Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 34

کیا کر رہی ہو ” اسکی پر سکون آواز ایزہ کو چوکنا کر گئ ۔
جی میں کچھ نہیں اپکو کوئی کام ہے ” اسکے سوال پر دوسری طرف وہ لب دبا گیا
نہیں کوئ کام نہیں ہے باہر ا رہا ہوں آؤ تمھیں شاپنگ کرا آتا ہوں” وہ بولا جبکہ ڈرائیور بھی حیران تھا یہ شاہنواز ہے جو اپنے اکڑوں پن کی وجہ سے مشہور ہے کسی سے اتنا جھک کر بات کر رہا ہے ۔
مجھے شاپنگ کی تو ضرورت نہیں ” وہ حیرانگی سے بولی پیچھے اتنے عرصے میں یہ خیال نہیں ایا وہ ان چار دیواری سے نکلی نہیں کبھی اچانک اس خیال کا آنا معمولی تو نہیں ہو سکتا ۔
شاہنواز کی جانب سے چند لمہے خاموشی رہی
تمھیں گھر سے باہر نہیں نکلنا ” اسکے سوال پر ایزہ کے دل کو کچھ ہوا تھا لیکن وہ اتنی کنفیوز تھی سمجھ نہیں پا رہی تھی یہ تبدیلی کس بنا پر ہے
کیا آپ لے جائیں گے “
افکورس ” وہ مسکرایا کہ وہ پھنس گئ
پھر نہیں جانا ” عام سے لہجے میں اداسی سے کہہ گئ لیکن اپنی غلطی کا احساس ہوا کہ ایکدم وہ کیا بول گئ
شاہنواز کے تیور دوسری طرف تن گئے
آگے سے جواب دینے کا تو بہت شوق ہے تمھیں”
میرے بھائی نے کہا تھا ” جی ٹھیک ہے ” نہیں کہنا ” وہ ذرا فخر سے بولی کہ اسکا بھائی بھی زندہ ہے شاہنواز اسے یوں ہی رول نہیں سکتا
ہاں تمھارا بھائی تو مجھ پر گورنر لگا ہوا ہے نہ “
تو آپ اسے دیکھ کر کیوں بھاگے تھے “
ایزہ کو مزاہ آنے لگا تھا اسکی ٹانگیں کھینچ کر ۔۔
میں ڈرا نہیں تھا ” وہ بولا لیکن لہجہ کمزور تھا وہ واقعی اس دن ڈر گیا تھا گھبرا گیا تھا کیونکہ اسکے سامنے جو منظر تھا وہ کبھی زندگی میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا ۔
تو پھر “
اچھا اب سوال بند کرو اور باہر آؤ باہر کھڑا ہوں “
اپکو ہوا کیا ہے آپ میرے ساتھ اتنا نرم کیوں ہونے کی کوشش کر رہا ہیں” ایزہ صاف گوئی سے بولی
تمھیں برا لگ رہا ہے “
جی ” وہ بولی کیونکہ میں نے صرف اکڑتا ہوا اور زبردستی کرتا ہوا اک انا پرست شخص دیکھا ہے اور شاید مجھے اسی کی عادت ہے”
لیکن وہ انا پرست شخص تم سے محبت کرنے کی کوشش بھی کر سکتا ہے ” شاہنواز حیران تھا وہ لڑکی اسکے قابو میں کیوں نہیں ا رہی تھی جبکہ عمر کو قابو میں کرنا اتنا مشکل نہیں تھا ہاں وہ سر پھیرا ضرور تھا وہ کبھی زندگی میں بھی اس ڈائری تک پہنچ جاتا تو شاید اس دن شاہنواز مر جاتا کیونکہ عمر سے محبت عجیب تھی وہ جو اسکی آنکھوں میں اپنے لیے خوشی دیکھ آیا تھا اب وہاں نفرت دیکھ نہیں پاتا
لیکن یہ لڑکی واقعی اپنی ماں کیطرح ضدی تھی اور شاہنواز کا ٹمپر لوز کر رہی تھی جب وہ کوشش کر رہا تھا تو وہ مان جاتی
