267.3K
86

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bheegi Palkon Par Naam Tumhara (Episode 66)

Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah

گاؤں والوں کو بھیجنے کے بعد کردم واپس اپنے کمرے میں آیا تھا کمرے میں دو بڑے بڑے بیگ پیک تھے

دھڑکن اتنے زیادہ سامان کی ضرورت نہیں ہے میں تھوڑا سا سامان لے کے جاؤں گا وہ بیگز کو دیکھتے ہوئے بولا

ارے یہ تو میرے بیگز ہیں آپ کا وہ ہے اسنے چھوٹے سے سوٹ کیس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔

اور تم کہاں جا رہی ہو کردم نے غصے سے پوچھا کہیں اس کے جانے کے بعد وہ واپس لنڈن جانے کی تیاریاں تو نہیں کر رہی تھی

میں آپ کے ساتھ گاؤں والے گھر میں دھڑکن نے مسکراتے ہوئے بتایا

نہیں دھڑکن تم میرے ساتھ نہیں آسکتی کردم کا لہجہ مدھم ہوگیا ۔

وہ لاڈوں میں پلی ہوئی لڑکی کہاں سختیاں برداشت کر سکتی تھی کردم اسے اپنے ساتھ لے جانے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا فی الحال تو اس نے آنے والے کل کے بارے میں کچھ سوچا بھی نہ تھا وہ دھڑکن کو کیسے ساتھ لے کر جاتا

اور میں آپ کے ساتھ کیوں نہیں آ سکتی دھڑکن نے دونوں ہاتھ کمر پر رکھتے ہوئے پوچھا ۔

کیونکہ دھڑکن کل سے تمہارا کالج اسٹارٹ ہو رہا ہے اور تم وہ جوائن کر رہی ہو کردم نے وجہ بتائی

بڑی بے تکی وجہ ہے آپ کی اسے میں قبول نہیں کر رہی ۔بلائیں کسی کو اور میرے بیگ باہر رکھوائیں۔

دھڑکن یہ اتنا آسان نہیں ہے گاؤں کے ماحول میں تم ارجسٹ نہیں کرسکو گی حویلی اور گاؤں میں بہت فرق ہے کردم نے سمجھانے کی کوشش کی ۔

آپ مجھے جس حال میں رکھیں گے کردم سائیں میں ارجسٹ کر لونگی میری شادی آپ کے ساتھ ہوئی ہے اس حویلی کے عیش و عشرت سے نہیں ۔اور اگر آپ نے مجھے ایک بار بھی پھر سے منع کیا نہ تو میں باباسائیں کے ساتھ ہمیشہ کے لئے لندن چلی جاؤں گی کیونکہ اگر میں اپنے شوہر کے ساتھ نہیں رہ سکتی تو میرا اس گھر میں رہنے کا بھی کوئی مطلب نہیں ہے ۔ایک بار پھر سے دھڑکن نے اسے یہ سوچنے پر مجبور کر دیا دھڑکن سمجھدار ہے یا بے وقوف وہ کبھی کبھار ایسی حرکتیں کرتی تھی کہ ایسا لگتا کہ اس سے زیادہ بے وقوف دنیا میں اور کوئی ہے ہی نہیں ۔

پر اگلے ہی لمحے وہ اتنی سمجھدار اور زمہ مداریوں کو سمجھنے والی بن جاتی کہ کردم اسے سوچ کر رہ جاتا وہ ایک سوال تھی بہت مشکل سوال ۔بہت الجھا ہوا سوال جسے کردم نے سلجھانا تھا

ہائے میں اپنا نیا گھر دیکھوں گی میں دادوسائیں سے مل کے آتی ہوں وہ کردم کو بولنے کا موقع دیے بغیر باہر چلی گئی

مقدم پچھلے دو گھنٹے سے احمد شاہ کے ہوش میں آنے کا انتظار کر رہا تھا کہ اب اسے سویرا کے بارے میں احمد شاہ کے علاوہ اور کوئی کچھ نہیں بتا سکتا تھا

اس کے دل سے بس ایک ہی دعا نکل رہی تھی سویرا جہاں بھی ہو محفوظ ہو ۔

اس نے ابھی تک گھر میں فون کرکے کسی کو یہ بات نہیں بتائی تھی اگر سویرہ کے لاپتہ ہونے کی خبر گاوں میں پھیل جاتی تو اس کی بہت بدنامی ہوتی

اور وہ اپنے خاندان کی عزت پررسک نہیں لے سکتا تھا ۔

دو گھنٹے کے بعد احمد شاہ کو ہوش آیا ان کی حالت بہت بگڑ چکی تھی ۔

مقدم کو اپنے قریب دیکھ کرانہوں نے فورا اسے سب کچھ بتایا ۔کہ کس طرح سے وہ لوگ حوریہ کو سمجھ کر سویرا کو لے گئے ۔

اتنی گری ہوئی حرکت کون کرسکتا ہے مقدم شاہ کی عزت پر ہاتھ ڈالنے کی ہمت تو کسی میں نہ تھی اس کا بڑے سے بڑا دشمن بھی اس سے اس بات پر پنگا نہیں لے سکتا تھا

مقدم کا دل یہ سوچ کر زور زور سے دھڑکنے لگا تھا کہ اگر سویرا کی جگہ وہاں حوریہ ہوتی تو شاید اب تک وہ اسے ڈھونڈتے ہوئے پاگل ہو چکا ہوتا ۔

مقدم سائیں میری بیٹی ۔۔۔مقدم سائیں میری بچی کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے گی ۔۔۔نہ جانے وہ لوگ اسے کس مقصد سے اٹھا کے لے کر گئے ہیں نہ جانے وہ لوگ اس کے ساتھ کیا کریں گے ۔احمدشاہ دہائیاں دیتے ہوئے بول رہے تھے جبکہ مقدم کے ذہن میں بس ملک کا نام گونج رہا تھا

لیکن وہ اپنی ہی بیٹی کو کیوں اٹھانے کی کوشش کرے گا ۔

وہ سوچتے ہوئے اٹھ کر باہر آگیا ۔

آپ کو کیا لگتا ہے مقدم سائیں یہ نیچ حرکت کون کر سکتا ہے جنید اس کے ساتھ بیٹھتے ہوئے بولا

مجھے تو ملک پر شک ہے جنید یہ کام۔ ملک نے کروایا ہوگا مقدم نے اپنا شک بیان کیا تو جنید کو آج صبح والی فون کال یاد آئی جب تائشہ گھبرائی ہوئی فون پر ملک سے بات کر رہی تھی

غصے سے اس کی ماتھے کی رگیں واضح ہونے لگی

تائشہ تم اتنا کیسے گر گئی جنید نے اپنے بالوں کو مٹھیوں میں بھیجتے ہوئے سوچا

یہ تم نے ٹھیک نہیں کیا تائشہ ہے اس بات کی سزا تمہیں ضرور ملے گی ۔

کردم کافون ابھی تک نہیں لگ رہا تھا جبکہ تائشہ اکیلی ہے گھر پر اور اسے کردم کو بھی خبر کرنی تھی کہہ کر جنید بھی گاؤں کے لئے نکل چکا تھا جبکہ ڈاکٹر نے احمد شاہ کو کچھ دیر مزید ہسپتال میں رہنے کے لئے کہا تھا

مقدم۔ہسپتال کے بینچ پر بیٹھا مسلسل سویرا کے بارے میں سوچ رہا تھا جب اسے موبائل پر ایک میسج رسیو ہوا جس کے ساتھ لوکیشن سینڈ کی گئی تھی

اگر اپنی کزن کی جان اور عزت کی حفاظت چاہتے ہو تو اکیلے اس لوکیشن پر پہنچو۔میسج پڑھتے ہی مقدم اٹھ کر کھڑا ہوگیا

نا تو وہ اس نمبر سے واقفیت رکھتا تھا اور نہ ہی اسے اندازہ تھا کہ آخر وہ لوگ کون ہو سکتے ہیں ۔لیکن ان میں سے آج کوئی ایک بھی زندہ نہیں بچے گا اس کی گرنٹی مقدم دے سکتا تھا ۔

احمد شاہ کو دوبارہ سے بےہوشی کا انجکشن لگا دیا گیا تھا کیونکہ اتنے زخموں کے بعد بھی وہ مسلسل سویرا کے فکر میں ہلکان ہورہے تھے

جس کی وجہ سے ان کا بی پی بہت زیادہ ہائی ہو چکا تھا ڈاکٹر نے انہیں ریکس کرنے کے لیے اور ٹینشن نہ لینے کے لیے انجکشن دے دیا اور اسی کا فائدہ اٹھا کر مقدم اس لوکیشن پر پہنچنے کے لئے اسپتال سے نکل گیا

وہ حویلی جانے سے پہلے اپنے گھر آیا تھا کیونکہ اسے پتہ لگانا تھا کہ آخر شاہ سائیں کے گھر کی عزت سویرا کہاں غائب ہے اور اسے پورا یقین تھا کہ تائشہ یہ بات جانتی ہے

کیونکہ مقدم کا شک ملک تھا اور ملک سے تائشہ آج صبح ہی فون پر بات کر رہی تھی۔

سارا دن فارغ بیٹھتے ہوئے تائشہ نے اس گھر کو شیشے کی طرح چمکا یا تھا جیسے جنید نے دیکھنا تک گوارا نہ کیا وہ سیدھا اس کے سر پر سوار تھا جو کچن میں اس کے لئے کچھ بنانے میں لگی تھی

سویرا کہاں ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟وہ اسے کھینچ کر سیدھا کرتے ہوئے پوچھنے لگا

مجھے کیا پتا حویلی میں ۔۔۔۔۔

چٹاخ ۔ایک زور دار تھپڑ نے تائشہ کو زمین بوس کر دیا

ایک لفظ بھی فالتو نہیں تائشہ بتاؤ مجھے سویرا کہاں ہے ۔۔۔۔۔؟۔وہ غصے سے دھاڑتے ہوئے بولا

مجھے کیسے پتہ ہوگا میں تو یہاں وہ سہمے ہوئے لہجے میں بولی جب ایک اور تھپڑ نے اس کا گال سرخ کر دیا ۔

تائشہ میں تم سے آخری بار پوچھ رہا ہوں بتاؤ سویرا کہاں ہے۔۔۔۔۔؟ اس کے بعد تم مجھ سے نرمی کی امید مت رکھنا ۔جنید پھر غصے سے آنکھیں دکھاتے ہوئے بولا

مجھے نہیں پتا ج۔۔تائشہ کے بات ابھی منہ میں ہی تھی جب وہ ایسے بالوں سے گھسیٹتے ہوئے باہر صحن میں لایا ۔

تم نرمی کے قابل ہی نہیں ہو ۔وہ غصے سے کہتے ہوئے پانی کے پائپ کی طرف جا رہا تھا اگلے ہی لمحے اس نے زمین دوز ٹیکی کے ساتھ لگے پانی کی موٹر سے پائپ کھینچا ۔

اور اسے اپنے ہاتھوں سے ڈبل کرتا ہوا اس کے قریب آیا

جنید مجھے سچ میں نہیں پتا وہ سہمی ہوئی آواز میں بولی ۔جب جنید نے بری طرح سے اس پائپ سے اس سے مارنا شروع کیا اور پھر بے دردی سے مارتا چلا گیا

تائشہ میں آخری بار پوچھ رہا ہوں مجھے بتاو وہ کہاں ہے شاہ سائیں ساری زندگی کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے گاؤں میں ان کا نام مٹی میں مل جائے گا ۔کردم سائیں کبھی سر اٹھا کر نہیں چل پائیں گے مقدم شاہ کا غرور ٹوٹ جائے گا تائشہ ۔ اسے بری طرح سے پیٹتے ہوئے جب وہ چیخ کر رونے لگی توجیند کو اس پر ترس آگیا اور پائپ اس سے دور پھینکے ہوئے اس کے قریب بیٹھ کر پوچھنے لگا ۔

جبکہ اس بار وہ زمین پر پڑی روتی رہی اور وہ بولتا رہا لیکن وہ منہ سے کچھ بھی نہ بولی ۔

آخر پوچھ پوچھ کر اٹھ کر دوبارہ باہر چلا گیا ۔

تائشہ میں اتنی بھی ہمت نہ بچی تھی کہ وہ زمین سے اٹھ پاتی ۔اس کی ماں اسے بدن کے ایسے حصے پر زخم دیتی تھی جوکسی کو نظر نہ آئے ۔

لیکن جنید نے اسے اس کے جسم کے ہر حصے پر زخم دیا تھا ۔اس کے ہونٹوں سے خون نکل رہا تھا جبکہ سارا جسم سوجن سے نیلا پڑ چکا تھا ۔

لیکن یہاں کیسے پروا تھی وہ تو بچپن سے ہی کسی کی محبت کے قابل نہ تھی انجانے جنید سے کون سی محبت کی امید کر رہی تھی۔ نجانے اسے کیوں لگ رہا تھا کہ یہ شخص اسے دنیا کہ دکھاؤے سے دور لے جائے گا

وہیں زمین پر پڑے اس کی نظر جنید کی پوکٹ سے گرے سرخ ڈبے پر پڑی ۔

جو آدھا کھلا ہوا تھا ۔اور اس میں سے ایک خوبصورت سا بریسٹ آدھا باہر جگمگا رہا تھا ۔

شاید یہ وہی تحفہ تھا جو جنید اس کے لیے لانے گیا تھا

اس تحفے کو دیکھتے آہستہ آہستہ تائشہ کی آنکھیں بند ہونے لگیں ۔اس کے آگے پیچھے کیا ہو رہا تھا اسے کچھ علم نہ تھا ۔

وہ پرسکون ہو رہی تھی ۔آنکھیں بند ہوتے ہوتے اسے اپنا درد کم ہوتا محسوس ہوا ۔

نہ جانے جنید کہاں تھا کردم اور دھڑکن حویلی سے گاؤں کے پرانے مکان میں شفٹ ہو چکے تھے

یہ اتنا چھوٹا نا تھا حویلی بننے سے پہلے دادا سائیں اور ان کے والدین اسی گھر میں رہا کرتے تھے

یہ گھر کردم کیلئے بہت اہم تھا کیونکہ اسی گھر میں اس کی ماں دلہن بن کے آئی تھی اور اسی گھر میں اس کے باپ کی پیدائش ہوئی تھی

دھڑکن کو سب لوگوں نے گاؤں جانے سے منع کیا لیکن اسنے کسی کی نہیں سنی بس کہہ دیا کہ جہاں اس کے سر کا سائیں رہے گا وہ بھی وہی رہے گی ۔

اور پھر دادا سائیں نے سب کو کچھ بھی کہنے سے منع کردیا ۔اور دھڑکن کو کردم کے ساتھ گاؤں کے پرانے گھر میں رخصت کر دیا ۔

یہ گھر اتنا چھوٹا تو نہ تھا لیکن اتنا بڑا بھی نہ تھا ۔

گاؤں کے کچھ لوگوں نے یہاں آنے سے پہلے اس گھر کی صفائی کرائی تھی۔ گاؤں کے لوگوں کے لیے یہ بات اتنی چھوٹی نہ تھی کہ ان کا سائیں ان کے ساتھ آکر رہے گا ۔

جب کہ وہ لڑکا جو پنچایت میں کردم کو سزا دینے کی بات کر رہا تھا وہ نہ جانے کہاں غائب ہوچکا تھا ۔

دھڑکن کو یہ گھر بہت پسند آیا ۔

اور اب وہ اپنی کیٹی کے ساتھ گھر کے سارے کمرے دیکھنے میں مصروف تھی۔ اسے جیسے ہی یہ پتہ چلا کہ کردم کے ماں باپ اسی گھر میں رہتے تھے تو اس نے فیصلہ کرلیا کہ وہ ان کے کمرے میں رہیں گے ۔

جس پر کردم نے ہاں کردی اور آنے والی نئی صبح کو سوچنے لگا کیا زندگی کی تنگی اور مشکلات میں دھڑکن کی یہ مسکراہٹ ایسے ہی قائم رہے گی کیا یہ لڑکی اس کا ساتھ نبھا پائے گی ۔وہ خود سے سوال کرتا اس کے پیچھے پیچھے چل رہا تھا ۔

جبکہ دھڑکن کسی پرندے کی طرح پورے گھر میں چہک رہی تھی

رات کا اندھیرا گہرا ہوچکا تھا پورے گاؤں میں اندھیرے پھیل چکا تھا جنید اس وقت بھی ندی کے کنارے بیٹھا پانی میں پتھر پھینک رہا تھا یہ کیا کر کے آیا تھا وہ وہ تو اپنی بیوی کو زندگی کی ہر خوشی دینا چاہتا تھا اور اسے ہی اتنی بے دردی سے پیٹ آیا

ہاں تو وہ تھی ہی اسی لائق اس کے دماغ نے کہا ۔

لیکن وہ کون تھا اسے سزا والا۔ اس نے کیوں اسے مارا اس کا کیا بنتا ہے اس کا اس طرح سے اسے پیٹنے کا ۔کل رات وہ اس سے عزت اور احترام کی وعدے کر رہا تھا اور آج جانوروں کی طرح مار آیا تھا جیسے وہ کوئی بے جان وجود ہو

