Ek Ana Parast By Tania Tahir readelle50024 Episode 44
No Download Link
Rate this Novel
Episode 44
اسنے زمیر سے عینک کا کہا اور دادی جان کو کمرے میں لے آیا ایزہ دور دور سے اسے دیکھ رہی تھی شاہنواز نے نگاہ پھیری اور دادی جان کو اندر لے گیا ۔
شاہنواز تیرے ماموں کی بیٹی ہے نہ کیا نام ہے بھلا سا اس بچی کا
عائشہ ” شاہنواز نے یاد دلایا
ایزہ دروازے کے نزدیک ا گئ
ہاں ۔۔ ہاں میرے بچے وہ بچی اتنی کوئ پیاری بچی ہے اسے دعوت دی ہے میں نے زلیخا کے گھر ائ ہوئی تھی میں نے کہا بیٹا ہمارے گھر بھی آؤ ایسے پیار سے بولی ہے نہ کہتی دادی جان جب آپ کہیں گی میں ا جاو گی میرا بچہ جا کر اسے تو لے آ اور یہ جو تیری کبوتری ہے نہ اسے بھی ساتھ لے کر چلا جا ورنہ تجھے چونکے مارے گی توبہ توبہ بڑی تیز ہو گئ ہے
جب سے وہ موا اسکا بھائ آیا ہے نہ ۔۔۔
دادی جان ویسے میں سب سن رہی ہوں اور عمر بھائی تو کہہ رہے تھے کہ آپ سے خصوصی ملنے آئیں گے ” وہ شاہنواز کو گھور کر دیکھتی دادی جان کو بولی
آئے ہائے مجھ سے کیوں ملنے آئے گا نہ بابا میں نہیں ملو گی کسی سے کیسے کھانے کو دوڑا ہے شاہنواز میرے بچے تو سن رہا ہے نہ” وہ شاہنواز کو ٹٹولنے لگی
ایزہ” شاہنواز سختی سے بولا
وہ مجھے کبوتری کہہ رہی ہیں”
ہاں تو تو ہے کبوتری تو ہے چالاک لومڑی ” دادی جان کہاں پیچھے رہنے والی تھی
چلیں ٹھیک ہے پھر اپکا پوتا چالاک لومڑا ہے ” وہ ذرا غصے سے بولی
شاہنواز نے اسے ضبط سے دیکھا اب دادی جان کو تو کچھ نہیں کہہ سکتا تھا وہ تو اپنا منہ بند کر سکتی تھی لیکن نہیں اسنے کہاں رکنا تھا
دیکھا دیکھا پھر تو کہتا ہے کہ دادی جان سختی نہ کیا کریں آنے دے میری عینک اسے میں سیدھا کرتی ہوں “
مگر ایزہ تو وہ ضدی انسان بن گئ تھی جسے کوئی فرق ہی نہیں پڑ رہا تھ کسی بھی بات کا ۔
شاہنواز نے اسے بلکل چپ رہنے کا اشارہ کیا اور وہ خلاف توقع چپ بھی ہو گئ
دادی جان آپ آرام کریں زمیر ابھی آپکی عینک لے آتا ہے “
اسنے انھیں لٹایا اور انپر کمبل درست کیا
ہاں بیٹا اگر تو نہ ہو تو میرا کیا بنے
یہ تو مجھے کچا کھا جائے گی تھکا دیتی ہے یہ لڑکی ایسے اڑتی اڑتی پھر رہی ہے لو بھلا کل کی سن لو کہتی ہے مجھے تیز جھولے دو انسانوں کیطرح تو یہ اب مجھے لگتی ہی نہیں بھلا بچے کو کچھ ہو جائے کہاں جاؤ گی میں تو میرا بیٹا عائشہ کو لے ا یہ تو میرے دن کم کر رہی ہے زندگی کے “
وہ لیٹتے لیٹتے بھی بولے جا رہی تھیں شاہنواز باہر نکل آیا ایزہ خاموشی سے اسے دیکھنے لگی ۔
شاہنواز نے ملازمہ کی جانب دیکھا
ایک کپ کافی لا دیں مجھے ” اسنے سنجیدگی سے کہا اور اخبار اٹھا لیا ایک نظر سرخیوں پر ڈالی اور ماتھے پر کئ بل ڈال گئے
اسکے خلاف آج کل ایک مہم چل نکلی تھی کسی نے فہیم کی آڈیو لیک کر دی جس میں وہ شاہنواز کو چلا چلا کر کہہ رہا تھا کہ مجھے مت مارو اور اسکے بعد وہ آڈیوز اس تیزی سے پھیلی تھی کہ اسکا سب تباہ کرنے پر تلے تھی ۔
لیکن اسنے اس بات کو ناک پر سے مکھی کیطرح اڑا دیا تھا وہ اخبار کو ہی غور سے دیکھ رہا تھا
میرے بارے میں آپ سکون سے برائیاں سن لیتے ہیں “
میں نے تمھیں کچھ بھی نہیں کہا ” وہ بولا اور کافی کا مگ اسنے ٹرے میں سے اٹھا کر لبوں سے لگا لیا
کہا نہیں سنا تو ہے نہ “
ہاں تو ” وہ لاپرواہی ظاہر کر رہا تھا ۔
سہی عائشہ کون ہے ” وہ سینے پر ہاتھ باندھے اس سے سوال پر سوال کر رہی تھی
کزن ہے”
کزن یہ “
میں نے سوال کیا ہے تم سے کبھی ایسا ” وہ گھور کر بولا ۔
جو آپ نے سوال کیا تھا نہ جس طرح اسکا بھگتان میں نے اتارا ہے یہ مجھے پتہ ہے “
تمھاری زبان واقعی بہت لگ گئ ہے ” شاہنواز نے اخبار کا پیج پلٹا ۔
اسے زبان لگنا نہیں کہتے اسے “
ہمممم”
اسے اسے بس بولنا کہتے ۔۔۔۔ آپ مجھے اگنور کر رہے ہیں”
ایزہ منہ بند رکھو اپنا ” وہ خبر پر پوری توجہ دے رہا تھا ایزہ نے اخبار کھینچ لیا
ایکدم بڑی شدت سے غصہ آیا تھا اسے لیکن سامنے محسوس ہو گیا کون کھڑا ہے پی گیا
کیا چاہیے تمھیں” وہ جیسے عاجزی سے بولا ۔
مجھے باہر جانا ہے ” وہ فرمائش کر رہی تھی پہلی بار ہی تھا
اچھا ٹھیک ہے تیار ہو کر ا جاو جاو شاباش اور ذرا اچھی سے تیار ہونا
اوکے پھر میں بلیک سوٹ پہن لیں ” وہ جوش میں آ گئ
ہاں ہاں پہن لو اچھا سا تیار ہونا جاو جاو ” وہ جان چھڑا کر اخبار کو دیکھنے لگا
جس میں چھپنے والی خبر ایکدم دماغ ہلا گئ اسنے فون اٹھایا اور زمیر کو کال کی ۔
کہاں تھے کل تم “
سر میں”
ابھی گاڑی نکالو “
سر “
شیٹ اپ “
اسکی دھاڑ ہی کافی تھی وہ ویسے ہی اٹھا اور وہ اخبار بھی ساتھ لے کر وہ باہر نکل گیا ۔
دوسری طرف ایزہ پورے ڈیڈ گھنٹہ لگا کر تیار ہوئی تھی اور جب وہ نیچے آئی تو ادھورا کافی کا ٹھنڈا کپ اسکا منتظر تھا
شاہ” وہ ادھر ادھر دیکھنے لگی
بی بی وہ تو بہت دیر کے چلے گئے ہیں ” ملازمہ نے کہا
ایزہ چپ ہو گئ اور شدید غصے سے اسنے اپنا دوپٹہ وہیں پھینکا اور ایرنگز بھی اتار کر پھینکے چوڑیاں بھی پھینکی اور اوپر کمرے میں بند ہونے کی نیت سے ابھی جاتی کہ دیکھا ملازمہ سامان اٹھا رہی تھی
خبردار جو آپ نے کچھ اٹھایا ” وہ بھڑکی اور ملازمہ کے دور ہٹتے ہی اندر چلی گئ ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاہنواز گھر پہنچا تو لاونج میں پڑی چیزوں پر توجہ نہیں دی سیدھا دادی جان کو کمرے میں عینک دینے چلا گیا اور پورے گھنٹے بعد وہ اٹھ کر باہر آیا تو اچانک ایزہ پر نگاہ گئ وہ کپ میں چمچ چلا رہی تھی اسنے گھڑی کی جانب دیکھا اور شاہنواز نے سر پکڑ لیا
وہ کیسے بھول گی تھا کہ وہ اسے باہر لے کر جانے والا تھا سنجیدگی سے دیکھ کر ایزہ دوبارہ سے کمرے میں جانے کے لیے اوپر چڑھ گئ جبکہ وہ چائے میں چمچ چلا رہی تھی بلیک ویلویٹ کے سوٹ میں لے تو کمال رہی تھی لیکن وہ پہلی بار ڈر گیا کہ یہ کیا گستاخی ہو گی
اور یہ سب جو کچھ ان دونوں کے بیچ چل رہا تھا بڑا بے ساختہ تھا وہ ایک دوسرے سے ناراض ہو رہے تھے ایک دوسرے کو منا رہے تھے زندگی روش بدل رہی تھی خبر دونوں کو ہی نہیں تھی ۔
شاہنواز نے اب لاونج میں پڑا سامان دیکھا ملازمہ اسکے نزدیک آئی
شاہ جی میں اٹھا دوں” وہ بولی
نہیں تم جاؤ ” وہ اوپر کھڑی دیکھ اور سن رہی تھی
اور شاہنواز نے جھک کر اسکا سارا سامان اٹھایا اور پھر وہ بال جھٹک کر کمرے میں چلی گئ تو وہ بھی اسکے پیچھے ا گیا
وہ میں کسی کام سے نکل گیا تھا یاد نہیں رہا ” وہ بولا جبکہ ایزہ نے جواب نہیں دیا اترا کر موبائل دیکھنے لگی ۔
تم سے بات کر رہا ہوں”
میں بہری ہوں مجھے سنائی نہیں دیتا ” اسنے موبائل کو گھورتے ہوئے کہا ۔
میں واقعی بھول گیا تھا ” وہ بس اتنا ہی بولا
ٹھیک ہے عائشہ کو اس تصویر والی آنٹی کو اور اس ملازمہ کو یاد رکھیں جو شاہ جی کہہ رہی تھی اپکو “
تو سارے ملازم ہی یہ کہتے ہیں”
شاہنواز کو سمجھ نہیں آئی ملازمہ کا کیا سین تھا اس میں ۔۔۔
جی نہیں صاحب صاحب کہتے ہیں اسے دورا پڑا ہے شاہ جی کہنے کا تو ٹھیک ہے کہتی رہے سننے والا راضی بولنے والا راضی میرا کیا کام ہے “
اچھا بس چلے اٹھو چلتے ہیں” اسنے اسکے ہاتھ سے موبائل کھینچا ۔
شاہ مجھے غصہ آ رہا ہے ” وہ آنکھیں دیکھتی بولی
اچھا ” وہ موبائل پھینک گیا اور ایکدم ایزہ کو کھینچ کر کے سینے میں بھینچ لیا ۔
واہ ” وہ داد دینے لھا وہ آنکھیں سکیڑ کر منہ بنا کر صوفے پر سے اٹھنے لگی
شاہنواز نے اسے صوفے پر ہی کھڑا کر لیا اپنے سامنے ۔
سوری” وہ اہستگی سے بولا ۔
نہیں قبول ہو گی ‘”
کیوں” وہ اسکے بازو پھر پکڑ گیا ایسے تیر کیطرح بھاگتی تھی جیسے واقعی کبوتری ہو پر پھڑا کر نکل جائے گی
میرا دل نہیں ہے آپ سے بات کرنے کا دور ہٹیں ” وہ غصے سے بولی
ایسی کی تیسی تمھارے موڈ کی “
اسنے ایزہ کو شانے پر اٹھایا اور ملازمہ کو تو وہ پہلے ہی نکال چکا تھا اور دادی جان وظائف پر لگی ہوئ تھیں وہ اسکے چیخنے کے باوجود اسکے ناتواں وجود کو کندھے پر اٹھائے لے جانے لگا تھا گاڑی کیطرف ۔۔۔
کہ اچانک دادی جان کے کمرے کا دروازہ کھلا اور دادی جان نے ان دونوں کو دیکھا
چھوڑیں مجھے چھوڑیں آپ بہت تیز ہیں اپ اپنی من مانی کرتے ہیں اپ مجھے بھول بھی کیسے گئے ۔
آپ نے خود کہا تھا لے جائیں گے ۔
اب رکے کیوں ہیں ” وہ چلا اٹھی اور شاہ نواز کو لگا آج دنیا جہاں کی شرمندگی کا سامنا ہو گیا ہے ۔
وہ شخص جو ڈرائیور واچمین مالی یہ کسی ملازم کے سامنے نہیں گھبراتا تھا وہ دادی جان کے سامنے جیسے پانی پانی ہو گیا اپنی حرکت پر کہ وہ ایزہ کو کندھے پر اٹھائے لے جا رہا تھا ۔
دوسری طرف ایزہ نے اپنے بال ہٹا کر دادی جان کو دیکھا
بچارے دادی پوتا ایک دوسرے کے سامنے ایک لفظ نہیں بول پا رہے تھے ایزہ کو تو خوب مزاہ آیا جلدی سے شانے سے اتری اور دادی جان کو دیکھنے لگی ۔
دادی جان وہ شاہ کو پتہ نہیں تھا کہ آپ جاگ رہی ہیں” جان بوجھ کر پنگا لیا تھا شاہنواز کو مزید شرمندہ کرنے کے لیے
نہیں ایزہ کے پاوں میں درد تھا تو میں نے پھر ” وہ نگاہ چرا گیا ۔
بلکل نہیں میرے پاوں تو بلکل ٹھیک ہیں اچھل کر دیکھاؤ آپکو ” وہ اچھلتی کہ دونوں کی گھوری سے ساری بتیسی اندر چلی گئ
غلطی آپکے پوتے کی ہے اور دونوں گھوری مجھے جا رہے ہیں”
جاو جہاں جا رہے تھے” انھوں نے بس اتنا ہی کہا شاہنواز سر پکڑ گیا کیونکہ دادی جان یہ کہہ کر اندر چلی گئ تھی اور ایزہ کو ہنسی ا رہی تھی
یہ سب تمھاری وجہ سے ہوا ہے ” ایسی کی تیسی تمھارے موڈ کی میں نے کہا تھا نہ ۔۔۔
چپ چہ چہ شاہنواز سکندر کیا کیا آپ نے ساری پرسنیلٹی ختم “
منہ بند کرو اپنا ” وہ گھورتا بولا
اور کہہ نہیں سکتی تھی کہ ہاں میرے پاوں میں درد ہے
کیوں جھوٹ کیوں بولتی
مولوی کی بیٹی ہوں جھوٹ نہیں بولتی “
ہاں بڑا اچھا ہے تمھارا باپ تو جتنے فخر سے بتا رہی ہو ” وہ طنزیہ بولا اور آگے بڑھا
آپ ابو کو جانتے ہیں “
ایزہ کے سوال پر شاہنواز ایکدم ہوش میں ایا
کون ابو ” بے دھیانی میں وہ بول تو گیا تھا اگر ایزہ کے والد سے تو کبھی نہیں ملا تھا جبکہ وہ دنیا میں واحد شخص ہے جس کا خون کر دینا چاہتا تھا وہ ۔۔۔
ابھی آپ نے کہا تمھارے ابو کون سا اچھے ہیں “
ویسے ہی کہہ دیا گاڑی میں بیٹھو اب” وہ اسکے سر پر چپت لگاتا بولا اور ایزہ گاڑی میں سوار ہو گئ ۔
اب یہ ٹیپ ریکارڈر بند کیوں ہوا ہے”
اسکی خاموشی سوال تھی اور سوالوں کے جواب سے ہی وہ الجھتا تھا تبھی کبھی نہیں چاہتا تھا کہ عمر کو یہ پتہ چلے جسے وہ اپنا دوست بھائی یہ باپ یہ فرشتہ سمجھتا ہے وہ ایزہ کا شوہر ہے اور وہ ہی شخص جو انکی ماں کی زندگی میں تھا ۔
ویسے ہی بھائ کی یاد ا گئ”
دو دن سہی سے ملی نہیں وہ یاد تمھیں رہی ہیں”
رشتہ ہے نہ ان سے میرا ” وہ بولی
اچھا اداس نہ ہو جب وہ پاکستان آئے گا تو تمھارے ساتھ ساتھ میں بھی ملوں گا “
واقعی” وہ خوش ہو گئ
میرا بھائی بہت ہینڈسم ہے” وہ فخر سے بولی جبکہ شاہنواز نے اسکی جانب دیکھا
اور میں ” اسکے سوال پر ایزہ ذرا چپ ہو گئ
آپ بھی اچھے ہیں لیکن تب جب غصہ نہ کریں “
نہیں کرو گا اب یہ ڈیپارٹمنٹ تمھارا ہے غصہ بھی تمھارا ناراضگی بھی تمھاری میرا کام صرف منانا ہے “
ایزہ منہ پر ہاتھ رکھے ہنسنے لگی
آپ مذاق کر رہے ہیں”
او ہو سچ بول رہا ہوں ” وہ بولا تو ایزہ کو جیسے بڑی خوشی ہوئی
اور پھر جہاں جہاں اسنے کہا نہ چاہتے ہوئے بھی شاہنواز نے اسے وہ سب کچھ کھلایا جو وہ کھانا چاہتی تھی
اور اب اسکے پیٹ میں درد شروع ہو چکا تھا پیٹ پکڑے بیٹھی تھی
اور کھاو فضول چیزوں کو ” وہ بولا جبکہ وہ منہ بسور اسے دیکھنے لگی
جب کوئی بیمار ہو نہ تو اسے ڈانٹنا نہیں چاہیے “
ہاں دادی اماں پتہ ہے مجھے چلو اندر بے بی کا بھی پتہ چلے ذرا کچھ مجھے” وہ رمشہ کے کلینک لے آیا تھا اسے ۔۔۔
وہ دونوں اندر آئے رمشہ اٹھ کر ملی ۔۔۔۔ ایزہ کے چہرے کا اطمینان اور شاہنواز کا سکون گویا تھا معملات بہتر ہو رہے ہیں جبکہ رمشہ نے ایزہ کو دوسری ڈاکٹرنی کے پاس بھیج دیا جو چیک اپ کر رہی تھی ۔
شاہنواز کی جانب دیکھا ۔
قبول کر لیا ہے یہ محبت ہو رہی ہے “
پتہ نہیں ” وہ لاعلمی کا اظہار کرنے لگا
اچھا جو بھی ہے دل نہ دکھانا اب اسکا جب میں پہلی بار ملی تھی نہ اس سے تو وہ ایک قیدی لگی تھی اور آج وہ تمھاری بیوی لگ رہی ہے بلکہ بیوی نہیں محبوبہ”
شاہنواز کچھ نہیں بولا ۔
تم نے خود چیک کیوں نہیں کیا اسے کچھ ہو گیا تو ” رمشہ کھل کر ہنسی
کچھ نہیں ہو گا وہ چیک کر کے مجھے رپورٹ دے گی میں خود ڈیل کروں گی”
تبھی منہ بنائے ایزہ باہر آئی اور جھک کر شاہ کے کان میں بولی
یہ ڈاکٹرنی اچھی نہیں ہے” شاہنواز سمیت رمشہ اور وہ ڈاکٹرنی بھی سمجھ گئ تھی اور شاہنواز نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا
رمشہ نے اسے دراز میں سے چاکلیٹ نکال کر دی
تھینکیو ” اسکا موڈ اچھا ہو گیا اور وہ سکون سے بیٹھ گئ
ہممم تو لڑکی تم تو بلکل بھی اپنے بے بی کا خیال نہیں رکھتی ہو دیکھو کیسے ویک سا ہے ” رمشہ نے کہا
شاہنواز نے گھور کر اسے دیکھا
تم اور گند بلا کھاؤ ” اسنے چاکلیٹ کھینچ لی اس سے ۔
اچھا یار اب لڑنے مت پڑ جانا ” وہ ہنسی ۔
تم اسکی ڈائیٹنگ مجھے بتاو میں خود دیکھو گا “
ہاں خیال کرو بے بی تو بلکل چھوٹو سا ہے ” وہ بولی اور پورا ڈائیٹنگ پلین دیا جس میں گول گپے اور چاکلیٹ اور فضول چیزیں تو بلکل نہیں تھی شاہنواز اسے لے کر باہر ا گیا
چاکلیٹ تو دے دیں “
شاہنواز نے روڈ پر کھڑی چھوٹی بچی کے ہاتھ میں دے دی اور خود گاڑی کھولنے کھا جبکہ ایزہ اس سے لڑ پڑی تھی
یہ میری ہے” وہ بولی
وہ بچی بھی آنکھیں نکال کر بولی
یہ آپکے بڑے بھائ نے مجھے دی ہے”
تمھارا بھائی ہو گا تمہیں نظر نہیں اتا میرے شوہر ہیں ” وہ بھڑکی
ایزہ ” شاہنواز نے زبردستی اسے بیٹھایا وہ کافی لڑاکا ہو چکی تھی کھل کر جو سامنے ا گئ تھی اب ۔
کیا کرو میں تمھارا “
اتنا تو عمر تنگ نہیں کرتا جتنا اسنے نچا دیا ہے مجھے” شاہنواز گھیرہ سانس بھرتا سوچنے لگا ۔
ایزہ سارے راستے منہ پھلا کر بیٹھی رہی اور گھر پہنچ کر بھی کمرے میں چلی گئ اور کمبل میں بیٹھ گئ ۔
شاہنواز نے ملازمہ سے ڈنر لگوایا ۔
ایزہ نے سکون سے ڈنر کیا مگر مجال ہے شاہ سے بات کی ہو
شاہنواز کا ڈنر کا موڈ نہیں تھا تبھی صرف ایزہ نے کیا اور شاہنواز کو لگا وہ تو آج بہت تھک گیا ہو
اتنا تو کام کر کے نہیں تھکتا تھا جتنا وہ آج اس کے ساتھ رہ کر تھک گیا وہ آنکھیں بند کر کے لیٹ گیا ۔
شاہ “
اچھا بس چپ ” وہ جھٹکا دیتا اسے اپنی جانب کھینچ گیا
سر دباو میرا ” اسکو خود میں سموئے وہ اسکی گردن میں چہرہ چھپاتا بولا
ایزہ کا دل تیزی سے دھڑکا شاہنواز نے اپنی انگلیوں کے نیچے اسکے دل کی بے ہنگم دھڑکن کو اپنے لیے محسوس کیا تھا وہ مسکرا دیا
حسین سے خوشبو اٹھتی تھی اس حسینہ میں یہ بڑی الگ بات تھی
جبکہ اسنے کبھی پرفیوم یوز نہیں لیا تھا شاہنواز اسکی گردن پر پیار کرنے لگا ایزہ نے اسکے سر پر ہاتھ رکھا ۔
شاہنواز اسے پیار کرتا کرتا اسکا چہرہ دیکھنے لگا اور پھر اسکے ہونٹوں پر جھک کر اسکی سانسوں کو خود میں اتارنے لگا
ایزہ شرما سی گئ ۔
اسکا دل شاہنواز کے لئے دھڑک رہا تھا کافی حیران کن تھا
جب سے اسنے سنا تھا بدر کی شادی کا تب سے اسنے اپنے دماغ کو ہر ممکن طریقے سے اسپر سے ہٹانے کی کوشش کی تھی اور پھر شاہنواز کے اختیار نے اسے سب بھلانے پر مجبور کر دیا
خیال رکھو ہمارے بچے کا ” وہ دوبارہ اسکے ہونٹوں کو چھوتا بولا جبکہ ایزہ آنکھوں پر ہاتھ رکھ گئ
شاہنواز کو ہنسی آئی تھی اسنے اسکے گالوں کو چھوا اور اسے سینے سے لگا لیا
اب چپ ” وہ کچھ بولتی کہ وہ روک گی
تھکتی نہیں ہو بولتے بولتے سارا دن چک چک چک “
🥲 ایزہ مایوس سی ہو گئ اور شاہنواز نے فلحال اسکی اداسی کو اہمیت نہیں دی اسکی پیشانی پر پیار کرتا وہ اسے سونے کا کہہ رہا تھا ۔۔
ایزہ نے انکھیں بند کر لیں
انکھیں بند کرتے ہی خیال پہلا بدر کا آتا تھا لیکن آج صرف شاہ کا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے
