Ek Ana Parast By Tania Tahir readelle50024 last Episode
No Download Link
Rate this Novel
last Episode
Last episode :
ساز ” وہ اسکے بستر میں لیٹی رو رہی تھی وہ دروازہ کھول کر بڑی لہک میں پکارنے لگا لیکن وہ روئے جا رہی تھی ۔۔
یار تم ایسے نہ رو تمھیں پتہ ہے نہ مجھے کچھ ہوتا ہے جب تم روتی ہو” وہ اسکے پاس بیٹھ کر اسکے چہرے پر سے کمبل ہٹا گیا
نہیں اپکو سکون ملتا ہے میں روتی ہوں تو ” وہ بولی جبکہ غصے سے اسے گھورنے بھی لگی ۔۔۔ اور پھر انکھوں پر ہاتھ رکھ کر رونے لگ گئ ۔
ویسے بہت پیاری لگتی ہو روتی ہوئ ۔۔۔
بھیں بھیں کرتی ہوئی گائے بن گئ ہو تم اب دور ہو تھوڑا سا ” اسنے کہا جبکہ وہ کروٹ موڑ گئ سر تک کمبل تان لیا۔۔اسکی خوشبو اس بستر میں بھی تھی ۔۔۔۔ اور پہلو میں بھی وہ خود ہی تھا ۔
میں تیار ہوا تھا یار تم مان ہی نہیں رہی ” وہ شیشے میں اپنا عکس دیکھتا اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتا خود ہی اپنے حسن کو سہراتا بولا تھا
دور رہیں مجھ سے ” وہ بھڑکی
آپکے تیار ہونے سے میں نے مان جانا تھا ” وہ بگڑ کر بولی شوخیاں مار رہا تھا وہ بلاوجہ ۔۔۔۔۔
ہاں اتنا ہینڈسم ہوں میں اچھا خیر چھوڑو ” وہ اسکے پہلو میں لیٹا اسکو اپنے قبضے میں کر گیا ۔
یہاں تک کے ساز ہل بھی نہیں پا رہی تھی ناراض اب بھی تھی پلیز مان جاؤ آئی لو یو نہ تم جانتی تو ہو ” وہ اسکے گال پر پیار کرتا بولا ۔
اپکا بھروسہ نہیں ہے مجھے دوبارہ چھوڑ جائیں دوبارہ مجھے دنیا کے حوالے کر جائیں تو میں اکیلی ہی رہ لوں “
اب میرا بیٹا ہی پوچھے گا آپ سے ” وہ اسے دور کرنے لگی ۔
میرا بھی تو ہے تم تو ایسے اس پر قابض ہوئی ہو جیسے بس تمھارا ہو اپنی امی کے پاس سے لائی تھی کیا ” وہ بولا جبکہ ساز نے اسے گھور کر دیکھا
بہت اچھی بات ہے الزام بھی لگا دیں اب مجھ پر ۔۔۔۔
نہیں نہیں ” منانے کے بجائے سب الٹا ہو رہا تھا ۔ ۔۔۔
اوکے سوری ۔۔۔ بیٹا بھی تمھارا میں بھی تمھارا اور یہ دل بھی تمھارا ” وہ سیدھا ہو کر بیٹھ گیا جبکہ ساز بھی کچھ سیدھی ہوئی تھی ۔ ۔ عمر نے اسکے ہاتھ پکڑ لیے
تم سے بہتر مجھے کوئی نہیں جانتا ۔۔
میں ڈر گیا تھا یہ مجھے سمجھ ہی نہیں ایا کہ میرا باپ واقعی اتنا برا ہے شاید میں نے اب بھی ان سے ایکسپیکٹیشن باندھ لی تھیں
شاید میں ان سے اب بھی محبت کا خوا تھا شاید یہ سوچ کر وہ بدکردار تو نہیں ۔۔۔
کچھ سمھجہ نہیں ائ ۔۔ دنیا کی نظر اس وقت سہہ نہ پاتا کہ جانتا تھا سب کو سب کچھ پتا ہے ۔۔
میں بہت دور جانا چاہتا تھا ہاں میری غلطی ہے کہ تمھیں اپنے ساتھ لے جاتا لیکن اگر تمھیں اپنے ساتھ لے جاتا تو دوبارہ کبھی واپس نہ اتا ۔۔
اور شاہ کے ساتھ رہنا میری کمزوری ہے ۔۔ میری عادت ہے ۔۔۔ میں انکے اندر وہ سب دیکھتا ہوں جو اپنے ماں باپ سے چاہتا تھا ۔
ایک ۔۔ ایک بچے کی صرف ایک خواہش کہ اسکے ماں باپ ایک ساتھ رہیں اور اس سے محبت کریں بس یہ ہی ایک خواہش اسکے ماں باپ پوری نہیں کر سکے ۔۔
اس سے زیادہ مجھے کچھ چاہیے بھی نہیں تھا شاید غلط تھا جس سے بھاگا ۔۔۔ شاید ناراضگی تھی میں اپنی ماں کی موت کی وجہ بھی نہیں جانتا تھا میں چاہتا تو بہت کچھ بدل دیتا شاید انھیں آخری وقت میں سہارا دیتا لیکن میں بدظن ہی رہا کیونکہ انکا نام میرے اندر آگ بڑھتا تھا اور وہ آگ میرے دل کو جلاتی تھی ساز ۔
میں عورت کا وہ روپ دیکھ کر آیا تھا تمھارے پاس جس روپ سے مجھے صرف عورت مطلبی اور جسم پرست لگی تھی ۔
ایک چھوٹے سے بچے کے پرنسپل اسے پکڑ کر یہ کہیں اپنی ماں سے ایک رات کا ریٹ پوچھ کر بتاؤں تمھیں کیا لگتا ہے ۔۔ وہ زخم جو میں سینے پر سہتا آیا وہ آسان تھے وہ ان زخموں سے کئ زیادہ گھیرے ہیں ساز جو تمھارے بھائی نے سہے کہ اگر میں یہ سوچوں کہ زندگی سب کے لیے آسان نہیں ہے
کیوں نہیں ہے مجھے آسان اور سہل زندگی چاہیے تھی ۔
عزت دار ماں باپ اور انکی محبت بھلے جھونپڑی میں ملتی ۔۔۔
بہت دیر سے پتہ چلا جس عمارت پر روز سوتا اٹھتا بیٹھتا ہوں وہ میری ماں کے وجود کی قیمت ہے پھر اتنا بدظن ہو گیا انکے پاس سے بھی گھن آتی تھی ۔
پھر مجھے وہ مولوی زیادہ بہتر لگا جو کم از کم مسجد کا امام تھا لیکن لوگ میرا مذاق بناتے تھے تبھی میں نے شراب پینا شروع کر دی ۔۔۔
سعود نے کہا میں تمھارا غم ہلکا کر سکتا ہوں اور مجھے اگر اس وقت وہ یہ بھی کہتا کہ تمھیں چھت سے نیچے دھکا دوں گا تم مر جاو گے تو غم ہلکا ہو جائے گا میں اس وقت یہ بھی کرنے پر تیار ہو جاتا لیکن اسنے ہاتھ میں بوتل تھما دی اور بس پھر بوتل سب کچھ لگی دنیا سے دور لے جاتی تھی ۔
پھر ڈیڈ کے طعنے انکی کوئی بھی بات مجھے بری نہیں لگتی تھی ۔۔۔
تبھی ہر وقت نشے میں رہنے کا تہیہ کر لیا تھا
ماں باپ قیمتی ہوتے ہیں نہ ” وہ اسکا ہاتھ تھام کر پوچھ رہا تھا بس یہاں ساز کا بس نہیں چلتا تھا وہ سینہ چیر کر اسے خود میں بسا لے چھپا لے وہ اتنا حساس تھا مرد ہو کر بھی ۔۔ ساز نے سر ہلایا ۔
تو مجھے ایسے ماں باپ ملے کیوں نہیں جنھیں میں قیمتی سمجھتا ۔۔۔۔
میرے خواب واقعی خواب تھے ہیں اور رہیں گے “
نہیں عمر ہم اپنے بچے کو ویسی محبت دیں گے جیسی آپ سوچتے ہیں ۔۔۔۔ بلکل ویسی ہی ” وہ اسکا چہرہ تھام گئ ۔۔۔۔
اور آپ دیکھیں اپنے ارد گرد کتنی محبتیں ہیں شاہ اپ سے کتنی بے لوث محبت کرتے ہیں کہ اپ کے لیے تو اپنی بیٹی کو چھوڑ دیا ۔۔۔
جس کو وہ کسی کو دینے کو تیار نہیں تھے ۔۔
اتنی محبت کے آپکی ناجائز کو بھی جائز کہتے ہیں پھر ایزہ اور سوہا وہ کتنی محبت کرتی ہیں اپ سے ۔۔ اور میں “
تم مجھ سے محبت کرتی ہو ” وہ اسے دیکھنے لگا
اپکو شک ہے۔”
ہممم تم ناراض ہو جاتی ہوں مان کر نہیں دیتی” وہ منہ بنا گیا ۔
آپ نے اپنی حرکتیں دیکھیں ہیں ہر وقت مجھے تنگ کرتے ہیں عمر اپ ” وہ عاجز سی بولی تھی ۔
میں تو ایسا ہی ہوں محبت کرنے سے پہلے سوچنا تھا ” وہ اسکی دونوں ہتھیلیاں چوم گیا
ایم سوری میں واقعی غلط ہوں تمھیں چھوڑ کر نہیں جانا چاہیے تھا ” وہ شرمندہ سا ہوا ساز نگاہ جھکا گئ
ارہم بھائی نے مجھے بہت زیچ کیا ہے ہم یہاں نہیں رہیں گے وہ اچھے انسان نہیں ہیں ” وہ اسے بتانے لگی جبکہ عمر پہلے سے ہی یہ سب جانتا تھا
اسنے مجھ سے معافی مانگی ہے وہ کل میرے پاس ایا تھا اور صرف تمھیں تنگ کرنے پر معافی مانگ کر یہ کہہ کر گیا ہے کہ میرے باپ کو مارنے کا حساب کتاب تم سے آخرت میں ہو گا ” ساز کا دل جیسے پاتال میں جا گیرہ
عمر اب اب کیا ہو گا “
کیا ہونا ہے کچھ بھی نہیں مجھے مولوی اشفاق کو مار دینے کا رتی بھی افسوس نہیں اگر وہ نہ مارتا تو وہ کئ لوگوں کو مار دیتا مجھے مار دیتا اور اپنی جان بچانے کے لیے سامنے والے کو مار دینا چاہیے “
ضروری نہیں نیک پردہ لبادھے میں نیک روح ہو اور ضروری نہیں شرابی بدل نہیں سکتا ۔۔
مجھے علم نہیں مجھے میرا اللّٰہ اس قتل پر معاف کر دے گا یہ نہیں
لیکن مجھے امید ضرور ہے اور جب تک امید ہے میں تب تک ہارنے کا سوچوں گا نہیں ” وہ خاموش ہو گئ تھی ۔
اتنی لمبی تقریر کا کوئی تو اثر کھاو میری جان معاف کر دو اس بندہ ناچیز کو ” وہ تھک کر بولا جبکہ ساز ہلکا سا مسکرا دی ۔۔۔
