267.3K
86

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bheegi Palkon Par Naam Tumhara (Episode 83)

Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah

یہ کیا کر رہی ہوتم حوریہ میں ایک بار سمجھایا تھا نہ کہ تم کسی کم کو ہاتھ نہیں لگاؤ گی تو یہ کیا کر رہی ہو اسے بیڈ کی چارد ٹھیک کرتے دیکھ کر مقدم بولا

چارد ہی تو ٹھیک کر رہی ہوں مقدم سائیں کیا ہوگیا ہے آپ کو کیا میں بالکل ٹھیک ہوں اب کیا یہ بھی نہ کروں بس بیٹھ جاؤں سارا سارا دن تو میرا اسی طرح سے گزرجاتا ہے کم از کم کسی چیز کو ہاتھ لگانے دیں مجھے میں بہت بور ہو رہی ہوں مجھ سے اس طرح سے بیٹھا نہیں جا رہا

وہ سمجھاتے ہوئے بولی تو مقدم مسکرا دیا

تو میں لایاتو ہونا تمہاری بوریت کا حل اس نے اپنے ہاتھ میں پکڑی کچھ کتابیں اس کے حوالے کی یہ بےبی کیئرکی بکس ہیں کہ لڑکیاں کس طرح سے نو مہینے اپنا خیال رکھتی ہیں

اور پھر ایک ہلتھدی بےبک پیدا ہوتا ہے تو یہاں سے پڑھ کے رکھنا خیال رکھو اپنا ان بکس میں جو لکھا ہے کام وہ سارے کرو جو تمہارے لئے اچھے ہیں

لیکن اپنا بہت سارا خیال رکھو اس بک میں جو لکھا ہے وہ کھاؤ پیو ۔

اور بےبی کے بابا کے لیے کیا لکھا ہے وہ سب کچھ مجھے بتاو تاکہ میں بھی اپنے بےبی کی پوری طرح کیئر کر سکوں

اب میرا منہ کیا دیکھ رہی ہوں بیٹھو یہاں اور پڑھو

ان کتابوں پر غور کرو اور پھر مجھے ایک ہی کیوٹ سا پیارا سا بےبی دو

وہ اسے سمجھاتے ہوئے بولا

جب کہ حوریہ جو پہلے ہی بور ہوئی بیٹھی تھی ان کتابوں کو دیکھنے لگی

کچھ نہ ہونے سے یہ ہونا ہی بہتر تھا

آج کرن کالج نہیں آئی تھی آج وہ اکیلی ہی آئی تھی اسی لئے کردم اسے چھوڑ کر چلا گیا اور اب جنید اسے لینے کے لئے آیا تھا

کردم زمینوں پر بزی تھا اس بار کی فصل کافی اچھی ہو رہی تھی اور کردم آج کل ادھر ہی زیادہ رہتا تھا اس لیے رات کو بھی بہت دیر سے گھر واپس آتا ہوں اور صبح صبح ہی چلا جاتا ہے

وہ ابھی سوچ ہی رہی تھی کہ وہ واپس گھر کس کے ساتھ جائے گی کہ جنید کو کھڑا دیکھا

ارے جنید لالا آپ مجھے لینے آئے ہیں اسے دیکھ کر بہت خوشی ہوئی

جی دھڑکن بی بی کردم سائیں کام میں بزی تھے اس لئے مجھے کہہ دیا لائیں آپ کا بیگ میں اٹھا لیتا ہوں اس نے اس کے بیگ کی طرف اشارہ کیا

ارے آپ کیوں اٹھائیں گے میں خود اٹھاؤں گی کتاب میری ڈگری میری فوچر میرا اور بیگ آپ کو دکھائیں گے یہ تو بہت نا انصافی ہے وہ اس کے ساتھ چلتے ہوئے بولی

جبکہ اس کی پٹرپٹر چلتی زبان جنید کو مسکرانے پر مجبور کر گئی

میں آپ کو کچھ دکھاؤں اس کے ساتھ چلتے چلتے دھڑکن نے اچانک سے کہا

جی ضرور دکھائیں جنید مسکرایا

اس کی اجازت ملتے ہی دھڑکن اپنے ہاتھ میں پکڑا ہوا گراف پیپر کھولنے لگی جسے دیکھ کر جنید کی مسکراہٹ اور بھی گہری ہوئی

کیسا ہے وہ ایکسائیڈ ہو کر پوچھنے لگی

بالکل اصلی جیسا ایسا لگ رہا ہے کہ کردم سائیں کی اصلی تصویر ہے یقین نہیں ہوتا کہ ہاتھوں سے بنایا گیا ہے

یہی تو میرا ٹیلنٹ ہے دھڑکن اتراتے ہوئے بولی

میں آج کعدم سائیں کو سرپرائز دوں گی آپ پلیز میرا ایک کام کریں گے آج کل کردم سائیں بہت لیٹ گھر آتے ہیں

اسی لئے آپ شام تو مجھے لینے آئیں گے ہم ڈیرے پر چلیں گے کردم سائیں نے اکیلے گھر سے نکلنے سے منع کیا ہے

پھر میں انہیں وہیں جا کر یہ گفٹ دے دوں گی جب کردم سائیں کی برتھ ڈے تھی انہیں گولی لگی ہوئی تھی اسی لئے میں انہیں وش نہیں کر سکی اور نہ ہی گفٹ دے پائی لیکن اب میں انہی یہ گفٹ دینا چاہتی ہوں

آپ لینے آئیں گے نہ مجھے وہ چلتے چلتے گھر پہنچ ائے تھے

جی بی بی جی میں شام کو پانچ بجے آپ کو لینے آ جاؤں گا پھر میں آپ کو ڈیرے پر کردم سائیں کے پاس لے چلوں گا جنید نے مسکراتے ہوئے کہا کیوں کہ اس کے انداز سے وہ سمجھ چکا تھا کے دھڑکن کو بہت جلدی ہے کردم کو اپنا شاہکار دکھانے کی

اور ویسے بھی وہ بہت خوبصورت پینٹنگ کرتی تھی اس کی تعریف سننا تو اس کا حق بنتا تھا اسی لیے جنید نے آنے کا وعدہ کیا جس پروہ خوشی سےاندر چلی گئی

دھڑکن کھانا بنوا کر فارغ ہوئی تو جنید اس کا انتظار کر رہا تھا وہ اپنے وعدے کے مطابق پورے پانچ بجے وہاں حاضر تھا

اس نے جلدی سے اپنا گراف چاٹ اٹھایا اور باہر آگئی

ویسے جنید لالا اب آپ کردم ساِئیں آپ کو ڈانٹتے تو نہیں اس کے ساتھ چلتے ہوئے اس نے پوچھا

وہ تو مجھے کبھی بھی نہیں جانتے بی بی جی لیکن آپ کیوں پوچھ رہی ہیں

کیوں کہ میں نے انہیں منع کیا تھا میں نے اس نے بہت سارے ڈانٹا تھا اور کہا بھی تھا کہ اب وہ آپ کو کبھی بھی نہ ڈانٹے ۔آپ کو ڈر نے یا گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے اگر وہ آپ کو ڈانتے ہیں تو آپ مجھے بلا جھجک بتائے میں ہوں ان کا علاج کر لوں گی ۔

دھڑکن کی باتوں نے اسے پھر سے مسکرانے پر مجبور کر دیا

نہیں آپ کی ڈانٹ کا کافی اثر ہوا ہے اب وہ مجھے کچھ نہیں کہتے شاید آپ سے بہت ڈر گئے ہیں جنید نے مسکرا کر شرارتی انداز میں بولا

پھر ٹھیک ہے میں نے اندازہ لگایا تھا کہ وہ آپ پر کچھ زیادہ روعب جماتے ہیں اسی لیے ان کی عقل ٹھکانے لگا دی وہ بولے جا رہی تھی جب کہ جنید سے اپنا قہقہ روکنا مشکل ہو گیا

ڈیرے پر پہنچ کر جنید نے دھڑکن کو ندی کی طرف بھیجا جہاں کردم اکثر کردم جاتا تھا اور خود وہی سے پیچھے کی طرف لوٹ آیا

دھڑکن اپنے ہاتھ میں گراف پیپر پکڑے خوشی سے جا رہی تھی لیکن سامنے کا منظر دیکھ کر اس کی سارے خوشی کہیں کھو گئی

کردم کے ساتھ ایک لڑکی بالکل اس کے قریب بیٹھی تھی

اس لڑکی کو پہچاننے میں دھڑکن نے ایک سیکنڈ نہیں لگایا تھا یہ لڑکی اسی کے کلاس کی تھی ہاجرہ لیکن یہ یہاں کیا کر رہی تھی وہ بھی اس کے شوہر کے اتنے قریب ۔

اور پھر دیکھتے دیکھتے ہی وہ کردم کے سینے سے لگ گئی اور دھڑکن کو لگا جیسے اس کے گرد اندھیرا چھا گیا

دھڑکن وہی سے خاموشی سے پلٹ آئی

جنید نے اسے اتنی جلدی واپس آنے کی وجہ پوچھی تو وہ کچھ بھی نہ بولی ہاتھوں میں پکڑا گراف پیپر اس نے وہی پر پھینک دیا

جنید نے وہ پیپر اٹھایا اور اس کے پیچھے آیا وہ اسے اکیلے نہیں جانے دے سکتا تھا

اور وہ اتنی جلدی میں واپس جا رہی تھی کہ جنید کو ندی کی طرف واپس جانے کا وقت ہی نہ ملا وہ پہلے اسے گھر واپس چھوڑنے جانے والا تھا

حیدر نور کو جس طرح سے کہتا وہ اسی طرح سے کرتی ایک پرسنٹ بھی وہ گڑبڑ نہیں کر رہی تھی

سارا دن وہ بالکل سیریز شکل بنا کر سب نوکروں کو ڈانٹتی رہتی

دادا اور دادی کو سلام کرکے ان کے پاس گھنٹوں بیٹھی رہتی اور ان کی باتیں سنتی رہتی

لیکن جب وہ باتیں کرتی تب اس بات کا اندازہ ہوجاتا کہ اس کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں

اور پھر جب رات کو حیدر کمرے میں آتا وہ اسے ایک ایک بات بتا کر اتنا ہنستی کہ حیدر کو بھی ہنسنے پر مجبور کردیتی

لیکن سب سے اہم بات یہ تھی کہ وہ حیدر کی ہر بات پر عمل کرتی ہے جس طرح سے اس کے ماں باپ نے اسے سمجھا کر بھیجا تھا کہ حیدر ہی تمہارا سب کچھ ہے اس کی ہر بات ماننا اور جو وہ کہے وہی کرنا وہ اپنے گھر سے کاٹھ بات کرآئی تھی

حیدر جو کہتا ہوں وہ وہی کرتی اور پھر اس کے کہنے کے مطابق رات کو وہ اس کے ساتھ کافی دیر کھیلتا خیر وہ کیا کھیلتا کھلتی تو وہ تھی کبھی اپنی گڑیا کے کپڑے بناتی تو کبھی اس کی شادی کروا دیتی

وہ تو بس اس معصوم کے ساتھ ہونے والے ظلم کو سوچ کر بے بس ہو جاتا کاش وہ اس بندے کو اپنے ہاتھوں سے مارتا

سنو نور کل میں اور تم میرے نانا سائیں کے گھر جائیں گے وہاں پر تم نے کوئی بے وقوفی والی حرکت نہیں کرنی ۔

یہ بالکل ایک گیم جیسا ہوگا یہ بالکل ایک کھیل ہے اگر تم نے وہاں کوئی بھی فالتو بات کی یا کوئی بھی الٹا سیدھا کام کیا تو ہم ہار جائیں گے اور میں جانتا ہوں میری نور مجھے ہارنے نہیں دے گی

