Ek Ana Parast By Tania Tahir readelle50024 Episode 16
No Download Link
Rate this Novel
Episode 16
فون بند کیا ۔۔۔۔
معلوم نہیں یہ رشتہ کب سے تھا لیکن بہت اچھا تھا
عمر کو ذہنی اذیت سے نکال دیتا تھا وہ اٹھا اور اچانک اسکی نگاہ ان بیگز پر گئ
پھر یاد آیا کہ وہ اپنا غصہ اندر اتار کر باہر نکلا تھا وہ کچن میں آیا
وہ کیبنیٹ سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی رو رہی تھی اور اسکا وجود واضح کپکپاہٹ میں تھا
وہ گھیرہ سانس بھرتا اسکے نزدیک ا گیا
ہے ” اسنے اسے بنا چھوئے پکارہ
ساز کو اسکا چھونا پسند بھی نہیں تھا عمر نے محسوس کی تھی یہ بات ۔۔۔ وہ جھٹکے سے سر اٹھا گئ
بڑی بڑی آنکھوں میں ایک سمندر سا تھا پسینے سے چہرے پر چپکے بال اور اسکی خوفزدہ نظریں ۔۔۔ وہ باکمال حسن رکھتی تھی اور رنگت تو ایسی تھی کہ جیسے اسکے گالوں میں رس گولوں سا رس ہو ایکدم اسنے اسکے چہرے سے نگاہ پھیری وہ کچھ زیادہ ہی سوچ رہا تھا
آپ اپ کو کچھ چ۔۔چاہیے”
میں میں ناشتہ بنا دیتی ہوں” وہ جلدی سے اٹھی
عمر نے دیکھا اسکے پاؤں سرخ ہو رہے تھے اور جیسے منظر دماغ میں گھوما
وہ پین اسکا آئل ساز کے پاوں پر گیرا تھا ” وہ ایکدم جیسے پریشان سا ہوتا اسکے نزدیک ہوا
وہ چل بھی لڑکھڑا کر رہی تھی
تمھارے پاوں جل گئے ہیں” اسکے لہجے میں فکر تھی
ساز نے جھک کر اپنے پاوں کو دیکھا کیا واقعی ایسا تھا گورے گورے پاؤں بلکل سرخ تھے
وہ جیسے بے نیاز تھی اس بات سے جیسے یہ سب تو ہوتا ہی رہا ہے
وہ پین تمھارے پاوں پر گیرا تھا ” وہ جھکا اسکے پاوں کو چھوا ساز جھٹکے سے دور ہوئ عمر نے ہاتھ کھینچ لیا
وہ کچھ نہیں بولی اپنا گال صاف کیا
آپ اپ باہر بیٹھ جائیں میں لے ۔۔ لے آتی ہوں ناشتہ “
ایم سوری” اچانک ہی شرمندگی سے اسنے جیسے کہا ساز اسے دیکھتی رہ گئ
ایم ریلی سوری میں تمھیں ہرٹ نہیں کرنا چاہتا تھا “
وہ بولا ساز کو کسی نے پہلی بار غلطی پر معذرت کی تھی
وہ ابھی کچھ دیر پہلے کے اسکے الفاظ سوچنے لگی
وہ تو غلطیاں کرتا ہی نہیں تھا ” وہ نظریں پھیر گئ
اپنے آپ انداز میں ناراضگی ا گئ
آپ غلطیاں تو نہیں کرتے” اسنے کہا اور شیلف پر گیرہ آئل صاف کرنے لگی جبکہ وہ لب دبا گیا
ہاں نہیں کرتا ۔۔ لیکن بے دھیانی میں ہوئ ہے یہ تبھی معافی مانگ رہا ہوں اور میں واقعی تمھیں ہرٹ نہیں کرنا چاہوں گا ” وہ اسکی جھکی جھکی پلکوں کو دیکھنے لگا
اس بات سے کوئ فرق نہیں پڑتا یہاں بہت سارے لوگ ایسا ہی کرتے ہیں آپکی والدہ آپکی بہن اور آپکے والد بھی
کوئ پلٹ کر مجھ سے تکلیف کتنی ہوئی سوال نہیں کرتا تبھی یہ ٹھنڈا تیل مجھ پر گیرا مجھے احساس نہیں ہوا
اپ شرمندہ نہ ہوں میں یہ سب روز برداشت کرتی ہوں” وہ سنجیدگی سے بولی اور آگے بڑھ کر فرائ پین جو زمین پر پڑا تھا اٹھا لیا
عمر خاموشی سے اسے دیکھنے لگا ۔۔
تمھیں میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ وہ میری ماں نہیں ہے”
تو اور کون ہیں”
تمھاری تائی ” وہ بولا اور حسب عادت شیلف پر چڑھ گیا
بہت شکریہ بتانے کے لیے” وہ چیڑ گئ
اچھا تو ناراض ہو تم مجھ سے” وہ اسکی صورت تکنے لگا
ساز نے حیرانگی سے اسکی شکل دیکھی
میں کبھی کسی سے ناراض نہیں ہوئ” اسکی آنکھوں میں حیرانگی تھی
بڑی بڑی آنکھوں والی پری تم ناراض ہو جاؤ میں منا لوں گا ” وہ سرخ سی ہوئ جبکہ وہ مسکرایا
اچھا چلو اپنے پاوں پر کچھ لگا لو “
نہیں میں ٹھیک ہوں ” وہ جھجھکتے ہوئے بولی
عمر خاموش ہو گیا
خاموشی سے اسے دیکھنے لگا جس کے چہرے پر اسکے دیکھنے سے ہی پسینہ پھوٹنے لگا تھا وہ ہنس دیا
تم ناشتہ لے کر آؤ میں اونٹمنٹ منگواتا ہوں کبھی کھڑے کھڑے پگھل جاؤ”
وہ سر نفی میں ہلاتا باہر نکل گیا جبکہ ساز کا چہرہ سرخی بکھیر رہا تھا اسنے اپنے چہرے پر ہاتھ رکھا اور گھیرے گھیرے سانس لینے لگی
اپنے پاوں دیکھے ۔۔ ٹھیک تو تھے جبکہ سرخ تھے مگر ہمیشہ اتنی سرد مہری اور بے حسی سہی تھی کہ اسکی توجہ نے عجیب ہی احساس میں مبتلہ کر دیا
وہ کنفیوز سی تھی
ساز” اسکے پکارنے پر ایکدم دل دھڑکا
یہ سب کیا ہو رہا تھا
باہر آؤ تم بھی بت بن جاتی ہو ” اسنے اونٹمنٹ تلاش کر ہی لی تھی
اگر شرابی کے ہاتھوں سے لگوانی ہے تو حاضر ہوں ورنہ لگا لو ” وہ شانے اچکا کر بولا
ن۔۔۔نہیں” اسنے اونٹمنت لی اور خود ہی لگا لی
جزاک اللّٰہ ” اسنے کہا عمر نے اسے غور سے دیکھا مسکرایا اور شانے اچکا کر اوپر کی سمت چلا گیا
پیچھے ساز اپنے پاوں کی انگلیاں ہلانے لگی
لبوں پر مسکراہٹ تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات گئے اداسی سے اکیلے گھر میں وہ صوفے پر بیٹھی پلکیں جھپکا جھپکا کر بوریت کے احساس سے اب رونے کو تھی
عمر کب گھر سے چلا گیا تھا اسے خبر نہیں تھی
اسکے پاوں اب ٹھیک تھے کھانا بھی بنایا تھا اسنے مگر اسنے نہیں کھایا تھا کیونکہ وہ گھر پر تھا ہی نہیں نہ ہی بدر بھائی اب تک آئے تھے اسے امی کی یاد ا رہی تھی ٹھیک تھا باقی سب بھی اسے تنگ کرتے تھے زیچ کرتے تھے لیکن گھر میں چلنے پھرتے تو تھے سارے کام بھی جلدی جلدی ہو جاتے تھے وہ بہت بوریت محسوس کر رہی تھی ۔
اداسی سے رونے لگی اسکے گالوں پر آنسو بہنے لگے آج اسنے اپنی شاپنگ بھی الماری میں لگا لی تھی اور جتنی خوش وہ شاپنگ کو لے کر تھی اتنا ہی اب اداس ہو چکی تھی کیونکہ اسکے اردگرد تو کوئی بھی نہیں تھا
اسے اندازا ہوا تھا انسان چیزوں سے ایک حد تک خوش ہوتا ہے لیکن اصل خوشیاں تو انسان کو انسان سے ہی میسر آتی ہیں وہ سوچنے لگی
اسنے گھڑی کی جانب دیکھا رات کے گیارہ بج رہے تھے وہ کب سے ایسے ہی منہ اٹھا کر بیٹھی تھی اب رونے لگ گئ تھی بدر نے کہا تھا وہ دیر سے آئے گا
اور چند ہمدردی کے الفاظ یہ تو نہیں ثابت کرتے عمر کو اسکی پرواہ ہے چار دن بھی بمشکل وہ ایک دوسرے کو جانتے تھے وہ ایک لمہے کے لیے اسے سوچنے لگی
کافی مختلف تھا لیکن بہت شراب پیتا تھا کتنی گندی عادت تھی یہ حرام پی کر کوئ انسان سکون میں کیسے رہ سکتا ہے
پھر لڑکیوں سے تعلقات اور ہاں اسے یاد آیا وہ نور اسنے کہ تھا وہ اسکی گرل فرینڈ ہے وہ بجھ سی گئ
کتنی عام باتیں تھیں یہ اسکے لیے ” وہ استغفار کا ورد کرنے لگی
اور معلوم نہیں کب اسکی صوفے پر ہی آنکھ لگ گئ
اسکی انکھ کسی کھٹکے پر کھلی تو اپنے ارد گرد اتنا اندھیرہ پا کر جھٹکے سے اٹھ بیٹھی
امی ” بے ساختہ خوفزدہ ہو کر لبوں سے نکلا
ام۔۔امی” وہ اٹھ گئ اسنے چیزیں ٹٹولی نیند سے یوں ایکدم جاگنے پر اتنا اندھیرا اسکے دل پر وحشت کرنے لگا
باہر سے ٹھنڈی یخ ہوا ا رہی تھی اسے جھرجھری سی آئی
ل۔۔لائیٹ چلی گئ” وہ ایکدم سوچنے لگی وہ تو اپنی ماں کے پہلو سے لگ جاتی تھی جب ایسا کچھ ہوتا تھا
وہ جلدی سے بھاگ کر لون میں ا گئ کیونکہ لون میں ہی کچھ چاند کی روشنی تھی
بدر بھائی” وہ رونے لگی
امی” اور اسکی سسکیاں لون میں گونجنے لگیں اچانک ایک سایہ سا گھر کی دیوار پھلانگتا ہوا دیکھا تو اسکی آنکھیں پھیل گئیں
چ۔۔۔چور” ذہن میں پہلا خیال کندہ
چ۔۔۔چور” وہ جیسے حق و دقت تھی وہ سایہ گھر کے اندر کود چکا تھا ساز پلٹی پیچھے بھاگی
وہ کیا کرے چور ۔۔ چور اسے لے جائے گا اور ایسے حالت میں لڑکی کی عزت اسکا چھوٹا سا دماغ بڑی تیزی سے بھاگ رہا تھا اسنے لون میں پڑے ڈنڈے اٹھائے
وہ چور ڈوبتے ہوئے قدموں سے اندر کی جانب بڑھ رہا تھا
کہ ساز نے اسے ڈنڈے کھینچ کھینچ کر مارے اتنے مارے اتنے مارے کہ عمر کا سارا نشہ ہوا ہو گیا
وہ کراہ اٹھا چلانے لگا
میں تمھیں جان سے مار دوں گی اکیلے لڑکی کو دیکھ کر گھر میں کود رہے ہو
تمھیں پتہ بھی ہے میں ۔۔ میں کون ہوں “
م۔میں کون ہوں” وہ خود ہی سوچ میں پڑ گئ لیکن یہ بات سوچنے کا وقت تھا بھلا اسنے پھر ڈنڈے مارے
ساز” عمر دھاڑا اور ایکدم لائیٹ بھی ا گئ
ساز کا ہاتھ ہوا میں معلق رہ گیا
اہ” وہ اپنا بازو سہلاتے ہوئے لون میں ہی چت لیٹ گیا اور آنکھیں بند کر لیں جیسے سانس بھی نہ لے رہا ہو
ساز نے فورا ڈنڈا پھینکا
یا خدایا ” وہ ایکدم دور ہوئ
لیکن عمر کے وجود میں حرکت بھی نہیں ہوئ تھی
دوسری طرف ساز کی بھکلائی ہوئ صورت وہ پریشانی سے ادھر ادھر دیکھنے لگی
س۔۔۔سنیے سنیے اپکو کیا ہوا ہے ” ڈنڈوں سے اچھی خاصی اسکی چھتر پریڈ کر کے سوال کی معصومیت پر انتہا تھی
سنیے آپ اپ ایسے کیوں لیٹ گئے ہیں” وہ رونے کو تیار تھی
عمر خیام تو دم ایسے کھینچ گیا جیسے بلکل ہی مر گیا ہو ساز اسکے پاس بیٹھ گئ
آپ ۔۔ اپ مر گئے ہیں” وہ بھرائے ہوئے ڈگمگاتے لہجے میں بولنے لگی وہ نشے میں بھی اپنی ہنسی ضبط کر گیا
آپ کیسے مر گئے ڈنڈوں سے کون مرتا ہے اپ چوروں کیطرح آئے ہیں
آپکی موت میں میرا کوئ قصور نہیں ہے” وہ بولی جبکہ فاصلہ اب بھی برقرار تھا
لیکن میرے مرنے پر تم بیوہ ہو جاؤ گی چار مہینے گزارنے پڑیں گے عدت میں کیوں مارنا چاہتی ہو بھلا تم مجھے” وہ اپنا بازو سہلاتا بولا جبکہ ساز نے جلدی سے اسے دیکھا
آپ ٹھیک ہیں “
ہاں بھئی ہڈیاں توڑ کر پوچھ رہی ہو ٹھیک ہوں ہٹو اب یہاں سے ” وہ اٹھ کر بیٹھ گیا لون میں ہوا خوبصورت چل رہی تھی
اچانک اسکے سیل پر ایک مسیج آیا اور اسنے جوش سے ۔۔
یس ” کیا جیسے کسی بات کی خوشی اسے ملی ہو ساز اسے دیکھنے لگی
اوہ یس ۔۔۔ وہ اٹھا اور ایک تیز گاڑی کی آواز جو ساز کے دل کو ڈگمگا دیتی تھی ہارن دینے لگی عمر نے دروازہ کھولا اور ایک ڈرائیور اور نہایت مہنگی گاڑی جسے دیکھ کر ساز کو چکر آنے لگے دیکھ کر وہ تو دروازہ ہی تھام گئ
اوہ یس تھینکس برو ” وہ چابی لیتا جلدی سے اپنی گاڑی میں سوار ہوا
تھینکس تھینکس ” کال اٹینڈ کرتے ہی وہ بولا جبکہ دوسری طرف اسکے اتنے خوش ہونے پر جیسے سکون سا کسی کے اندر اترا تھا
ایم ایویں دئیر ٹو گیا یو بیسٹ ٹائم” وہ بولا
عمر مسکرایا
انجوائے کرو ” کہہ کر کال ڈسکنیکٹ کر دی
عمر نے گاڑی کو اندر باہر اوپر نیچے دیکھا اور گاڑی سٹارٹ کر لی
ائ ڈونٹ وائٹ ڈرائیور یو مے گو ناو ” وہ سنجیدگی سے بولا تو ڈرائیور سر ہلا کر سے کاغذات تھماتے چلا گیا جبکہ عمر کافی خوش دیکھائ دے رہا تھا
ساز اسے ایک عام سی لڑکی کیطرح جھانک کر دیکھ رہی تھ
کسی انسان کے لیے خوشیاں کتنی سستی ہوتی ہیں وہ جانتی نہیں تھی اسنے کس سے بات کی تھی لیکن وہ جو بھی تھا اسکی خواہش کو کتنی آسانی سے لمہوں میں پورا کر گیا تھا
اسنے حسرت سے دیکھا اور ہلکا سا مسکرائی اور پلٹ گئ
ہے بیوی ” وہ کھڑکی میں سے جھانکا
وہ مڑی ۔۔۔
ا جاو ابھی نہیں بیوہ کرو گا تمھیں ۔۔ تمھیں اپنے خوابوں کی سیر کراتا ہوں” وہ بولا
جبکہ ساز نے دروازے بند کئے
مگر رات بہت ہو گئ ہے اتنی رات کو تو مجھے گھر سے نکلنے کی اجازت نہیں ہے” وہ اداسی سے بولی
تم پر پابندی کس نے لگائی ہے” وہ گاڑی کی کھڑکی سے جھانک کر بولا
تایا جان نے” وہ بولی
بھار میں گیا تمھارا تایا میں نے سنا ہے شوہر کے حقوق بیوی پر بہت ہوتے ہیں میں تمھیں کہتا ہوں آج جہاں تمھارا دل کرے جاؤ اور جو تم سے کچھ کہے مجھے بتانا ” وہ جانتی تھی وہ خوشی میں بہک رہا ہے بھلا ایسا بھی ہوتا ہے حکمران یہاں تایا جان تھے
آپ خوش ہیں “
میں سریس ہوں” وہ سنجیدگی سے دیکھنے لگا
یہ ہی بات تایا جان کی آنکھوں میں دیکھ کر کہہ سکتے ہیں” معلوم نہیں وہ اس سے اتنی جراح اتنی بحث کیوں کرتی تھی جبکہ اسکی عادت نہیں تھی یہ ۔۔۔
وہ کسی کے آگے نہیں بولتی تھی اور اسکے آگے زبان اپنے آپ کھل جاتی تھی شاید اسنے خود سے اسے فری سا کر لیا تھا
تم میرا موڈ خراب کر رہی ہو ” وہ سنجیدگی سے بولا ۔۔
تبھی وہاں عمر کی بائیک بھی آ گئ عمر نے ان دونوں کو دیکھا ساز گھبرا گئ پیچھے ہوئ ۔۔۔
بدر خاموشی سے اندر ا گیا
بھائ ایم سوری” وہ جلدی سے اسکا بازو تھام بولی
کس بات کا بھئ” وہ اسکی جانب دیکھنے لگا یہ بات عمر کو بڑی طرح کھلی تھی اور اس شدت سے چبھن تھی کہ وہ گاڑی میں بیٹھا ان دونوں کو ہی دیکھ رہا تھا
آنکھوں میں سرد تاثر تھا وہ اپنے بھائی سے بات کر رہی تھی
ساز نے بتایا کہ عمر سے اس وقت باہر لے جانا چاہتا ہے
جس پر بدر نے شانے اچکائے تمھارا شوہر ہے میں نے کہا ہے نہ پہلا حق اسکا ہے تم پر” اسنے ساز کو سمجھایا
دیکھو تمھارے خواب تھے نہ یہ ” بدر نے اسے کہا تو وہ سانس کھینچ گئ
مگر تایا جان”
یہ انھیں کی اولاد ہے ساز اور اگر گھر میں کوئ اب سے ٹکر لے سکتا ہے وہ صرف عمر ہے عمر خیام خود ہی لے سکتا ہے تم مت گھبراو ” اسنے کہا ساز کے دل کو کچھ ہمت ہوئ وہ پلٹی
عمر سے نگاہ ملی اور ساز اس سے پہلے باہر نکلتی عمر گاڑی آگے لے گیا ۔
ایکدم ساز کو منہ سا اترا
بدر سمجھ گیا تھا بھلے وہ ان لوگوں کے ساتھ انولو نہیں تھا لیکن پوری پوری انا رکھتا تھا ۔۔۔ ایسا ہی ہونا تھا
ساز نے شرمندگی سے مڑ کر بھائی کو دیکھا
تم جب اسے اہمیت نہیں دو گی تو وہ پھر عمر خیام ہے”
بدر کی بات پر وہ سر جھکا گئ اور بدر نے اسکے شانے پر ہاتھ رکھا اور اسے اندر لے آیا وہ اسے بہت کچھ سمجھا رہا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاہنواز نے مسکرا کر سامنے دیکھا
ایزہ نے اسکے آگے کھانا رکھا تھا اسکے چہرے پر سنجیدگی چھا گئ
تمھاری طبعیت ٹھیک ہے” وہ بولا لہجہ سنجیدہ تھا
ج۔۔جی” اسنے کہا تو شاہنواز سر ہلا گیا
ایزہ اسکے سامنے ہی کھڑی تھی اسنے ہاتھ روک کر اسکی جانب دیکھا
وہ” وہ پریشان سی ہوئ
اسکا یوں دیکھنا بھی تو عام بات نہیں تھی
کیا ؟ وہ رک گیا
وہ ۔۔۔ میں “
وہ کیا رمشہ آپی صبح ا سکتی ہیں” وہ بہت مشکل سے بول پائی تھی
شاہنواز نے چونک کر اسے دیکھا
کیوں ” اسکا سوال یقینی تھا
وہ ۔ ۔ ” اسکے پاس کوئ بات نہیں
اگر ان لفظوں کے علاوہ کچھ بولو گی تو مجھے سمجھ ا جائے گا ” وہ سنجیدگی سے بولا
شاہ وہ مجھے ان سے با۔۔باتیں کرنی ہیں” وہ اہستگی سے بولی اور بات آدھی ہی چھوڑ دی
شاہنواز نے کھانا چھوڑا اسے گھور کر دیکھنے لگا ٹانگ پر ٹانگ چڑھا لی
اچھا تم بولتی بھی ہو ” اسکا طنز ایزہ کی پیشانی پر پسینہ بکھیر گیا ۔
اوکے بتاؤ کیا بات کرنی ہے ” وہ کہہ کر پشتائی تھی
سانس حلق میں اتارا
بولو بولو شاباش آج سے جب میں کھانا کھو گا تم صرف بولو گی
اور یاد رکھنا میری بات کو ” وہ بولا ایزہ کے ہاتھ کانپنے لگے ۔
بولو” سنجیدگی سے اسنے کہا
میں کیا بولوں” اسکا لہجہ بھیگ سا گیا
ایک ہی شخص ملا تھا جس سے وہ بات کر سکتی تھی اور شاہنواز کو وہ بھی پسند نہیں آیا تھا
وہی جو رمشہ سے کرنی ہے تم نے بات کرو ” وہ بولا ساتھ کھانے بھی لگا ۔
ایزہ کا دل کیا کہہ دے کہ وہ نہایت برا آدمی ہے “
لیکن ہمت لاتے لاتے وہ مر نہ جاتی
بولو” ٹیبل پر ہاتھ مارتا وہ بولا جبکہ ایزہ ایکدم سیدھی ہوئ اسکی آنکھوں میں آنسو تھے
شوہر میں ہوں تمھارا رمشہ نہیں۔۔۔۔
بات کرنی ہے یہ کچھ بھی کرنا ہے اس سے کرو جس کا تم پر حق ہے اور تمھارے سارے حقوق میری اس مٹھی میں ہیں ” اسنے ذرا گھور کر دیکھا
ایزہ آنکھ بھی نہ اٹھا سکی
کرو بات اب” وہ باضد تھا
میں معافی چاہتی ہوں آئندہ اسی بات نہیں کروں گی” وہ سر جھکا کر بولی
لیکن میں تمھیں معاف کر ہی نہیں سکتا یہ خیال آیا ہے تو یقینا تمھارے پاس باتیں بھی ہوں گی”
لیکن میں آپ سے کیسے کر سکتی ہوں” وہ بے ساختہ رو پڑی
رونے دھونے والی عورتیں مجھے زہر لگتی ہیں ایزہ شاہ” وہ ناگواری سے بولا
ایزہ نے آنسو پی لیے چپ ہو گئ
ایسی کیا بات ہے جو مجھ سے نہیں کر سکتی ؟ وہ گھورنے لگا
اور یہ رمشہ سے اتنے مراسم کیوں بڑھے تمھارے ” ایزہ نگاہیں جھکائے بیٹھی تھی
اب تم مجھے غصہ دلا رہی ہو ” یعنی اس سے پہلے وہ نارمل تھا
ایزہ کو لگا اسکی دل پھٹ جائے گا
اسنے نگاہیں اٹھائیں
آپ دنیا کے سب سے برے انسان ہیں نہایت برے اور نہایت انا پرست گھمنڈ اور مغرور اور آپ انسان کو انسان نہیں سمجھتے آپ جانور سمجھتے ہیں اپ کا دل کرتا ہے اپ مجھے جان سے مار دوں لیکن آپ مجھے سسک سسکی کر ماریں گے آپ نے کہا تھا
آپ مجھے ابھی نہیں ماریں گے
مجھے اب سمجھ آئی آپ کی بات کا مطلب ۔۔۔۔
آپ مجھے بہت برے لگتے ہیں بہت برے اور بہت زیادہ برے شاہنواز نہایت برے انسان ہیں اپ ” ایک سانس میں وہ چلا اٹھی
شاہنواز ہونٹوں پر مٹھی رکھے ایک ٹک اسے دیکھنے لگا
اسکی آنکھوں میں واضح حیرانگی تھی
ایزہ ایکدم ہی جیسے ہوش میں ائ سر جھکا گئ نگاہ جھکا گئ ۔
یا اللّٰہ یہ اسنے کیا کیا تھا وہ کیسے اپنا کنٹرول کھو گئ تھی
یہ یہ سب کیسے ہوا؟
وہ اب بھی خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا اور ایزہ کو لگا وہ یہیں بے ہوش ہو جائے گی اور وہ اپنی بکواس پر چکرا ہی اٹھی
سات ماہ میں اسنے پہلی بار زبان کھولی تھی اتنی بدتمیزی اسکی اتنی بے عزتی کر دی منہ پر ہی کہہ دیا وہ اسے برا لگتا ہے
اگر شاہنواز کا ہاتھ ترنت آگے بڑھ کر اسے نہ تھامتا تو اسکا سر یقینا ٹیبل پر بجتا کیونکہ وہ واقعی چکرا کر توازن کھو چکی تھی
اسنے خاموش نگاہ اسکے نیم بے ہوش وجود پر ڈالی اور اسے بازوں میں کسی نازک گڑیا کیطرح اچک کر وہ بیڈ پر لیٹا گیا
اسکا ایک ایک لفظ کانوں میں گونجنے لگا
مسکرا دیا کھل کر ۔۔۔۔
یہ وہی انداز تھا وہی الفاظ تھے
وہ ایزہ کو مسکرا کر دیکھنے لگا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے
