Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 67

بدر کمرے میں لیٹا موبائل سکرول کر رہا تھا کہ اسنے تیسری بار گھڑی کیطرف دیکھا وقت بھڑتا جا رہا تھا وہ اسے یاد کر رہا تھا اول تو خود پر بھی حیران تھا لیکن اب جو تھا ایسا ہی تھا ۔ وہ پاوں جھلاتا کبھی موبائل سکرول کرتا کبھی ۔۔۔ ادھر دیکھتا ادھر دیکھتا بلاخر چیڑ کر اٹھ گیا اور جب باہر نکل کر اسنے دیکھا وہ تائ جان تایا جان ارہم کے کمرے میں تھے سب اور ارہم تکلیف سے رو رہا تھا ذرا ذرا بھی بدر کا دل نہیں ہلا تھا اسے دیکھ کر اچھا تھا اسکے باپ کو بھی احساس ہوتا تکلیف کس چڑیا کا نام ہے لیکن اسے ایک فکر تھی اور وہ عمر کی تھی عمر کے لیے عمر کی فکر اسے کسی دن نہیں ہوئ لیکن ساز کے لیے عمر کی فکر ضرور ہوئ تھی ۔۔۔
یقینا کچھ بڑا ہونے والا تھا ۔۔۔
کیونکہ وہ جانتا تھا اس آدمی کو ۔ یہ سانپ کی طرح اپنی ہی اولاد کو نقصان پہچانے کی صلاحیت رکھتا تھا اسنے گھیرہ سانس بھرا اور باہر نکلنے لگا تبھی پیچھے سوہا بھی ا گئ ۔ جبکہ ابھی وہ اپنے بھائ کے پاس تھی ۔۔
کہاں جا رہے ہو ” اسنے وقت دیکھ لیا تھا
رات کے دو بج رہے تھے وہ گھر سے جا رہا تھا ۔
سوچا گھر میں جو ضرورت پوری نہیں ہو رہی باہر کر لقں” سنجیدگی سے کہتا سینے پر ہاتھ باندھے اسے بلب کی روشنی میں دیکھنے لگا جبکہ ہلکی ہلکی ٹھنڈی ہوا بھی چل رہی تھی
سوہا کی پیشانی پر بل سے پڑے
کیا مطلب ” مطلب تو صاف ہے سمھجہ ا رہا ہے تمھیں ۔۔ کہ جب تم میری ضرورت پوری نہیں کر سکتی تو میں باہر جا کر پوری کروں گا “
ہیں کیا کیا کہا ہے تم نے” ایسی باتوں سے تو اسکے اندر کوئ چڑیل ہی گھس جاتی تھی بدر بالوں میں ہاتھ پھیر گیا
ہاں ٹھیک ہی تو کہا ہے دیکھو اوپر سے نیچے تک اچھا خاصا ہینڈسم ہوں مزے داری والی بات یہ ہے اب جیب میں پیسہ بھی ہے تو ” ابھی اسکی بات ادھوری ہی تھی وہ چلائ
تمھیں شرم نہیں آ رہی تم میرا خون پی رہے ہو کیا پہلے گھر کی پریشانی تمھارے بچوں کا بوجھ کم ہے مجھ ہر جو تم نے بھی اذیت دینی شروع کر دی “
ایکسکیوز می مس سوہا بدر زمان” پورا نام پکارتے اسکے قریب کھڑا ہو گیا
سوہا کو جیسے بے ساختہ لگا یہ دنیا کا سب سے حسین نام یے ۔۔
تمھارے بھائ کے ساتھ جو بھی ہوا ہے اچھا ہوا یے ۔۔ اور میرے بچے اچانک تمھارے اوپر بوجھ ہو گئے ۔۔۔ ” ائ برو اچکا کر اسنے اسکی جانب دیکھا ۔
ایک بات پوچھوں تم سے” وہ اہستگی سے بولی ۔
ہم سن رہا ہوں” وہ بھی سکون سے بولا
کیا میں خوبصورت ہو گئ ہوں جو تمھارا رجحان میری طرف ہو رہا ہے”
اسکی بات پر بدر اسے بس دیکھتا رہ گیا ۔۔
اسے شدید شرمندگی ہوئ کہ ایک انسان کو کمپلیکس میں ڈال کر اسے کیا ملا ۔ کچھ بھی نہیں کچھ بھی نہیں ملا ۔ الٹا اسی کیطرف دل مائل ہو گیا ۔۔۔
وہ چپ ہو گیا ۔ سوہا مسکرا دی
یعنی ابھی خوبصورت نہیں ہوئ یہ کبھی کبھی کی مہربانی یے ” وہ اپنا ہاتھ چھڑا گئ
تم کمرے میں آ جاو ۔۔ میں میں تمھیں کہیں جانے نہیں دوں گی تمھیں جو بھی چاہیے اگر ٹھیک لگے تو صرف مجھ سے لینا ” وہ اہستگی سے کہتی ۔ اسکا بازو اپنے بازو میں پکڑ گئ
بدر اسکی اسی دیوانگی پر مائل ہو رہا تھا کہ اسنے اسے دھتکارنے مارنے پیٹنے اسکی انسلٹ کرنے سے اسکی اوقات یاد دلانے اسے اس گناہ کے بارے میں طعنے دینے میں کوئ قصر چھوڑی ہی نہیں تھی پھر کیسے کیوں اور کب وہ اسے اپنا کر گئ ۔۔۔
اسکی محبت کی خوبصورتی شاید دنیا کے ہر چہرے کی خوبصورتی کو مات دیتی تھی۔۔
جتنا دیوانگی بدر کے لیے اسکے دل میں تھی کیا کوئ اور ہو سکتا تھا ایسا جو اس سے ایسی دیوانگی رکھتا ۔
وہ اسکے ساتھ کمرے میں آگیا ۔
کیوں کرتی ہو مجھ سے اتنی محبت” وہ رک گیا ۔ سوہا نے اسکی جانب دیکھا مسکرائ اور پھر اسکی شرٹ کے بٹن سے کھیلنے لگی ۔۔۔۔
کیونکہ تم میرے شعور لاشعور حال ماضی مستقبل ہر طرف تم ہی تو ہو ۔۔ پھر میں کسی اور سے کیسے محبت کرو “
وہ بولی لیکن تمھیں مجھ سے کبھی محبت نہیں ہو گی اتنا علم یے مجھے ۔۔۔
اچھا وہ “
کچھ یاد آنے پر جیسے وہ اسکی شکل دیکھنے لگی
بدر بھی سیدھا ہو گیا ورنہ اسکی محبت میں کھویا کھویا احساس تھا ۔ ایسی محبت کو محسوس کر کے وہ گویا پھول رہا تھا کہ اتنا چاہنے والا شخص بھلا کس کو پسند نہیں آتا ۔۔
میں کل ساز کے پاس چلی جاو “
کوئ ضرورت نہیں عمر بدتمیزی کرے گا “
وہ بولا اور بیڈ پر بیٹھ گیا ۔
میں سہہ لوں گی”
میں منہ توڑ دوں گا “
میرا ” وہ اداس ہو گئ ۔
عمر کا “
تمھاری بہن کا شوہر ہے “
وہ آنکھیں گھما کر بولی ۔۔۔۔
اور تم میری بہن کی بھابھی ۔”
تو میری تو کوئ ولیو نہیں””
میرے بچوں کی ماں ہو”
لیکن تمھیں تو یہ بچے چاہیے ہی نہیں”
تمھیں مجھے ذلیل کرنے کا نیا نیا شوق چڑھا ہے شاید”
وہ ذرا جذبز ہوا ۔
اگر تمھاری شان میں گستاخی کروں تو کافر ہو کر مرو” وہ بولی جبکہ
وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتا اسکے گالوں کو پر ہتھیلی رکھ گیا ۔ سوہا نفی کرتی جدا ہوئ ۔۔
خیر مجھے جانا ہے”
جیسے اسے بدر کی توجہ پر یقین نہ ہو
اسے بدر کی قربت بھیک میں کبھی نہیں چاہیے تھی ۔۔ اور اج بھی وہ اسکے چھونے پر دور ہو گئ ۔۔۔۔
جبکہ بدر نے بھی ہاتھ کھینچ لیا ۔
نہیں جانا “
اچھا” اداسی سے بولی
وہ گھیرہ سانس بھر گیا ۔
ٹھیک ہے میں بھی چلو گا “
ن
۔۔نہیں”
بلکل چپ بس کہہ دیا نہ “
نہیں نہ یہ لڑکیوں کی باتیں ہیں”
میں کان میں انگلیاں ڈال لوں گا ” وہ اسے اپنے ساتھ لیٹاتے ہوئے بولا
لیکن پھر بھی ہم نہیں چاہتے کوئ تھرڈ پرسن “
لیکن میں تھرڈ پرسن بننا چاہتا ہوں”
بدر” وہ چیڑ گئ ۔
کوئ فائدہ نہیں ہے جو میں نے کہہ دیا وہ ہی کروں گا “
مجھے نہیں جانا پھر”
اچھا بس چپ چپڑ چپڑ کیے جا رہی ہو کب سے “
وہ بولا اور نرمی سے اسکے گالوں کو چھونے لگا تھا ۔ جبکہ سوہا اسکے چھونے کی نرمی اسکے انداز کی نرمی پر حیران سی ۔۔ تھی
مجھے پتہ ہے میرے بچے تمھیں بہت تنگ کرتے ہیں انکا باپ تمھیں زیادہ تنگ نہیں کرے گا ” وہ کہتا ہوا اسکے ہونٹوں کو چھو گیا نرمی اور اپنائیت سے چھو کر دور ہوا آنکھیں بند کر لیں
گندی عادت ڈال دی تم نے مجھے ۔۔ تمھارے بنا نیند ہی نہیں ا تی”
بڑبڑایا اور اسے مزید خود میں کر کے وہ سونے کی کوشش کرنے لگا جبکہ سوہا انکھیں کھولے سامنے دیوار کو دیکھ رہی تھی
کیا اسکے رب نے اسے معاف کر دیا تھا
کیا دن تکلیف کے ختم ہونے کو تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلی صبح وہ جلدی اٹھ گئی وہ بدر کے ساتھ نہیں جانا چاہتی تھی کیونکہ ساز سے اس نے بات چیت کرنی تھی اگر وہ ادھر ان کے ساتھ جاتا تو بات بڑھ جاتی تبھی وہ بدر کو لے کے جانا نہیں چاہتی تھی وہ جلدی اٹھ لیکن بدر پھر بھی جکدی اٹھ کر باہر ناشتہ کر رہا تھا وہ باہر ائی بدر نے اس کی جانب دیکھا
تم تیار ہو جاؤ میں پھر تمہیں لے جاؤں گا”
نہیں میرا جانے کا ارادہ نہیں ہے اب “وہ بولی بدر نے اسے گھور کر دیکھا اب تم میری بہو کو گھورنا بند کر دو وہ ماں بننے والی ہے اس کا تھوڑا خیال کیا کرو جب سے یہ ساس بہو کی یکجہتی ہوئی تھی وہ تو بیچارا بیچ میں پھنس گیا تھا چپ ہو گیا جبکہ سوہا مسکرا دی
اچھا ٹھیک ہے اکیلی مت جانا نہیں جاؤں گا اندر اٹھ جاؤ ناشتہ کر لو میں خود چھوڑ کر اؤں گا اب تو تم خوش ہو جاؤ میری ماں کو اپنے وش میں کر لیا تم نے” نجمہ کی جانب دیکھ کر سوہا مدھم سا مسکرا دی بڑا اچھا لگا تھا اس کا یہ انداز بلکہ رات سے ہی وہ حیران حیران تھی کہ اس کو ہوا کیا ہے بدر خاموشی سے ناشتہ کرنے لگا سوہا کی نظریں اسی پر تھی دونوں نے ناشتہ بھی اکٹھے کی کیا تھا یہ بے یقینی کے سے مناظر تھا اسے یقین ہی نہیں ا رہا تھا کہ وہ بدل بھی سکتا ہے لیکن وہ بدلہ کس طرح کیا وجہ ہو سکتی ہے اس کے بدلنے کی نہ اسے اپنے بچوں میں کوئی دلچسپی تھی نہ اس کے چہرے میں دلچسپی تھی نہ یہ کہا جا سکتا تھا کہ اسے اس سے محبت ہے پھر کیوں اور کیسے وہ اتنا مہربان ہو رہا تھا لیکن جو بھی تھا اچھا لگ رہا تھا وہ اس کے ساتھ ناشتہ کر کے اٹھ گئی شادی کے بعد پہلی بار دونوں ایک ساتھ جا رہے تھے نجمہ نے دونوں کی نظر اتاری بدر چڑ گیا
یہ کیا ہے پرانی رسموں کو بھول جائیں “
اب چپ کرو تم بہت بولنے لگ گئے ہو چار پیسے کمانے کا مقصد یہ نہیں کہ ماں کے اگے بھی زبان چلاو گے وہ خاموش ہو گیا بولتا بھی کیا جب کہ سوہا مسکراہٹ اور گھیری ہو گئی دونوں باہر نکلے بدر نے گاڑی بدلی اسے نہیں پتا تھا لیکن اس کی بائیک دیکھ کر اچھا لگا وہ گاڑی پر سوار ہو گئی اور ساز کے گھر کی جانب چل دیے راستے میں ان دونوں کے بیچ کوئی بات نہ ہوئی اس کے شانے پر اپنا ہاتھ رکھے خوش گمانیوں میں اترنے لگی تھی وہ چاہتی تھی یہ راستہ طویل ہو جاتا لیکن راست مختصر تھا اور جلدی وہ عمر خیام کے گھر کے سامنے رک گئے بدر نے اس کو باہر ہی اتار دیا
اپنا خیال رکھنا “یہ الفاظ اس کے اعصابوں کو جنجھوڑ گئے وہ انکھیں پھاڑے اسے دیکھنے لگی
کس کا اپنا یہ ان بچوں کا
تینوں کا وہ کہہ کر بائیک اگے بڑھا گیا سوہا کی انکھیں بھیگ گئی وہ اندر کی جانب چل دی ایسا لگا ہوا بہت تیز ہو اس کے وجود کے ار پار ہو رہی ہو بے یقینی جو بہت تھی وہ اندر ائی ساز ناشتہ بنا رہی تھی سوہا کو دیکھ کر اگے بڑھی اور اس کے گلے لگ گئی
بھابھی اپ”
ہاں میں آ نہیں سکتی کیا ” وہ بولی
نہیں نہیں اپ کا گھر ہے اپ ا سکتے ہو ” ساز کافی خوش لگی
بالکل نہیں عمر خیام کی اواز پر سوہا پڑھ لی یہ تمہارا گھر نہیں ہے اور نہ ہی تمہارے سے ریلیٹڈ کسی شخص کا تم یہاں سے جا سکتی ہو ۔” انداز میں براہمی تھی سو کنفیوز سی ہو گئی
میں بس ساز سے ملنے ائی تھی
کیوں کیا کام ہے تمھیں ایسا جو مجھ سے ملنا ائی ہو اور تم ہی لوگ ہو نا جو یہ سمجھ رہے ہو کہ عمر خیام ہار رہا ہے تو اپنے باپ کو جا کے بتا دو کہ وہ ہارے گا نہیں کبھی نہیں ہم جب تک زندہ ہیں اسے ہر جگہ مار دے گا کیونکہ اب وہ بچہ نہیں رہا “
نہیں میں ایسی کوئی جنگ لڑنے نہیں ائی اور اگر تمہاری طرف سے جنگ لڑنی پڑی تو میری طرف سے امن کا اعلان ہے”
یہ ڈائیلاگ کسی اور کے اوپر جا کے مارو تمہاری سچائی جان کر تم سے مجھے گھن اتی ہے”
ہاں تمہارا حق ہے لیکن میں شرمندہ ہوں اپنے ہر کیے پر اور دیکھو جس شخص کے لیے میں نے یہ سب کچھ کیا وہ میرا ہے ہی نہیں چاہ کر بھی نہیں پا سکی اسے “
میری نظر میں سب بکواس بیکار ہے یہاں سے جاو “
عمر کیا ہو گیا اپ کو”
عمر کو ہوش اگیا اب وہ ان سب کو بتائے گا کہ عمر خیام ہے کیا تم جاؤ یہاں سے کیوں ائی ہو یہاں” وہ چپ ہو گئی ساس کی جانب دیکھنے لگے جب کہ ساز جانتی تھی کہ وہ یہاں کیوں ائی ہے اس کا دل دھڑکنے لگا کچھ دیر عمر ان دونوں کی جانب دیکھتا رہا اور پھر خود ہی واپس چلا گیا یہ اس لیے نہیں تھا کہ اسے سوہا کے اوپر کوئی رحم دلی ا گئی تھی بلکہ اس لیے تھا کہ وہ ساز کی انکھوں میں اداسی دیکھ نہیں سکتا تھا تبھی واپس پلٹ گیا ویسے بھی اسے جانے کے لیے تیار ہونا تھا جیسے ہی وہ گیا ساز نے سوہا کی جانب دیکھا اور شرمندگی سے سر جھکا گئی
میں معافی چاہتی ہوں اپ سے وہ رات سے ایسے ہی رویہ کر رہے ہیں عمر بہت اچھا ہے بھابھی اور حالات جس طرح کے ہیں مجھے خوف اتا ہے کہیں ان کا دل اس حد تک بدظن نہ ہو جائے کہ وہ کسی پر اعتبار نہ کر سکے میں انہیں سب سچ بتانا چاہتی ہوں لیکن یہ سچ کیسے بتاؤں کہ یہ سچ کھلا تو شاید ہی وہ سب کیسے برداشت کر سکیں گے شاہنواز سے بہت محبت کرتے ہیں ان کو اپنے باپ کا درجہ دیتے ہیں وہ کیسے یہ سب برداشت کریں گے مجھے خوف اتا ہے اپ مجھے بتائیں میں کیا کروں”
میں نے تمہیں اس لیے کہا تھا کہ ہمیں اس معاملے کی تہہ تک جانا چاہیے ہم شاہنواز تک نہیں جا سکتے ہم اس سے نہیں جان سکتے کہ ناز کا اور اس کا کیا رشتہ تھا لیکن ہم ہم ان جگہوں پر جا سکتے ہیں جہاں پر ناز موجود تھی ہم اس کہانی کو جب تک نہیں کھولیں گے تب تک کچھ بھی صحیح نہیں ہوگا
لیکن اگر یہ موضوع سامنے ہی نہ ائے تو اگر یہ تصویریں میں چھپا دوں اور پھر یہ کبھی بھی تصویریں نہ نظر ائی تو “
تمھیں لگتا ہے کہ میرا باپ عمر کو اب چھوڑے گا تم جانتی ہو وہ اس شکار میں بیٹھا ہے کہ کسی بھی وقت عمر کے ایسی چوٹ مارے کہ وہ دوبارہ کبھی اٹھ بھی نہ سکے وہ اسی طرح شراب پینے لگ جائے اور اس شراب میں بہکتے بہکتے وہ اس سے وہ چیک لکھواتے رہیں جو ان کی ضرورت ہے وہ عمر سے اس حد تک نفرت کرتے ہیں”
ارہم کو بچانے کے لیے کچھ نہ کچھ کرنا چاہیے اس سے محبت ایک جگہ اس سے محبت کا یہ ثبوت نہ دو کہ اس نے بے وقوفی کی مار مارو تم چاہو تو یہ کر سکتی ہو”
وہ سر ہلا گئ اور سوہا کو ڈرائنگ روم میں بٹھا کر وہ اوپر عمر کے پاس اگئی جو غصے میں تیار ہو رہا تھا عمر پلیز اتنا غصہ نہ کریں”
یہ تمہاری وجہ سے میں اس عورت کو اس گھر میں برداشت کر رہا ہوں “
ا تھوڑی دیر کی بات ہے وہ چلی جائیں گے”
ہاں چلی جائے گی لیکن دوبارہ کسی کو یہاں آنے نہیں دینا میں نہیں ان کی شکلیں دیکھنا چاہتا “
اچھا ٹھیک ہے اپ ناراض نہ ہو وہ اگے بڑھی اور اس کے گرد بازو لپیٹ لیا تمہاری یہ جو حرکتیں ہے نا بہت خراب ہوتی جا رہی ہیں”
اپ سے کم اپ کی مجھ سے زیادہ خراب ہے”
خیر وہ تو تم میرا مقابلہ کر بھی نہیں سکتی عمر خیام نے بے شرمی میں سند حاصل کر رکھی “
جی اس بات کا احساس تو مجھے روز ہی ہوتا وہ مسکرا دیا ناشتہ کر لیں وہ اس سے دور ہونے لگی “
نہیں بس ایک کس بھی کافی ہے” وہ اسکی جانب جھکا
عمر بھابھی نیچے بیٹھی ہیں ” وہ دور ہٹی تھی
تو اس کا شوہر اسے چھوڑ دیتا ہوگا ” وہ سر جھٹک کر بولا
کم از کم میرے بھائی اپ کے جیسے نہیں ہیں”
ہاں نہ عمر خیام جیسا کوئی نہیں ہے”
تم خوش قسمت لڑکی ہو تمہیں میں ملا ہوں”
جی جی حضور بہت شکریہ اپ کی نوازش کہ اپ میری زندگی میں ائے اور ہمیں اپ نے بہت خوش کر دیا ہے اب اپ اپنے کام پہ جائیں اور میں بھابھی کو ڈیل کر لیتی ہوں اور ناشتہ لازمی کیجیے گا اج میں اپ کا لنچ نہیں بنا سکی لیکن اپ نے اچھے سے کھانا ہے بازار سے کھائیے گا”
لٹرلی اج کے بعد کسی لنچ کا نام نہ لینا میرے سامنے”
اتنے پیار سے بناتی ہوں میں اپ کے لیے اور ایسے نخرے دکھاتے ہیں جیسے”
ٹھیک ہے جائیں” وہ بسور گئ
شکر ہے تم ناراض ہو گئی اس معاملے میں اگر تم ناراض نہ ہوتی تو مجھے تمہارا دل رکھنے کے لیے روز وہ ڈبہ لے کے جانا پڑتا ہوں سٹینڈر ہے یار میرا کوئی”
سر جھٹک کر دور ہوا اس کی پیشانی پھر گالوں پر پیار کیا پھر اس کی ہتھیلیوں پر پیار کیا ایسا لگتا تھا اس کا دل نہیں بھرتا پھر اس کی سانسوں کو چھونے لگا اپنی سانسوں کی مہک میں اسے بدحواس کر گیا ساز پریشان تھی اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر دور ہوئی اپ کو تو بس موقع چاہیے اس نے اپنی سانسوں کو ہموار کیا اور پیچھے ہٹ گئ عمر نے لبوں پر ہاتھ پھیرا اور گھڑی پر اسے ٹائم دکھانے لگا گویا جتا رہا ہوں کہ رات کو تیار رہنا وہ شرما سی گئی اور عمر اپنا سامان اٹھا کر گاڑی کی چابی لے کر کمرے سے باہر نکلا لاونج میں بیٹھی سوہا کو مکمل اگنور کر کے باہر نکل گیا پورچ سے گاڑی نکالی اور باہر نکل گیا ساز تب تک اسے دیکھتی رہی جب تک وہ دور نہ چلا گیا اور اس کے بعد وہ واپس ائی سوہا اس کی منتظر تھی
کیا یہ غلط قدم نہیں اس کی جانب دیکھ کر ساز ایک بار پھر سے کیا تھا نہیں ہم صرف یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ناز صرف زندگی میں ایسا کیا ہے جو عمر بھی چھپا رہا ہے ابو چھپا رہے ہیں اور شاہنواز بھی پردہ ڈالنا چاہ رہا ہے اگر یہ راز اب بھی نہ کھلا تو اگے عمر کی جان کو خطرہ ہے میرا باپ اسے زندہ نہیں چھوڑے گا ساسز کو یہی باتیں پریشان کر رہی تھی وہ سر ہلا گئے اس نے چادر لپیٹی سوہا نے بھی لپیٹی دونوں کے دل بری طرح سے دھڑک رہے تھے کیونکہ اج جو ایسی جگہ پر جانے والی تھی جس کے بارے میں نام سن کر بھی توبہ توبہ کرتی تھی مولوی اشفاق کی بیٹیاں تھی اس کے گھر کی عزتیں تھی کوٹھے پر جا رہی تھی اس جگہ کا ایڈریس سوہا نے انہیں پرانی البمز میں سے نکالا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوسری طرف شاہنواز نے اپنے پی اے کی جانب دیکھا یہ ناممکن ہے وہ جیسے دھاڑا تھا سر یہی سچ ہے اشفاق کے پاس اس اس تصویر سے متعلق کئی تصویریں اور وہ عمر خیام کے گھر میں پہنچا چکا اس کا مطلب”
نہیں ایسا نہیں ہو سکتا اگر عمر کو اس بارے میں علم ہو جاتا تو وہ”
تب ہی دروازہ کھلا اور عمر اندر داخل ہوا شاہنواز نے فورا اپنے چہرے کے تاثرات کو تبدیل کیا
اؤ شہزادو اج تو بہت دیر سے ائے ہو “
مجھے لگا اج میں جلدی ا گیا ہوں چئیر کھینچ کر بیٹھ گیا شاہنواز کھڑا ہوا یار تم یہاں بیٹھا کرو” اسنے اپنی چئیر کی جانب اشارہ کیا
نہیں یار اپ بیٹھے نا کیا مسئلہ ہے اپ کو ہمیشہ وہ جگہ چھوڑ دیتے ہیں جہاں اپ خود ہوتے ہیں تو ان سے محبت ہی ایسی ہے وہ مسکرایا عمر بھی مسکرا دیا اور رفتہ رفتہ اپ نے مجھے بھی اپنے ساتھ محبت میں مبتلا کر لیا ہے کہ یہاں تک کہ ساز بھی جلتی ہے لٹرلی ایک مرد سے محبت کرنے میں بہت جل جاتی ہے وہ دونوں ہنسنے لگے
شکر کرو تمہاری بہن اتنا نہیں جلتی ہے ہاں جانے اتنا نہیں جلدی لیکن جس طرح وہ جلتی ہے میں نے دیکھا ہے ” وہ پھر ہنسنے لگا اج ایک میٹنگ تھی عمر نے اس کو یاد دلایا
ہاں میٹنگ ہے اور تم اب اپنے افس میں جانے والے ہو تو اپنی میٹینگ پر توجہ دو ٹھیک ہے ائی ہوپ کہ وہ اچھی ہو جہاں تم ہو وہاں سب اچھا ہوگا”
یہ اپ کو لگتا ہے اور کسی کو نہیں لگتا وہ ہنس کر کہہ کے باہر نکل گیا جبکہ شاہ نواز کے تاثرات پھر بدل گئے اس نے اپنے پی ائے کی جانب دیکھا اور غصے سے مٹھیاں بھینچ لیں
میں اس مسکراہٹ کو چھننے نہیں دوں گا ہو سکے تو اس اشفاق کو مار دو”
سر اپ کیسی باتیں کر رہے ہیں اپ جانتے ہیں کہ ہم ایسا نہیں کر سکتے”
تو پھر وہ تصویریں کیوں نہیں ختم ہوئی تم نے ان تصاویر کو ختم کیوں نہیں کرا “
سر میں اس بارے میں کچھ نہیں کر سکتا کیونکہ وہ تصویریں وہ چھپا چکے ہیں اگر وہ تصویر عمر خیام کے گھر میں چلی گئی ہیں تو وہ تصویریں کس نے دیکھی ہیں یعنی نے دیکھی ہے”
اسے خود ہی خیال ایا سر پکڑ کر چیئر پر بیٹھ گیا اگر ساز ائزہ تک پہنچ گئی پھر اس کے پاس کئی سوالات تھے ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ گردش میں پکڑا گیا ہے جکڑا گیا ہے پریشانی اس کے سر پر سوار ہو چکی ہے وہ کس کس جگہ سے خود کو بچائیں اس نے گہرا سانس لیا جاؤ ذرا دیکھو ساز کہاں ہوتی ہے”
سر وہ تو سر گھر میں ہی ہوتی ہیں”
ٹھیک ہے ایک گھنٹے بعد ہم اس کے پاس چلیں گے “
کہہ کر خاموش ہو گیا متفکر سا بیٹھا وہ ٹیبل کو گھور رہا تھا اس راز کا کھلنا بہت بڑے طوفان کی امد تھی اور وہ یہ طوفان عمر کی زندگی میں آنے نہیں دینا چاہتا تھا لیکن طوفان تو ا جانا چاہتا تھا اور ا رہا تھا بھلے اہستہ اہستہ
عمر خیام گردش میں ا رہا تھا”
اس جگہ کے اگے ان کا رکشہ رکا وہ دونوں ڈر سہمی سی اتری کئی بار دل نے سوچا کہ واپس پلٹ جائیں لیکن نہیں پلٹ سکے وہ اندر کی جانب بڑھی ساز نے سوہا کا ہاتھ تھام لیا کیونکہ ارد گرد کا ماحول ہی ایسا تھا کہیں مرد کھڑے قہقہے لگا رہے تھے عورتوں کے بازو پہ بازو پھیر رہے تھے کہیں عورتیں مردوں کو لبھانے کے لیے تیار کھڑی تھی کہیں گھنگرو کا شور تھا تو کہیں عجیب و غریب اوازیں
دل تھے کہ پاتال میں جا گیرے سامنے تخت پر بیٹھی عورت انہیں ہی گھور رہی تھی وہ اس کے پاس جا پہنچے
ہمیں گلشن سے ملنا ہے سوہا کی کپکپاتی اواز ابھری
کون گلشن اس عورت نے سوال کیا انداز میں سختی تھی گلشن ناز کی دوست سوہا کے الفاظ اس عورت کو چونکا گیا کون ہو تم دونوں
میں ناز کے بیٹے بیوی ہوں اٹک کر بولتی وہ اخر خود ہی بولی تھی اس عورت نے حیرانگی سے ساز کی جانب دیکھا عمر خیام کی”
تم عمر کی بیوی ہو اس نے جیسے جاننا چاہا ساز حیرانگی سے اسے دیکھنے لگی ان کی انکھیں ڈب ڈبا گئی یہ سب کیا تھا یہ کچھ سمجھ نہیں اتا تھا ناز بری تھی تو بری بن کر سامنے کیوں نہیں اتی تھی اور اگر عمر عمر کچھ نہیں جانتا تھا تو سب عمر کے بارے میں کیسے جانتے تھے اخر کیا تھا سب یہ گتھی مزید سے مزید الجھتی جا رہی تھی
جی میں عمر خیام کے ہی بیوی ہوں کیا اپ گلشن کو بلا سکتی ہیں ہاں بلا سکتی ہوں لیکن تمھیں اس کے پاس جانا پڑے گا وہ بہت بیمار ہے اور پھر اس نے ایک چھوٹی بچی کو اواز دی ساز کا دل دہل سا گیا وہ بچی بہت چھوٹی تھی اور اس جگہ پر بیٹھی تھی اس کو دیکھ کر بے ساختہ اسے رونا ایا اس کا مستقبل کیا ہے لیکن خاموشی سے وہ اس بچی کے پیچھے ہو لیں جسے اس عورت نے کان میں جھک کر کوئی بات کہی اور وہ بچی ان دونوں کو لے کر اوپر کی جانب چڑھنے لگی وہ چاہتی نہیں تھی کہ وہ یہاں جائیں لیکن اس کے علاوہ ان کے پاس کوئی راستہ نہیں تھا اور جیسے ہی وہ ایک دروازے کے سامنے پہنچے اس بچی نے وہ دروازہ کھول دیا گلشن بائ اندر ہے بیمار ہو گئی ہے اب اس کا گھنگرو یہاں نہیں بچتا کیا تم اسی ناز کی بات کر رہی ہو جس نے اس کوٹھے کو چار چاند لگائے ہوئے تھے وہی ناز نہ جس پر سب مر جاتے تھے میں چاہتی ہوں میں اس کے جیسی ہو جاؤں وہ بچی بول رہی تھی ساز اور سوہا اسے دیکھنے لگی ج وہ بچی کہہ کر وہاں سے بھاگ گئی اور اج انہیں احساس ہوا کہ ناز کوئی عام شخصیت نہیں ہے وہ اندر ائی ایک صاف ستھرے کمرے میں بیچ میں بیڈ پڑا تھا اور اس پر ایک عورت لیٹی ہوئی تھی جبکہ اس کے ارد گرد اور لڑکیاں کھڑی تھی شاید اس کی خادمائیں تھی ان میں سے ایک لڑکی نے جھک کر گلشن کے کان میں کچھ کہا وہ لڑکی ابھی باہر سے اندر ہی ائی تھی گلشن نے انکھیں کھول کر ساز کی جانب دیکھا ساز سہم کر سوہا کا ہاتھ پکڑ گئی
تم عمر کی بیوی ہو تم یہاں کیسے ائی کیا اس نے تمہیں انے دیا وہ تو بہت نفرت کرتا ہے سب سے لگتا ہے اس سے چھپ کر ائی ہو کیا جاننا چاہتی ہو کہ اس کی ماں کے بارے میں کہ کس طرح وہ مر گئی اس کا ماضی تو کوئی نہیں جاننا چاہتا پھر تم کیوں جاننا چاہتی ہو اس کا اپنا بیٹا اس کا ماضی نہیں جاننا چاہتا گلشن بولتے بولتے ہی رونے لگی
ساز کی اپنی انکھوں میں انسو اگئے تھے سوہا بھی اسی کی جانب دیکھ رہی تھی کیا یہ گتھی اپ سلجھا سکتی ہیں کیا اب بتا سکتی ہیں کہ ناز کے ساتھ اخر کیا ہوا عمر کیا جانتا ہے اور شاہنواز کون ہے سوہا کی بات پر گلشن نے اسے دیکھا یعنی معلومات پوری ہے تم لوگوں کے پاس بس سرا ہاتھ نہیں لگ رہا کوئی حیرانگی ہے شاہنواز کے بارے میں بھی جانتی ہے اور شاہنواز تمہیں یہاں تک انے دے اچانک نیچے سے اٹھنے والے شور پر ایک دم وہ سب مڑ کر دیکھنے لگے کہا تھا نا شاہنواز اس راز کو کھلنے نہیں دے گا جاؤ میں تم سے خود رابطہ کر لوں گی گلشن نے کہا وہ دونوں کھڑی ہو گئی ان دونوں کے پاؤں کپکپا رہے تھے اور جیسے ہی سیڑھیوں کے اوپر ایک دمھک سی محسوس ہوئی ان دونوں نے ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ لیا ڈری سہمی وہ دونوں پیچھے کی جانب ہونے لگے شاہنواز اگے بڑھا اور اس نے ساز کی انکھوں میں انکھیں ڈال دی اس کی انکھوں میں اتنا غصہ اور جنون تھا کہ وہ شاید اس کے اوپر ہاتھ اٹھا دیتا ہوں
چلو یہاں سے اس نے بس اتنا ہی کہا اس کا پی ہے ساز اور سوہا کے پیچھے چلا گیا جبکہ شاہنواز نے گلشن کی جانب دیکھا بستر مرگ پر پڑی ہو اپنی زبان بند رکھو تو بہتر ہے ورنہ وقت سے پہلے میں تمھیں دنیا سے رخصت ضرور کر دوں گا
کہہ کر وہ اگے بڑھا جب کہ وہ ان دونوں کے اگے اور اس کا پی ائے ان دونوں کے پیچھے چل رہا تھا وہ دونوں سر جھکائے اگے کسی مجرم کی طرح اس کے پیچھے پیچھے چل رہی تھی اور شاہنواز کوٹھے سے باہر نکل گیا اس نے ساز کی جانب مٹھیاں بھینچ کر دیکھا تھا ساز کا دل دھک دھک کر رہا تھا گاڑی میں بیٹھو اس نے گاڑی کا دروازہ خود کھولا ان کے لیے اور دونوں گاڑی میں بیٹھ گئی شاہنواز خود ڈرائیو کر رہا تھا اس کا یہ بھی موجود تھا راستے میں ایک لفظ بھی کسی نے کسی سے بات نہ کی وہ گھر کے سامنے گاڑی روک گیا میں چاہوں تو تمہیں دھمکا کر یہاں تمہاری زبان بند کروا سکتا ہوں میں چاہوں تو تمہارے ساتھ وہ سب کچھ کر سکتا ہوں جو اب تک اس راز کو دبانے کے لیے میں کرتا ایا ہوں لیکن میرا ایک مسئلہ یہ ہے کہ تم میری جان کی جان ہو اس سے تکلیف نہ دو خاموشی اختیار کرو