Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 40

بدر نے پولیس اسٹیشن کے چکر لگا لیے تھے لیکن اب اسے یہ پتہ چل رہا تھا کہ عمر خیام کی تو بیل ہو چکی ہے اور وہ جا بھی چکا ہے بدر نے ایک سانس کھینچا معلوم نہیں کہاں گیا تھا اور بیل کس نے کرائی تھی اسکی ۔۔۔
پھر اسکے پیسے کا خیال آیا تو اسنے اپنی بائیک گھمائی اور وہاں سے اپنے دوکان پر واپس ا گیا ۔
دماغ میں ساز کی فکر تھی آج تیسرا دن تھا ساز اسکے ساتھ رہتے پاگل ہو جاتی یقینا وہ دوکان کے اندر ایا اور سب سے پہلے خدا کا شکر ادا کیا تھا
یہ سب اسکا تھا اسنے محنت کی تھی ۔
ابھی تو اسنے اس پلاٹ کا ذکر نہیں کیا تھا جو صرف بدر کے نام تھا اور یہ باتیں اسے ابو کی الماری میں لپیٹے ہوئے ایک پیج پر لکھی ملیں تھی شاید حساب کتاب تھا ۔
اور تب سے وہ پکا ہو گیا تھا کہ اس گھر میں اسکا بہت کچھ ہے وہ خدا کا شکر ادا کرتا اندر ایا اور اپنے کام پر بیٹھ گیا ۔
اسکی دوکان گاہکوں سے بھر جاتی تھی اور اب بھی ایسا ہی ہو رہا تھا
تایا جان اپنی دوکان سے نکلے اور اسکی دوکان میں ا گئے ۔
بدر نے توجہ نہیں دی اپنے کام میں مگن رہا ۔۔۔
یہ بہت ہلکی کوالٹی کا کپڑا ہے ” وہ اس عورت کے ہاتھ سے کپڑا کھینچتے بولے بدر کی پیشانی پر شکنے پڑے کہ یہ وہ کیا کر رہے تھے وہ کچھ بولتا کہ وہ عورت خود ہی بول اٹھی
بھائی ہم پہلی بار نہیں آئیں ماشاءاللہ بچے کی دوکان سے جو بھی لیا بہت ہی اچھا تھا تبھی دوبارہ آئے ہیں اپ ہٹیں ذرا راستے سے ” وہ عورت سوٹ تایا جان کے ہاتھ سے کھینچتی ذرا ناگواری سے بولی اور وہاں سے چلی گئ
تایا جان اسکی پشت گھورتے رہے اور دوسری طرف بدر سر جھٹک کر اپنا سامان سمیٹنے لگا
تم تمھیں لگ رہا ہے تم ان پروں پر اڑ لو گے بس ایک دوکان اور ادھار کا پیسہ ” وہ ذرا غصے سے بولے
مجھے اللّٰہ اڑائے گا کیونکہ نہ ہی میں نے کسی کا حق مارا ہے اور نہ ہی کسی پر بری نگاہ رکھیں ہے مسجد کا موذن ہونے کے باوجود ۔۔۔
اور ذرا احتیاط سے بات کریں بدر زمان کے پاس آپکی بیٹی ہے اب “
ارے بھاڑ میں گئ بیٹی ویٹی مجھے کون سا فرق پڑتا ہے پہلے کون سا پڑا تھا جس وہ تیری معشوقہ کو ایک بڑی عمر کے آدمی سے بیاہ دیا تھا تو اس دوکان کو فورا خالی کر ورنہ تیرے لیے اچھا نہیں ہو گا میرے مقابلے پر آنا چاہ رہا ہے ” وہ پھنکارے
بدر نے انھیں حیرانگی سے دیکھا اسے لگا تھا وہ سوہا اور ارہم سے تو کم از کم محبت کرتے ہی ہیں لیکن بات تو غلط ثابت ہوئی
انھیں صرف مال و دولت کی حرص تھی اور تو کچھ بھی نہیں
اور وہ بیوقوف سمجھتی ہے اسکا باپ اس سے محبت کرتا ہے ” وہ طنزیہ مسکرایا
اشفاق صاحب کا خون کھولنے لگا
باہر نکلیں” بدر ہر لحاظ اٹھا کر رکھ چکا تھا
میں نے کہا باہر نکلیں اور آج کے بعد یہاں قدم بھی مت رکھیے گا کیونکہ مجھے وہ پلاٹ چاہیے اب جو کہ آپ دبا کر بیٹھے ہیں اور وہ میرا ہے “
اسکے منہ سے پلاٹ کا ذکر سن کر وہ چونکے کہ اس بارے میں اسے کیسے علم ہوا ۔
لیکن اسے علم ہو جانا اتنی بھی بڑی بات نہیں تھی وہ طنزیہ مسکرا دیے ۔
پلاٹ تو کیا اب تجھے اپنا تھوک بھی نہ دوں میں “
ہاں یہ تو وقت بتائے گا کہ کیا ہو گا ” اسنے تایا جان کو دھکا دیا وہ ایک سٹیج نیچے اتر گئے
دوبارہ میری دوکان پر مت آئیے گا ” غصے سے پھنکارتا وہ انھیں حیران کر گیا تھا جبکہ تایا جان مڑ گئے اور گھر کی جانب بڑھ گئے انکا دماغ کافی تیزی سے حرکت کر رہا تھا ۔
وہ مڑے اور راستے میں سے سوہا کی پسند کی کچھ چیزیں لیں اور گھر ا گئے ۔
دوکان کے لڑکے کے ساتھ وہ لڑکا چلا گیا اور وہ جیسے شکستہ قدموں سے گھر میں داخل ہوئے سوہا کا بخار ابھی اترا ہی تھا پہلی بار بس چند گولیاں کھا کر بخار اتارا تھا اسنے ورنہ تائی جان اسے روئی کا پھویا بنا لیتی تھی ۔
وہ بھی اپنے کمرے سے نکلی ہی تھی کہ جب تایا جان کی نظر اسپر پڑی اور بیٹی کے لیے انھوں نے بازو کھول دیے
سوہا کو لگا اسکے اندر جیسے کچھ ٹوٹ رہا ہو وہ دوڑ کر باپ کے بازوں میں سما گئ
سوہا بے ساختہ بے شمار رو دی
تایا جان کا بھی ڈرامہ عروج پر تھا تائی اور باقی سب بھی انکے روندنے پر اکٹھے ہو گئے ۔
ابو آپ مجھ سے اتنا اجنبی ہو گئے ” وہ بولی جبکہ انھوں نے اسکے سر پر پیار کیا اور اسکے ہاتھ میں سامان پکڑایا ۔
سوہا مسکرا دی وہ مختلف ڈرائے فروٹس تھے سوہا خوش ہو گئ وہ اسے لیے صوفے پر بیٹھ گئے
بدر نے بہت بے عزتی کی ہے میری آج ” وہ سر جھکائے بولے
دھکے دے کر دوکان سے باہر نکال دیا جبکہ میں صرف کھانے پینے کا پوچھنے گیا تھا کہ صبح سے کام میں لگا ہے نیکی بھی اب تو دریا میں ڈال والی مثل ہو رہی ہے ” انھوں نے کہا تو سوہا نے ماتھے پر تیوری ڈال دیے
اب دوکان چل نہیں پا رہی تو شامل ہو جائے ہمارے ساتھ ۔۔
غصے میں تمھیں نکال دیا اپنے ساتھ سے لیکن باپ ہوں سب دیکھ رہا ہوں میری پھول سی بچی کا کیا حال کر کے رکھ دیا ہے اسنے “
لیکن ضد اور اکڑ ” وہ چپ ہو گئے
سوہا کے چہرے پر ناگواری کے اثرات پھیل گئے
احسان فراموش لوگ ہیں ابو یہ سب انکی بیٹی کی شادی کرا دی ہم لوگوں نے تین وقت کا کھانا دیتے ہیں اور بیٹے کو دوکان بھی دے دی تب بھی ان سب کے دلوں سے نفرت نہیں نکل سکتی ۔
اور دفع کر دیں کسی کے لیے اچھا سوچنے کی ضرورت نہیں”
وہ نجما کو دیکھتی بولی تائی جان نے اسکا شانہ جیسے فخر سے تھپتھپایا کہ آج وہ بہت اچھا بولی تھی ۔
نجما کا چہرہ سا اتر گیا اور کچن میں چلی گئ
اچھا بیٹا تم سے کہا تھا دوکان کے کاغذات ۔۔۔
ابو میں ڈھونڈو گی الماری میں ہی ہوں گے میں آپکو دے دوں گی “
وہ سکون سے بولی
یہ ہوئی نہ بات ” وہ ہنس دیے
یہ کام بیٹا جلد از جلد کر لینا ” سوہا بھی مسکرا دی
مگر اب کے تائی جان نہ مسکرائی وہ اشفاق صاحب کو توجہ سے دیکھنے لگی ۔
بیٹی انکے رد عمل سے دھوکا کھا سکتی تھی وہ نہیں وہ عرصے سے ان کے ساتھ تھی واقف تھی کہ وہ کیا چال چل رے ہیں لیکن اب کی بار بیٹی کے گھر میں انھیں شرم آنی چاہیے تھی۔۔۔۔
سوہا تو باپ کی اتنی سی توجہ سے پھولے نہ سمائی تھی ۔
تایا جان ریسٹ کرنے چلے گئے اور اسنے انکے ساتھ ہی کھانا کھایا اور آج جو بدر سبزی دے گیا تھا اسے ہاتھ تک نہ لگایا ۔
شام ڈھلنے ہی ارہم گھر واپس لوٹ آیا ۔
تھکا تھکا سا وہ بیٹھ گیا اور رات کے کھانے پر بحث چھیڑ دی کہ اسے نہیں کھانا تھا اسے پلاؤ کھانی تھی
بہت نکھریلا ہو گیا ہے یہ اسکی شادی کریں تاکہ اسکی بیوی نکھرے اٹھائے اسکے ماں کی ہڈیوں میں دم نہیں رہا اب ” وہ بولی اور دوسری طرف نجما کو پلاؤ کا حکم دے دیا اور وہ بے چاری اب اسکے لیے پلاؤ بنانے لگ گئ تھی ۔
ہاں تو کر دیں ” وہ سکون سے بولا کوئی شرم نہیں تم دونوں بہن بھائی میں ۔۔۔
وہ بولیں لیکن وہ کہاں گھاس ڈالتے تھے انھیں سر جھٹک گیا تھا ارہم نے کھانا کھایا گیا بہت اچھے ماحول میں ۔
عمر کی بیل کا کیا بنا ” ارہم نے باپ سے پوچھا
ہاں کل جاؤ گا کرانے “
کیوں ” وہ پوچھنے لگا اتنے دن تو خیال نہ آیا
پیسے چاہیے مجھے “
دوکان بھری ہوئی ہے ابو مال بک نہیں رہا ” وہ حیران تھا ۔
تم چپ کر جاؤ ” انھوں نے تیوروں میں کہا اور کھانا کھا کر اٹھ گئے سوہا بھی کمرے میں ا گئ
ڈرائے فروٹس سائیڈ پر رکھے اور ابھی بیٹھنے ہی لگی تھی کہ بدر بھی ا گیا اسنے کچھ سامان سائیڈ پر رکھا اور اسکی جانب ایک نظر دیکھ کر نگاہ پھیر گیا
مجھے بات کرنی ہے تم سے ” سوہا نے فورا کہا
کہو ” وہ پانی کا گلاس خود اٹھا کر پانی نکالنے لگا لیکن جگ خالی تھا اسنے گلاس وہیں رکھا اور جگ اٹھا کر باہر نکل گیا
سوہا نے دیکھا وہ پانی لینے گیا ہے ۔
وہ تھوڑی دیر بعد واپس آیا پانی گلاس میں انڈیل کر پینے لگا جبکہ بیڈ پر بیٹھ گیا
تم نے ابو کے ساتھ جو بدتمیزی کی ہے تمھارا حق بنتا تھا کتنے بڑے احسان فراموش ہو بلکہ تم سب بہن بھائی تمھیں ابو نے آج تک سب کچھ دیا ہے اور تم اتنے نا شکرے انکے دیے مال پر اتنا نہ اتراو بدر ” وہ مظبوط لہجے میں بول رہی تھی گویا باپ کی توجہ مل گئ تھی
اسنے جواب نہیں دیا
کھانا لے آؤ مجھے بھوک لگ رہی ہے ” وہ اتنا ہی بولا
کھانا کھانا ہے میرے ہی باپ کے مال پر پل رہے ہیں تمھارے سارے گھر والے اور بات سنو یہ روز روز کی سبزی لا کر میرے سر پر نہ رکھ دیا کرو میں نہ ہی بناؤ گی اور نہ میں نے بنائی ہے جو گھر میں رکھا ہے وہ لا دیتی ہوں “
رک جاؤ ” اسکی ساری بکواس وہ خاموشی سے سنتا رہا اسے ٹوک دیا ۔
تم نے کھانا نہیں بنایا ” اسنے بس اتنا ہی پوچھا
نہیں ” وہ دو ٹوک بولی اور بدر خود کچن میں ا گیا سردی کی وجہ سے اج کل سب اپنے بستر میں جلدی گھس جاتے تھے وہ کچن میں آیااور گاجر کاٹنے لگا
تم میں اتنی ضد کیوں ہے یہ کھانا بنا ہوا ہے کھا کیوں نہیں لیتے ” اسکے ہاتھ سے چھری کھنچتے وہ بھڑکی
بدر نے کوی ریسپونس نہیں دیا اسنے گاجر بنائیں جیسی بھی پکیں اور روٹی بھی اسی اٹے میں سے کچھ نہ کچھ کر کے اڑی ترچھی بنا کر وہ کمرے میں ا گیا اور خاموشی سے کھانے لگا سوہا کے اندر عجیب بے چینی بھر گی تھی ۔
کیا تھا وہ اسکے ہاتھ کا بھی بے کار سا کھانا کھا لیتا تھا اور اپنے ہاتھ کا بھی صرف انا کے چکر میں ۔۔۔۔
اسنے کھانا کھایا اور گلاس میں تھوڑا سا پانی انڈیل کر اسنے ابھی لبوں سے لگایا ہی تھا کہ وہ بول اٹھی
دوکان کے کاغذات مجھے دے دو میں نے ابو کو واپس کرنے ہیں جو چیز انکی ہے اسپر قبضہ نہ جماؤ اتنی انا ہے تو سب اپنی محنت سے کرو ” وہ بڑا کھل کر وار کر رہی تھی بدر نے گلاس لبوں سے ہٹایا اور سارا پانی اسکے منہ پر انڈیل دیا ایک جھٹکے سے
منہ دھو کر رکھو کہ تمھارے کمینے باپ کا میرے پاس کچھ ہے الٹا میں نے چھوڑا ہوا ہے اسکے پاس پلاٹ کے۔ کاغزات لینے ہی|ں ابھی تو۔ میں نے اس سے۔ تمھارے کمینے باپ کی حرام کی کمائی نہیں ہے یہ کھانا گھر پر بنا کر رکھا کرو آئندہ تمھارے نکھرے برداشت نہیں کروں گا ” اسنے گلاس سائیڈ پر رکھا اور ٹرے اٹھا کر باہر نکل گیا
بے عزتی کے احساس سے ۔سوہا کا چہرہ سرخ ہو گیا ۔
غصے سے ایکدم اٹھی اور اسکا گریبان جکڑ لیا
یہ سب تم میرے ساتھ کیوں کر رہے ہوو ” سرخ انکھوں سے وہ اسکے گریبان کو پکڑے سوال کر رہی تھی
زور سے انا پر لگی یے نہ تمھارے ۔ بس میرے بھی اسی طرح لگتی یے ۔تو نہ تم چھیڑا کرو مجھے نہ میں جوابی کاروائ کروں گا ” وہ بولا اور اسکے ہاتھ جھٹک کر وہ ۔ سائیڈ سے نکل گیا ۔
جبکہ سوہا کی انکھ سے انسو نکلا ۔
مجھے دوکان کے کاغزات چاہیے” وہ تحمل سے بولی
ٹھیک ہے اپنے باپ سے کہو پلاٹ کے کاغزات دے دے دوکان کے لے لے اب مجھ سے مزید مت الجھنا میں تھکا ہوا ہوں” وہ زرا غصے سے اسے گھور کر بولا ۔
اور سوپا ۔
سر ہلا گئ
بیوقوفوں کیطرح ۔اور اپنا چہرہ صاف کر گئ اسے بے عزتی سے سرخ ہوتا وہ چہرہ محسوس ہو رہا تھا ۔
سوہا ائینے کے سامنے کھڑی تھی ۔
بدر انکھوں پر ہاتھ رکھے لیٹا ہوا تھا وہ بار بار اسے پلٹ کر دیکھ رہی تھی
اج اسنے کوئ بات نہیں کی
اپنے پاس نہیں بلایا اسپر حکم نہیں جمایا اور وہ ۔ جیسے لاشعوری طور پر منتظر سی تھی
بات سنو “
اسنے انکھوں پر سے ہاتھ ہٹایا ۔
سوہا نے مڑ کر دیکھا ۔
میرے پاوں دبا دو زرا “
وہ سنجیدگی سے بولا
سوہا کے جیسے سینے میں خنجر کیطرح چبھی تھی وہ کسی کے پاوں دباتی ۔ ؟؟؟؟؟؟؟
ایسا کہاں ممکن تھا ۔
اسنے نہایت ناگوری سے مڑ کر دیکھا
کیوں تمھارے پاس اپنے ہاتھ نہیں ” وہ تڑخ کر بولی
بدر نے مڑ کر دیکھا ۔
تو کیا اب اپنی تھکاوٹ اتارنے کے لیے باہر سے بلاو عورت کو ” وہ زرا بھڑک کر بولا
ہاں تمھارے پاس تو بہت پیسے ہے تو بلا لو اپنی ہر قسم کی تھکاوٹ اسی سے اتروایا کرو
اور سوہا
تمھارے پاوں کو چھوئے گئ ۔۔۔کبھی نہیں
کہہ کر وہ بیڈ کےے دوسری سائیڈ پر لیٹ گئ ۔
جبکہ بدر نے خونخوار نظروں سے اسے دیکھا اور اٹھ کر بیٹھ گیا
سوچ لو سوہا “
وہ اہستگی سے بولا جیسے کہہ رہا ہو واقعی سوچ لو
سوچ لیا بدر زمان ” وہ بھی الجھی تھی اور بدر اٹھ کر باہر نکلنے لگا
کہاں جا رہے ہو ” وہ تو ایکدم تڑپ کر اٹھی تھی
عورت کو لینے جو میرے پاوں دبا کر میری تھکاوٹ اتار دے”
کہہ کر وہ باہر نکل گیا
بکواس مل ہی نہ جائے تمھیں عمر خیام لائے تو مان لوں تم اور ایسی فضولیات کر ہی نہیں سکتے” وہ دانت کاٹتے بولی جیسے خود کو تسلی دے رہی تھی
لیکن وہ ایک خوبرو حسین مرد ہے “
لیکن کنگلا بھی تو ہے ؟؟؟
لیکن بازاروں عورت تو مرد کے حسن پر مرتی ہے ؟
نہیں مرد کی جیب میں موجود پیسے پر مرتی ہے ؟؟؟
یکدم اسکے پاس کئ سوال آئے اور وہ لب کاٹتی گھڑی کو گھورتے ہوئے دیکھتی رہی کہ اچانک اسے بدر آتا دیکھائ دیا ۔
پورے دو گھنٹے بعد وہ واپس لوٹا تھا ۔
سوہا نے اسے غور سے دیکھا
نیند میں بلکل دھت تھا ۔ اور بستر پر گیرہ اور معلوم نہیں کیسی گھیری نیند میں اتر گیا
یہ کیا طریقہ تھا وہ اسکے قریب گئ تو خوشبوں میں لیپٹا تھا سوہا کے رنگ سے اڑ گئے ۔
اسنے بدر کا چہرہ دیکھا ۔
وہ حسین ترین تھا
اسکی بریڈ بھی بلکل بلیک نہیں تھیں ہلکی ہلکی براونش پر تھی ۔
اور جیسے ہی بدر کی شرٹ کے کلر پر اسے لیپسٹک کا نشان دیکھا سوہا تو جیسے ختم ہی ہو گئ کھڑے کھڑے ۔
جھنجھوڑ دیا اسے
یہ تم کیا کر کے آئے ہو ” وہ چیخی
تمھاری خواہش پوری” وہ کروٹ لیتے بولا جبکہ یہ سب جان بوجھ کر کیا تھا اسنے نہ ہی وہ کہیں گیا تھا اور نہ ہی یہ کسی لڑکی کی لیپسٹک کا نشان تھا اول تو وہ امی کے پاس تھا جنھوں نے بہت محبت سے اسکا سر دبایا تھا اور یہ نشان اسنے خود لگایا تھا معلوم نہیں کیوں ۔۔
بدر” سوہا کی انکھ کا آنسو اسکے گال پر گیرہ
تم ایسے نہیں ہو تم عمر خیام نہیں ہو میں نے غصے سے کہہ دیا تو اسکا مطلب یہ تو نہیں ہے یہ حرکتیں کرو ت۔ تم کیسے کسی لڑکی کے ساتھ سو سکتے ہو ۔ میں مر گئ ہوں کیا “
وہ بری طرح روتے اسے جھنجھوڑتی بولی وہ آنکھیں کھول کر اسے دیکھنے لگا جو بلکل ہی آوٹ ہو چکی تھی ایک بات تو طے تھی ۔
وہ نہایت جذباتی لڑکی تھی ۔
تم نے جو کہا میں نے وہ ہی کیا “
ہاں میں کہو گی چھت سے کود جاو کود جاو گے تم تم کر کیسے سکتے ہو کس منحوس کے ساتھ سو کر آئے ہو ” وہ بھڑکی
ہاں میں تمھیں دھکا دے دوں گا تا کہ تم مر جاو اب تنگ مت کرنا مجھے نیند ا رہی ہے”
وہ بولا اور کروٹ لے لی
ایسی کی تیسی تمھاری نیند کی میں پاگل ہوں جو بخار میں بھی تمھیں وقت دیا میں نے تم میرے ساتھ اس قسم کی نا انصافی کر کیسے سکتے ہو میں تمھارے ہاتھ پاوں نہ توڑ دوں”
بلاوجہ ہی بدر کو ہنسی آگئی تھی اسکی بات پر اسنے تکیے میں منہ دے دیا ۔
یہ یہ تم منہ کیوں چھپا رہے ہو تم چاہتے ہو میں پاگل ہو جاو “
وہ جھلا اٹھای اور سر پکڑ کر بے شمار رو دی ۔
مرو مت کہیں نہیں گیا تھا میں امی کے پاس تھا”
وہ جس طرح پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی اسے کچھ ترس آیا سوہا پر۔ چپ ہو گئ اسکی صورت دیکھنے لگی
تو یہ لیپسٹک ۔
اسے تسلی نہ ہوئ
تمھیں انسان بنانے کے لیے جان بوجھ کر لگائ تھی ۔
اور پرفیوم
اف ہو بھئ وہ میرا ہی ہے”
پہلے تو خوشبو نہیں ائ تم میں سے “
تمھارے پاس دماغ نہیں تھا اب ناک بھی نہیں ہے مجھے ہو گیا ہے علم “
وہ غصے سے بولا ۔
قسم کھاو نجما چچی کی کھاو مجھے تو مارنے کے لیے جھوٹی کھا لو گے”
میں کیوں کھاو اپنی ماں کی
اللہ کے علاوہ کوئ قسم جائز نہیں
تو کھاو اللہ کی”
وہ جلدی سے بولی
ہاں بھی قسم سے “
وہ زیچ ہوا
تو اسے چین آیا
اور پھر اسے گھورنے لگی ۔
تم تمھاری جان لے لوں گی بدر اور تم کسی اور کے پاس گئے تو “
وہ سنجیدگی سے بولی ۔
مجھے تمھاری بکواس میں بلکل انٹرسٹ نہیں ہے تم۔ لائیٹ بند کرو ساتھ اپنا منہ بھی”
سنجیدگی سے بولتا وہ لیٹ گیا
سوہا کو لگا جان میں جان ائ
اسنے لائیٹ آف کی اور لیٹ گئ وہ خاموشی سے جیسے سونے میں مصروف ۔۔۔۔ تھا یہ کوشش کر رہا تھا
سوہا نے اندھیرے میں ہی اسے اٹھ کر دیکھا بدر کی آنکھیں بند تھیں
وہ ڈر گئ تھی آج بہت یہ ویسا ہی ڈر تھا جیسا اسے ایزہ کی محبت کا جان کر ہوا تھا بدر اسکا تھا ہمیشہ سے وہ کتنا بھی لڑتی وہ اسی کا رہتا ۔
اسنے اسکا بازو کھولا اور سر رکھ لیا ۔
اور اسکا چہرہ دیکھنے لگی
بدر کے وجود میں جنبش نہیں ہوئ تھی گھیری سانسیں گواہ تھیں وہ سو گیا ہے
میں ڈر گئ تھی بہت میں تمھیں شئیر نہیں کر سکتی”
وہ اپنی بے بسی بیان کر رہی تھی
اور پھر اٹھ کر اسنے اپنا آنسو صاف کرتے اسکے گال کو چھوا ۔
اچانک بدر کے بازو کی گرفت سخت ہوئ تھی اسکی کمر ہر ۔
تم جاگ رہے تھے”
وہ دنگ ہوئ اور پہلی بار شرم بھی ائ ۔
بدر نے اسے جلتی انکھوں سے دیکھا
یعنی اب تم میری تھکاوٹ اتارنے کو تیار ہو ” وہ سکون سے پوچھنے لگا ۔
سوہا کچھ نہیں بولی
بدر نے اسے بلنکیٹ میں چھپا لیا اور اسپر کسی گھیرے بادل کی طرح سایا کر لیا ۔
لیکن سوہا کی آنکھوں کی لو اسکی آنکھوں میں بدر کے لیے محبت کا طوفان بدر کو کسی بھی عمل سے روک گیا
اگر آج یہ قربت ہوتی تو محبت کی بنیاد پر اور وہ نہ ہی اس سے محبت کرتا تھا اور نہ ہی اس بدتمیز لڑکی کو خوش فہم کرنا چاہتا تھا اسنے اسے چھوڑ دیا اور کروٹ لے لی وہ خاموشی سے اسکی کمر سے سر ٹکا کر آنکھیں بند کر گئ
اسکے لئے اتنا احساس کافی تھا وہ اسکا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے