Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 01

تایا جان نے جناب عمر خیام صاحب کو گھر سے نکال دیا ہے
تالیاں بجاتی ہوئ صنم کمرے میں داخل ہوئ اور سب نے سکھ کا سانس لیا
ویسے تمھیں نہیں لگتا تایا جان نے بہت تاخیر کر دی یہ کرنے میں” ساز نے اپنی کتاب بند کرتے ہوئے کہا
چلو دیر آئے درست آئے شکر ادا کرو اور سب مل کر سو نوافل کی نیت باندھ لو ” صوفیا ہنستے ہوئے بولی
بے چارے خیام” صنم گھیرہ سانس بھرتی ہوئ بولی
اس میں بیچارگی کی کیا بات ہے ” ساز پین منہ میں لیتی اپنے نوٹس پر کچھ لکھنے لگی تھی
ویسے مجھے اچھا نہیں لگتا اس سے سب ہی نفرت کرتے ہیں اور تایا جان تو اسی انتظار میں بیٹھے تھے کسی دن اسے اس گھر سے باہر نکال دیں” صوفیا بولی
بہت اچھا کیا کم از کم اب گھر میں سب برائ سے بچ جائیں گے کل ہی ارہم بھائ بول رہے تھے
کہ یار خیام کیطرح ہونا چاہیے کم از کم کاروبار جس طرح نقصان میں جا رہا ہے بندہ کچھ ہی پلا کر اپنا غم ہی ہلکا کر لے “
کیا ارہم ایسے بول رہے تھے” صوفیا ایکدم آنکھیں نکال گئ جبکہ ساز شانے اچکا گئ
کل میرا پیپر ہے کیمسٹری کا اور اتنی فکر ہو رہی ہے پوچھو مت اور تم لوگ ایک بے کار بات کو ڈسکس کر رہے ہو ” وہ بات بدلتی بولی
اب کیا خیام سے کبھی نہیں مل پائیں گے” صنم وہیں اٹکی ہوئ تھی
تایا جان کی پہلی اولاد ہے ایسے کیسے وہ بھول جائیں گے کچھ دن بعد آ ہی جائے گا کیا خیال ہے” وہ دونوں ساز کو دیکھنے لگی
میری پیاریوں عمر خیام کی طوائف ماں کے پاس اتنا مال ہے اتنا مال ہے کہ وہ تایا جان جیسے دس والد خرید سکتا ہے “
یہ اللّٰہ ساز ایسے منہ پھاڑ کر مت کہو دل کو کچھ ہوتا ہے وہ دل کی تھیں بہت اچھی “۔ ۔وہ ناز کو سوچتے ہوئے بولی
ویسے عمر گیا اپنی ماں پر ہی ہے
باقی تایا اور تائ کی یہ والی اولاد تو ” وہ تینوں ہاتھ پر ہاتھ مار کر ہنسی ہی تھیں کہ اچانک دروازہ کھلا
اور سوہا کمرے میں ا گئ
تینوں ہی چپ ہو گئیں
کیا باتیں کر رہی تھی تم جو میرے آنے پر چپ ہو گئیں ہو ” وہ آنکھیں گھما کر بولی ۔
ہمیں کیا کہنا ہے ہم تو بس عمر خیام کا سوچ رہے تھے “
اور تم تینوں کیوں سوچ رہیں تھیں اسکو”
مجھے پلیز نکال دیا جائے اس لسٹ سے کیونکہ میرے پاس وقت بلکل نہیں ہے کسی کو سوچنے کا ” ۔
ساز عشاء کی نماز پڑھنے اٹھ گئ
ابھی سوہا کچھ بولتی کہ ثروت چچی ا گئیں اور ان سب کو نماز پڑھنے کا کہا کیونکہ تایا جان مسجد جاتے ہوئے جہاں سب کو لے گئے تھے اپنے ساتھ وہاں خواتین کو کہہ کر گئے تھے کہ نماز کی ادائیگی کر لی جائے
جلدی اٹھ جاو لڑکیوں” ثروت چچی بولیں اور صنم کے ساتھ صوفیا بھی اٹھ گئ جبکہ سوہا نے ساز کے نہایت سفید ہاتھوں کو دیکھا جن میں ایک نازک سا چھلا تھا
معلوم نہیں یہ چھلا اسے کیسے کب اور کیوں ملا تھا بہت ہی حسین تھا نہ ہی گھر میں کسی کا تھا اور نہ ہی وہ باہر جاتی تھی اسے عجیب سی جلن ہوئ تھی اسکے ہاتھوں کو دیکھ کر جبکہ اسکا اپنا رنگ سانولا سا تھا اور کچھ اسی طرح کا صوفیا اور صنم کا بھی تھا
گھر میں ساز کے علاوہ کسی کا رنگ اسقدر صاف نہیں تھا وہ کچھ دیر اسے دیکھتی رہی پھر سر جھٹک کر اٹھ گئ
جبکہ ساز اپنی ہی دھن میں نماز ادا کر رہی تھی کہ سلام پھرتے ہی اسکے کانوں میں پھر سے عمر خیام کے نام کی باز گشت دوڑنے لگی
ویسے یار عمر خیام گھر سے چلا گیا اور کسی کو کوئ پرواہ ہی نہیں تایا نماز پڑھنے چلے گئے
چلو چند لمہے بیٹھ کر آنسو ہی بھا لیتے نالائق ہی سہی بیٹا تو تھا ” صنم نے کہا جبکہ صوفیا پر سوچ ہوئ
مجھے لگتا ہے وہ واپس ا جائے گا “
وہ واپس نہیں آئیں گے” ساز نے دوبارہ نیت باندھتے ہوئے کہا
ارے ارے کیوں ” وہ دونوں بولیں جبکہ ساز نیت باندھ چکی تھی
پتہ نہیں کیوں میرا دل بیٹھ رہا ہے” صنم نے پھر سے کہا
تمھیں بڑی تڑپ اٹھ رہی ہے” صوفیا نے ٹھونگا مارا
جبکہ صنم شانے اچکا گئ فضول نہ بولو
پتہ نہیں بار بار خیال آئے جا رہا ہے” آہستگی سے بولتی وہ بھی نماز پڑھنے کھڑی ہو گئ
تینوں نے نماز پڑھی اور ساز سب سے پہلے نیچے ا گئ ۔
سب خواتین نماز پڑھنے میں مگن تھیں اور وہ نیچے چائے بنانے ا گئ
کیا بنا رہی ہو “
تائ جان چائے” وہ آہستگی سے بولی
دیکھو بی بی بہت نقصان میں جا رہا ہے تمھارے تایا کا کاروبار کم پیا کرو یہ دودھ چائے وائے” وہ ائ برو اچکا کر بولی جبکہ ساز نے اسکی جانب دیکھا
پھر اندر داخل ہوتی اپنی ماں کو اور ہر بار کیطرح وہ یہ ہی سوچ کر وہ افسردہ رہ گئ کہ اسکی ماں اسکے لیے کچھ بولے کچھ کہے
اسنے پین واپس رکھ دیا
بھابھی ٹھیک کہہ رہی ہیں ساز خیال تو رکھنا پڑے گا ” اسکی ماں نجما اندر آتے بیٹی کو بولیں
مگر دودھ بہت سارا ہے اور ابھی سب ہی چائے پیئں گے مما ” وہ ہلکی آواز میں بولی
ساز بھابھی سن لیں گئ” وہ ڈر گئیں
مما پلیز کچھ تو بول لیا کریں کبھی میرے لیے یہ اپنے لیے” وہ اپنے آنسو پیتی کچن سے ہی باہر نکل گئ ۔
اور اندر اتے اپنے بھائ سے ٹکرا گئ
بدر نے اسکی جانب دیکھا ساز نگاہ چرا گئ
کیا ہوا ہے”بدر نے اسکا ہاتھ پکڑ کر روکا
کچھ نہیں بھائ “
بتاو مجھے” وہ ذرا نرمی سے بولا
مما چائے نہیں پینے دے رہیں تائ جان نے کہا ہے کہ دودھ ختم ہو جائے گا میرے پینے سے” اسکی آنکھیں بھر آئیں
بدر نے ضبط سے اندر کچن میں دیکھا اسکی ماں اب دیکچہ بھر کر چائے بنانے لگی تھی
معلوم نہیں قسمت نے اسے اتنی شدید بے بسی میں کیوں مبتلہ کر دیا تھا کہ وہ چاہ کر بھی اپنی ماں بہن کو یہاں سے نکال نہیں پا رہا تھا
چلو آؤ میں تمھیں چائے پلاتا ہوں ” وہ بولا اور اسے اپنے پیچھے آنے کا کہا
نہیں بھیا میرا پیپر ہے بس سر درد تھا تو چائے پینی تھی اب تو دل بھی نہیں کر رہا “وہ ہلکا سا مسکرائ
ساز” بدر نے گھیرہ سانس بھر کر اسکا چہرہ دیکھا جو تائ کے ٹوکنے پر اتر گیا تھا
ساز ہلکا سا مسکرائ اور معمولی سا گڑھا اسکے گالوں میں پڑ گیا
اور وہ اوپر ا گئ
جبکہ بدر اسکی پشت دیکھتا رہا اور پھر اسنے ماں کو دیکھا
جی بھابھی ابھی بنا دیتی ہوں آپ جائیے باہر ” وہ جلدی جلدی بولیں تھیں وہ جانتا تھا وہ اسطرح کا رویہ کیوں رکھتی ہیں کیونکہ اسکے علاوہ انکے پاس کوئ چارہ نہیں جوان جہان بیٹا کون سا انکا کچھ کر پا رہا تھا
ایکدم ہی اسے شدید غصے نے ا گھیرہ اور وہ باہر نکلتا کہ سوہا سے ٹکراتا ٹکراتا بچا
سوہا اور اسکا رشتہ تایا جان کی ہی مرضی پر طے پایا تھا
باپ جتنا حلال تھا بیٹی اتنی ہی حرام ۔۔۔ بدر اسکے پہلو سے نکلنے لگا
کب تک بچتے پھیرو گے مجھ سے بدر زمان ” سوہا ذرا اٹھلا کر بولی
جبکہ اسکے آگے ا گئ
اسے اسکے ساتھ کوئ دیکھ لیتا تو طوفان کھڑا کر دیتا ۔۔۔
جبکہ سوہا کو بدر کے صاف رنگ سے عشق تھا کیونکہ اسکا رنگ اسکی خوبصورتی اور وجاہت بھی بلکل اپنی بہن کے ہو بہو تھی
جس کی وجہ سے وہ بدر پر مر مٹنے کو تیار رہتی تھی جبکہ بدر کے مالی حالات ایسے تھے نہیں کہ وہ اسے گھاس بھی ڈالتی ۔۔۔
بدر پھر بھی کچھ نہیں بولا پیشانی پر بل ڈالے پہلو سے نکلنے لگا
اچھا سنو کل میں یونیورسٹی جاوں گی تمھارے ساتھ ساز پیپر دے گی ابا سے چھپ کر ہم دونوں مل لیں گے” وہ بولی
چہرے پر خوشی پھیل گئ
مجھے تم سے ملنے کا کوئ شوق نہیں ” وہ کہہ کر پھر گزرنے لگا
تمھاری جیب تو میرے باپ کے پیسے پر چل رپی ہے اور اکڑ تمھارے اندر خوب بھری ہوئ ہے ” وہ طنزیہ بولی جبکہ بدر مڑا
انگلی اٹھائ اور اسکو کھا جانے والی نظروں سے دیکھنے لگا
میرے باپ کا حصہ دبا کر بیٹھا ہے تمھارا سانپ باپ ۔۔۔ جس دن مل گیا نہ میرا حصہ تم سب کی شکلیں بھی بدر زمان پر حرام ہیں” وہ بھڑک کر کہتا اسکے پاس سے گزر گیا اور سوہا آنکھیں سکیڑ گئ جبکہ پیچھے ماں کو دیکھ کر سٹپٹائ
کیا کہہ رہا تھا “
کچھ نہیں بس وہ کہہ رہا تھا کہ صبح ساز کا پیپر دلانے میں چل لوں چھوٹی ہے نہ کچھ الٹی سیدھی حرکات نہ کر دے”
لگتا تو نہیں تمھارے منہ سے وہ یہ کہہ رہا تھا قور کتنی بار کہا ہے تمھارے باپ نے دیکھ لیا تو جان سے مار دے گا ” وہ بھڑکیں
اچھا طوائف سے شادی کر کے بلی حج کو چلی جائے نہ تو کوئ توبہ نہیں ہوتی”
بہت زبان چل رہی ہے تیری” وہ بھڑک کر چپل اتارنے لگیں جبکہ وہ اندر بھاگ گئ
بدر غصے سے باہر ا گیا
یہ لون بہت بڑا نہیں تھا لیکن ہوا دار ضرور تھا وہ درخت کے گرد بنے سیمنٹ کے چبوترے پر بیٹھ گیا اور اپنے ہاتھوں کی لکیروں کو دیکھنے لگا اگر کوئ کہتا کہ اسے اپنے ہی گھر والوں سے سخت نفرت ہے تو یہ برا نہیں تھا
اسے علم نہیں تھا تایا جان نے اسے آج تک بزنس میں داخل ہونے کیوں نہیں دیا اور نہ ہی کبھی وجہ بتائ بس وہ گھر کے کاموں میں لگا ہوا تھا جبکہ اسکی ڈگریاں بھی کسی سٹور کی شیلف پر گرد کی تہہ تلے پڑی اپنی قسمت پر رو رہیں تھیں
وہ ایک غصے سے بھرا شخص تھا جس کے اندر اتنی اگ تھی کہ شاید کبھی کوئ بھی اسکے اندر لگی آگ سے بچ پاتا
وہ نہ کچھ کر سکتا تھا اور نہ کچھ کر پاتا تھا
معلوم نہیں اسکے باپ نے جوا کب کھیلا جس میں وہ اپنی وراثت ختم کر گیا جبکہ اسنے جتنا اپنے باپ کو دیکھا تھا وہ اپنے کام کے لیے بہت سنجیدہ تھا لیکن ہارٹ اٹیک کے باعث مرنے کے بعد تایا نے اسے بتایا کہ بزنس میں اسکا جتنا حصہ تھا وہ اسکا باپ ختم کر چکا ہے اور اب نہ ہی کاروبار کی جانب وہ دیکھ سکتا اور نہ ہی وہ کچھ اور کر سکتا ۔۔۔۔
چھوٹی موٹی نوکریاں ہی تھک ہار کر تلاش کرنے لگا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکا کانپتا وجود اور شدت سے کپکپا اٹھا جبکہ پیسوں کی گڈی اسکے اوپر اچھلی اور سیاہ اسمان پر چھاتی وہ اسکے اوپر سے زمین پر گرتی چلی گئ
کوالی کی مسرور کن آواز جہاں سب کو سرور دے رہی تھی وہاں وہ دل تھامے اس شخص کو دیکھ رہی تھی جس کے ہاتھ میں پیسوں سے بھرے تھیلے تھے اور وہ ان میں سے مٹھی بھرتا اور اسکے اوپر اچھال دیتا
وہ بیس سالہ لڑکی اسکے اس عمل پر ہر بار نئے سرے سے کانپ اٹھتی جبکہ وہ جھوم جھوم جا رہا تھا ایسا نہیں تھا وہ نشے میں تھا وہ شراب نہیں پیتا تھا
لیکن وہ ہوش میں بھی نہیں لگ رہا تھا کیونکہ کوئ اسطرح کیسے کر سکتا تھا اس طرح ایک ان چاہی بیوی پر اتنا پیسہ کیوں لٹا سکتا ہے
آندھیاں وہ چلی آشیاں لٹ گئے ۔۔۔۔ لٹ گیا ۔۔۔۔
پیار کا مسکراتا جہاں لٹ گیا ۔۔۔ لٹ گیا ۔۔۔۔
اسکی آنکھوں میں تیزی سے آنسو بھرے جس کو اسنے جلدی سے حلق میں اتارا اگر اسکے یہ آنسو کوئ دیکھ لیتا
اسنے جھومتے ہوئے شاہنواز سکندر کو دیکھا اور سر جھکا گئ
وہ دیکھاوا کر رہا تھا سب کے سامنے لیکن اسکی کیا غرض تھی بھلا
سیاہ لباس میں عمر میں اس سے پندرہ سال بڑا مرد اسکا دم گھٹنے لگا تھا لیکن وہ خاموش کھڑی تھی
اور بھی بہت لوگ تھے اسکے ارد گرد بے آواز سی ہچکی نکلی اور اپنے ہی اندر دم توڑ گئ ۔
کوالی کی آواز اسکے دماغ میں ہتھوڑے برسا رہی تھی اسنے شاہنواز کی جانب دیکھا
وہ رک گیا تھا کسی کی جھک کر بات سن رہا تھا
وہ چاہتی تھی وہ اسے کہے یہاں سے چلی جاو
اور بس وہ بھاگتی ہوئ وہاں سے چلی جائے وہ اسے بےتابی سے دیکھنے لگی جبکہ وہ اپنا ملازم کی بات سن کر سر ہلا کر اسے انگلی کے اشارے سے نزدیک بلانے لگا
اور ہاں وہ اسکے انگلی کے ایک اشارے پر چلتی تھی وہ جلدی سے اسکی جانب بڑھی اور شاہنواز نے جھک کر اسکے کان کے نزدیک بظاہر بہت مسکرا کر کہا لیکن اسکے الفاظ ۔۔۔
اپنی شکل لے کر دفع ہو جاو ” کچھ ایسے تھے
ایزہ جلدی سے گھر کے اندر چلی گئ اور اندر آنے تک اسکے کئ آنسو گالوں پر پھیل گئے جنھیں سب سے چھپا کر اسنے صاف کر لیا تھا
یہاں سب اسکے وفادار تھے
وہ کمرے میں جانے لگی کہ دادی جان کی پکار پر رک گئ
بہو تمھیں دیکھائ نہیں دے رہا ہم بیٹھے ہاں کہہ بھاگی جا رہی ہو ” وہ سختی سے بولیں
وہ رک گئ ۔۔۔ سوری میں وہ”
یہ کس لہجے میں بات کر رہی ہو ” وہ کافی سخت تھیں بلکل اپنے پوتے کیطرح ۔۔۔ یہ شاید انکا پوتا ہو بہو انکے جیسا تھا
میں معافی چاہتی ہوں آپ سے میرے سر میں درد ہو رہا تھا لیکن یہ اتنا بھی اہم نہیں” وہ اسی انداز میں بولی جس انداز میں یہاں بولا جاتا تھا اور انکے سامنے بیٹھ گئیں
وہ سر ہلا گئ
انکے سامنے بیٹھے اسے گھنٹہ گزر چکا تھا لیکن انھوں نے ایک لفظ نہیں کہا اسکی کمر اکڑ چکی تھی
یہ زیورات چبھ رہے تھے یہ لباس کھائے جا رہا تھا
لیکن وہ ایک بڑے گھر کے بڑی عمر کے بیٹے کی اچھی بیوی بنی ہوئی تھی
اور گھنٹے بعد انکو شاید اسے اذیت دینے کا دل ختم ہو چکا تھا
ٹھیک ہے اب گونگی بنی بیٹھی ہی رہو گی جاو یہاں سے” وہ بےزاری سے بولیں
کافی اکھڑے ہوئے مزاج کی خاتون تھیں
ایزہ سر ہلاتی سلام کر کے اٹھ گئ اور کمرے کے اندر جیسے ہی قدم رکھا اسنے اردگرد دیکھا کمرہ خالی تھی
بہت بڑا شاندار کمرہ ہر آسائش سے بھرپور
اسنے دروازے کئ ناب کو تھاما اور اسکی سسکیاں پورے کمرے میں گونجنے لگیں
وہ بچوں کیطرح پھوٹ پھوٹ کر رو دی
ایک گناہ کی سزا اتنی سخت تھی کہ اسکی بیس سالہ عمر چالیس سال کو پہنچتی ہوئ لگتی تھی
کیونکہ بیس سال میں اسنے بہت کچھ سیکھ جو لیا تھا ۔
تہذیب طریقے اطوار اور اپنا گلہ گھوٹنا محبت کافی بڑا جرم تھا
وہ پاوں پٹخ پٹخ کر رو دی
کیونکہ پیچھلے چھ مہینے سے وہ اسطرح بے بسی سے دوسری بار ہی روئ تھی ورنہ اسکے پاس رونے کا وقت نہیں تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ساز کا پیپر تھا اور اسے نا چاہتے ہوئے بھی امی کی مدد کرنی پڑ رہی تھی کیونکہ ناشتہ سب کے لیے امی بناتی تھی اور امی کا ہاتھ جل گیا تھا تبھی وہ جلدی جلدی سب کے لیے پراٹھے بنا رہی تھی ۔
ثروت چچی نے بھی حالانکہ آکر کہا کہ وہ بنوا دیں گی لیکن تائ جان نے انھیں حکم دے دیا تھا کہ وہ آج سب کے کپڑے دھونے کے لیے مشین لگا لیں
تو وہ وہاں چلی گئیں اور اس مشقت میں اسے اپنی ماں کے ساتھ اترنا پڑا بار بار وقت دیکھتے اور سوئ کی رفتار بڑی تیزی سے آگے بڑھتے دیکھ اسکو رونا آنے لگا
نجما نے بیٹی سے نگاہ چرا لی کہ وہ کچھ نہیں کر سکتی تھی
ساز” بدر کی آواز جیسے صحرا میں پانی کیطرح تھی
جی بھائ” وہ پراٹھا توے پر چھوڑتی باہر ا گئ اسکے حسین سفید چہرے پر چولھے کے سامنے کام کرنے کی وجہ سے سرخیاں سی بھری ہوئ تھیں جبکہ نہایت عام سے لباس میں یہ پھر یہ کہا جا سکتا ہے سوہا کی اترن میں وہ بے پناہ حسین لگ رہی تھی
تمھارا پیپر ہے تم کن کاموں میں لگی ہو ” وہ بولا
بھائ وقت نکل رہا ہے” وہ جیسے رو دی
تو تمھیں کس نے کہا تھا یہ کرو گھر میں اور بھی لوگوں ہیں” وہ ذرا غصے سے بولا ۔
بدر” اسکی ماں نے ٹوکا
ہاں بھئی بولنے دو آخر کو مفت ٹکڑے توڑنے والوں کے منہ سے پھول تھوڑی نہ جھڑتے ۔
بدر صاحب جیبیں بھر بھر کر پیسہ نہیں لاتے تم جو بول رہے ہو
ایک کاروبار ہے وہ بھی مر مر کر چلتا ہے تمھارا باپ تو جوے میں ہار کر برباد کر گیا ہم سب کو اور تم یہاں کھڑے باتیں سنا رہے ہو”
تائ کی زبان کبھی نہیں رکی تھی اسکی ایک بات کے بدلے چار سنا کر وہ کچن میں ا گئ
ساز کو اچھا نہیں لگتا تھا جب بدر کو سب اس طرح ٹریٹ کرتے تھے
وہ خاموشی سے چہرے پر ایک جنوں لیے کھڑا تھا ۔
جبکہ دوسری طرف ساز جلدی جلدی اپنے بھائ کی وجہ سے ناشتہ پورا کرنے لگی ۔
اور پیپر شروع ہونے کے عین پندرہ منٹ بعد وہ فارغ ہوئ
ساز ناشتہ کر لو
امی وہ ” حالانکہ اسے بھوک تھی
ارے جانے دو ہٹی کٹی ہے اس کی صحت پر کیا اثر پڑے گا تائ بولی تو ساز چپ ہو گئ ۔
اور بھاگتی ہوئ باہر ائ ایک ٹوٹی پھوٹی بائیک پر اسکے بھائ کے ساتھ سوار ہوئ اور ابھی وہ دونوں گیٹ سے باہر نکلتے کے سوہا جلدی سے انکے آگے ا گئ
کیونکہ تایا جان اور چاچو سمیت ارہم بھی گھر سے جا چکا تھا تبھی سوہا کو ہوا لگ گئ تھی
میں بھی چلوں گی” اسنے کہا اور ساز کو اتار کر خود بدر کے ساتھ چیپک کر بیٹھ گئ اور ساز کو پھر اسکے پیچھے بیٹھنا پڑا وہ کافی خوش تھی جبکہ بدر کا خون کھول رہا تھا اور ساز اپنے پیپر کے لئے تڑپ رہی تھی
راستے میں کئ بار گاڑی رکی اور پیپر گزرنے کے گھنٹے بعد وہ یونیورسٹی میں داخل ہوئ اور پھر بھاگتی ہوئ اپنا رول نمبر چیک کر کے روم میں گھس گئ ۔
تم اس کھٹارا کو بیچ کیوں نہیں دیتے یہ تم نے والد صاحب کی آخری سانسیں بھرتی نشانی کو سنبھالنا ہے”
وہ ہنسی جبکہ بدر نے جواب نہیں دیا ۔
چلو اب شرماو مت یہاں تو میرے اور تمھارے علاوہ بھی کوئ ایک دوسرے کو نہیں جانتا” وہ بولی اور اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھا اسکا سفید مردانہ ہاتھ جبکہ اسکا پتلا سا سانولا ہاتھ بلکل ان دونوں کا جوڑ تھا نہیں ۔۔۔
بدر نے گاڑی کو دو تین بار جھٹکے دیے پیٹرول بھی نہیں تھا اسنے جیب میں دیکھا اتنے پیسے تو تھے پیٹرول بھر لیا جاتا
وہ سوہا کو ایسے اگنور کر رہا تھا جیسے وہاں کوئ موجود ہی نہ ہو جبکہ سوہا اسے گھورنے لگی اور اچانک ان دونوں کے آگے سے ایک تیز رفتار گاڑی گزری
گاڑی کے ٹائروں کی دھول ان دونوں پر تھی
کون جاہل گدھا الو کا پٹھا ہے یہ ” وہ دھاڑی
جبکہ بدر نے گھور کر اسے دیکھا
زبان بند رکھا کرو “
آہ آئے بڑے اتنے بھی توپ چیز نہیں ہو جو مجھ پر حکمرانی کرو گے” اسنے بال جھٹکے بدر نے سر جھٹکا اور آگے چلنے لگا
کہاں جا رہے ہو ” اسکے بے تکے سوال شروع ہو چکے تھے ۔
جھنم میں” وہ بےزار سا ہوتا بولا
وہ تو خیر بعد کی بات ہے ” وہ شانے اچکا گئ
اچھا سنو چاٹ کھلا دو ” وہ جوش سے بولی
پیسے نہیں ہیں” وہ مجبورا اس سے بات کر رہا تھا
حد ہی ہے ” وہ اسے غصے سے دیکھنے لگی اور بدر کا ضبط کرنا مشکل ہو رہا تھا اسنے گاڑی میں پٹرول بھروایا اور دوبارہ وہیں آ گیا جہاں ساز تھی تاکہ وہ ہریشان نہ ہو
اب یہاں بیٹھ کر پاگلوں کیطرح انتظار کرنا ہے ” وہ بولی
سوہا میں نے تمھیں نہیں کہا تھا میرے پیچھے او ” وہ غصے سے بولا جبکہ سوہا نے اسکی جانب دیکھا
تم مجھ سے نہ تمیز سے بات کیا کرو ” وہ انگلی اٹھا کر بولی
اور بدر کا دل کیا اسکی انگلی توڑ دے
اسنے اذیت انگیز لمہے گزارے تھے جتنی دیر ساز نے پیپر دیا اور جب وہ باہر ائ تو بچوں کیطرح رو رہی تھی
لو جی ڈرامہ شروع” سوہا نے ہاتھ جھاڑے” ۔
کیا ہوا ” وہ بولی
بدر کو فکر ہوئ
بھائ میرا پیپر رہ گیا ہے میں گھنٹہ لیٹ تھی اور انھوں نے پنشمنٹ کے لیے آدھا گھنٹہ کھڑا رکھا ہے” وہ روتے ہوئے بولی
اپنے نکمے پن کو اب کسی اور پر مت ڈالو ساز” سوہا کی بات پر بدر جیسے اگ بگولہ ہوتا پلٹا
اپنی زبان بند رکھو میرے اور میری بہن کے بیچ مت بولنا اب “
او ہیلو ہوتے کون ہو تم مجھ سے یوں بات کرنے والے تم دونوں بہن بھائی میرے باپ کے پیسے پر پل رہے ہو اپنی زبانیں اور نظریں نیچے رکھا کرو ” وہ چلائ اور وہاں سے چلی گئ جبکہ ساز مزید رو دی اور بدر نے اسکے آنسو صاف کیے
ریلکس کچھ نہیں ہو گا نیکسٹ ائیر پھر دے دینا” وہ اسے تسلی دینے لگا جبکہ بدر خود نہیں جانتا تھا کہ اگلے سال میں کیا ہو گا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے