Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 35

پہلے ٹھنڈ کم تھی کہ وہ برف سی ہوتی ٹھٹرنے لگی تھی اسکا وجود بلکل برف کی مانند جم سا گیا تھا ۔
وہ واقعی جیل میں تھی رو رو کر انکھیں الگ سوجھا لیں تھیں اسکی حسین آنکھوں کے بھاری ہوتے پردے اور ہلکی سی ان میں سرخ لالی دل کی دھڑکنوں کا یہ عجیب خوف سے سہمی یہ ہلکی ہلکی دھڑکن اور اسپر ناراضگی
اپنا چہرہ آدھا چھپائے وہ کسی اس معصوم بچے کیطرح لگ رہی تھی جو میلے میں کہو گیا ہو اور کسی اپنے کو تلاشنا چاہتا ہو وہ سب اسکے اردگرد چل رہے تھے
جیل اپنی آنکھوں سے پہلی بار دیکھ رہی تھی اور اسلامہ اباد کی سردی تو ہڈیاں جما دے ۔۔۔ درخت بھی اس سرد ہوا میں جھول رہے تھے وہ ان سب کے ساتھ آگے آنے لگی اور وہ اسے ایک برآمدے سے لے کر جاتے ایک حال کمرے میں لے آئے
یہاں کا ماحول قدرے بہتر اور کوزی تھا لیکن اتنا بھی نہیں بس باہر کی نسبت فرق تھا وہ دیوار کے قریب کھڑی ہو گئ اس حال میں تین افسر بیٹھے تھے تینوں نے ساز کی پشت کو گھورا تھا
عمر خیام کی مسز ہیں ” پی آئے نے کہا تو وہ تینوں ہی ایکدم سیدھے ہوئے ۔
اچھا اچھا ۔۔۔ وہ ساز نے کن انکھیوں سے دیکھا وہ تینوں کھڑے ہو چکے تھے
یہ کیسے پولیس افسر تھے چور کی بیوی کے آنے پر ایسے ہو گئے تھے گویا وہ کوئی بہت بڑی حاجی ہو ۔۔۔ یہ سب کیا تھا
میم کو اس طرف لے ائیں ” وہ بولے تو پی آئے نے سر ہلایا اور وہ لیڈی کانسٹیبل جو اسکے پہلو میں چل رہیں تھیں اسے اس جانب لے کر چلنے لگی
عام سی زندگی گزارنے والی لڑکی یہ کس خاص سے انسان کے ساتھ بندھ گئ تھی جو اتنا پروٹوکول رکھتا تھا اسکا رونا پھر شروع ہو چکا تھا ۔۔۔۔۔
سر جھکائے وہ ان سب کی قیادت میں اندر کی جانب گئ اندر ایک اور کمرے تھا اور وہ سب وہیں رک گئے
میم آپ اس کمرے میں چلی جائیں ” ان سب نے کہا
شرمندگی سے اس سے سر نہ اٹھایا گیا اسکے بارے میں سب کیا سوچیں گے کیا کرنے آئی تھی وہ یہاں یہ بلا گئ تھی وہ حیا سے دھوری ہوتی قدم آگے بڑھا نہیں پا رہی تھی کہ عمر صاحب نے خود ہی دروازہ کھولنے کی زحمت کر لی
اپنا چہرہ چھپائے وہ ان سب کے بیچ سر جھکائے کھڑی تھی
سر اگر اپکو کچھ اور چاہیے تو میں یہیں ہوں ” وہ پی آئے بولا
نہیں فلحال کچھ نہیں تم لوگ جاؤ ” اپنے مخصوص انداز میں وہ بولا
اور یہ ڈور لاک کر دینا جب تک میں نہ کہو کھولنا مت ” اسنے اس ڈور کیطرف اشارہ کیا جس کمرے میں وہ کھڑے گئے ساز کا چہرہ خوف اور شرمندگی سے لال سرخ ہونے لگا لوگ کیا سمجھیں گے وہ ایسی باتیں کیوں کر رہا تھا پہلی بار کسی چور کو عزت ملتے دیکھی تھی اسنے ۔۔۔۔۔
وہ سب جانے لگے تھے
اچھا بات سنو پیسے دے دیے ” عمر نے پی آئے سے پوچھا