لیکن دوسری طرف ایزہ کے دل میں اپنے بھائی کو دیکھ کر جو تقویت تھی وہ اس گفتگو کی گواہ تھی کہ وہ لاوارث نہیں ہے شاہنواز یہ دادی جان کچھ کریں تو سہی پھر اسکا بھائی بتائے گا جبکہ شاہنواز کی سوچ بس اتنی تھی بیس سال کی لڑکی ہے لاوبالی سی وہ لمہوں میں اسے یہ امارات دیکھا کر اپنا کر لے گا
مگر یہاں اسے سامنا کسی اور چیز کا کرنا پڑ رہا تھا
شاہنواز نے فون بند کر دیا اچانک ایک آواز سی کانوں میں ٹکرائی
شاہنواز مسکرایا کرو کیوں اتنا اکڑتے رہتے ہو دیکھو تم مسکراتے ہوئے کتنے اچھے لگتے ہو ” وہ سر جھٹک گیا
دونوں کی سوچ میں بہت تضاد تھا
اسنے آفس جانے کا کہا ڈرائیور کو ۔۔۔
اور ساتھ پی آئے کو دوبارہ آرڈرز دیے کہ عمر کے پاس ساز کو لمہوں میں پہنچا دیا جائے ” جبکہ ایزہ کو ٹریپ کرنے کے طریقے اسکا دماغ سوچ رہا تھا کیسے ایک چھٹانک بھر کی لڑکی اسے فکر میں ڈال رہی تھی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بدر عمر کے پاس آیا لیکن وہاں اس تھانے میں تھا ہی نہیں پریشانی اور فکر اسکے چہرے سے عیاں ہو رہی تھی صبح سے رات ہونے کو آئ تھی کسی ایک نے بھی یہ نہیں سوچا تھا کہ وہ عمر کے پاس جائیں سارا دن گزر گیا تھا تائی جان نے ساز اور نجما کو ایک لقمہ توڑنے تک نہ دیا اور پورا دن انھیں طعنہ مارتی رہیں ۔
دیکھو بھلا چوری کر لی تبھی میں کہوں اس حرام کھانے والے کے پاس اتنا پیسہ آتا کہاں سے ہے ڈاکے ڈالتا ہے اور اوپر سے ڈھٹائی کی انتہا تو دیکھو ذرا جو آنکھ میں شرم کا پاس ہو شرمندگی ہو کہ یہ کیا کیا ہے میں نے منہ اٹھا کر چلتا بنا جیسے اسکا باپ تو منسٹر لگا ہے فورا اسے چھٹوا لے گا
میں نے تو کہہ دیا اشفاق صاحب کو بھلے ہڈیاں گل جائیں اسے چھڑانے کی ضرورت نہیں جھنمی جھنم میں ہی دفع ہو گیا چلو جان ہی چھٹ گئ
اے ساز اے مر گئ کیا ہو گئے تیرے خواب پورے اتر جا اب بستر سے ” وہ نیچے سے چیخیں ساز نے ماں کی جانب دیکھا نظروں میں بہت سی شکایت تھی
میرا نصیب ایسا کیوں ہے امی ” وہ ماں کے سینے سے لگی پھوٹ پھوٹ کر رو دی اسکے پاوں کے زخم ٹھیک نہ ہوئے تھے کہ وہ اب دل پر زخم دینے لگا تھا
ساز تم فکر نہیں کرو اللّٰہ بہتر کرے گا ” وہ اسکو پیار کرتی ہوئی بولیں
نہیں کچھ ٹھیک نہیں ہو گا ہماری بے عزتی پہلے کم نہیں ہوتی تھی جو اب وم۔۔عمر کو کیا ضرورت تھی کیوں کیا “
اور ایک لمہے کے لیے وہ ٹہر گی جیسے کچھ یاد آیا ہو اسکے الفاظ ۔۔۔۔
تم دیکھنا اب میں کیسے تھپڑ مرتا ہوں ” ساز جیسے سن سی رہ گئ
تایا جان تو شرمندگی کے مارے کمرے سے نہ نکلے تھے وہ سر تھام گی
اسنے اپنے باپ کو نیچا دیکھانے کے لیے یہ سب کیا تھا اپنی بے عزتی کروا لی تھی معاشرے میں صرف اپنے باپ کو نیچا دیکھانے کے لیے بڑا بن گیا تھا یہ کیسا جنون ہے اس میں اتنی نفرت کرتا ہے وہ خود سے اپنے باپ سے اور ماں کا تو نام بھی سننا نہیں چاہتا ۔
لیکن ساز کو پھر بھی اسپر غصہ تھا ابھی وہ کچھ کہتی ہی کہ نیچے سے آنے والی آوازوں پر گھبرا گی ۔۔۔۔ بدر آیا تھا
بھائی ” ساز نے پکارہ اور بدر نفی میں سر ہلا گیا
وہ وہاں ہے ہی نہیں میں نے معلوم کیا ہے کہتے ہیں اسے تو بڑی جیل پہنچا دیا گیا ہے مجھے سمجھ نہیں آ رہا یہ کیا ہو گیا ہے ” بدر فکرمندی سے صوفے پر بیٹھ گیا
سیدھی بات ہے تیری بہن کا سہاگ اجڑ رہا ہے انشاءاللہ ” تائی ہاتھ اٹھا کر بولی جبکہ بدر نے اسکی جانب دیکھا وہ سوہا کو تلاشنے لگا
اپکی بیٹی کا بھی اجاڑ جائے تو کہہ دیجیے انشاءاللہ بیوہ ہو یہ طلاق یافتہ
بدر ” تائی نے غصے سے کہا
دوسروں کو سنانے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانک لیں کچھ کر نہیں سکتیں تو طعنے مارنا بھی بند کر دیں اس سے شادی کرانے والی بھی آپ ہی تھیں ” بدر کو تو صبح سے غصہ چڑھا ہوا تھا تائی نے سر جھٹکا سوہا جبکہ ایک طرف کھڑی تھی بدر کی آنکھوں میں غصہ نفرت وہ دیکھ سکتی تھی اسنے نگاہ پھیر کر اپنی بہن کے انسو صاف کیے اور اسے کچھ سمجھانے لگا
اور ابھی وہ سب گفتگو ہی کر رہے تھے کہ شاہنواز کا پی آئے بلیک پینٹ کوٹ میں اندر داخل ہوا دو سکیورٹی گارڈ کے ساتھ دو پولیس اہلکار بھی تھے ان کے ساتھ ۔۔۔
مسز عمر خیام کون ہیں ” انھوں نے چھوٹتے ہی سوال کیا ساز نے بدر کا بازو تھاما لیا
سب ایک دوسرے کی شکل دیکھتے حیران تھے
جی آپ کو کوئی کام ہے ” بدر ہی آگے بڑھا ساز پیچھے کانپنے لگ گئ پولیس اسے بھی لے جائے گی مگر اسنے تو چوری نہیں کی تھی
مسز عمر خیام سے ہی بات کرنی ہے اس کے علاوہ کسی سے نہیں ” وہ بولا
بدر نے پلٹ کر ساز کو دیکھا وہ بے چارگی سے دیکھ رہی تھی پولیس کی وجہ سے بدر کچھ نہیں بولا اور ساز کے پاس کھڑا ہو گیا
اور پی آئے سمجھ گیا یہ ہی ساز ہے
گڈ ایونیگ میم ” انھوں نے مودب ہو کر اسے کہا
ساز کے رنگ جیسے اڑ رہے تھے سب ہی دیکھ رہے تھے
سر کے آرڈرز ہیں اپکو انکے پاس پہنچا دیا جائے ہم اپکو بحفاظت انکے پاس پہچانے آئے گے ” وہ بولا ساز نے حیرانگی سے پہلے ان کو اور پھر اپنے بھائی کو دیکھا
کیا مطلب کون سا سر کہاں لے جانا ہے ” بدر نے ذرا غصے سے پوچھا
سر ہم صرف مسز عمر سے بات کریں گے اور انکی ہی بات کا جواب دیں گے ہمیں سٹریکلی آرڈرز ہیں کہ ہم کسی کی بات کا جواب نہ دیں تو آپ ہم سے سوال کر کے ٹائم ویسٹ نہ کریں ” وہ بولا عمر کی جانب سے سخت پابندی تھی کہ بات صرف ساز نے کرنی ہے
پوچھو ان سے ” بدر ذرا بھڑکا ساز کو رونا آنے لگا
میں نے نہیں جانا ” وہ سیدھا بولی
میم نہ جانے کا کوئی آپشن نہیں تو پلیز ہمیں زبردستی کرنی پڑے اس سے بہتر ہے آپ ہمارے ساتھ چلیں ” اسنے کہا نگاہیں اب بھی جھکی ہوئی تھیں
بھائی مجھے نہیں جانا کون بلا رہا ہے کیوں بلا رہا وہ میں نے چوری نہیں کی ” وہ بری طرح رو دی
تبھی ایک لیڈی پولیس کانسٹیبل آگے آئی
میم اپکو عمر سر نے بلایا ہے اپ پریشان مت ہوئیں ہم اپکو ان تک پہنچا دیں گے “
نہیں جانا اسنے کہہ تو دیا
نہ جانے کا آپشن نہیں ہے سر ” وہ عورت بولی
ارے اشفاق صاحب دیکھو ذرا کیا تماشہ لگایا رہا ہے ” تائی اپنے اگلے پیٹتی اندر دوڑی
اشفاق صاحب بھی آوازیں سن کر باہر ا گئے
یہ لوگ اپکے نواب زادہ کے لیے اسکی رکھیل لینے آئے ہیں “
تائی جان ” بدر دھاڑا
اپنی ماں سے کہو زبان کو لگا دے ورنہ تمھارا حشر بگاڑ دوں گا ” وہ سوہا کو انگلی اٹھا کر بولا ساز کے جیسے سینے میں چبھے تھے یہ الفاظ اب بات عمر سے ہی ہونی چاہیے تھی وہ اور کیا الفاظ سنانے والی تھی ۔
امی چپ رہیں تھوڑی دیر کیا چاہ رہی ہیں بیٹی پیٹے اپکی ” سوہا جھنجھلا کر بولی
تائی نے منہ بنا لیا
کس نے بلایا ہے ” اشفاق صاحب کے سوال کا جواب ان لوگوں نے نہیں دیا
اگر کوئی سوال ہے تو میم کریں گی باقی کسی کے جواب دینے کے پابند نہیں ہیں ہم ” پی آئے بولا
انکا منہ سا اترا صبح سے بس بے عزتی ہی کھا رہے تھے وہ ۔۔۔
عمر پر ایسا جلالی غصہ تھا کہ سامنے ہوتا تو ٹکڑے کر دیتے اور وہ ایسا ہی کرے گے وہ سوچے بیٹھے تھے وہ کیا کرتا باپ کو مارتا نہیں اتنی بھی جرت نہیں تھی اس میں ۔۔۔
اور اگر تھی بھی تب بھی انھیں یقین تھا وہ ایسا کچھ نہ کرتا ۔
کہہ دو جا کر اس سے ہمارے گھر کی عورتیں یوں گلیوں بازاروں میں اسکی ماں کیطرح اپنے محرم سے بھی نہیں ملیں گی ” انکی بات اگر سن لیتا عمر تو ایک بار تو اس لاونج کا حلیہ بگاڑا تھا دوسری بار بھی بگاڑ دیتا جنون میں ۔۔۔
میم پلیز چلیں ” سب کچھ اگنور کر کے وہ لوگ پھر ساز کی جانب متوجہ ہوئے
نہیں جانا ” وہ بھائی کا بازو تھام گئ
میم آپ پلیز چلیں ہمیں فورس کرنے کی اجازت ہے “
پلیز آپ لوگ جائیں عمر سے کہیں وہ گھر ا جائیں میں نہیں ا سکتی ” اچانک بجنے والے فون پر پی آئے نے کال پک کی
جی سر ” اسے یقین تھا وہ انکار ہی کرے گی
لیں میم ” اسنے ساز کی جانب فون دے دیا ساز کو عجیب ہی احساس ہو رہا تھا کانپتے ہاتھوں سے فون تھام لیا
جو یہ تمھیں کہہ رہے ہیں ویسا کرو ورنہ کندھے پر اٹھا کر تمھیں مجھ تک لے آئیں گے پھر روتی رہنا نا محرم نے چھو لیا
اور دیکھو پاگل تو میں پہلے ہی ہوں یہ پولیس والوں کے پاس بندوق دیکھی ہے نہ یہ تمھارے سر میں اتاریں گے پھر ضدی لڑکی سیدھی طرح مجھ تک پہنچو “
ک۔۔کیوں ” وہ گولیوں کو دیکھتی تھوک حلق میں اتارتی سوال کر گئ
کیونکہ میں کہہ رہا ہوں “
میں میں نے نہیں “
ٹھیک ہے دو فون احمد کو ” چیڑ کر وہ بولا
