267.3K
86

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bheegi Palkon Par Naam Tumhara (Episode 48)

Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah

بھاری کام والے خوبصورت سرخ لہنگے میں وہ کسی گڑیا کم نہیں لگ رہی تھی ۔

اس کے نقش پہلے ہی بہت معصومیت اور خوبصورتی سے سجے ہوئے تھے لیکن بیوٹیشن کی مہارت نے اسے مزید خوبصورت بنا دیا تھا

لگ تو وہ اس دن بھی بہت پیاری رہی تھی جب پہلی بار دلہن بنی تھی لیکن آج اس کا ہر انداز قیامت تھا

گاؤں والوں کی بات کا مان رکھ کردم نے انہیں مان و عزت بخشی تھی

جس کی وجہ سے پورا گاؤں ہی اس کی شادی میں شرکت کر رہا تھا کچھ لوگ اس سے شرمندہ تھے تو کچھ اس کی خوشی میں بے تحاشا خوش ۔

جبکہ مقدم تو بس اپنے دل کے کرار کا دیوانہ ہوا گھوم رہا تھا ۔

حوریہ نے اسے اپنی بڑی بڑی آنکھوں سے ڈراتے ہوئے اسے کہیں بار اسے خود کو دیکھنے سے منع کیا تھا ۔

لیکن مقدم کو اس کی آنکھوں کی بھی آج کوئی پروا نہ تھی ۔

وہ جب بھی اسے دیکھتی وہ اپنا دل تھام لیتا ۔جس پر نہ چاہتے ہوئے بھی حوریہ شرما دیتی ۔اور مقدم کے جذبات مزید بے لگام کر دیتی۔

میرا پٹاکا سائیں آج تو غضب ڈھا رہی ہو ۔کردم ابھی ابھی آکر دھڑکن کے پاس بیٹھا تھا جبکہ کردم کے جملے نے دھڑکن کو ہنسنے پر مجبور کر دیا ۔

کردم نے اس کے کان میں اتنی کم آواز میں کہا تھا کہ سویرہ اور حوریہ بالکل نہ سن پائی ۔

دھڑکن شرم کرو تم دلہن ہو شرما سکتی ہو ایسے منہ کھول کے ہنس نہیں سکتی سویرا نے اسے دلہن بننے کا اصول بتایا تھا ۔سویرہ نے جو کچھ بھی کہنا تھا دھڑکن سے ہی کہنا تھا کردم تو اس کی نظر میں سخت اور انتہائی سنجیدہ انسان تھا

اوہو دیدہ تو ان سے کہیں کہ مجھ سے اس طرح سے بات نہ کریں ۔میری ہنسی نکل جاتی ہے ۔

کردم اس کے جملے پر بے مزہ ہوا تھا اسے لگا تھا شاید وہ کہے گی کہ مجھے شرم آتی ہے ۔

بے شرم کہیں کی کردم زیرلب بڑبڑایا ۔

میں بے شرم نہیں ہوں آپ بہت فنی ہیں دھڑکن نے بتانا ضروری سمجھا جبکہ ان دونوں کی باتوں میں سویرا کو کوئی انٹرسٹ نہ تھا اس کو تو بس اپنے نیگ کی پڑی تھی ۔

جو کردم اسے دیے بنا ہی بیٹھ چکا تھا ۔

پر اب سویرا اس سے اپنا نیگ مانگ رہی تھی تو وہ منع کر چکا تھا ۔

دیکھو سویرا تم نے نیگ میرے بیٹھنے سے پہلے مانگنا تھا تم نے رسم ٹھیک سے نہیں نبھائی اس کا مطلب یہ ہوا کہ نیگ کینسل کردم نے ہاتھ جھاڑتے ہوئے کہا تب ہی مقدم وہاں پہنچا ۔

ہاں بالکل رسم اس طرح سے کی جاتی ہے جس طرح تم لوگ کر رہی ہو اگر رسم ہی ٹھیک طریقے سے نہیں کی گئی تو نیگ کیسا ۔

چلو لڑکیوں تم لوگوں کی چھٹی ہوگئی اب تم لوگوں کو کچھ نہیں ملے گا حوریہ بڑی امید سے مقدم کو دیکھ رہی تھی کہ شاید وہ ان کا حق دلائے گا لیکن وہ تو کردم کے ساتھ کھڑا ہوگیا ۔

یہ کیا بات ہوئی بالکل بھی نہیں کردم لالہ آپ اٹھ کر کھڑے ہوں ہمیں نیگ دیں پہلے حوریہ نے کردم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا

جبکہ وہ نفی میں سر ہلاتا دھڑکن کے کندھے پر اپنا ہاتھ رکھ چکا تھا ۔

سوری گرلز اٹس ٹو لیٹ

کردم نے اسے اگنور کرتے ہوئے کہا ۔

جب دھڑکن نے حوریہ اور سویرہ کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا ۔

وہ دونوں اسے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی اب دھڑکن کیا کرنے والی تھی ۔

وہ ان کا حق دلوانے والی تھی یا شوہر کی جیب بچانے والی تھی ۔

کردم سائیں آپ کے نیچے میرا دوپٹہ پھس چکا ہے تھوڑی دیر کے بعد وہ کردم کے کان میں بولی ۔

کردم کو کچھ تو محسوس نہ ہوا لیکن وہ پھر بھی اٹھ کر اس کا دوپٹہ اپنے نیچے سے نکال چکا تھا جبکہ اس کے بیٹھنے سے پہلے ہی حوریہ اور سویرا اس کی جگہ سنبھال چکیں تھیں ۔

کردم لالا اب آپ کو یہ جگہ تبھی نصیب ہوگی جب آپ ہمارا نیگ ہمارے حوالے کریں گے اس کو کہتے ہیں اصلی بہن اپنی بہنوں کی ہمدرد دلہن تو یہ بعد میں بنے گی پہلے یہ ہمیں ہمارا حق دلوائے گی سویرا اور حوریہ دونوں نے دھڑکن کے گال چومتے ہوئے کہا ۔

جبکہ کردم نے ایک نظر گھورکر مقدم کو دیکھا تھا جو اس ساری کارروائی سے باخبر ہونے کے باوجود بھی انجان ہونے کی ناکام ادکاری کر رہا تھا ۔

اوکے بابا سوری یار یہ سالیوں کا حق ہوتا ہے چلو دے دو مقدم نے اسے پیار سے پچکارتے ہوئے کہا تو کردم کو مجبوراً اپنی جیب ہلکی کرنی پڑی ۔

تھوڑی دیر کے بعد رخصتی کا شور اٹھا تھا ۔

جبکہ دھڑکن نے کہا تھا کہ کوئی نہ روئے وہ بالکل بھی رونے کے موڈ میں نہیں ہے اور وہ پہلے بھی ایک بار کافی زیادہ رو چکی ہے اب مزید نہیں رونا چاہتی ۔

اور اس کے بات پر تقریبا سب نے عمل کرنے کی بھرپور کوشش کی تھی ۔

لیکن پھر بھی احمدشاہ کی آنکھیں نم ہوگئی اور انہیں روتے ہوئے دیکھ کر دھڑکن رونے لگی ۔

اور ان دونوں کو ایک دوسرے کے گلے لگے روتا دیکھا کر سویرہ بھی ان سے آ لپٹی۔

جب کہ سب مہمانوں سے سلام دعا کرنے کے بعد تائشہ ایک بار پھر سے اپنے کمرے کی نذر ہو چکی تھی

ملک صاحب حویلی مہمانوں سے بھری ہوئی ہے ہم اندر نہیں جا سکتے ۔

اگر ہم اس طرح سے اندر گئے تو کسی کو بھی شک ہو جائے گا یہاں پر بہت سارے لوگ جانتے ہیں کہ ہم آپ کے گاؤں سے ہیں ۔

لگتا ہے اس وقت ہم مقدم شاہ کو ختم نہیں کر پائیں گے ۔

اس کے لیے ہمیں موقع دیکھنا ہوگا ۔

اگر اس وقت ہم نے یہ کرنے کی کوشش کی تو ہم بہت برے طریقے سے پھس سکتے ہیں اور اگر ہماری کوشش ناکام ہوگئی تو پھر ہم جس مقصد کے لئے مقدم شاہ کو ختم کر رہے ہیں ہو سکتا ہے آپ کا وہ مقصد بھی پورا نہ ہو ۔

ٹھیک ہے اس وقت تم کچھ مت کرو لیکن نظر رکھو جب بھی موقعہ ملے موقعے سے فائدہ اٹھاؤ مجھے مقدم شاہ کی لاش دیکھنی ہے ۔

مجھے کسی بھی حالت میں مقدم شاہ سے اپنی بیٹی کو آزاد کروانا ہے ۔

میری بیٹی میرے پاس بس ایک ہی طریقے سے آ سکتی ہے اگر مقدم شاہ مر جائے تو ۔

اور میں اپنی بیٹی کو اپنے پاس لانے کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتا ہوں ۔بس ایک بار تو مجھے مقدم شاہ کی موت کی خبر سنا دو میں تمہیں تمہاری مانگی قیمت ادا کروں گا ۔ملک نے آدمی کو لالچ دیتے ہوئے کہا جس پر وہ اس کی جی حضوری کرتا فون بند کر چکا تھا

ملک نے فون بند کرتے ہوئے جیسے ہی پلٹ کر دیکھا ایک زور دار تھپڑ اس کا منہ لال کر گیا ۔