وہ اسے سمجھانے والے انداز میں بولا وہ اپنی ماں پر ظاہر کرنا چاہتا تھا کہ نور جلد ہی بہت ٹھیک ہو جائے گی کہ اس کی بات سن کر نور نے ہاں میں سر ہلایا مطلب کے وہ اس کھیل کے لئے تیار ہے

جنید نے دھڑکن کو گھر چھوڑنے کے بعد کردن کو فون پر بتایا تھا کہ دھڑکن ڈڑے پر آئی تھی

لیکن پھر نہ جانے کیا ہوا کہ وہ واپس چلی گئی اسنے واپسی پر جنید سے کوئی بات بھی نہیں کی تھی جس سے وہ اندازہ لگا سکتا لیکن شاید کردم اس بات کا اندازہ لگا چکا تھا

وہ شام کو گھر واپس آیا تو ھڑکن اپنے کمرے میں تھی۔

فی الحال اسے بہت بھوک لگی تھی اسی لئے دھڑکن سے بات کرنے سے پہلے وہ کچن میں آیا

کھانا تیار تھا جیسے ٹرے میں رکھ کر کمرے میں آ گیا

دھڑکن یہ کونسا وقت ہے سونے کا ابھی تو شام کے چھے بجے ہیں اٹھو شاباش کھانا کھا لو پھر بات کرتے ہیں کردم اسے اٹھاتے ہوئے بولا

میں کھانا کھا چکی ہوں آپ کھالیں وہ کہہ کرکروٹ بدل گئی

کردم نے ایک نظر اس کی پیٹھ دیکھی پھر بے اختیار مسکرا دیا

اتنی انسیکیورٹی وہ بڑبڑا اسے یقین تھا دھڑکن کھانا نہیں کھایا ہوا

اٹھ جاو کھا لو اس نے اس کا ہاتھ تھام کر اٹھانے کی کوشش کی تو دھڑکن نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا

میں نے کہا نہ میں کھا چکی ہوں آپ کھا لے سونے دیں مجھے تنگ نہ کریں اس بار وہ چادر اپنے منہ تک لے گئی

دھڑکن یہ کیا بچپنا ہے اٹھو میں پوری بات بتاتا ہوں وہ چادر کھینچ کر بولا

کونسی پوری بات میں خود دیکھ آئی ہوں اپنی آنکھوں سے وہ لڑکی آپ کی سینے سے لگی ہوئی تھی اس سے بڑی اور کوئی بات ہو سکتی ہے اگر ہو سکتی ہے تو مجھے مت بتائیں کیوں کہ میں کسی بات پریقین کروں نہیں گی تو میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے

سرپنچ بننے کی آرمیں گاؤں کی لڑکیوں کا استعمال ۔۔۔۔۔

چٹاخ۔ ۔اس سے پہلے کے دھڑکن نہیں بات پوری کرتی کردم کاہاتھ اس کی کام وہ بند کر گیا ۔

میں نے کہا نہ پہلے میری بات سن لو پھر اپنی بکواس کرنا لیکن نہیں خبردار جو آئندہ اپنی زبان سے یہ الفاظ نکلے ۔

کیا سمجھ کے رکھا ہے تم نے مجھے اتنی گھٹیا سوچ دھڑکن میرے بارے میں اتنا یقین نہیں ہے تمھیں مجھ پر اتنا گھٹیا اتنا گرا ہوا لگتا ہوں میں تمہیں کردم بے یقینی سے اسے دیکھ رہا تھا

اس کے سخت بھاری ہاتھ سے دھڑکن کےہونٹ پھٹ چکے تھے ۔جس سے اب خون نکلنے لگا تھا

اگر آپ سچے ہوتے تو تو لفظوں سے بتاتے نا کہ اپنی آواز کی اونچائی میں میری آواز کو دبانے کی کوشش کرتے

وہ اس کے سامنے کھڑی ہوئی اپنا تکیہ اٹھا کر باہر نکل گئی

کہاں جا رہی ہو تم وہ اس کا ہاتھ تھام کر غصے سے پوچھنے لگا وہ اس کی غلط فہمی دور کرنا چاہتا تھا لیکن دھڑکن کچھ سننے کو تیار ہی نہ تھی اس کے لفظوں نے ہاتھ اٹھانے پر مجبور کردیا لیکن وہ جانتا تھا کہ اس بات کو فلحال نہیں سمجھے گی لیکن دھڑکن کی بے اعتباری نے کتدم کو بہت مایوس کیا تھا

فی الحال دوسرے کمرے میں جارہی ہوں صبح حویلی واپس چلی جاؤں گی مجھے آپ جیسے دوغلے انسان کے ساتھ نہیں رہنا ۔

دھڑکن اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے چھڑواتی باہر جانے لگی

رشتے اعتبار سے بنتے ہیں دھڑکن اور تم مجھ پر کتنا بھروسہ کرتی ہوںخ میں دیکھ چکا ہوں تم حویلی واپس جاو یالندن مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا اس کے کمرے سے نکلتے ہی کردم نے دروازہ اندر سے بند کر دیا جبکہ دوسرے کمرے میں آنے کے بعد دھڑکن پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی

حویلی میں سب اس سے جوش و خروش سے ملے تھے

اور سب کے ساتھ نورملی بات کر رہی تھی

حوریہ نے یہی اندازہ لگایا تھا شاید نور کم گو ہے لیکن اس سے سے مل کر اسے بہت اچھا لگا تھا

اس کی ماں بھی کب سے نور کو دیکھے جا رہی تھی کہ یہ پاگل لڑکی اس طرح سے نارمل بات کیسے کر رہی تھی وہ خود سمجھ نہیں پا رہی تھی

لیکن ابھی تک کسی بہوکے روپ میں قبول نہیں کر پائی تھی یا شاید کرنا نہیں چاہتی تھی

جب کہ حیدر نے ایک سیکنڈ کے اسے خود سے الگ نہ کیا دادا سائیں حیدر کو دیکھ کر بہت فخر محسوس کر رہے تھے

اس نے جو کام کیا تھا وہ گاؤں میں کوئی نہیں کر سکتا تھا ایک ایسی لڑکی کا سہارا بننا جس کے پاس اس کی اپنی عزت بھی نہیں کوئی چھوٹی بات نہ تھی

اور پھر اسی لڑکی کو عزت کے ساتھ نہ صرف اپنی حویلی میں رکھنا بلکہ پورے گاؤں میں ایک مقام دینا

حیدر شاہ جیسا شخص ہی کر سکتا تھا

ان کے واپس جانے کا وقت ہوا تو نوری نے نوٹ کیا کہ سویرا حوریہ کے آگے پیچھے گھوم رہی ہے لیکن نوری کو اس کی نیت صاف نہیں لگ رہی تھی

بار بار حوریہ کو دیکھنا اس کے آگے پیچھے گھومنا اسے بہت عجیب لگ رہا تھا

وہ تینوں سڑھیوں سے اترنے لگی جب سویرا حوریہ کی سائیڈ پہ ہوگئی سویرا نے حوریہ کے کندھوں پر زور ڈال کر اسے نیچے کی طرف دکھکیلنا چاہا شاید وہ یہ دکھانے کی کوشش کر رہی تھی کہہ وہ خود گررہی تھی کہ حوریہ بیچ میں آ کر سیڑھیوں سے گر گئی لیکن اس سے پہلے کہ وہ حوریہ کو دکھا دیتی نوری نے حوریہ کو کھینچ کر اپنی طرف کر لیا اور نوری کے پیر سے پھسل کر سویرا خود سیڑھیوں سے نیچے گر گئی ۔

اور اس سے گرتے ہی حویلی میں دردناک چیخیں گونج اٹھی