ساز نے فون ہٹایا اور پی آئے نے کان سے لگایا
اٹھا کر لے آؤ اسے “
اوکے سر “
فون بند ہوا اور ساز کی جانب دیکھا ساز بدر کے پیچھے چھپ گئ
جاؤ ساز ” بدر کی اجازت پر سب حیران رہ گئے
پاگل ہو تم گھر کی عزت کو کہاں بھیج رہے ہو “
شوہر کے پاس جا رہی ہے اپنے “
او بے غیرت شرم کر تیری بہن جا کر اب کس کس جگہ بیٹھے گی تو تو قابل ہی نہیں کسی “
اشفاق صاحب نے غصے سے اسے دھکیلا جبکہ ساز کو بدر نے آگے بھیج دیا ۔۔۔۔ جاؤ تم “
بھائی ۔۔۔۔
جاؤ ساز “
ساز ” تایا جان کے پھنکارنے کے باوجود بھی بدر نے زبردستی اسے وہاں سے ان لوگوں کے ساتھ باہر نکال دیا
روتی ہوئی وہ گاڑی میں سمٹ کر بیٹھ گئ گاڑی ڈرائیور سے لے کر پی آئے خود ڈرائیو کر رہا تھا جبکہ گاڑی میں ایک لڑکی بھی موجود تھی تاکہ وہ گھبرائے نہیں مگر وہ ان سب کے بیچ بھی گھبراتی ایک سانس رو رہی تھی دوسری طرف تایا جان نے بدر کو لعنتیں ملامتیں دے دے کر بڑا حال کر دیا تھا
سوہا مجھے کھانا دو ” وہ بس اتنا کہہ کر کمرے میں چلا گیا
سوہا باپ کو دیکھتی رہ گئ جو اسے نفرت سے دیکھ رہا تھا اسکی آنکھیں بھیگ گئیں بدر کی وجہ سے اسکا باپ اس سے بدظن ہو گیا تھا لیکن اسے یہ سمجھ نہیں ا رہا تھا اسکا باپ ایک لالچی آدمی ہے اور صرف لالچ سے جڑا ہے وہ ۔۔۔۔۔
بدر نے اسے سبزی دی تھی صبح مگر اسنے بننے کی زحمت نہیں کی باپ کے نکالنے کے باوجود ماں کے ساتھ کھانا کھایا تھا اور اب بھی اسی ہانڈی میں سے بدر کے لیے لے گئ
وہ کمرے میں آئی اور اسکے سامنے ٹرے رکھی بدر نے گوشت دیکھ کر سوالیہ نگاہ اٹھائ تھی اسکی جانب ۔۔۔
میں نے نہیں بنائی وہ سبزی جب گھر میں گوشت بنا ہے تو ہم کیوں کھائیں وہ ۔۔۔
تمھارا باپ ہم دونوں کو نکال چکا ہے ” بدر نے پھر بھی تحمل سے جواب دیا
تم معافی مانگ لو تمھیں بھی اکڑنے کا نیا نیا شوق چڑھا ہوا ہے ” وہ سر جھٹک کر بولی بدر نے چند لمہے اسکی جانب دیکھا اور پوری ٹرے اٹھا کر دیوار میں دے ماری اپنی جگہ سے اٹھا سوہا سہم کر دور ہوئی ۔
تم ایک نمبر کی بے غیرت عورت ہو وہ نکال چکا ہے اور تمھارے اندر اتنی غیرت نہیں کہ تم اپنا کھاؤ وہ کھاؤ جو تمھارے شوہر نے کمایا
تمھیں ہر بات ہوا میں لگتی ہے یہ تمھیں یہ لگتا ہے اب سب پہلے جیسا ہو گا
سوہا اپنا دماغ درست کرو ” وہ دھاڑا باہر تک اسکے دھارنے کی آواز تھی نجما دل تھام گئ ۔
اپنے آپ کو اپنی اوقات میں رکھو ورنہ تمھاری اوقات یاد دلا دوں گا میں۔۔۔ تم سمجھتی کیا ہو خود کو ہاں تم ایک غریب شوہر کی بیوی ہو اس سے زیادہ کو شناخت نہیں تو جو میں لایا ہوں وہ لے کر او “
وہ ۔۔۔ وہ میں ” وہ اپنے آنسو ضبط کرنے لگی گھر کی خاموشی میں سب نے اسکی یہ بے عزتی سنی تھی ۔
بدر نے اسکا ہاتھ جکڑا اور اسے کچن میں لے ایا اسکی سبزیاں ایک طرف پڑی تھی
اسنے وہ سبزیاں اٹھائیں اسکی محنت کی کمائی اسنے کس بے توجہگی سے پھیکی ہوئی تھی غصے سے بھرا وہ اسکے ہاتھ میں گوبھی آلو دے گیا ۔
بناؤ اسے “
سوہا نے اسکے ہاتھ سے سبزیاں لیں اسے کچھ خاص کوکنگ نہیں آتی تھی بس جتنا آتا تھا اسنے بنانے کی کوشش کی تھی کیونکہ بدر اسکے سر پر ہی کھڑا تھا اور پھر سوہا نے اسکے سامنے کھانا رکھا تو وہ خاموشی سے کھانے لگا ۔مم
سوہا اسکی صورت دیکھنے لگی سرخ چہرہ اور ناگواری سے بھرپور وہ اسے بلکل پسند نہیں کرتا تھا ۔
سوہا نے دیوار کی جانب دیکھا
آئندہ جو میں لا کر دوں وہ ہی بنانا اور خود بھی وہ ہی کھانا منہ کھولو ” اسنے اسکی جانب لقمہ بڑھایا
مجھے نہیں کھانا ” وہ منہ پھیر گئ بدر نے اسکی کلائی پکڑی اور گھور کر دیکھا سوہا منہ کھول گئ
یخ اس میں مرچیں بہت تیز ہیں ” وہ فورا پانی پینے اٹھی
یہ بلکل اچھی نہیں بنی ” وہ اسکی صورت دیکھنے لگی
میری محنت کی کمائی ہے جیسی بھی ہے میری ہے ” وہ اسے جتا گیا تھا جبکہ سوہا شرمندہ سی ہوئی کہ اسے کچھ ڈھنگ کا بنانا نہیں آتا یا اسنے پورے دن میں سب کھایا اور وہ بھی کیا کھا رہا تھا اسے شرمندگی ہوئی
پلیز اسکو چھوڑ دو میں دال بنا دیتی ہوں “
نہیں کھانا مجھے جا کر وہ دیوار صاف کرو ” اسنے اسکو ٹوکا اور کام بھی بتا دیا
سوہا نے گھور کر دیکھا مگر بدر کی توجہ نہیں تھی پانی کے گلاس مسلسل چڑھا رہا تھا اور آدھی روٹی بھی بمشکل ہی کھائی تھی اسنے وہ کھانے کی ٹرے ٹیبل پر رکھ کر پلٹ گیا وہ سوچ رہا تھا کہ ساز کیا پہنچ گئ ہو گئ
اور پھر خیال آیا کہ عمر کے پاس تو موبائل موجود تھا ۔
اسنے جلدی سے عمر کو کال ملایا مگر نمبر بند تھا وہ پریشان سا ہوا جبکہ سوہا منہ بنا کر دیوار صاف کر رہی تھی اور گیلا کپڑا غصے سے دیوار پر پھیرنے لگی
بدر تقریبا آدھ گھنٹے اسے دیکھتا رہا سوہا اپنی سوچوں میں مگن تھی ۔
رگڑ رگڑ کر سوراخ کرنا ہے تم نے اس دیوار میں ” وہ سنجیدگی سے بولا تو وہ ذرا چونک کر مڑی
اٹھو اور میرے پاس آؤ اور یہ لائٹس آف کر دینا تھک گیا ہوں میں “
وہ آنکھوں پر ہاتھ رکھ گیا ۔
بدر میں ” وہ کچھ بولتی کہ اسنے آنکھوں پر سے ہاتھ ہٹا کر اسکی صورت دیکھی گندمی سا رنگ تھا لیکن کھلتا ہوا
نقوش خوبصورت تھے لیکن اسکی حرکتیں بدر کو اسکی طرف کبھی مائل نہیں کر سکتی تھی
لائیٹ بند کر دو اور دفعہ ہو جاؤ یہاں سے کل تم منمنائی تو اچھا نہیں ہو گا ” اسنے بے رخی سے کہا اور کروٹ لے گیا
سوہا کے خواب جیسے اسکے قدموں میں ہی کہیں رل سے گئے تھے ۔۔۔۔
اسکی آنکھیں دھندلا گئ اور خاموشی سے وہ باہر چلی گئ بدر نے اسے باہر جاتے ہوئے دیکھا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے