Ek Ana Parast By Tania Tahir readelle50024 Episode 29
No Download Link
Rate this Novel
Episode 29
سوہا بیڈ پر بیٹھی اسکی جانب دیکھ رہی تھی جس نے ولیمہ کل دیا تھا اور کل سے اب تک اسنے اسکے سے ایک لفظی بات تک نہیں کی تھی
صرف دوکان کے کاغذات چاہیے تھے تمھیں” وہ بولی کمرے کی خاموشی میں اسکی آواز گونجی
ہاں یہ ہی سمجھ لو ” وہ سکون سے بولا
ابو نے وہ کاغذات مجھ سے واپس مانگے ہیں ” سوہا بولی بدر مڑا
کیا جواب دیا تم نے ” سختی سے بولا
یہ ہی کہا کہ دے دوں گی اور کہہ بھی کیا سکتی تھی
باپ بے حس ہے میرا اور شوہر انتقام لے رہا یے مجھے تو یوں لگ رہا یے میں ایک بیکار چیز ہوں بس ” کہتے کہتے اسکا لہجہ بھر گیا
چلو یہ احساس تمھیں جلد ہو گیا مجھے دلانا نہیں پڑا کہ تم بے کار ہو ” اسنے برش بالوں میں پھیرا
اور ہاں ” وہ کوئی جواب دیتی وہ پہلے ہی بول اٹھا
دوکان کے کاغذات تو کیا انھیں اس دوکان کی شکل بھی نہیں دیکھنے دوں گا “
کیا فائدہ مل رہا ہے تمھیں میں کر لوں گی ابو سے بات وہ تمھیں کام پر رکھ لیں گے ان سے جھگڑا مول لے کر صرف پشتاؤ گے”
واٹ” وہ جیسے بھسم ہی ہو گیا اسکی بکواس پر اور جس طرح وہ چلایا تھا سوہا ذرا گھبرا گئ
کیا بکواس کی ہے تم نے تمھارے باپ کی ملازمت کرو گا اب تمھاری اولاد کرے گی میں اسکی شکل دیکھنا نہ پسند کرو اور کیسی نیچ عورت ہو تم شوہر کو باپ کی ملازمت پر لگا رہی ہو ” برش اسنے بیڈ پر پھینک کر مارا
یہ یہ تم کیسے بات کرتے ہو مجھ سے” وہ روہانسی سی ہوئی ۔
ویسے ہی جیسے تمھارا باپ سب سے برا لگتا ہے اور آئندہ یہ مشورے مجھے دینے کی کوشش کی تو گردن دبا دوں گا ” وہ انگلی اٹھا کر بولا جبکہ سوہا خاموشی ہو گئ ۔
کیا کرو گے تم اس دوکان کا “
بیچوں رکھو ضائع کرو یہ کچھ بھی اپنا حصہ لیا ہے تمھارے باپ کا کچھ نہیں لیا ” وہ بگڑ کر بولا جبکہ سوہا لب دبا گئ
بستر جھٹک کر اٹھی ۔۔۔
اور ہاں” وہ بگڑے ہوئے تیوروں سے اسے دیکھنے لگا
یہ میرا بیڈ ہے رات تو میں برداشت کر گیا کہ تم میرے اٹھنے سے پہلے سو گئ تھی جانتا ہوں جان بوجھ کر سوئی تھی مگر ائندہ ایسا نہ ہو ” وہ گھور کر بولا جبکہ سوہا نے مڑ کر دیکھا
پسند تو مجھے کرتے نہیں پھر وہ سب کر کے مجھے اذیت کیوں دینا چاہتے ہو “
عجیب لڑکی ہو شوہر کی قربت اذیت لگتی ہے چہ چہ چہ “
شوہر محبت سے کرے ۔۔۔۔۔
محبت کرنے والی شکل بھی ہونی چاہئے ضرورت پوری ہو جائے بڑی بات ہے” سر جھٹک کر وہ بولا
سوہا کے اندر جیسے اسکے الفاظ چبھ سے اٹھے اسنے جلتی آنکھوں سے اسے دیکھا دانت پیستی وہ واشروم میں چلی گئ بے ساختہ اسے بے شمار رونا ایا تھا بہت زیادہ ۔۔۔
وہ اپنے آنسو صاف کرتی بال باندھنے لگی یہ سب مل کر اسے ہرانا چاہتے تھے وہ ہارے گی نہیں ۔۔۔۔
اسنے تہیہ کیا اور اپنے چہرے پر پانی ڈالا
بار بار چہرہ دھوتی وہ جیسے احساس کمتری کا شکار لگ رہی تھی
کیا ہو گیا ہے مجھے ” اچانک رک کر اسنے ائینے میں اپنا چہرہ دیکھا ہاں وہ اس کی طرح خوبصورت نہیں تھی
لیکن اسکے پاس تو سب تھا یہ گھر یہ سب کچھ تھا اسکا اور ارہم کا
تو وہ اسکے دباؤ میں ا کیوں نہیں رہا تھا وہ خود کو دیکھتی سوچتی چلی گئ
کچھ دیر بعد وہ واشروم سے نکلی تو وہ کمرے سے جا چکا تھا
وہ بھی باہر ا گئ
ارے سوہا ” ثروت چچی نے اسے رات والے لباس میں دیکھا تو منہ پر ہاتھ رکھ گئیں اسکے لباس پر پڑی شکنیں الجھے بال بہت کچھ بیاں کر رہے تھے لیکن ایسا تھا نہیں جیسا سب سوچ رہے تھے اور وہ کر رہی تھی
جی فرمائیے کیا کہنا ہے ” وہ پھاڑ کھانے کو دوڑی
نہیں میں تو وہ ” وہ گھبرا گئیں
سب کچھ ہو رہا ہے اس گھر میں آدھے آدھے لباس میں پھیرنے والیاں طوائفوں کا بازار لگا ہوا ہے اب میں جیسے مرضی پھیرو آپ کون ہوتے ہیں روکنے والی” وہ غصے سے چیخی ثروت چچی کا منہ سا اترا وہ ادھر ادھر دیکھنے لگی جبکہ ساز نگاہ چرا گئ
وہ اسے اب اسی طرح اسے پکارتی تھی تائی جان بھی
جبکہ ساز کو اپنے لیے یہ لفظ بہت برا لگتا تھا کل بھی وہ لباس تباہ کر کے اتارا تھا عمر کے رنگ میں رنگ جانا اتنا آسان نہیں تھا ۔
ساز نے ناشتہ بنایا اور عمر کا ناشتہ بنا کر وہ باہر جاتی لیکن وہ اسے باہر جاتا پہلے ہی دیکھ گیا
وہ اندر ا گئ
کیا حلیہ بنایا ہوا ہے”
جس آدمی سے شادی کی ہے جب اس نے صبح شام طعنے مارنے ہے اور اسے میری شکل میں دلچسپی نہیں ہے تو میں نے تیار ہو کر کیا کرنا ہے” اسکی آنکھوں میں واضح سرخی تھی تائی جان نے سر جھٹکا
جانے دے بس یہ شرابیوں جے ہی کا ہوتے ہیں اپنی عورتوں کے پلو سے لگے رہتے ہیں سارے سارے دن ورنہ ہمارے مرد ۔۔۔۔”
وہ بولیں ساز سے ان دونوں کے آگے کپ رکھا
اپنی شکل لے کر دفع ہو جاو تم ” وہ بھڑکی
ساز نے اسکی جانب دیکھا وہ واقعی وہ سوہا نہیں لگ رہی تھی مرجھایا ہوا چہرہ اور انداز میں چیڑچیڑا پن جیسے وہ دکھی ہو لیکن اپنے دکھ کو بیان نہیں کر پا رہی ہو ساز کو اپنے بھائی پر غصہ سا آیا ۔
انتقام کے لیے ایک لڑکی کا چناؤ اچھا نہیں تھا وہ اسکے پاس سے ہٹ گئ اور کچن میں ا کر دوبارہ کاموں میں لگ گئ ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بدر نے اس دوکان سے تایا جان کا سارا مال نکلوا کر باہر کروا دیا تھا تایا جان نے اسے ایسے دیکھا جیسے وہ اسکا خون کر دیں گے لیکن وہ جیسے سر پھرا ہو گیا تھا اسے پرواہ نہیں تھی اسنے بقیہ پیسوں سے جو عمر کے لیے تھے اس دوکان میں مال ڈالا یہ مال بہت تھوڑا تھا لیکن اسنے اپنے بل بوتے پر کچھ کرنے کی ٹھان لی تھی اچھا کرتا یہ برا جو بھی کرتا وہ اسکا تھا
تایا جان نے پوری مارکیٹ میں اسکا مذاق اڑا دیا تھا لیکن وہ اللّٰہ توکل پر بیٹھا تھا جبکہ تایا جان اور عمر جتنا ہو سکتا تھا اسے بے عزت کر رہے تھے انکے لہجے اور انداز میں جو جلن اور حسد تھی اکثر لوگوں نے محسوس بھی کر لی ۔۔۔۔
یہ چار پانچ ریک بھر کر تم کاروبار کر رہے ہو ” ارہم ہنسا
بدر نے جواب نہیں دیا ۔
اور اپنے کام میں مصروف رہا ارہم نے گھور کر اسے دیکھا
اس کے پاس اتنا بھی مال ڈالنے کے پیسے آئے کہاں سے” وہ اپنی دوکان میں آتا ہوا بولا
یہ ہی میں سوچ رہا ہوں “
کہیں آپکے اس شرابی بیٹے نے تو نہیں دیے” ارہم بولا
جبکہ تایا جان نے نفی کی
نہیں وہ اسے منہ کیوں لگائے گا “
اپنی بیوی کو لگا چکا ہے اور بولیں مت اسکی بیوی اس کی بہن ہے” وہ غصے سے بولا تو تایا جان جیسے چونک گئے آنکھیں پھیل سی گئیں ۔۔۔
کہا تھا آپ سے اس ساز کو میرے قبضے میں دے دیں نہیں عمر خیام سے نکاح پڑھوا دیا ” ارہم بھڑکا اور تایا خاموش رہ گئے جیسے گھیری سوچ میں ہوں ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ گھر اسکے اپنے گھر سے بھی کئی گناہ بڑا تھا وہ اپنی شاندار گاڑی میں آیا تھا اسکی گاڑی دیکھ کر ڈرائیور نے دروازے کھول دیے لیکن وہ اندر نہیں گیا تا دیر وہ گارڈ دروازے کھلے کھڑا رہا لیکن عمر اندر نہیں آیا ۔۔
وہ بیچ میں ہی گاڑی روکتا باہر نکلا اور گھر کے اندر داخل ہوا تو اسکی کیفیت کچھ نہیں تھی
کون ہیں آپ بھائی صاحب رکیں کہاں سے آئے ہیں” وہ گارڈ پیچھے پیچھے بھاگا اور عمر خیام سیگریٹ ہونٹوں میں دبائے آنکھوں کی کیفیت کو گاگلز سے چھپائے وہ اندر بڑھتا چلا گیا
یہاں تک کے وہ رک گیا گارڈ چونکہ بھاگتا ہوا آیا
صاحب جی اپکو اندر جانے کی اجازت نہیں “
اجازت مانگی بھی نہیں جا کر اندر کہو عمر خیام آیا ہے” وہ بولا اور لون کی دوسری طرف مڑ گیا جبکہ وہ گارڈ اسے حیرانگی سے دیکھ کر اسکی شخصیت سے مرعوب ہو کر اندر گیا اور دادی جان سے کہا کہ وہ جی باہر کوئی عمر خیام آیا ہے” وہ بولا جبکہ دادی جان نے برا سا منہ بنایا
کون عمر خیام ” وہ بولیں
پتہ نہیں جی اسنے کہہ اندر جا کر کہو عمر خیام آیا ہے”
لو بھلا اب ہم کیا جانیں کون ہے عمر خیام کہو بعد میں آئے “
وہ بولی جبکہ اچانک کچن سے ایزہ اپنی اور دادی جان کی چائے لے کر آ گئ
وہ دادی جان سے کوئی بات نہیں کر رہی تھی اور دادی جان خود ہی بولے جا رہی تھی آج اسنے ڈاکٹر کے پاس جانا تھا شاہنواز کچھ دیر تک اسے خود لینے ا رہا تھا اسکا دل جیسے کسی مٹھی میں جکڑا ہوا تھا لیکن وہ بے حس ہو جانا چاہتی تھی اتنی بے حس کے اسکا واقعی ایک وجود باقی رہ جائے جزبات بچیں ہی نہ وہ قاتل ہی تھا اسنے فہیم کو مار دیا تھا اپنے بچے کا قتل کر رہا تھا اور وہ کیا کر سکتی تھی ۔۔۔
پیغام تو ایسے بھیجا ہے کہ پرائم منسٹر ہو ” ایزہ نے توجہ نہیں دی
تو جی کہہ دوں شاہ صاحب آئیں تو آنا “
لو بھلا یہ سوچنے والی بات ہے میں نہیں جانتی تو میرا شاہ عمر خیام کو کیوں جانے گا “
ایزہ کے ہاتھ سے ایکدم کپ چھٹا اور چمکدار فرش پر چائے چارو سمت پھیل گئ
عمر بھائی ” لبوں میں نام کو دہراتی وہ اس چائے پر اپنے سرخ قدموں کے نشان چھوڑتی اس کپ کی کانچ ہی چبھن کو نظر انداز کرتی باہر کی سمت بھاگی
ارے کہاں جا رہی ہے تو ۔۔۔ کون ہے یہ عمر خیام کون سا عاشق آ گیا اب تیرا جو ایسی پاگل ہو گئ ہے
یا اللّٰہ ابھی تو کوئی خوشخبری سنی تھی ہائے ہائے کرتی وہ اسے کوستی خود بھی اٹھی ایزہ باہر بھاگی اور عمر نے محسوس کیا اسکے پیچھے کوئ ہے اور وہ مڑا تو شاید ہی اسے سال بعد دیکھا تھا ۔
وہ بھاگتی ہوئی اسکے نزدیک آئی تو چہرے پر اتنی معصومیت اور اتنا نور تھا کہ لمہے بھر کے لیے وہ ساکت رہ گیا
وہی نور جو اسے ساز کے چہرے پر دیکھتا تھا جس کی وجہ سے وہ اس سے متاثر ہوا تھا وہی پاکی اسے اسکے چہرے پر دیکھی ۔۔۔
اور اسکی انکھ سے بہتے آنسو ایزہ منہ پر ہاتھ رکھ گئ جیسے معجزہ ہو گیا ہو ۔
ب۔۔۔بھائی ” کانپتے ہاتھ اسکے بازو تھام گئے عمر خیام خاموشی سے اسے دیکھتا رہا ۔
میرا ۔۔۔میرا بھائی ” وہ اسکے کبھی بازو چھوتی کبھی اسکا چہرہ ۔۔۔۔۔
آئے ہائے غضب خدا کا یہ کیا نا محرم سے لپٹ گئ تھی ہی آوارہ یہ منحوس عمر نے آنکھ اٹھا کر دیکھا ماتھے پر تیور سے بنے اور وہ سنجیدگی سے اس بوڑھی عورت سے نگاہ پھیر گیا جو یقینا ایزہ کے بارے میں ہی بول رہیں تھیں ایزہ اسکے سینے سے لگ گئ عمر اب بھی پینٹ کی جیب میں بازو ڈالے ویسے ہی کھڑا تھا ۔
اور اسکی ہچکیاں چیخوں میں بدل گئ وہ اس سے لپٹ کر اس طرح روئی
عمر ساکت کھڑا رہا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ کس کی گاڑی ہے ” شاہنواز کی دھاڑ پر ڈرائیور جیسے پریشان سا ہو اٹھا صاحب جی وہ اندر صاحب آئے ہیں مان کر ہی نہیں دیا ورنہ سائیڈ پر لگا دیتا گاڑی نہ گاڑی کی چابی دی ۔۔۔۔
کون آیا ہے ” وہ ناگواری اور خطرناک تیوروں سے باہر نکلا
جی وہ کوئی عمر خیام ہے ” گارڈ نے کہا اور شاہنواز نے جھٹکے سے گارڈ کی صورت دیکھی پھر گاڑی کی سمت دیکھا اور پھر وہ جیسے اندر بھاگا تھا
وہ اندر داخل ہوا تو اندر کا منظر عجیب تھا اسکی بیوی عمر خیام کے سینے سے لگی کھڑی رو رہی تھی
وجود میں چونٹیاں سی لگیں وہ دو قدم آگے بڑھتا کہ ایزہ کی باز گشت پر رک گیا
کہاں چلے گئے تھے بھائی آپ ۔۔۔۔ آپ کہاں چلے گئے تھے بھائ مجھ پر ظلم ہوا ہے بھائی میں کہیں نہیں بھاگی تھی سب نے مل کر جھوٹ بولا آپ سے جھوٹ بولا تاکہ آپ میری شکل کبھی دیکھ نہ سکیں دیکھیں دیکھیں مجھے ۔۔۔ میں نہیں ہوں ہماری ماں جیسی نہیں ہوں بھائی میں نہیں ہوں ” اسکا بس نہیں چل رہا تھا وہ ایک سانس میں بولے اتنا چیخے اتنا چیخے کہ عمر کو اسپر یقین ا جائے جو بت کیطرح اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
جبکہ دوسری طرف شاہنواز کی دنیا پہلی بار اسی کی آنکھوں کے آگے گھوم اٹھی اسے لگا قدموں سے زمین کا کھسکنا صیحی معنوں میں اسکو کہتے ہیں
ایزہ عمر خیام کی بہن یعنی ناز کی بیٹی تھی ” وہ اپنے ہی قدموں پر لڑکھڑا گیا کہ گارڈ نے اسکو سہارا دیا
سر آپ ٹھیک ہیں ” گارڈ بولا
آ ۔۔ہاں ” وہ نہ سمجھی سے اسے دیکھنے لگا یوں لگا ہوا میں وجود ریزہ ریزہ ہو گیا ہو ۔۔۔۔
وہ آنکھیں جھپک جھپک کر ایزہ کو دیکھنے لگا جیسے واقعی وہ اسے دیکھنا چاہ رہا ہو جیسے آج سے پہلے اسنے کبھی ایزہ کو دیکھا ہی نہیں تھا اور وہ جیسے سن ہوتے دماغ سے وہیں کھڑا دیوار کا سہارا لیے سامنے دیکھتا رہ گیا ۔
ایزہ اسکے قدموں میں بیٹھی تھی عمر اسے دیکھ رہا تھا
م۔۔۔میرا یقین نہیں کریں گے نہ ” وہ سسکی
اگر ماضی کو اٹھا کر پلٹتے تو ایزہ اس وقت عمر کو دنیا کی سب سے جھوٹی لڑکی لگی لیکن اگر اپنے دل کی کیفیت کو دیکھتا تو وہ شاکڈ تھا
شوہر کہاں ہے تمھارا “
اسکے اس سوال پر ایزہ نے اسکی جانب دیکھا ۔
اعتبار کی کوئی بات اسکی آنکھوں میں نہیں تھی سنجیدگی سے پوچھا ایزہ نے انسو صاف کر کے اردگرد دیکھا شاہنواز دور ہی نظر ا گیا ۔
وہ۔۔۔۔۔
اور عمر نے اسکی نگاہ کی سمت دیکھا وہ اسکی بہن سے پندرہ سال بڑا تھا ۔۔۔۔
عمر اسکے قریب جانے لگا اور شاہنواز کو لگا اس وقت یہ سب برداشت کرنا اسکے لیے دنیا کا سب سے بڑا کام ہے عمر اس تک پہنچتا کہ وہ وہاں سے دوبارہ مڑا اور اسنے گاڑی ریورس کی
شاہنواز کے ہاتھوں کی کپکپاہٹ حیران کن تھی وہ ۔۔۔ وہ شخص تھا جو اپنے سامنے کسی کو کھڑا نہ ہونے دے اور عمر خیام کا سامنا اس وقت کر نہیں پایا
عمر بھی وہیں رک گیا ۔۔۔۔
کیونکہ شاہنواز قریب آنے سے پہلے ہی چلا گیا تھا اسنے مڑ کر ایزہ کو دیکھا جو بے بسی سے اسے دیکھ رہی تھی ۔
دوبارہ آؤ گا ” فاصلے سے ہی کہہ گیا
سچ کہیں ” ایزہ اسکے قریب آ گئ
سرخ آنکھیں اور بے چینی انگ انگ سے عیاں تھی
میں نے اپنی بات کا کبھی کسی کو یقین نہیں دلایا ” وہ سرد لہجے میں بولا
مجھے یقین ہے” وہ جلدی سے بولی
مام کی ڈیتھ ہو گئ ہے ” عمر نے سامنے جھولتے درخت کو دیکھتے اسے یہ اطلاع دی
ایزہ ایزہ اپنے پاوں میں لگے زخم کو دیکھنے لگی
اچھا ہوا ” اسنے اتنا ہی کہا
زندگی میں کبھی انکی شکل نہیں دیکھی میں نے ۔۔ اچھا ہوا مر گئیں کیونکہ اگر دیکھ لیتی تو شرمندگی ہوتی کہ میں انکی اولاد ہوں “
عمر نے اسکی جانب ناگواری سے دیکھا ۔
جیسے اپنا غصہ اندر اتار رہا ہو ۔۔۔
بات سنو میری ماں ہے وہ میری ۔۔۔ تمیز سے ” انگلی اٹھا کر وہ بھڑکتے لہجے میں بول گیا جبکہ ایزہ نے حیرانگی سے اسکا غصہ کرنا دیکھا ۔۔۔
لیکن ہم اپنی ماں کو نہیں پسند کرتے انکی وجہ سے “
ہم نہیں صرف میں تم نے جب دیکھا نہیں انھیں تو اپنے چھوٹے سے دماغ کو زیادہ چلانے کی ضرورت نہیں ہے ” وہ جھڑک گیا
جی ٹھیک ہے ” ایزہ سر جھکا گئ
یہ “جی ٹھیک ہے” کیا ہوتا ہے انسان کی انکھ میں انکھ ڈال کر بات کرنی چاہیے بھلے وہ بھائی ہو شوہر ہو یہ یہ بڈھی” اسنے دادی جان کو دیکھا
بھائی ” ایزہ ایکدم پریشان سی ہوئی
یہ ابھی کیا بکواس کر رہی تھی “
وہ عجیب ہی تھا اعتبار اب بھی اسپر کیا نہیں تھا اور حمایت میں لڑنے الگ کھڑا ہو گیا تھا
ب۔۔۔بھائی ” ایزہ نے اسے روکنا چاہا جو کہ دادی جان کی سمت بڑھا رہا تھا
ہاں تو کیا بکواس شکل رہی تھی ابھی تم”
بھائی دادی جان ہیں ” ایزہ نے اسکا بازو پکڑا
اے تو ۔۔ تو ہے کون تو ” دادی جان کی تو زبان ہی لڑکھڑا اٹھی
دیکھ قبر میں پاوں لٹک رہے ہیں زبان بند رکھا کر ” وہ گھور کر بولا اور ایزہ کو دیکھا جس کے چہرے کے رنگ فق ہو رہے تھے
دادی جان بھی یہ دیکھ رہی تھیں لیکن چہرے پر واضح خوف تھا کیونکہ وہ ان پر چڑھ جو گیا تھا
میں ۔۔ میرا شاہ ا جائے اسکو اور تجھے سیدھا کراتی ہوں میں “
چل ٹھیک ہے کہ بلا لے جس کو بلانا ہے کون شاہ ہے بھئ ۔۔ ” وہ بیٹھ گیا
بھائی “
کیا بھائی بھائی اگر تو تم پر لگے الزام جھوٹے ہوئے تو سب کی جان اپنے ہاتھوں سے لوں گا اور اگر سچے ہوئے تو تمھیں جہنم رسید بھی خود کرو گا دوبارہ او گا ” وہ گھور کر کہتا
باہر نکلنے لگا ایزہ اسکے پیچھے پیچھے بھاگی اگر کسی مرتے کو آخری امید دلائی جائے کہ وہ نہیں مرے گا تو اسکے جزبات جیسے ہوں ویسے ہی ایزہ کے تھے ۔
عمر بھائی” وہ پکار اٹھی
وہ مڑا سنجیدگی سے اسے دیکھا
ایزہ پھر سے اپنی انکھوں سے آنسو نکلتے نہ روک سکی
عمر کچھ دیر اسے دیکھتا رہا اور پھر مڑ کر نکل گیا
ساز کے علاؤہ یہ دوسرا شخص تھا جس کے آنسو برداشت سے باہر تھے لیکن یہاں سے نکلتے آج ایک بات تو طے تھی کہانی واقعی وہ نہیں تھی جو دیکھائی جا رہی تھی ۔
وہ پر سوچ سا ڈرائیو کرنے لگا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