سر پیسے بھر دیے گئے ہیں اپ فکر نہ کریں ” وہ سر ہلا کر بولا
اوکے ” وہ کہہ کر اگے بڑھا ساز کا ہاتھ تھاما اور اسے اندر لے ایا اور دروازہ بند کر لیا ۔
کمرہ تھا یہ عالیشان لگزری سا اپارٹمنٹ
خوبصورتی سے سجا کمرہ اور ہر آسائش وہاں موجود تھی وہ آنکھیں پھاڑے اردگرد دیکھنے لگی یہاں تک کے حجاب اپنے آپ ہٹ گیا اور عمر نے تھوڑی فرصت سے اسے دیکھا ۔
اسکے تو ہر نقوش میں اتنی نزاکت سی بھری تھی
چھوٹی سی ناک جو سرخ ہو رہی تھی بلکل ملائی جیسی رنگت اور بڑی بڑی آنکھیں تھوڑا منہ سا بنایا تھا اسنے تو گہرائ میں ڈوبتا ایک گال میں گڑھا
عمر پہلی بار دل کی دھڑکنوں کو محسوس نہ کر سکا اسکی گردن کی شفافیت اور پھر اس گردن پر ڈور سے بھی چمکتا ایک تل ۔۔۔
ایکدم ساز نے اسکی جانب دیکھا شاید وہ کمرے کا جائزہ لے چکی تھی ۔۔۔۔
عمر ڈر ہی گیا آنکھوں پر ہاتھ رکھ گیا
چوری وہ نہیں تھی جو اسنے کی اور وہ یہاں بیٹھ گیا چوری یہ تھی جو اسنے کی اور فورا پکڑا گیا
ساز اسکی کیفیت کو سمجھ نہیں سکی اور عمر بھی اپنی بیوقوفی پر خود کو ڈپٹتا سیدھا ہوا چند لمہے ہی تو لگے تھے اسے ۔۔۔ خود کو سنبھالنے میں
ساز کچھ نہیں بولی
کیسی ہو بیوی ” وہ آنکھ دبا کر بولا
سز نے رخ پھیر لیا
ڈونٹ پوز می کہ تم مجھ سے ناراض ہو ” اسکے پیٹھ موڑ لینے پر وہ جلدی سے اسکے آگے آیا
اپکو تو جیل میں قید ہونا چاہیے تھا یہ سب کیا ہے ” وہ اپنے ذہن کا سوال پوچھنے لگی
یہ سب ” عمر نے بالوں میں ہاتھ پھیرا پتہ نہیں کیا تھا اس میں اسکے آگے جھوٹ نہیں بولا جاتا تھا
دنیا میں میرے لیے ایک اینجل ہے جو میری ساری وشیز پوری کرتا ہے بس جب انھیں پتہ چلا تو انھوں نے مجھے یہاں بھیج دیا ” وہ شانے اچکا گیا ۔
ساز حیرانگی سے اسے دیکھنے لگی ۔
اتنی خوشی تو کسی کا ذکر کرتے نہیں ہوتی تھی اس کے لبوں پر ۔۔۔
کون ؟
کیوں بتاو ” وہ تیوری چڑھا گیا
نہ بتائیں یہ بتائیں کیوں بلایا ہے ” وہ ذرا غصے سے بولی
تم بے ہوش ہو گئ تھی مجھے فکر ہو رہی تھی بھئی ایک تو احساس کرو اوپر سے غصہ کرتی ہے ” وہ پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالتا ناراضگی سے بولا
عمر آپ نے چوری کی ہے ” ساز کا لہجہ بھیگ گیا اور بس عمر کی جان پر بن جاتی تھی وہ اسکے نزدیک ہوا
ساز چوری میں نے کی ہے مجھے فکر نہیں ہے تمھیں کیوں رونا ا رہا ہے دیکھو پلیز رو مت جو پیسہ میں نے چرایا تھا وہ واپس بھی دے دی گیا ہے اور قسم سے وہ چوری کا پیسہ اپنے پاس تھوڑی رکھا ہے میں نے بانٹ دیا ہے “
یہ کوئی نیکی نہیں ہے اگر تو اپکو لگ رہا پے کہ بہت اچھا کام کیا ہے تو بیوقوف ہیں اپ ” وہ اسکو دور دھکیلتی بولی اور انسو صاف کیے ۔
اچھا مجھے لگا ثواب ملے گا ” وہ کنفیوز سا ہوتا اسے دیکھنے لگا
عمر کیا ہیں اپ اپکو یہ نہیں پتہ چوری چوری ہوتی ” وہ چیڑ گئ
یار پتہ ہے اس میں جذباتی ہونے والی کیا بات ہے تم کہو تو تمہارا بیچ کر گھر حلال کا پیسہ دے دوں ان لوگوں کو ” وہ صوفے پر بیٹھ گئ اور وہ غیر ارادی طور پر ایک کمفرٹیبل سا موڈھا کھینچ کر اسکے پاؤں کے پاس بیٹھ گیا
محبت تھی نہیں یہ وہ مانتا نہیں تھا لیکن فکر اسکی پوری تھی اچھا تو اب وہ چھت بھی کھینچ لیں گے آپ اپکا یہ جو اینجل ہے نہ اسنے اپکو سر چڑھا لیا ہے اپکو دو تھپڑ کھانے چاہیے تھے چوری کرنا کتنا سخت گناہ ہے اپکو علم ہی نہیں مزے سے بیٹھے ہیں”
اپکو پتہ ہے تائی جان نے مجھے کیا کچھ سنایا ہے انھوں نے آپکے بارے میں کیسی کیسی باتیں کیں ہیں” عمر سکون سے اسکا ہچکیاں بھرنا دیکھنے لگا
تم اپنے لیے رو رہی ہو یہ میرے لیے”
آپکے لیے آپکے لیے آپ نے مجھے ہرٹ کیا ہے اپکو یہ بات ہی نہیں سمجھ اتی کہ آپکے ساتھ میں بھی جڑی ہو تایا جان سے بدلا لینے کے لیے آپ نے ہم دونوں کو بدنام کر دیا ۔۔۔۔ وہ لوگ اپکو شرابی نشئ پہلے سمجھتے تھے اب چور بھی شامل ہو گیا ۔
میری تو پہلے بھی عزت نہیں تھی عمر لیکن آپکی تو تھی نہ آپ نے ایسا کیوں کیا ” وہ بری طرح رو دی اور یہ پہلا لمہہ تھا جب عمر کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اب تک اسے کوئی احساس چھو کر نہیں گزرا تھا ۔۔۔۔ خاموش ہو گیا
اچھا بات سنو ” اسنے کچھ توقف سے اسکا ہاتھ پکڑانا چاہا
دور رہیں مجھ سے اور مجھے یہاں بلانے کا کیا مقصد تھا اپکو پتہ ہے لوگ مجھے کیسے دیکھ رہے تھے ۔۔۔ تایا جان نے مجھے کیا کہا ۔
میں ۔۔۔ میں طوائف نہیں ہوں عمر نہ ہی آپکی رکھیل ” وہ غصے سے بول گئ جبکہ عمر کے تیور ان دو لفظوں پر ایسے تھے کہ ابھی اسکا قتل کر دے ۔۔۔
سب نے مجھے اسی نظر سے دیکھا
آپ اپنی دنیا کے بادشاہ ہیں سمجھ لیا ہے میں نے مگر آپکے ساتھ میں بھی سانس لے رہیں ہوں اب مجھے اسطرح رسوا نہ کریں ” وہ کافی کچھ سنا گئ وہ خاموشی اٹھ گیا چپ چاپ اٹھا اور دور جا کر بیٹھ گیا
ساز کچھ دیر روتی رہی وہ مٹھیاں بھینچے کھڑا رہا اور جب وقت کا دورانیہ بڑھنے لگا تو اسنے اپنے آنسو صاف کیے اور سوجھی سوجھی آنکھیں اسپر اٹھائیں
اب وہاں جا کر بیٹھ گیا تھا
معلوم نہیں کیا سوچ رہا تھا پھر اسنے فون اٹھایا اور کال ملائی
کیسے ہو شہزادے کوئ کمی کوئی دقت کوئی پریشانی “
دوسری طرف سے آدھی رات میں بھی اسکے لیے والہانہ محبت ٹپک رہی تھی ۔؟
مجھے سیل میں بھیج دیجیے گا کل ہاں مگر میرے سیل میں کوئی دوسرا نہ ہو اور میں بس ایک دن روکو گا وہاں مجھے اپنی غلطی کا احساس ہو گیا ہے لیکن ایک دن سے زیادہ نہیں مناؤ گا “
تو تمھاری ساز تمھارے پاس ہے ” دوسری طرف سے شاہنواز بے ساختہ ہنس پڑا اور اسے یقین تھا وہ منہ پھلائے بول رہا ہے
ساز بھی سر اٹھائے حیرانگی سے اسے دیکھنے لگی
کیا میں بات کر سکتا ہوں ؟
نہیں ۔۔ صاف ٹکا سا جواب دیا
اچھا پھر سپیکر کھول لو بس “
کیوں ” وہ تو راضی ہی نہ ہوا
ارے بھائی میرے پاس بہت خوبصورت بیوی ہے مجھے بلکل انٹرسٹ نہیں کسی میں ” وہ بولا تو عمر نے سر جھٹکا
اور سپیکر کھول دیا شاہنواز نے سلام کیا
دیکھیں آپ نے وہ کیا ہے جو میں چاہ کر بھی نہ کر سکتا
بس اس بار اسکو معاف کر دیں آئندہ ایسی غلطی پر میں خود اسکو دو چھتر لگاؤ گا ” بھاری سی آواز لکھے میں عمر کے لیے محبت مان تھا جبکہ وہ اس آواز کے سامنے ایک ناراض سا بچہ لگ رہا تھا جس کا فیصلہ ساز کے ہاتھ میں تھا
ساز حونک سی ہو گئ
وہ نہیں مانے گی “
معافی تو اللّٰہ سے مانگنی چاہیے میں تو کچھ بھی نہیں ” وہ بولی
اوئے چلو وضو کرو اللّٰہ تعالٰی سے بھی معافی مانگو اور پھر اپنی بیگم کو بھی مناؤ ” شاہنواز کی آواز پر اسنے سپیکر بند کر دیا
کیا یار تم بھی کیا حرکتیں کرتے ہو ” شاہنواز نفی میں سر ہلانے لگا
تھینک یو ” وہ بولا
اب کس لیے ” وہ مسکرایا
میرا کانفیڈینس بحال کرنے کے لیے ورنہ میں تو اس مولانی کے اگے بلکل دب ہی گیا تھا مجھے لگا بس اب قیامت ہے ” وہ سر کجھاتا کنفیوز سا بولا ۔
تم سدھر جاو عمر” شاہنواز کھل کر ہنسا
ہاں تھوڑا بہت اچھا وہ والی بات کینسل ہے ” وہ ہلکی سی آواز میں بولا شاہنواز کا قہقہہ ابھرا
ایسے کیسے تمھیں سیل کی ہوا کھلا دوں گا چھوڑو اس بات کو ایزی رہو پیسے میں دے چکا ہوں لیکن وعدہ یہ ہے دوبارہ ایسا کچھ نہیں ہو گا اور توبہ کر لینا وہ ٹھیک کہہ رہی ہے ” عمر نے کال بند کر دی
مڑ کر اسکی جانب دیکھا جو بڑی بڑی آنکھوں سے اسے ہی دیکھ رہی تھی
اب مجھے ڈرانے کی ضرورت نہیں ہے میں تم سے بات بلکل نہیں کر رہا ہوں تو بات ختم ” وہ بول کر بستر پر لیٹ گیا
ذرا جو دو لمہے بھی خود کو شرمندگی کی کیفیت میں رہنے دیا ہو ۔
اسنے موبائل پر گیم لگائی اور کھیلنے بیٹھ گیا لھانا بھی ٹیبل پر رکھا تھا ساز کو غصہ سا آیا اسپر اسنے موبائل کھینچ لیا
عمر نے گھورا
فری نہ ہو مجھ سے ” وہ وارن کرنے لگا
مجھے نہیں شوق آپ سے فری ہونے کا اٹھائیں ” وہ سختی سے بولی
عمر اٹھ گیا اور ساز نے اسکے سامنے کھان رکھا دیا
یار میرا موڈ نہیں ہے کھانے کا تم سو جاؤ مجھے بس پینا ہے “
وہ لاپرواہی سے بولا ساز نے دیکھ تھا وہ بہت کم کھاتا تھا اور پینے پر اتنا فوکس تھا کہ سارا سارا دن بھی پی سکتا تھا لیکن پھر بھی وہ اتنا خوبصورت دیکھتا تھا ۔
کھانا کھائیں ” وہ بولی
عمر نے کھانے کی جانب دیکھا کافی مزے دار کھانا تھا
تم نے کھایا ہے “
نہیں”
لو پہلے بتانا تھا نہ جب سے ائی ہو لڑے جا رہی ہو ” وہ اٹھا اور ٹرے اٹھا لی گرم کروا کر لاتا ہوں ” اسنے کہا ساز نے سر ہلایا اور بیٹھ گئ وہ باہر چلا گیا
اسے بہت شدت سے پیاس لگی تھی
رو رو کر اسنے بڑا حال جو کیا تھا اب پیاس تو لگنی ہی تھی اسنے سائیڈ ٹیبل پر رکھا گلاس اٹھایا اور ایک سانس میں چڑھا گئ
عجیب سا ذائقہ تھا
منہ بنا کر اسنے گلاس کی جانب دیکھا
کیا یہ پانی تھا ” آنکھیں پھیلیں
اس کمرے کے کسی گلاس پر یقین ہی نہیں کرنا چاہیے تھا منہ پر ہاتھ رکھے وہ اس گلاس کو گھورنے لگی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کھانا گرم کروا کر لایا تھا اور کمرے میں جیسے ہی آیا۔۔۔۔۔۔
گھیرہ سانس بھرا وہ ناراض زیادہ تھی لیکن بس اب اس سے زیادہ وہ اسے منا نہیں سکتا تھا
اب یوں کیوں بیٹھی ہو بار بار ڈرا رہی ہو جیسے کوئی بھوتنی بیٹھی ہو ۔۔۔
آؤ کھانا کھاتے ہیں “
اور دل پر نہ لو نہیں کرتا ایسا کام آئندہ جو تمھیں تکلیف دے ” وہ بولا ساز نے گردن گھما کر دیکھا
وہ وائین کا پورا گلاس چڑھا گئ تھی اور دس منٹ میں اسکے دماغ کو نشہ چڑھ گیا تھا ۔
عمر نے اسکو مسکراتے ہوئے دیکھا
کچھ عجیب سا احساس ہوا اور وہ آگے بڑھا تو اسکے ہاتھ میں گلاس دیکھ کر ایکدم اسکے چھکے چھوٹ گئے
ساز ” وہ دنگ تھا
عمر ” وہ پوری طرح اپنے گڑھے کی نمائش کرتی اٹھی اور ایکدم قدم لڑکھڑا گئے کہ عمر نے اسے آگے بڑھ کر سہارا دیا تو وہ اسکے گریبان میں جھول گئ
اسنے سائیڈ ٹیبل پر اپنا گلاس نہ دیکھ کر اسکے ہاتھ میں وہ گلاس دیکھا فلحال وہ صرف مسکرا رہی تھی اور گلاس اسکے ہاتھ میں جھول رہا تھا
تم نے شراب پی لی “
میں نے ش۔۔۔شراب پی لی” وہ ہچکی لیتی سرخ ہوتی نظروں سے ہونٹ نکال کر بولی اور عمر کے کندھے پر تھپڑ دے مارا
م۔۔۔میں نے شراب پی لی عم۔۔عمر میں نے شراب پی لی ” وہ رونے لگی اور گلاس عمر کو دے کر مارا
اہ” عمر نے اپنے بازو کو سہلایا
کیا تم پاگل ہو ” اسے غصہ چڑھا یہ لڑکی کتنی بیوقوف تھی اسے پانی اور شراب میں فرق نہیں پتہ تھا ۔
ہاں میں پاگل ہوں ۔۔ پاگل عمر پاگل ساز پاگل پاگل پاگل” اسنے تکیہ اٹھا کر مارا
عمر تکیے سے جھک کر بچ گیا
ساز نے اپنا دوپٹہ اتارا کر اسکے منہ پر مارا
یا اللّٰہ ساز یہ کیا کر رہی ہو عجیب جاہل لڑکی ہو کھڑی ہو ” وہ پریشانی سے اسکی سمت بڑھا صبح اٹھ کر اسنے نئے سرے سے ڈرامہ کرنا تھا اور پھر ایسے ایسے فتوے لگاتی تھی عمر کو لگنا تھا بس قیامت منہ پر کھڑی ہے اور وہ کہاں پھر رہا ہے
کیوں اٹھو ” ساز لیٹ گئ
ساز ” عمر نے گھورا اور ساز نے اسکے گال پر تھپڑ مار دیا
آپ بہت برے ہیں بہت زیادہ برے ” وہ منہ بسور کر بولی جبکہ عمر نے آنکھیں سکیڑ لی
تمھیں تو اس مار کا جواب کل دوں گا میں اٹھو میں منگواتا ہوں کچھ اپنی اتر جائے گا یہ نشہ ” وہ اسکو اٹھانے کی کوشش کرنے لگا جو کہ اسکی گردن میں جھول گئ
ساز مجھے غصہ نہ دلاؤ تم نے پی کیوں ہے ؟ وہ جو خود دن میں دس دس بوتلیں چڑھا جائے اور راتوں کا تو حساب ہی نہیں اسے اپنی بیوی کے پینے سے جتنی تکلیف ہوئی تھی یہ تو وہ ہی جانتا تھا اوپر سے غصہ اسپر الگ چڑھ رہا تھا کہ اسے دیکھائی نہیں دیا کہ وہ کیا پی رہی ہے
وہ ساز کو بہت پاک سمجھتا تھا بہت معتبر تبھی اسے کم از کم اپنے رنگ میں ڈھالنے کی کوشش نہیں کی تھی ورنہ یہ کام کوئی مشکل بھی نہیں تھا
اٹھو واشروم میں چلو ” وہ اسے گھسیٹ کر اٹھانے لگا مگر ساز نے اسے دھکیلا اور کمرے کے بیچ میں گول گول گھومنے لگی
عمر اسے سنجیدگی سے دیکھنے لگا اتنی ٹھنڈ میں بھی اسکی سانسیں پھول گئیں تھیں اور پیشانی پر ایک پسینے کی لکیر سی نکل آئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عمر ” وہ گول گول گھومتی اس سے پہلے بیڈ میں جا کر لگتی عمر نے اسکی کمر میں اپنا بازو سختی سے ڈالا اور اسے روکا
وہ ہنسنے لگی
عمر موسم کتنا اچھا ہے دیکھیں دھوپ نکل رہی ہے “
ہاں تمھارے دماغ پر بھی دھوپ نکلی ہے پاگل ” وہ چیڑ گیا
کیا دھوپ نہیں نکل رہی ” وہ ہونٹ نکال کر رونے کو بے چین ہو گئ
اچھا بابا نکل رہی ہے واو ” وہ عاجز سا بولا اور اسے واشروم میں لے جانے لگا گرم پانی دماغ پر پڑتا تو کچھ بہتر ہوتا ہاں نشہ اترتا نہ لیکن کافی فرق پڑتا کم از کم وہ پاگلوں و الی حرکتیں نہ کرتی ۔
یپ ” وہ اچھلی
ساز ” وہ بھڑکا
وہ رک گئ اسے دیکھنے لگی
عمر ہم دھوپ میں چلیں مجھے گرمی لگ رہی ہے”
اف ” وہ لمہوں میں عاجز آیا تھا اسے چھوڑ کر بیڈ پر بیٹھ گیا
کیا ہوا آپ ناراض ہو جاتے ہیں جائیں میں خود ہی چلی جاؤ گی ” اسنے سر جھٹکا
سامنے پوری گلاس وال شیشے کی تھی جس میں سے باہر کا منظر واضح تھا
خالی پلاٹ تھا اور ہریالی اور درخت اور گھیرہ اندھیرہ اس وقت سردی کی شدت سے تو جیسے درخت بھی اکڑے کھڑے تھے اسے دھوپ لگ رہی تھی ۔۔۔۔۔
عمر نے اسے نہیں روکا وہ سیدھا شیشے میں جا کر بجی اور پھر شیشے کو گھورنے لگی اور پھر وہیں بیٹھ کر رونے لگ گئ
میں پاگل ہو جاؤ گا اچھا بھلا کھانا کھانے کا موڈ بن گیا تھا دل تو کرتا ہے ایک لگاؤ ” اسنے ہاتھ اٹھایا وہ اپنا چہرہ چھپا گئ
اسنے پی آئے کو کال کی مگر جیسے وہ بھی گھوڑے گدھے بیچ کر سو گیا تھا
لیکن کیوں وہ اسکی ڈیوٹی پر تھا اسے غصہ چڑھا یہاں سے وہ نکل نہیں سکتا تھا اور حالت یہ رہے تو صبح تک وہ پاگل ہو جائے گا اسنے دروازہ بجایا لیکن کسی نے نہیں کھولا جبکہ ابھی کچھ دیر پہلے اسنے کھانا گرم کرایا تھا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے