Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah Readelle50340 Bheegi Palkon Par Naam Tumhara (Episode 55)
No Download Link
Rate this Novel
Bheegi Palkon Par Naam Tumhara (Episode 55)
Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah
ڈاکٹر میں کہہ رہا ہوں کہ میں بالکل ٹھیک ہوں اور اب میں گھر جا سکتا ہوں ڈاکٹر نے اسے گھر جانے سے منع کیا تھا جبکہ وہ خود ہی ڈاکٹر کو کہہ رہا تھا کہ وہ بالکل ٹھیک ہے اوراب اسے ڈاکٹر کی بےجاضد پر غصہ آرہا تھا
وہ خود اپنے آپ کو ٹھیک محسوس کر رہا تھا اور ڈاکٹر بیکار میں اسے زبردستی یہاں رکھ رہا تھا ۔
دیکھئے جناب ڈاکٹر ہم ہیں آپ نہیں آپ کی حالت ابھی ٹھیک نہیں ہے اس کے غصے سے گھبرا کر ڈاکٹر نے اسے سمجھانے کی کوشش کی ۔
اور مریض میں ہوں آپ نہیں اگر مجھے میں بالکل ٹھیک لگ رہا ہوں تو آپ مجھے یہاں کیوں رکھنا چاہتے ہیں ۔
میں اب بالکل ٹھیک ہوں اور گھر جا سکتا ہوں مجھے اب یہاں رہنے کی ضرورت نہیں اور ویسے بھی ان دوائیوں کی سمیل سےمیں اور زیادہ بیمار ہو جاؤں گا ۔
اس درد سے مجھے نجات ملے نہ ملے لیکن آپ کے اس ہسپتال سے دوچار بیماریاں تو لے کر ہی جاؤں گا ۔
دیکھیں جناب فی الحال ہم آپ کو جانے کی اجازت نہیں دے سکتے فلحال آپ کے زخم تازے ہیں ۔
اور جتنے ٹھیک سے یہاں پر آپ کا علاج ہو سکتا ہے ویسا گھر پےممکن نہیں ہے ۔
یہاں آپ کا بہترین علاج ہورہا ہے آپ کا یہی رکنا ٹھیک رہے گا ڈاکٹر نے سمجھانے کی کوشش کی
تمہیں بڑا بننے کی ضرورت نہیں ہے ۔اپنابھلا بُرا بہت اچھے سے سمجھ سکتا ہوں ۔اب نکلو یہاں سے جا کر میرے ڈسچارج پیپرز بناؤ اگر میں یہاں رکھنا ہی نہیں چاہتا تو کسی کے باپ میں اتنی ہمت نہیں ہے کہ مجھے زبردستی یہاں روک سکے کردم کا موڈ خراب ہوچکا تھا جب مقدم نےڈاکٹر کو اشارہ کیا ۔
ٹھیک ہے سر اگر آپ جانا ہی چاہتے ہیں تو بہتر ہوگا کہ آپ اپنے لیے ایک نرس رکھ لیں جو ہر وقت آپ کے ساتھ رہ کر آپ کا خیال رکھے ۔ڈاکٹر نے اس کے غصے سے گھبراکر آپشن دیا ۔
میں شادی شدہ آدمی ہوں اور گھرمیں میری بیوی ہے میرا خیال رکھنے کے لیے تم اپنی نرس اپنے پاس رکھو کردم نے بگڑے موڈ کے ساتھ کہا ۔
جیسا آپ بہتر سمجھیں ۔ڈاکٹر کہتا ہوا فورا باہر نکل گیا جبکہ مقدم اسے کب سے اشارہ کر رہا تھا بھائی نکل یہاں سے ورنہ تیری جان مشکل میں پڑ جائے گی
اےمیڈم کچن میں کس خوشی میں قدم رکھا ہے فوراً سے نکلو یہاں سے تمہاری منحوسیت میں اپنے بھتیجے پر نہیں پڑنے دوں گی ۔
یہ سارا کھانا ہم کردم کے لیے بنا رہے ہیں اسی لیے بہتر ہو گا کہ تم اپنا سایہ بھی ان چیزوں میں نہ پڑنے دو ۔
منہوس کہیں کہ نکل یہاں سے تائشہ ایسا کر کریلے گوشت بنا لے کر دم کو بہت پسند ہے ۔
پھوپو سائیں نے پلٹتے ہوئے تائشہ سے کہا جو ہنستے ہوئے اپنی ماں کی باتیں سن کر کردم کے لیے کھانا بنانے میں مصروف ہو چکی تھی ۔
کچن پر آج پھوپو سائیں کا قبضہ تھا اور نازیہ چاچی بھی ان کا ساتھ دے رہی تھی جبکہ دھڑکن کو وہ کیا کہتی ہیں کیا نہیں اس پے انہوں نے بالکل دھیان نہ دیا تھا
ہاں لیکن دھڑکن کے آنسو انہیں تکلیف پہنچا گئے تھے ۔
دھڑکن بیٹا تم جاؤ اپنے کمرے میں انہوں نے سے دیکھتے ہوئے کہا ۔
وہ دو دن پہلے کردم سے ملنے ہسپتال گئی تھی یہ بات مقدم اور جنید کے علاوہ اور کوئی نہیں جانتا تھا اور نہ ہی وہ کسی کو بتانے کا ارادہ رکھتی تھی دادا سائیں کا رویہ بھی اس سے کافی روکھا تھا وہ جب بھی ان کے کمرے میں جاتی ہوں یہ کہہ کر اسے واپس بھیج دیتے تھے کہ وہ مصروف ہیں ۔
وہ ان کی فلنگ سمجھ سکتی تھی کتنی محبت سے انہوں نے دھڑکن کی شادی کردم سے کی تھی اور دھڑکن کو اپنے رشتے کی بالکل پروا ہی نہ تھی ایسا دادا سائیں کو محسوس ہو رہا تھا
بابا سائیں دوپہر کا زیادہ وقت ہسپتال میں گزارتے تھے ۔
حوریہ تو ہر وقت کردم کیلئے دعائیں مانگتی ۔اور اس کا خیال رکھنے کی بھی بہت کوشش کرتی ۔
جبکہ سویرا کا زیادہ وقت اس کے ساتھ گزرتا تھا سویرا اسے سمجھا سمجھا کر تھک چکی تھی کہ اسے کردم سے ملنے جانا چاہیے تائشہ کس طرح سے ان دونوں کی زندگی میں دخل اندازی کر رہی ہے دھڑکن کو عقل سے کام لینا چاہیے ۔
اس نے تو ہسپتال میں تائشہ کو کردم سے یہ کہتے ہوئے سنا تھا کہ دھڑکن کو اس کی بالکل پروا ہی نہیں ہے اور وہ کوئی بیمار نہیں ہے بلکہ بالکل ٹھیک ٹھاک ہے اور جان بوجھ کر اس سے ملنے نہیں آئی ۔
یہ بات اس نے دھڑکن کو آکر بتائی تھی وہ تو دھڑکن کو یہ بھی کہہ رہی تھی کہ پھوپھو سائیں کی بے فضول باتیں اسے گھر میں سب کو بتا دینی چاہیے ۔لیکن دھڑکن نے ایسانہیں یہ بات اس نے کسی سے شیئر نہ کی تھی سوائے سویرہ کے ۔
شاید اسی لیے پھوپو سائیں ابھی بھی سے باتیں سنانے سے باز نہ آئیں تھیں۔
دھڑکن کمرے میں آ کر بہت روئی اسکے آنسو تھے جو روکنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے
پھوپھو کی باتیں اسے بہت تکلیف پہنچا رہی تھی
وہ اس کے ساتھ ایسا کیوں کر رہی تھی شاید اس نے ان کی بیٹی کی جگہ لے لی تھی لیکن یہ اس نے اپنی مرضی سے تو نہیں کیا تھا یہ تو گھر والوں کا فیصلہ تھا
اور اب تو دھڑکن کو خود ہی لگنے لگا تھا کہ تائشہ کردم کے قابل ہی نہیں ہے ۔تائشہ جیسی مطلبی لڑکی کردم جیسے انسان کو ڈیزرو ہی نہیں کرتی۔
اس کا دل چاہ رہا تھا کہ اس وقت کردم اس کے قریب ہو اور کوئی اس کے گلے سے لپٹ کر بہت روئے ۔
ابھی وہ بیٹھی پھوپھو سائیں کی باتیں یاد کرتے ہوئے رونے میں مصروف تھی جب سویرہ نے آکر اسے یہ بتایا کہ کردم آچکا ہے ۔
اور یہ بات سنتے ہی دھڑکن فوراً وہاں سے اٹھی اور بھاگتے ہوئے نیچے آئی ۔
کردم سب کے ساتھ کھڑا باری باری سب سے مل رہا تھا سبھی دروازے پر کھڑے سے ویلکم کر رہے تھے جب دھڑکن بھاگتے ہوئے اس کے قریب آئی اور بنا کسی کی پرواہ کیے اس کے سینے سے آلگی ۔
کردم کا ارادہ اسے اگنور کرنے کا تھا وہ اتنی بری حالت میں تھا اور دھڑکن اس سے ملنے تک نہ آئی اس بات نے کردم کو بہت تکلیف پہنچائی تھی
لیکن اس طرح اسے سب کے سامنے دھڑکن کا اس کے گلے لگ کر بری طرح سے رونا کردم کے ساتھ ساتھ باقی سب کو بھی پریشان کر چکا تھا ۔
یہ وہ وقت تھا جب کردم کو ایسا محسوس ہوا کہ جیسے وہ کسی تکلیف سے نہیں گزرا ۔
اس وقت کردم بھول چکا تھا کہ وہ کتنے لوگوں کے درمیان کھڑا ہے اس نے دھڑکن کو بنا کسی کی پرواہ کرتے ہوئے اپنے سینے سے لگا لیا ۔
دھڑکن تم اس طرح سے کیوں رو رہی ہو میں ٹھیک ہوں کردم نے اس کا چہرہ اپنےہاتھوں میں بھرتے ہوئے اسے کہ آنسو صاف کیے ۔
دیکھو مجھے میں بالکل ٹھیک ہوں کیوں رو رہی ہو وہ اپنے ہاتھوں سے اس کے آنسو صاف کرنے لگا جبکہ یہ منظر دیکھ کر تائشہ کے جسم پرچنٹیاں رینگنے لگی ۔
وہ کس حد تک کردم کو اس کے خلاف کرکے آئی تھی اتنی باتیں بتا کے آئی تھی کہ دھڑکن بالکل ٹھیک ہونے کے باوجود اس سے ملنے نہیں گئی اس کی پرواہ نہیں کرتی لیکن اس کے باوجود بھی کردم اس سے اتنی محبت سے بات کر رہا تھا ۔
تائشہ کو تو لگا تھا کہ اس سب کے بعد ان دونوں کے درمیان بہت دوریاں جائے گی لیکن ایسا کچھ بھی نہ ہوا ۔
جبکہ دھڑکن سب کے بیچ کردم کے اس طرح سے اتنے قریب خود کو پا کر شرمندہ ہو گئی ۔
اور پھربنا کچھ بولے پیچھے ہٹ کر اپنے کمرے میں چلی گئی ۔
کردم ہم نے دھڑکن سے بہت کہا کہ تمہیں دیکھنے کے لیے ہسپتال آئے دادا سائیں نے دھڑکن کو واپس اندر جاتے دیکھ کر کہا ۔
اچھا کیا دھڑکن نہیں آئی داداسائیں میں نہیں چاہتا تھا کہ وہ میری وہ حالت دیکھ کر پریشان ہو کردم نے انہیں مطمئن کرتے ہوئے کہا تو وہ ذرا سا مسکرائیں
وہ اس کا دل دھڑکن کی طرف سے صاف کرنا چاہتے تھے ۔
جب کہ سب کے سامنے دھڑکن کی اس حرکت نےکردم کو اندر تک نرم کر دیا تھا ۔وہ تو سوچ رہا تھا کہ سے بالکل بات ہی نہیں کرے گا اس سے سختی سے پیش آئے گا اس کے سارے کے سارے ارادے دھرے کے دھرے رہ گئے ۔
یہ لڑکی واقع ہی اس کی سمجھ سے باہر تھی وہ ایک ہی لمحے میں اسے بے حد غصہ چڑھا دیتی تھی تو دوسرے ہی لمحے میں اسے خود سے محبت کرنے پر مجبور کر دیتی تھی