عمر نے جلدی سے اگے بڑھ کر اسکی پیشانی چوم لی
بس مجھے پتہ تھا جس دن تم میرے قبضے میں آگئی اس دن تمھیں پٹانا کوئ مشکل کام نہیں مشکل تو مجھے یونیورسٹی میں ہوئی تھی آف علیشبہ کو پٹانا دنیا کا اوکھا کام تھا کیا کچھ نہیں کیا تھا میں “
ایک دم جیسے وہ اپنی حسین خیالوں کی دنیا سے باہر آیا اور ساز کی جانب دیکھا جو بنا کسی تاثر کے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔
عمر ۔۔۔عمر آپ بہت برے ہیں بہت برے کیا چیز ہیں اپ ” اسنے سارے کشن اسپر پھینکا شروع کر دیے جبکہ وہ ایکدم اٹھ کر دور ہوا
اچھا سوری یار کیا تم جن بن جاتی ہو دو منٹ میں ” وہ چلایا مگر ساز کا بس نہیں چلا اسکے بال کھینچ لے
دیکھو پھر سے ناراض نہ ہونا آو میں اپنے لڈو کو پارا کروں ٹھنڈا ہو جائے گا ” وہ اسکے نزدیک آیا
ہٹ جائیں اپ اچھے انسان ہو ہی نہیں ” وہ اٹھ کر جانے لگی ۔۔۔ جبکہ اسنے اسے پکڑ لیا
تمھیں کس نے کہا تھا میں اچھا ہوں شرابی سے محبت کی تھی تم نے ٹھرک تو تمھارے اندر بھی تھی “
وہ انکھ دباتا ہنسی ضبط کرتا اسکو بانہوں میں بھر گیا جبکہ ساز اسکے سینے سے لگ کر جیسے سب بھلا گئ سکون اندر تک اتر گیا ۔۔
عمر نے اسکے سر پر پیار کیا ۔
میں نے تمھیں بہت مس کیا ہے یار ۔۔ائ لو یو ” وہ بہت تھکا تھکا سا بولا تھا بہت آرام سے کہہ دیتا تھا وہ یہ سب لیکن ساز نے اج تک نہیں کہا تھا اور عمر کو کبھی اس چیز کی ضرورت بھی نہ پڑی وہ انکھیں موندے اسے خود میں سموئے کھڑا تھا جبکہ ساز نے اسکے سینے پر ہلکا سا پیار کیا اور سرخ ہو گئ جبکہ عمر نے دور ہو کر اسے دیکھا لال سرخ ہو رہا تھا اسکا چہرہ شرم سے ۔
عمر نے اسکا چہرہ دونوں ہاتھوں کے پیالے میں بھرا اور اسکے ہونٹوں کو وہ ابھی خود میں پیوست کرتا کہ ساز نے گھبرا کر ایک قدم دور لیا ۔
ن۔۔نیچے سب ویٹ کر رہے ہیں ” وہ یاد دلانے لگی
پچھلے 7 8 ماہ سے میں ویٹ کر رہا ہوں چار ماہ میں دور رہا تو چار ماہ تم نے سزا دی ہے مجھے اب روکنے کا جواز نہیں کوئی ” اسکے بھاری وجود کو کھینچ کر وہ اپنے نزدیک کرتا اسکے خشک ہونٹوں کو چھوتا اسے اپنا گھیرہ احساس دلاتا اسکے اندر تک جیسے روح تک کو مہکا گیا تھا
ساز اسکی گردن میں بازو حائل کر گئ جبکہ عمر بے خودی میں ایسے کھویا کہ احساس نہ رہا تھا اردگرد کا ۔۔۔
نشیلی تھی کافی اسکی بیوی ” دونوں کی انکھیں بند تھیں سانسوں کی بے ہنگامی کی آواز دل کے جذبات کو بھڑکا رہی تھی اندر بے چینی تھی ۔۔۔۔
اور یہ بے چینی گھیری محبت کی گواہ تھی ساز کی سانسیں بہت پھولتی تھیں وہ عمر سے دور ہٹتی وہ تھک کر اسکے شانے پر سر رکھ گئ ۔
بس اتنے میں ہی تھک گئ “
اسکی کمر پر اپنی انگلیوں سے رقص کرتے وہ سوال کرنے لگا جبکہ ساز لبوں پر ہاتھ رکھتی مزید خود میں ہمت نہ پاتی بیڈ پر بیٹھ گئ ۔۔۔۔
ایسے ہی ڈاکٹر کے پاس جانا ہے اج میں نے تمھارے ساتھ “
کیوں ” ساز سمجھی نہیں
یہ وہیں جا کر پاتا چلے گا میرا بچہ بہت اپنی خیر بنا چکا ہے ” وہ انکھ دباتا اسکے گال پر زور سے پیار کرتا ۔۔۔ سائیڈ ٹیبل سے ٹشو اٹھا گیا ۔
اپنے ہونٹ صاف کرتے وہ اسے نیچے آنے کا کہہ گیا تھا جبکہ خود چلا گیا ۔
ساز نے گھیرہ سانس بھرا یہ کمرہ شاید اسکا پسندیدہ تھا
یہاں عمر خیام تھا اور ۔۔ ہر جگہ اسکا احساس اسکا خیال ہے ۔۔۔
وہ مسکرائی کہ لبوں پر اسکا لمس ابھی بھی ہے وہ اٹھی اپنی پھیلی ہوئی ہلکی سی لیپسٹک صاف کی اب نیچے جانا بہت مشکل لگ رہا تھا لیکن ایک نگاہ کمرے میں دوڑائی تو پلین کو کینسل کرنا پڑا کیونکہ یہ تو کمرہ نہیں اسکی لانڈری لگ رہی تھی
ہر طرف کپڑے تھے وہ نفی میں سر ہلاتی اسکا سامان سمیٹنے لگی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
ساز پچھلے دو دن سے اسے معلوم نہیں کون سا شوخ ہو گیا تھا بار بار ایک ہی بات کہہ رہا تھا کہ ڈاکٹر کے پاس چلنا ہے۔۔۔
میں ابھی ہو کر ائی ہوں عمر ” وہ نا سمجھی سے کمر پر ہاتھ رکھتی کمر سیدھی کرتی پوچھنے لگی لون میں وہ واک کر رہی تھی جبکہ عمر صاحب سکون سے اپنے ارد گرد بے شمار چیزیں رکھے کھا رہا تھا ۔۔ اور ساز تو اج کل جو کھاتی باہر الٹ دیتی ۔
تمھیں ایک بات کہہ رہا ہوں سمجھ ہی نہیں آتی ۔۔۔ ” وہ ذرا خفگی سے بولا اور اٹھ کر اسکے منہ میں فروٹس دیے تھے ۔
نہیں مجھے نہیں ” اسکی تو کبھی مانتا ہی نہیں تھا اسکے منہ میں دے کر وہ اسکی رونے والی شکل پر پیار کرتا دوبارہ بیٹھ گیا
ایک بچہ نہیں سنبھل رہا آگے کیا کرو گی “
نہیں بس اب مزید نہیں میں اسے میں تھک گئ ہوں “
ساز اسکے پہلو میں بیٹھی ہوئی لمبے لمبے سانس لیتی بولی ۔
ہیلو ایکسکیوز می ۔۔۔۔ کمر کس لو اپنی مجھے کم از کم بھی 7 8 بچے چاہیے اور یہ بلکل سچ بات ہے ” وہ اسے پھر سے فروٹ دیتا بولا ۔۔۔
ساز ایک سے ہی عاجز تھی وہ نفی میں سر ہلاتی کھڑی ہو گئ ۔۔
آپ خواب دیکھیں میں جا رہی ہوں
سوچ رہا ہوں چار شادیاں کر لوں ۔۔ 7 8 تم سے 7 8 کسی اور سے ۔۔ پھر اسی طرح اپنا ایک خاندان بناؤ گا ” وہ مزے سے بولا
ساز نے غصے سے جھک کر گملا اٹھا لیا ۔
یا اللّٰہ ” عمر فورا پیچھے ہٹا
کریں کس سے شادی کریں گے آپ ہاں ” وہ آگ بگولہ ہوتی واقعی اسکے سر پر یہ گملا پھوڑ دیتی معلوم نہیں اسے چین کیوں نہیں تھا ذرا بھی جو اسے تنگ کرنے سے باز آتا ہو ۔۔۔
بہت اچھی بات ہے پھاڑ دو سر اسکا ” پیچھے سے اتی بدر کی آواز پر ساز ذرا شرمندہ سی ہوئی
ہاں جلے کٹے لوگ ا گئے ۔۔ اور یہ جو ہنی مون کا پلین ہے نہ بدر خدا کی قسم میں تمھارا جینا حرام کر دوں گا شرافت سے یہیں رہو “
میں بتا ہی نہیں رہا کہاں جا رہا ہوں جو مرضی کر لو “
سوہا بھی بدر کی آواز سن کر باہر ا گئ
عمر کو خصوصی پروبلم تھی ان دونوں کے جانے پر سوہا اپنی ہنسی روک گئ وہ دونوں صرف ایک دوسرے سے لڑتے تھے عمر کم بستہ تھا ان دونوں بہن بھائیوں کو زیچ کرنے پر ۔۔۔۔
یہ غلط ہے ” وہ منہ بنا کر ساز کو دیکھنے لگا
آپ کو شرم نہیں آ رہی”
ساز نے ذرا گھورا عمر سر جھٹک گیا
پھر میں بھی جاوں گا “
بچے ہیں نہ آپ تو چپ ہو جائیں ” وہ بولی عمر نے اسے گھورا پھر بدر کو دیکھنے لگا جو تہہ کر چکا تھا وہ جائے گا ۔۔
عمر کی جیلسی پر بدر مزے لے رہا تھا جبکہ وہ دونوں ہنس رہیں تھیں تبھی وہاں ارہم بھی ا گیا
شادی کرنی ہے مجھے میرے بارے میں بھی سوچ لے کوئی ” وہ نارمل بولا تھا
گدھوں کی شادی نہیں ہوتی “
عمر کی زبان پر کھجلی ہوئی جبکہ وہ سب چلا اٹھے تھے ۔۔
عمر خیام ہی چبھ گیا سب کو موٹی تمھیں تو کسی دن سیدھا کرتا ہوں نہ میں ” وہ اٹھ کر بگڑ کر چلا گیا جبکہ پیچھے وہ سب مسکرا دیے تھے ۔
ارہم کچھ شرمندہ سا ساز کو دیکھنے لگا
مجھے معاف کر دو میں نے تمھیں بہت تنگ کیا ہے ” وہ بدر اور سوہا کے سامنے ہی بولا تھا
ساز کچھ نہیں بولی جبکہ سوہا اور بدر ارہم کو ہی دیکھ رہے تھے
ارہم خاموش ہو گیا ۔
ساز بنا کچھ کہے اندر چلی گئ جبکہ ارہم گھیرہ سانس بھر گیا بدر نے آگے بڑھ کر اسکا شانا تھپتھپایا
اگر کوئی سدھرنے کی کوشش کر ہی رہا تھا تو کوئی تو اس کا ساتھ دیتا ۔۔۔۔
فکر نہ کرو وقت کے ساتھ سب ٹھیک ہو جائے گا
اور بلکل تمھاری ہی تو شادی رہتی ہے دھوم دھام سے کریں گے ” وہ مسکرایا ارہم بھی مسکرا دیا جبکہ سوہا حیران تھی ۔
کیا صرف ایک انسان انکے گھر میں فساد کا سبب تھا کہ اسکے چلے جانے کے بعد سب ٹھیک ہونے لگ گیا تھا ۔۔۔ لیکن وہ اپنے باپ کے لیے بہت دعائیں کرتی تھی ۔۔۔
۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اوکے ڈاکٹر پلیز لیٹ می نو کہ ڈیورنگ پریگنینسی کین ائ انٹرکٹ وڈ مائے وائف ایف یو ؟۔
وہ بات ادھوری چھوڑ گیا اور ساز فق چہرے سے اسکو تو کبھی مسکراتی ہوئی ڈاکٹر کو دیکھنے لگی ۔۔۔
یعنی وہ اس لیے انا چاہتا تھا خود ۔۔۔
استغفراللہ کا ورد کرنے لگی تھی وہ ۔۔ جبکہ ڈاکٹر سر ہلا گئ ۔
اوکے فائین اینڈ تھنکیو سو مچ “
جیسے ڈاکٹر نے عمر کو کافی بڑی خوشی دی تھی اور وہ بے ساختہ اسکی جانب ہاتھ بڑھا گی جیسے عمر نے بھی لہک کر تھام لیا
ساز کی جانب ایکدم عمر کی نگاہ اٹھی تو فورا ہاتھ کھینچا اور ساز باہر نکل گئ
وہ اچانک ہو گیا!!! ” عمر کنفیوز سا ہوا
جبکہ ساز کو اتنا غصہ تھا کہ ایک مانگنے والی نے اسکی جانب ہاتھ بڑھایا اور ساز نے عمر کا ہاتھ اسکے ہاتھ میں تھما دیا ۔
یہ فری ہے میرے پاس لے جائیں اپ انکو ” کہہ کر وہ غصے سے گاڑی میں سوار ہو گئ
اور اس مانگنے والی نے تو عمر کا ہاتھ ہی جکڑ لیا
عمر کی شرمندگی کا لیول ہی بڑھ گیا
ہاتھ چھوڑو میرا ” وہ بگڑا جبکہ وہ اپنے دانت اسے دیکھانے لگی
عمر نے ہزار کا نوٹ تھما کر اس سے جان بچائے اور گاڑی میں بیٹھتے ہی ویٹ ٹشو سے ہاتھ صاف کر کے وہ گاڑی اگے بڑھا گیا کیونکہ وہ عورت اب اپنے گینگ کو یہ کہانی سنا رہی تھی اور سب اسکی جانب بھاگتی ہوئی آتی کہ وہ گاڑی تیزی سے بڑھا گیا
یار غلطی ہو گئ اتنی سخت سزا ” وہ پیشانی پر سے پسینہ صاف کرتا گاڑی ہلکی چلاتا بولا تھا جبکہ ساز کچھ نہیں بولی منہ پھلائے بیٹھی تھی
مجھے تو لگتا ہے ساری زندگی تمھارے قدموں میں بیٹھ کر تم سے معافی مانگی گا اتنے نکھرے ہیں تمھارے اندر “
میرے اندر نکھرے ہی نہیں ہیں تبھی آپ ایسی حرکتیں کرتے ہیں کتنے برے ہیں اپ “
وہ اسکے شانے پر مکہ مار گئ جبکہ عمر اپنا بازو سہلانے لگا
اب میں کچھ کہوں گا تو تم منہ بنا لو گی اتنی زور سے مارا ہے “
ہاں آپ تو جیسے چھوئی موئی ہیں ” وہ بولی اور پھر بےساختہ کھلکھلا دی منہ پر ہاتھ رکھے عمر گاڑی روک کر اسے دیکھنے لگا
اپکا چہرہ دیکھنے والا تھا جب اس مانگنے والی نے اپکا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں جکڑا ” وہ مزید ہنسنے لگی ۔۔۔
چھوٹا سا بے بی لگ رہا تھا جس کی مما اسے چھوڑ کر جا رہی ہوں”
وہ ہنستے ہوئے اسکے جانب دیکھنے لگی
عمر مسکراتی نگاہوں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔ جبکہ ساز کچھ شرما سی گئ
اسنے اسے بازوں میں بھرا لیا اور اسکے گالوں کو چوم لیا
تم تو ہنستی ہوئی بھی کمال لگتی ہو ۔۔۔ ” وہ بولا جبکہ ساز کے چہرے پر قوس قزح کے رنگ سے پھیل گئے ۔۔
عمر کو لگتا تھا جب وہ اسے سینے میں بھرتا ہے تو اسکا سینہ جیسے ٹھنڈا ہو جاتا ہے ۔۔
تادیر وہ اسے یوں ہی لگائے بیٹھا رہا ۔۔ ساز بھی پر سکون تھی ۔۔۔
چلو چلتے ہیں کہیں دور تمھارا بھائی کیا سمجھتا ہے وہ ہی جائے گا ہنی مون پر “
عمر کچھ دن کی بات ہے اپ اتنے اتاولے کیوں ہو رہے ہیں ” وہ ذرا شرما سی گئ ۔
یہ تو میری بے اتاولیوں کی انتہا تمھیں اچھے سے بتائے گی “
کہ میرے اندر کیا ہے فلحال میرا گھر جانے کا پلین نہیں ” بری بات ہے ان لوگوں نے جانا ہے اور ارہم بھائ کی شادی بھی فائنل ہو گئ ہے ایسے نہ کریں “
اب تو اور مزا آئے گا ” وہ انکھ دبا گیا ساز کے پاس کوئی علاج نہیں تھا اسکا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسوقت وہ اسلامہ آباد کے مشہور ہوٹل میں تھے
ساز کو علم ہی نہیں تھا عمر اسکے لیے کوئی سرپرائز پلین کیے ہوئے تھا وہ جیسے ہی روم میں داخل ہوئے تو پھولوں کی مہک نے شاندار استقبال کیا وہ شوز اتار کر ان ٹھنڈی پھولوں کی پتیوں پر چلتی ہوئی اگے خود ہی بڑھ گئ ۔
اسکے لبوں پر اپنے آپ مسکان پھیل گئ ۔
وہ مڑ کر اسے دیکھنے لگی جو دیوار سے ٹیک لگائے کھڑا سینے پر ہاتھ باندھے اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔
جبکہ روم لاک کر چکا تھا اسنے کمرے کی لائٹس کو ڈم کر دیا ۔
ماحول میں خود با خود بھاری پن سا اترا اور عمر خیام کے اسکی جانب بڑھتے قدم ساز کے دل پر جیسے پڑ رہے تھے ۔۔۔
بہت دنوں بعد وہ یوں اسکے رو با رو تھا اسکی بے چینی اسکی آنکھوں میں دیکھی جا سکتی تھی ۔
ساز نے دو قدم دور لیے اور قدموں کو دور لیتی وہ باہر نکل ائی ۔۔ ٹھنڈی ہوا نے اسکے وجود پر ایک کپکپی سی طاری کر دی ۔۔۔ اور اچانک اسے احساس ہوا اسکے قدموں کو پانی نے چھوا ہے اسنے جھک کر دیکھا ۔۔ وہاں پول تھا جس کے بے حد نزدیک تھی وہ ۔۔ یہ چھوٹا سا تھا کافی خوبصورت وہ سامنے سے اسی کی جانب قدم بڑھاتا ا رہا تھا یہاں تک کے ٹھنڈی ہوا اور پورے چاند کی روشنی نے ان دونوں پر اپنا اثر چھوڑا ۔
جب وہ دونوں چاند کی روشنی میں پول کے نزدیک کھڑے تھے پانی ان کے پاؤں کے قریب آہستہ آہستہ لپک رہا تھا اس نے اس کی طرف دیکھا۔اس کی آنکھیں انگاروں کی طرح جل رہی تھیں عمر کی نظروں نے اس کی نظروں کو جلانے کی کوشش کی تھی یہ بہت مختلف تھا ۔۔ جیسے وہ کسی نئی نویلی دولہن کی طرح اس سے شرما رہی ہو ہوا ارد گرد بوجھل پن بھاری پن بڑھا رہی تھی وہ کچھ بول نہیں رہا تھا معلوم نہیں کیوں ؟
کچھ کہنا چاہتی ہو یہ گھبرا رہی ہو ” اس نے اس کے کان کے پیچھے ایک تار نما چیز پھیر دی ساز کے وجود پر عجیب احساس طاری تھا وہ ہلکے ہلکے کانپنے لگی تھی ۔۔۔
جبکہ وہ اسے مزید کنفیوز کرنے کو اپنے انگوٹھے کی مدد سے اسکے چہرے پر ایک سطر کھینچ گیا جیسے ایک فصیح وہم کا وعدہ۔
وہ کانپ رہی تھی ساز کا دل ایک دھڑک کے ساتھ رک گیا جب وہ اس کے چہرے کے قریب ہونے کے لیے جھکا اس کے ہونٹ کو نرمی سے خود میں بھر لیا ۔۔۔
ان کے آس پاس کی دنیا ان کے لیے پگھل گئی صرف ان دونوں کو چھوڑ کر جو ایک لمحے میں ایک دوسرے کے ہو گئے تھے ۔۔عمر کے عمل کی شدت اسکے اندر جذبات کی بے چینی کو بازگشت کر رہی تھی وہ اسکی طبعیت کا احساس کرتے ہوئے نرمی سے دور ہوا ۔۔۔ لبوں کی تراش میں مسکراہٹ تھی۔۔اور ساز پریشانی سے خود کو سنبھالنے کی مبہم سی کوشش میں تھی
چند لمحوں کے لئے وہ ایک دوسرے کے سامنے کھڑے رہے چاند کی روشنی میں نہائے پانی ان کے قدموں کے قریب بار بار ا رہا تھا اور سردی کا احساس بھی بڑھ رہا تھا اس کے بعد وہ اس کے قریب آ گیا اس کی آنکھیں ساز کو بھی اسی مدہوشی میں قید کر رہی تھیں جس میں عمر خیام تھا ۔
اس نے اس خاموشی کو توڑتے ہوئے اس کے بالوں کو اس کے کان کے پیچھے ڈالا اس کی انگلیاں اس کے چہرے کو چھوتیں وہ اس کے قریب آ گیا اس کے ہونٹ اس کے ہونٹوں کے قریب آ گئے۔
ان کے آس پاس کی دنیا ختم ہو گئی صرف وہ دونوں باقی رہ گئے اس نے سرگوشی کی اس کی آواز جذباتی تھی
میں اتنے عرصے سے یہ کرنا چاہتا تھا وہ مسکرائی اس کی آنکھیں اس پر جم گئیں
اسکی مسکراہٹ نے عمر خیام کو ضبط کا ہر بندھن توڑنے پر مجبور کر دیا اور وہ جھکا ۔۔ اور اسے اپنے بازوں میں مبھر لیا ۔
ساز کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسی سی دوڑ گئ ۔۔۔ وہ اسے لیے اندر ا گیا ۔۔
پھولوں کی خوشبو نے ایک بار پھر بوجھل پن سا بھر دیا
پہلے ہی سب مختلف اور انوکھا لگ رہا تھا عمر نے اسکی طبعیت کا احساس کرتے دروازے بند کر دیے کہ باہر کی ٹھنڈی ہوا نہ آئے ۔۔
جب اس نے اسے بستر پر لٹا دیا تو کمبل کی نرمی نے ساز کو لپیٹ لیا وہ احساس بھی کر رہا تھا اور خود کو روک بھی نہیں پا رپا تھا وہ اسکی حالت پر کچھ مسکرا اٹھی وہ خود بھی اسکے پہلو میں لیٹ گیا اس کے ہونٹ اس کے کان سے سرگوشی کر رہے تھے
تم بہت خوبصورت ہو ” یہ بات معلوم ہے مجھے” وہ ہلکا سا مسکرائی عمر نے ائ برو اچکائی ۔۔
مغرور ہو رہی ہو ” وہ اسکی ناک کھینچ گیا ۔۔
آپ نے ہی کیا ہے ” اہستگی سے کہہ گئ جبکہ عمر کی انگلیاں اسکے بازو پر ناچ رہی تھیں، ۔۔
اسنے نرمی سے پھر اسکی سانسوں کو چھوا باہر کی دنیا پگھل گئی وقت ساکت کھڑا تھا کہ وہ ایک دوسرے کی بانہوں میں گم ہو گئے ۔۔۔
عمر نے اسے اپنے قریب کھینچتے ہوئے اس کا ہاتھ اپنی کمر پر محسوس کیا اس کے ہونٹ اس کے خلاف ٹکرا گئے اس کی ریڑھ کی ہڈی میں کپکپی تھی اس کا دل جوش سے دھڑک رہا تھا۔
مجھے پاگل کر رہی ہو تم ۔۔ شاید اس حالت میں پہلے سے بھی زیادہ “
وہ خماری میں بولا ساز کی دھڑکنیں کمرے میں بڑی واضح گونج کے ساتھ تھیں اس کے ہاتھ آزادانہ طور پر گھوم رہے تھے وہ آہستگی سے لب دبا گئ اس کی انگلیاں اس کے بالوں میں الجھ رہی تھیں اسے اپنے قریب کھینچ رہی تھیں۔۔۔۔
اسکی سرگوشیاں پاگل کر رہیں تھیں ۔۔۔
محبت میں شدت بھرا اضافہ تھا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ فاونڈیشن سے چھپانے کی کوشش میں تھی وہ سب جو عمر اسے تحفہ سمجھ کر دے رہا تھا روز کے روز ۔۔۔۔
اس دن بھی اسے سوہا کے سامنے شرمندگی ہوئی تھی ۔۔ پھر پارلر واہ نے تو کہہ بھی دیا آپکے شوہر کچھ زیادہ ہی محبت کرتے ہیں آپ سے وہ شرم سے دھری ہو گئ تھی اور آج بارات تھی ارہم کی وہ خود ہی کچھ نہ کچھ کرنے کی کوشش میں تھی
بابو پارلر نہیں گئ تم کیا آٹا لگا رہی ہو خود سے “
وہ پیچھے سے اسے بازو کے ہلکے میں لے کر اسکے شانے پر ٹھوڑی رکھ کر ائینے میں اسکا عکس دیکھتا سوال کرنے لگا ۔۔۔
عمر تھکا دیا اپ نے مجھے یہ سب بھی خود کرنا پڑ رہا ہے ” وہ رونے والی ہوئی ۔۔
ہیں ۔۔ ہیں کیوں رویا جا رہا ہے ” وہ اسکا چہرہ موڑ گیا
آپ یہ یہ نشان دیکھ رہے ہیں “
ہاں نہ میری محبت کے ہیں میری جان “
عمر ” وہ پاوں پٹخ گئ
سب مذاق بناتے ہیں میرا کہ تم ہر وقت اسی کام میں لگی رہتی ہو ایزہ سوہا بھابھی صنم ” وہ منہ بنا گئ جبکہ گال پر آنسو بھی غیر گیا
اب اس معصومیت پر عمر خیام جان بھی دے دے کم نہیں ہے ” وہ قہقہہ لگاتا ہنسا اور ساز کو سینے میں بھر لیا
میں پوچھتا ہوں ان سب سے کیا پروبلم ہے کیوں تنگ کرتی ہیں”
اچھا آپ خود کو نہیں روکیں گے”
کبھی نہیں” وہ سرگوشی کر گیا ۔
دور ہو جائیں آپ مجھ سے ” وہ چیڑ کر بولی جبکہ عمر کی ہنسی کمرے میں گونج گئ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈیڈ ” شدت سے رو رہے تھے وہ اسکی پکار پر ۔۔ انھوں نے اپنے زخمی
ڈیڈ ” شدت سے رو رہے تھے وہ اسکی پکار پر ۔۔ انھوں نے اپنے زخمی ہاتھ آگے بڑھائے
عمر مجھے بچاؤ ” اور اتنا کہنا تھا عمر ایکدم اٹھ بیٹھا
یہ خواب اسے بہت وقت سے ا رہے تھے پہلے وہ اگنور کرتا جا رہا تھا لیکن اب ان خوابوں میں شدت بڑھ گئ تھی ۔۔۔
اسنے ساز کی جانب دیکھا وہ پیٹھ موڑے سو رہی تھی ڈاکٹر نے دو دن تک ٹائم دیا تھا ۔۔
وہ کافی پریشان تھی ڈر رہی تھی ۔۔ اور بہت دیر بعد سوئی تھی عمر اسکے پہلو سے اٹھا اور کمرے سے نکل گیا ۔
اسنے گھیرہ سانس لیا اور اسے کوئی شدت سے روتا ہوا محسوس ہوا ۔۔ وہ اس آواز کے تعقب میں نیچے آیا۔۔۔۔ اور اسنے ڈیڈ کے کمرے میں جھانکا
تائی جان تڑپ کر رو رہی تھی ۔۔
وہ آج تک ان سے مخاطب نہیں ہوا تھا ۔۔۔
بے ساختہ اسکے قدم انکی طرف اٹھے اور وہ انکے سامنے بیٹھ گیا
انھوں نے ہاتھ ہٹائے اور عمر کی جانب دیکھا انسوؤں سے تر تھا انکا چہرہ ۔۔۔۔
اپنے انسو پونچھ کر وہ خاموش ہو گئیں
تمھارے ابو آتے ہیں خوب میں پریشان کرتے ہیں کہتے ہیں مجھے بچاؤ ۔۔۔
کیسے بچاو میں انھیں ” عمر کی انکھیں سرخ ہو گئیں پیشانی کی رگیں پھولنے گئیں
تم انھیں معاف کر دو ” وہ ہاتھ جوڑ گئیں جبکہ عمر انکے سسکنے پر پتہ نہیں کیسے ۔۔
انھیں اپنے بازو میں بھر گیا اور وہ بے تماشہ رو دیں
معاف کر دو انھیں عمر ۔۔ میں کیا کروں مجھے یہ خواب چین نہیں لینے دے رہے ۔۔۔
وہ تڑپ اٹھیں جبکہ عمر کی انکھوں سے انسو گرنے لگے وہ بھی پہلی بار کسی کے سامنے بچوں کیطرح رویا تھا
انھوں نے اسکے آنسو صاف کیے
کیا وہ تمھارے خواب میں بھی آتے ہیں وہ سر ہلا گیا ۔۔۔
تم معاف کر دو نہ ” وہ بہت پیار سے بولیں تھیں ۔۔
کر دیا ” وہ بولا ۔۔ انھوں نے اسکے آنسو صاف کیے
بہت بڑا دل ہے تمھارا عمر “
آپ بھی مجھے معاف کر دیں ” وہ نگاہیں انپر ڈالتا بولا
میں نے آپکے شوہر کو “
میں نے تمھیں اپنے شوہر کا خون معاف کر دیا میری دعا ہے اللّٰہ بھی تمھیں معاف کر دے گا تم نماز پڑھا کرو “
پڑھتا ہوں “
لیکن یہ بات اپ کسی کو نہیں بتائیں گی ” وہ راز سے بولا
اچھا ” وہ ہلکا سا مسکرائیں
ہاں ۔۔ جب یہاں سے گیا تھا شراب چھوڑ دی تھی یہ خواب مجھے تب سے آتے ہیں اور میں توبہ کر رہا ہوں “
اللّٰہ تمھاری توبہ قبول کرے گا ۔۔ انشاءاللہ ۔۔۔۔۔ ” وہ اسکے بال بکھیر گئیں
ایک درخواست تھی بیٹا تم سے “
جی ” وہ اٹھتے اٹھتے رکا
ارہم چھوٹا ہے اس سے نفرت نہ کرنا کبھی نا سمجھ ہے ” وہ بولیں جبکہ وہ ۔۔ انکی جانب دیکھتا رہا کچھ دیر پھر سر ہلا گیا ۔
کل کوئی ختم قرآن خوانی کرا لیجیے گا ” وہ بول کر باہر نکلنے لگا کہ وہ پھر روک گئیں
تم اپنے ابو کا کاروبار سنبھال لو ۔۔ “
آہ ” وہ اس بات میں ذرا توقف لے گیا
میں دوکاندار تو نہیں لگتا ” وہ بولا تو وہ ہولے سے مسکرائیں وہ سر ہلا گئیں
چلیں کوشش کروں گا ” وہ مان گیا تھا وہ اگے بڑھ کر اسکی پیشانی چوم گئیں
تمھاری ماں بہت خوش نصیب ہے بہت بخت والے ہو تم ۔۔ اور دیکھنا تمھارا بیٹا بھی بہت بخت والا ہو گا
میں بہت دعا کروں گی تمھارے لیے تم بھی اپنے لیے کرنا اللّٰہ راضی ہو جائے گا وہ بہت محبت کرتا ہے اپنے بندوں سے ” وہ بولی تو وہ سر ہلا گیا ۔
انشاءاللہ ۔۔ ” اسنے کہا جبکہ باہر نکل گیا ۔
ساز وہیں کھڑی تھی انکھوں میں سرخی لیے اسے دیکھنے لگی
چوہیا ہو تم کہیں بھی گھس جاتی ہو ” وہ ذرا کنفیوز سا ہوا کسی کو بتانا نہیں چاہتا تھا یہ بات ۔۔۔۔
ائ لو یو عمر ” وہ اگے بڑھا اور اسکے سینے سے لگتی گردن میں جھولتی گئ
کچھ تو شرم کرو وہ ہمیں دیکھ لیں گی ” وہ اسے لیے دیوار کی اوٹ میں ہوا
آپ نے شراب چھوڑ دی ” وہ خوشی سے اسکے گال چوم گئ ۔۔
واہ بھئ موٹی اتنے تحفے اتنی سی بات پر “
میں بہت خوش ہوں ” وہ مسکرائی ۔۔
جبکہ عمر ہنس دیا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
The end ۔۔
