بارے میں گھر کے سب لوگوں کے سامنے بات کریں گے شاہ سائیں نے بات ختم کرنے والے انداز میں کہا
تو احمد شاہ بنا کچھ بولے کمرے سے باہر نکل گئے