وہ ایسا کیوں کرتی یہ سب کچھ کرتی کیسے ۔اس کے گھر میں رہتے ہوئے تائشہ کاملک سے رابطہ صرف موبائل کے تھروتھا اور ملک اپنی ہی بیٹی کے ساتھ اتنا برا کیسے کر سکتا تھا اس نے پہلے یہ ساری باتیں نہیں سوچتی تھی تب غصے میں اس کے دماغ نے کام نہیں کیا تھا لیکن اب وہ مسلسل یہی سوچ رہا تھا کہ تائشہ کا اس میں کوئی ہاتھ نہیں ہو سکتا ۔نجانے وہ کس حال میں تھی اس وقت ۔۔۔۔۔۔ ؟ وہ سوچتے ہوئے فوراً گھر کی طرف جانے لگا۔ ۔۔

شاہ سائیں میری بیٹی کہاں ہے ملک شاہ سائیں کے آدمیوں کو پیچھے کی طرف دھکیلتا آگے بڑھ رہا تھا جب کہ وہ اسے روکنے کی کوشش کرتے اسے پیچھے کی طرف دھکا دے رہے تھے

شاہ سائیں میری بیٹی کہاں ہے نازیہ اور رضوانہ اپنے کمرےمیں تھیں کردم اور دھڑکن جا چکے تھے اور مقدم بھی اس وقت گھر میں موجود نہ تھا سوائے حوریہ کے اور وہ بھی ان کے لئے کچن میں چائے بنا رہی تھی

اور وہ باہر لڈو رکھیں اس کی چائے کا انتظار کررہے تھے جب ملک کو دیکھتے ہوئے ان کے ماتھے کی رگیں سامنے آنے لگیں

کون ہے یہ پاگل نکالو اسے یہاں سے باہر وہ ملازموں سے سے بولیں جیسے اسے پہچانا ہی نہ ہو لیکن ملک جانتا تھا کہ وہ اسے پہچان چکے ہیں

شاہ سائیں میری بیٹی کہاں ہے میں اسے لینے آیا ہوں اب میں ایک سیکنڈ کے لئے بھی اسے یہاں تمہارے گھر نہیں رہنے دوں گا شورشرابا سنتے ہوئے حوریہ بھی کچن سے باہر آگئی

جبکہ ملک نے فورا ہی اپنی بیٹی کو پہچان لیا تھا

میری بچی چلو یہاں وہ مقدم شاہ تمہارے قابل نہیں ہے اب میں اس کے ساتھ تمہیں ایک سیکنڈ بھی نہیں رہنے دوں گا ۔ملک حوریہ کی طرف بڑھتے ہوئے اس کے ہاتھ تھامیں اسے مقدم کے بارے میں بتانے لگا

جبکہ اس آدمی سے حوریہ کو عجیب سا خوف محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ کوئی بہت بری خبر لایا ہو ۔

حوریہ کے کانپتے وجود کو ناناسائیں نے بھی نوٹ کر لیا تھا اسی لیے اسے اپنے پاس بلاتے ہوئے بولے

حوریہ میری بچی یہاں آو اور تم لوگ اسے یہاں سے باہر نکالو شاہ سائیں کے کہنے پر حوریہ اپنے ہاتھ چھڑاتے ہوئے نانا سائیں کی طرف آئی ۔

اور ان کے آدمی ملک کو دھکا مارنے لگے

بند کرو اپنی یہ ڈرامے بازیاں شاہ سائیں میں کہتا ہوں میری بیٹی کو میرے پاس بھیج دو جو تمہارے پوتے نے کیا ہے اس کے بعد تو میں ایک پل کو بھی اپنی بیٹی کو اس گھر میں نہیں رہنے دوں گا میں اپنی بچی کی زندگی برباد نہیں ہونے دوں گا ۔وہ چلاتے ہوئے بولا تھا جب کے اس کے انداز میں دادا سائیں کو مزید تش دلایا

ایسا کیا کر دیا ہے میرے پوتے نے جو تم اس طرح سے پاگل ہوئے جا رہے ہو کیا کیا ہے میرے پوتے نے بولو وہ اسی کے انداز میں اونچی آواز میں بولے تھے

ارے نکاح کر لیا ہے اس نے تمہاری پوتی اور احمد شاہ کی بڑی بیٹی سویرہ شاہ کے ساتھ ملک کی آواز حویلی کے درودیوار میں گھونج کررہ گئی ۔

اس سے پہلے کے حوریہ گرتی ناناسائیں نے اسے تھام لیا