Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah Readelle50340 Bheegi Palkon Par Naam Tumhara (Episode 75)
No Download Link
Rate this Novel
Bheegi Palkon Par Naam Tumhara (Episode 75)
Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah
سب کے ساتھ ساتھ اسے بھی حوریہ کی بہت ٹینشن ہو رہی تھی نہ جانے وہ کہاں چلی گئی تھی ابھی وہ یہی سب کچھ سوچ رہی تھی جب دروازہ بجا
وہ ابھی تو دروازہ بند کر کے آئی تھی جیند تو نہیں تھا وہ تو جا چکا تھا پھر کون ہو سکتا ہے وہ کنفیوز سی دروازے کی طرف بھری
اس نے جیسے ہی دروازہ کھولا دروازے پر کھڑے شخص کو دیکھ کر حیران رہ گئی
6 فٹ لمبا قد کر بھوری آنکھیں کسرتی جسامت گنی مونچھیں کاندھے پہ کالی چادر ڈالی ہوئی ڈیشنگ پرسنیلیٹی وہ خوبصورتی کا منہ بولتا ثبوت تھا
تائشہ اسے دیکھ کر کھل اٹھی
حیدر بھائی آپ پاکستان کب آئے وہ بنا سلام دعا کے فورا اس کے سینے سے جالگی
جبکہ اس شخص نے مسکراتے ہوئے اسے اپنے سینے سے لگاتے محبت سے اس کا ماتھا چوما
سوچا میری گڑیا نے تو مجھے یاد نہیں کیا کوئی بات نہیں میں خود ہی آ جاتا ہوں تمہاری شادی ہو گئی تاشی مجھے کسی نے بتایا بھی نہیں تمہاری منگنی تو کردم سائیں سے ہوئی تھی نہ
تم یہاں اس چھوٹے سے مکان میں کیا کر رہی ہو ۔وہ حیرت سے پوچھتے ہوئے اسے دیکھ رہا تھا جب تائشہ نے مسکراتے ہوئے اسےاندر کھینچا
کیا بھائی دروازے پر کھڑے ہو کر سب کچھ پوچھیں گے کیا بہن کے گھر نہیں آئیں گے ۔
اماں سائیں سے ملے تائشہ مسکراتے ہوئے اس کا بازو تھامیں اسے اندر لے آتے ہوئے پوچھنے لگی
تائشہ میں نے تمہیں کتنی بار کہا ہے اس عورت کا نام مت لیا کرو میرے سامنے اس گھر میں میرا تعلق صرف میری بہن سے ہے پاکستان آتے ہی سب سے پہلی خواہش تم سے ملنے کی جاگی
تم سوچ بھی نہیں سکتی میں نے تمہیں کتنا مس کیا اور اب تم مجھے سب کچھ بتاؤ کیا ہے تم یہاں کیا کر رہی ہو وہ اس کے ساتھ بیٹھک میں جاتا کرسی پر بیٹھتے ہوئے بولا
میں اور جنید ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے اور جنید کی حیثیت اتنی زیادہ نہیں ہے ۔کہ وہ مجھے کسی بڑی حویلی میں رکھ سکے لیکن میں اس کے ساتھ اس کے چھوٹے سے گھر میں بہت خوش اور مطمئن ہوں تائشہ نے یقین دلاتے ہوئے کہا۔
کیا تم سچ میں اسے پسند کرتی تھی یا یہ بھی اماں سائیں نے اپنے مطلب کے لئے کچھ کیا ہے
حیدر کو یقین نہ تھا اسی لئے پوچھنے لگا
نہیں بھائی یہ میں نے اپنے لئے کیا ہے آج تک میں نے اماں سائیں کی ساری باتیں مانی ہیں تو کیا اب میں ایک حسین پرسکون زندگی نہیں گزار سکتی جنید ایک بہترین انسان ہے اور اس کے ساتھ بہت خوش ہوں شاید میں کردم سائیں کے ساتھ اتنی خوش کبھی نہیں رہ پاتی ۔
تائشہ نے یقین دلایا تو وہ بھی پرسکون سے انداز میں مسکرا دیا میں تمہارے لئے کچھ تحفےلایا ہوں
تم چیک کر لو کہ میں تمہاری لسٹ کی ساری چیزیں لے آیا ہوں یا نہیں اگر کچھ چھوٹ گیا تو پھر سے لے آؤں گا
باقی جو مرضی چھوٹ جائے میک اپ کی کوئی چیز نہیں چھوٹنی چاہیے وہ ضدی انداز میں بولی
بالکل میری جان میں تمہارے ساری چیزیں لے آیا ہوں لیکن پھر بھی ایک آخری نظر دیکھ لو وہ اپنے فون پر ملازم کو میسج کرتے ہوئے بولا تو ملازم اگلے ہی لمحے گاڑی میں رکھی ہوئی اس کی ساری چیزیں اٹھا کر اندر لے آیا ۔
اور پھر تائشہ نے بنا کسی ہچکچاہٹ کے اپنی ساری چیزیں چیک کی
ایسے ہی تو نہیں کہتی میرے بھائی ورلڈ کا سب سے بیسٹ بھائی ہیں آپ کبھی کچھ نہیں بھولتے تائشہ چہکتے ہوئے انداز میں کہا جب کہ اس کے گھر کے باہر گاڑی کھڑی دیکھ کر محلے والے جنید کو فون کر چکے تھے ۔
اس کی وجہ سے جنید فورا ہی واپس آگیا آخر کون ہو سکتا ہے شاید ملک اگر ملک ہوا تو آج وہ اس کی اوقات ضرور یاد دلائے گا ۔
لیکن سامنے اس نوجوان کو دیکھ کر ایک پل کے لئے پریشان ہو گیا آخر وہ کون ہو سکتا ہے لیکن جب اسے قریب سے دیکھا تو آٹھ سال پہلے والی ملاقات یاد آئی ہے تو رضوانہ پھوپو سائیں کا بڑا بیٹا تھا
جو ان کے ساتھ نہیں بلکہ اپنے دادا اور دادی کے ساتھ رہتا تھا ۔اس کے دادا اور دادی تائشہ کو بھی وہ اپنے پاس رکھنا چاہتے تھے اپنے جوان بیٹے کی موت پر نڈال انہوں نے رضوانہ کی بہت منتیں کیں کہ وہ گھر واپس آ جائے ۔لیکن وہ نہ مانی یہاں تک کہ اپنے بچوں کو بھی لے آئیں لیکن
حیدر اس وقت نو سال کا تھا اپنے دادا اور دادی کو تڑپتے ہوئے نہ دیکھ سکا اور اپنے دادا دادی کے پاس واپس چلا گیا وہ لوگ تائشہ کو بھی چاہتے تھے لیکن تائشہ کو اس وقت ایک ماں کی ضرورت تھی سچ تو یہ تھا کہ رضوانہ جیسی ماں کی ضرورت ان دونوں کو نہیں تھی ّّ
تائشہ کو اتنا خوش دیکھ کر جنید کو بہت خوشی ہوئی تھی ۔
جب کہ جنید کو اندر آتا دیکھ کر وہ اپنی کرسی سے کھڑا ہو کر اسے اپنے گلے لگانے لگا
امریکا میں پڑھا لکھا کروڑوں میں کھیلتا شخص مغرور نامی چیز سے بے خبر تھا ۔
کیسے ہیں آپ بھائی جان اس کے لہجے میں احترام تھا جبکہ جنید عمر میں اس سے چھوٹا تھا لیکن شاید وہ جانتا تھا کہ بہن کے شوہر کو عزت دینا ہر بھائی کا فرض ہے ۔
میں بالکل ٹھیک ہوں آپ سنائیں کیسے ہیں حیدر سائیں بہت خوشی ہوئی آپ کو اتنے سالوں کے بعد دیکھ کر
بہت شکریہ جنید بھائی جان اب میں چلتا ہوں بہت دن ہو گئے پاکستان آئے ہوئے ابھی تک دادا سائیں اور دادی سائیں سے نہیں ملا پہلے میں ان سے مل لوں پھر میں جلدی ہی دوبارہ چکر لگاؤں گا
ارے نہیں حیدر بھائی ابھی تو آپ نے کچھ کھایا پیا نہیں بلکہ میں کچھ بناتی ہوں وہ چیزیں دیکھنے میں اتنی مصروف ہوگئی کہ حیدر سے کچھ پوچھ بھی نہ پائی ۔۔ ۔ حیدر دنیا کا واحد شخص ہے جس کے سامنے تائشہ خوب نخرے کرتی تھی
گڑیا میں پہلی بار تمہارے گھر آیا ہوں آخری بار نہیں اب تو کوئی پابندی بھی نہیں ہے جب میرا دل چاہے گا میں اپنی گڑیا سے ملنے آؤں گا اب مجھے اس عورت کی شکل دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے وہ جنید کے سامنے بھی اپنی نفرت بیان کرنے کے لیے پیچھے نہ ہٹا ۔
ہاں بالکل آپ جب چاہیں یہاں آ سکتے ہیں آخر آپ کی بہن کا گھر ہے جنید نے خوش دلی سے مسکرا کر کہا
تو ٹھیک ہے پھر ملاقات ہوگی وہ جیند سے بغل گیر ہوتے ہوئے تائشہ کو اپنے سینے سے لگا گیا ۔
جب کہ اس کے جانے کے بعد ایک بار پھر سے وہ اپنی ساری چیزیں دیکھنے میں مصروف ہو گئی جنید کل ہی اس کے لئے نئے کپڑے لایا تھا گلابی سوٹ میں وہ کھلتا گلاب ہی لگ رہی تھی کھلی کھلی سی خوش سی
اس نے ایک نظر ان سب چیزوں کی طرف دیکھا وہ شخص جانتا تھا کہ اپنی بہن کو وہ کون سے تحفے دے کر خوش کر سکتا ہے جس سے بہن بھی خوش ہو جائے اور بہنوئی بھی شرمندہ نہ ہو
حیدر میں دکھاوا نہ تھا کبھی کسی پر اپنی دولت کا روعب نہیں جماتا تھا لیکن اس کے باوجود بھی اس کی ماں کو اپنے باپ کی دولت چاہیے تھی ۔اور اس دولت کے لیے وہ اپنا بیٹا تک اپنے سسرال چھوڑ آئیں اور یہی وجہ تھی کہ وہ اپنی ماں سے بے انتہا نفرت کرتا تھا
دیکھو میں نے کہانہ کہ وہ واپس نہیں آنی چاہیے اسے کہیں غائب کر دو کسی ایسی جگہ کہ وہ کبھی واپس نہ آئے
بکواس بند کرو تمہاری یہ ساری باتیں سننے کے لیے فون نہیں کیا ہے
اگر حوریہ واپس آئی تو مقدم سائیں مجھے چھوڑدیں گے لیکن اگر انہیں تمہارے بارے میں پتہ چل گیا تو تمہارے ٹکٹرے ٹکڑے کر دیں گے
اور اب تو وہ حوریہ کی واپسی کی امید بھی چھوڑ تے جا رہے ہیں اب کچھ ہی دن میں انہیں میں اپنی طرف راغب کر لوں گی
اور پھر حوریہ کے ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا اور تم حوریہ کو مار کر اس کا قصہ ہی ختم کر دینا
کہ تو رہی ہوں کہ مجھے اس بارے میں کچھ نہیں پتا مجھے بس یہ پتا ہے چاہے جو بھی ہو جائے حوریہ واپس حویلی نہیں آنی چاہی
ہاں تو تم ڈھونڈو اسے مجھ پر نظر رکھی جاتی ہےپل پل کی خبر ہے گھر والوں کو میں گھر سے نکل نہیں نکل سکتی اور میری طبیعت بہت خراب ہے
مجھے تو سمجھ نہیں آتا کہ اس رات حوریہ بچ کیسے گئی
ولیمے والی رات اس کا قتل کرانے کی تیاری کر چکی تھی میں
وہ خاموشی سے ہمارے زندگی سے نکل جاتی اور کبھی واپس نہیں آتی
مجھے تو سمجھ نہیں آ رہا کہ حوریہ کی مقدم سائیں کی وجہ سے چلی گئی ہےیا اسے پتہ چل گیا ہے کہ ہم لوگ اس کی جان کے دشمن بنے ہوئے ہیں
مجھے یہ ساری باتیں نہیں پتہ تم بس وہ کرو میں اس کی لاش دیکھنا چاہتی ہوں میں مقدم کوحاصل کرنے کے لئے کوئی بھی حد پار کر جاؤں گی
اگر تم اسے نہیں مار سکتے تو مجھے بتاؤ میں خود اسے مار دوں گی لیکن اس کا پتا کرو حوریہ کہاں جا سکتی ہے
وہ بے وقوف لڑکی گھر سے اکیلی باہر نہیں جاتی تھی اور آدھی رات کو گھر سے نہیں نکل کر غائب ہو گئی آخر کہاں جا سکتی ہے پتہ کراو
سنو میرے کمرے میں کوئی آرہا ہے فون رکھ رہی ہوں تم جلد سے جلد اس کے بارے میں پتہ کرو اور مجھے بتاؤ میں حوریہ کی لاش دیکھنا چاہتی ہوں اسے سانس لیتے واپس مقدم شاہ کی زندگی میں نہیں دیکھ سکوں گی وہ فون رکھتے ہوئے وہ دروازے سے باہر آکر دیکھنے لگی لیکن یہاں تو دور دور تک کوئی نہ تھا
کہیں کسی نے میری باتیں سن تو نہیں لی سویرہ پریشانی سے باہر آ کر دیکھنے لگی لیکن پھر سامنے گلی سے ہی نازیہ کو آتے دیکھا ۔
بس کر دیں بڑی امی سائیں اور کتنا روئیں گی
وہ حوریہ کو بہت یاد کرتا ہے وہ بکھررہا ہے تڑپ رہا ہے اور میں اپنے بیٹے کو اس طرح سے تڑپتے ہوئے نہیں دیکھ سکتی
ایسا کیا تھا اس لڑکی میں کیا حالت ہو گئی ہے میرے معصوم بچے کی اور تم
تمہیں تو ہوش ہی نہیں وہ شوہر ہے تمہارا اسے حوریہ کو بھولنے کی کوشش کرو اسے سمجھنے کی کوشش کرو لیکن تم تو اس کا کمرہ چھوڑ کے یہاں آ چکی ہو
میں چھوڑ کے نہیں آئی اماں سائیں آپ کے بیٹے نے دھکے دے کر نکالا ہے وہاں سے سویرا چڑ کر بولی اسے وہ دن یاد تھا جب حوریہ کو گئے ہوئے دوسرا دن ہوا تھا مقدم شاہ نے ہاتھ سے پکڑ کر اپنے کمرے سے باہر نکالا تھا اور صاف لفظوں میں کہا تھا کہ جس دن حوریہ مل جائے گی وہ اس کے سامنے اسے طلاق دے گا
تو کچھ تو کرو کہیں تڑپتے تڑپتے میرے بیٹے کو کچھ ہو نہ جائے اور چوتھا دن ہے بخار سے تڑپ رہا ہے جاؤ اس کے پاس سمجھاؤ اسے اس کی زندگی میں آگے بڑھنا چاہیے
ٹھیک ہے اماں سائیں میں کوشش کروں گی ان کے آنسو صاف کرتے ہوئے وہ اکتا کر بولی
بیٹا اسے منہ لگاتا نہیں تھا اورماں کے آنسو ختم نہیں ہو رہے تھے سویرا کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کرے تو کیا کریں
مقدم سائیں کیا حال بنایا ہوا ہے آپ نے وہ شراب کی بوتل ہاتھ میں اٹھائے گھر میں داخل ہوا اس وقت رات کا ایک بجا رہا تھا ۔
مقدم کی یہ حالت دیکھ کر داداسائیں ایک بار پھر سے تڑپ اٹھیں ایک بخار کی شدت اوپر سے یہ حرام سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ اسے کیسے روکے
بیٹا تم کیوں کر رہے ہو یہ سب کچھ اپنی حالت دیکھو مل جائے گی حوریہ دادا سائیں ہارے ہوئے لہجے میں کہا
کون حوریہ کسی کی حوریہ میں کسی حوریہ کوئی نہیں جانتا
ہاں تقریبا ایک مہینہ پہلے تک میری زندگی میں ایک حوریہ تھی بلکہ میری زندگی حوریہ تھی
لیکن اب اور نہیں اب میرا اس حوریہ سے کوئی تعلق نہیں جو لڑکی مجھ پر اعتبار نہیں کر سکتی
اس سے میرا کوئی تعلق نہیں حوریہ اب حویلی واپس آئے یا نہ آئے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا وہ اب آپ کی نواسی بن کے اس گھر میں آ سکتی ہے لیکن میری بیوی نہیں آج سے میرا اس سے کوئی تعلق نہیں
بہت بھٹک لیا اس کی یاد میں در در اب میں اپنی زندگی میں آگے بڑھنا چاہتا ہوں ۔اور پلیز اب یہ جوحوریہ کی گردان بند کریں اس گھر میں مقدم شاہ کی بیوی صرف سویرا ہے اور صرف وہی رہے گی
اور اب آپ لوگ بھی میرے سامنے باتبار اس لڑکی کا نام نہیں لیں گے بھول جانا چاہتا ہوں میں اسے
نکال کے پھینک آیا ہوں سے اپنی زندگی سے باہر وہ شراب کی بوتل زمین پر پھینکتے ہوئے اس کے ٹکڑروں کو پیروں کے نیچے روندتے سیڑھیاں چڑھنے لگا ۔
جب نظر پہلی سیڑھی پر کھڑی اماں سائیں پر پڑی ان سے اپنے بیٹے کی حالت دیکھی نہیں جا رہی تھی
سویرا سے کہیں کہ اپنے کمرے میں آ جائے آج سے وہیں رہے گی جہاں اس کے سر کا سائیں ہوگا
وہ ایک پل کے قریب دیکھتا ہوا آگے بڑھ گیا
جب کہ اس کی باتیں سن کر اماں سائیں خوشی سے بے حال فورا ہی سویرہ کی کمرے کی طرف آئیں
دروازے پر ہلکی سی دستک کے ساتھ وہ اندر داخل ہوئی
یہاں آؤ سویرا وہ بیڈ پر بیٹھا ہوا تھا اسے صوفے کی طرف جاتا دیکھ کر اس نے اسے اپنے قریب بلایا
سویرا کو جیسے اپنے کانوں پر یقین نہ آیا مقدم اسے اپنے پاس بلا رہا تھا وہ خوشی سے بے حال اپنے قدم اس کی طرف اٹھانے لگی
اور اس کے قریب آتے ہی مقدم نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنی طرف کھینچا
تمہاری آنکھیں وہ اس کی پلکوں کو نرمی سے چھوتے ہوئے مدہوش انداز میں بولا
کیا ہوا میری آنکھوں کو مقدم سائیں وہ اس کی سینے پہ ہاتھ رکھتی مزید اس کی طرف جھکی
حقیقت کا آئینہ ہیں سویرا خاموش اور سچی اس کی بات نے سویرہ کو کھلکھلا کر ہنسنے پر مجبور کر دیا
اور اپنے بالوں کو مقدم کے چہرے پر لے آئی
تمہارے بال اس کے بالوں کو اپنے چہرے سے ہٹاتا اپنی مٹھی میں بھرتا ہوا اس کی خوشبو اپنے سینے کو تارنے لگا۔
اور آپ مقدم شاہ آپ سراپاِعشق ہیں میں نے کبھی آپ سے زیادہ حسین مرد نہیں دیکھا اور آپ کو دیکھتے ہی مجھے آپ سے محبت ہو گئی
یقین کریں میرے ہر انداز سے میں آپ کو حوریہ سے بہتر لگوں گی۔
لیکن معاف کیجئے آج کی رات میں آپ کی راحت کا سامان نہیں کر سکتی کیوںکہ اس وقت آپ نشے میں ہیں اور میں چاہتی ہوں کہ جب آپ میرے قریب آئیں تو صرف آپ کو میرے حسین کا نشہ بہکائے اور کوئی نشہ نہیں ۔
وہ ایک ادا سے اس کے اوپر سے اٹھی اور بیڈ پر لیٹ گئی ۔
اس نے مقدم شاہ کو پا لیا۔ وہ سرشاری سے اس کے سینے پے سر رکھنے لگی جب مقدم نے نیند میں کروٹ بدلی مسکراہٹ اس کے لبوں سے جدا نہیں ہو رہی تھی
